المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4671
4671 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَهُوَ يَقُولُ: «جَاءَ عَلِيٌّ؟ جَاءَ عَلِيٌّ؟» مِرَارًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَأَنَّكَ بَعَثْتَهُ فِي حَاجَةٍ، قَالَتْ: فَجَاءَ بَعْدُ، قَالَتْ أَبِي سَلَمَةَ: فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ، وَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، فَكَانَ عَلِيٌّ أَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4671 - صحيح
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتی ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ قریب تھے، ہم ایک دن حضور ﷺ کی عیادت کے لئے آئی ہوئی تھیں ، آپ باربار پوچھ رہے تھے : علی آگئے ؟ علی آگئے ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں : یوں لگتا ہے جیسے آپ نے ان کو کسی کام سے بھیجا ہے، آپ فرماتی ہیں : کچھ دیر بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں سمجھ گئی کہ حضور ﷺ کو ان سے کوئی کام ہے ۔ چنانچہ ہم حجرہ سے باہر نکل گئیں ، لیکن بالکل دروازہ کے قریب ہی بیٹھ گئیں ، اور میں تو سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی، ( میں نے دیکھا کہ ) رسول اللہ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھک کر سرگوشی میں کوئی راز کی بات کہ رہے تھے، پھر اسی دن رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا ، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ اس کو نقل نہیں کیا۔
وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عبد الله بن محمد بن شيبة ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4671
