Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1769

1769 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَجَّ الصَّبِيُّ فَهِيَ لَهُ حَجَّةٌ حَتَّى يَعْقِلَ، وَإِذَا عَقَلَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، وَإِذَا حَجَّ الْأَعْرَابِيُّ فَهِيَ لَهُ حَجَّةٌ، فَإِذَا هَاجَرَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ حج کرے تو وہ اس کے لئے ایک حج ہے یہانتک کہ بالغ ہو جائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کے ذمہ دوسراحج لازم ہے اور جب اعرابی حج کرے تو وہ اس کے لیے ایک حج ہے اور جب وہ ہجرت کر لے تو اس پر ایک اور حج لازم ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1769

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1770

1770 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَجَرْتُ نَفْسِي مِنْ قَوْمٍ فَتَرَكْتُ لَهُمْ بَعْضَ أَجْرِيَ لِيُخَلُّوا بَيْنِي، وَبَيْنَ الْمَنَاسِكِ، فَهَلْ يُجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " هَذَا مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا، وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [البقرة: 202] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک قبیلے کا اجرت پر کام کر تا ہوں ، میں نے ان کواپنی کچھ اجرت اس غرض سے چھوڑ دی ہے تا کہ وہ مجھے حج کر نے کی اجازت دے دیں ۔ کیا میر ے لئے یہ جائز ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے:أولئك لهم نصيب مما كسبوا والله سريع الحساب یہی ایسوں کوان کی کمائی سے بھاگ ہے اوراللہ جلد حساب کر نے والا ہے ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1770

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1771

1771 - أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعُتْبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي أَوَّلِ الْحَجِّ يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى، وَعَرَفَةَ، وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: لوگ حج کے موسم میں حج سے پہلے منیٰ ،عرفہ ،اور ذی المجاز بازار میں خریدو فروخت کیا کرتے تھے ، ان کو حالت احرام میں خرید وفروخت سے پریشانی ہونے گی تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم(البقرة: 198 ) ’’تم پر کچھ گنا ہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر ویعنی حج کے ایام میں‘‘(ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ ) یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعُتْبِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1771

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1772

1772 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَوَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ يَدْفَعُ مَعَهُمْ مِنْهَا، وَمَا ذَاكَ إِلَّا بِتَوْفِيقٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونزول قرآن سے پہلے لوگوں کے ہمراہ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار کھٹرے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے لوگوں کی معیت میں ہی روانہ ہو تے اور یہ تمام عمل محض اللہ کی توفیق ہی سے ہوتا ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيه جُبَير بن مطعم، ← عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1772

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1773

1773 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ بُكَيْرٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جَرِيحٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَضْلَلْتُ جَمَلًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرَفَةَ أَبْتَغِيهِ «فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ الْحَدِيثَ فِي ذِكْرِ الْحُمْسِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقِفُ بِعَرَفَةَ. . . مَكَّةَ "

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا ، میں میدان عرفات میں اس کو ڈھونڈ تا پھر رہا تھا کہ اچا نک میری نظرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی جو کہ عرفہ کی شام کولوگوں کے ہمراہ اپنے اونٹ پر سوار کھڑے تھے اور یہ( اس دن جووحی نازل ہوئی تھی اس کے) نزول کے بعد کی بات ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا جبکہ شیخین رحمتہ اللہ نے ابن عیینہ کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے عمر و بن دینار کے واسطے سے محمد بن جبیر کے حوالے سے ان کے والد سے گھنٹی کے ذکر میں حدیث روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں عرفہ میں وقوف کیا کرتے تھے ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ بُكَيْرٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جَرِيحٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1773

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1774

1774 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ لِيَسْأَلَهَا، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَهَا جَعَلَ بَكْرًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَّهَا أَرَادَتِ الْعُمْرَةَ، فَسَأَلَتْ زَوْجَهَا الْبَكْرَ فَأَبَى عَلَيْهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَهَا، وَقَالَ: «إِنَّ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» أَوْ «تُجْزِئُ بِحَجَّةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مروان نے ان کو اُم معقل کی طرف بھیجا کہ ان سے اس حدیث سے متعلق دریافت کروں ، میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے بتایا ان کے شوہر نے راہ خدا میں سفر پر جانے کے لئے اونٹ تیار کیا جبکہ ان (ام معقل ) کا ارادہ عمرہ کر نے کا تھا ،تو انہوں نے اپنے شوہر سے اونٹ مانگالیکن اس نے انکار کر دیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ معاملہ آپ کے سامنے رکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شو ہر کوحکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو اونٹ دے دے اورفرمایا : حج وعمرہ بھی راہ خدا سے تعلق رکھتے اور رمضان میں عمرہ کر ناحج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

هَذَا الْحَدِيثَ ← أَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى أُمِّ مَعْقِلٍ لِيَسْأَلَهَا، ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1774

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1775

1775 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُسِرَ، أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى» قَالَ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقِيلَ: عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو

حضرت حجاج بن عمر و انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا پاؤں میں زخم آ جائے ،تو اس کے لئے احرام ختم کر دینا جائز ہے ۔ اور اس پر ایک اور حج فرض ہے ( عکرمہ فرماتے ہیں )میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ اورابوہریہ رضی اللہ عنہ کو بیان کی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ اور یہ حدیث عکرمہ کے بعد اُم سلمہ رضی اللہ عنہ کے غلام عبداللہ بن رافع کے واسطے سے بھی حجاج بن عمر و رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے ۔

الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةَ، ← صَدَقَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقِيلَ: ← ابن عباس وأبا هريرة ← رَسُولَ اللَّهِ «مَنْ كُسِرَ، أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى» ← الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1775

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1776

1776 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ حَبْسِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُسِرَ، أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ» قَالَ عِكْرِمَةُ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا: صَدَقَ الْحَجَّاجُ

اُم سلمہ رضی اللہ عنہ کے غلام عبداللہ بن رافع فرماتے ہیں: میں نے حجاج بن عمر وانصاری رضی اللہ عنہ سے مسلمان کی گرفتاری (یعنی جس مسلمان کو دشمن گرفتار کرلے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا : جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یااس کے پاؤں میں ایسا زخم آ جائے جس کی وجہ سے وہ چلنے کے قابل نہ ر ہے ، اس کو احرام ختم کر دینا چاہیے اوراس پر دوسراحج فرض ہو گا۔ عکرمہ فرماتے ہیں : میں نے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے حجاج کی تصدیق فرمائی ۔

حبس المسلم فقال ← سألت الحجاج بن عمرو الأنصاري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1776

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1777

1777 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ زُرَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ يُدْعُونَ الْحُمْسَ، وَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنَ الْأَبْوَابِ فِي الْإِحْرَامِ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ وَسَائِرُ الْعَرَبِ لَا يَدْخُلُونَ مِنَ الْأَبْوَابِ فِي الْإِحْرَامِ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُسْتَانٍ، فَخَرَجَ مِنْ بَابِهِ، وَخَرَجَ مَعَهُ قُطْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلٌ فَاجِرٌ إِنَّهُ خَرَجَ مَعَكَ مِنَ الْبَابِ، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتَ، فَقَالَ: «إِنِّي أَحْمَسِيٌّ» قَالَ: «إِنَّ دِينِي دِينُكَ» ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا، وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا} [البقرة: 189] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریش کوحمس کہا جا تا تھا ( کیونکہ وہ دینی معاملات میں بہت شدت پسندتھے ) یہ لوگ حالت احرام میں دروازوں سے داخل ہوا کر تے تھے جبکہ اہل عرب احرام میں دروازوں سے داخل نہیں ہوا کر تے تھے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تھے ، وہاں سے دروازے کے راستے باہر نکلے اور آپ کے ہمراہ قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قطبہ بن عامر فا جرشخص ہے کیونکہ یہ آپ کے ہمراہ دروازے سے باہر نکلا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے آپ کو یہ عمل کر تےہوئے دیکھ کر وہ کہنے لگا: میں احمسی ہوں ( یعنی قریش ہوں) آپ نے فرمایا : تیرے اور میرے دین میں کوئی فرق نہیں ہے ،تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی ۔ليس البر بأن تأتوا البيوت من ظهورها ولكن البر من اتقى وأتوا البيوت من أبوابها (البقرة: 189 ) ’’ اور یہ کچھ بھلائی نہیں ہے کہ گھروں میں پچھیت تو ڑکر آؤ، ہاں بھلائی تو پر ہیز گاری ہے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمتہ اللہ) یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے یہ اضا فہ نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1777

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1778

1778 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِرُّ الْحَجُّ؟ قَالَ: «إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَطِيبُ الْكَلَامِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِأَنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِأَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ لَكِنَّهُ حَدِيثٌ لَهُ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حج (کے موقع پر سب سے زیادہ اجر وثواب) کی نیکی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:’ ’کھانا کھلا نا اوراچھی گفتگوکر نا‘‘ ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا کیونکہ شیخین رحمتہ اللہ نے ایوب بن سوید کی روایات نقل نہیں کیں تا ہم اس حدیث کی شاہد حدیثیں بہت ساری ہیں ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْاَوْزَاعِیُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1778

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1779

1779 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَحَجَّ بِي عَلَى نَاضِحِكَ، فَقَالَ: ذَاكَ نَعْتَقِبُهُ أَنَا وَوَلَدُكِ، قَالَتْ: فَحُجَّ بِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَتْ: فَبِعْ تَمْرَ رِقِّكَ، قَالَ: ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا فَقَالَتْ: أقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ، وَسَلْهُ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَأَتَى زَوْجُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهَا قَالَتْ أَنَّ أَحُجَّ بِهَا مَعَكَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَيْسَ عِنْدِي، قَالَتْ: فَحَجَّ بِي عَلَى جَمَلِي فُلَانٍ فَقُلْتُ لَهَا: ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ حَجَجْتِ بِهَا كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» ، فَقَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِنْ حِرْصِهَا عَلَى الْحَجِّ، قَالَ: وَإِنَّهَا أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ قَالَ: «أقْرِئهَا مِنِّي السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا تو ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کراؤ ، اس نے کہا: میرے پاس ایسی کوئی سواری نہیں ہے جس پر میں تمہیں حج کرواؤں ،اس نے کہا: تو پھر مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کر وا د یں ،اس نے جواب دیا: اس کو میں نے راہ خدا کے لئے روک رکھا ہے، اس نے کہا: تو اپنی کھجور یں بیچ دیں ، اس نے کہا: وہ میرے اور تیرے کھانے کے لئے ہیں ، ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے لوٹ کر آئے ،تو اس خاتون نے اپنے شوہر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا اور آپ سے پوچھنا کہ کوئی ایساعمل بتا دیں جس کا ثواب آپ کے ہمراہ حج کرنے کے برابر ہو ۔ اس کا شو ہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیوی نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اس نے مجھے کہا تھا کہ میں اس کو آپ کے ہمراہ حج پر بھیجوں ۔ میں نے اس کو جواب دیا کہ میرے پاس گنجائش نہیں ہے ۔اس نے کہا کہ پھراپنے اونٹ پر مجھے حج کرادو، میں نے اس سے کہا: اس کو میں نے فی سبیل اللہ روک رکھا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تو اس کو حج کرواد یتاتو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہوتا ۔ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس خاتون کے حج کے بارے میں حرص پر متعجب ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے ۔ اس شخص نے مزید کہا میری بیوی نے مجھے یہ بھی کہہ کر بھیجا ہے کہ میں آپ سے کوئی ایسا عمل پو چھ کر آؤں جس کا ثواب آپ کے ہمراہ حج کر نے کے برابر ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے بھی اس کو سلام کہنا اور اس کو بتانا کہ میرے ہمراہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فَلَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ مِنْ مَكَّةَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ زَوْجَهَا ← ذَاكَ قُوتِي وَقُوتُكِ، ← فَبِعْ تَمْرَ رِقِّكَ، ← ذَلِكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← فَحُجَّ بِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، ← وَوَلَدُكِ. ← ذاك نعتقبه ← فحج بي على ناضحك ← مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ. ← امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ الْحَجَّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← عبد الوارث بن سعيد العنبري ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1779

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1780

1780 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مَائَةٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال لوگوں کوحکم دیا اورفرمایا: جوشخص حج سے پہلے صرف عمر ہ کر کے لوٹنا چا ہے اس کوا جازت ہے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1780

chevron_left Previous
1…202122…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section