Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1733

1733 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عُمْرَتِهَا: «إِنَّ لَكِ مِنَ الْأَجْرِ عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ وَنَفَقَتِكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ "

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے عمرہ کے متعلق فرمایا: تیرے تھکاوٹ اورخرچ کی مناسبت سے تیرے لئے اجر ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← هِشَامٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1733

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1734

1734 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عُمْرَتِهَا: «إِنَّمَا أَجْرُكِ فِي عُمْرَتِكِ عَلَى قَدْرِ نَفَقَتِكِ»

ام المونین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوان کے عمرہ کے متعلق کہا: تیرے عمرے کا ثواب تیرے نفقہ کی مقدار کے مطابق ہے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ، ← أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1734

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1735

1735 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَجَّ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا كَانَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقِيلَ لِعَلِيٍّ إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ، فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا» ، فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ، وَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ؟» قَالَ: بَلَى، فَقَالَ عَلِيٌّ: «أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ؟» قَالَ: بَلَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا ،ابھی وہ ایک راستے میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے ہمراہ عمرہ کرنے سے منع کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کوتمتع سے روکا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم ان کو دیکھو کہ یہ کوچ کر گئے ہیں تو ان کے بعد تم کوچ کر نا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےان کو منع نہیں کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی تھی کہ آپ نے تمتع بالعمرہ سے منع کیا ہے؟ ۔انہوں نے کہا: جی ہاں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے تمتع بالعمرہ کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَلِيٌّ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ تَمَتَّعَ؟ ← بَلٰی ← التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ؟ ← عَلِيٌّ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى ← إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ ← التَّمَتُّعِ؟ ← التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَقِيلَ لِعَلِيٍّ إِنَّهُ قَدْ نَهَى ← حَجَّ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ فَلَمَّا كَانَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ نَهَى عُثْمَانُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1735

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1736

1736 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہا۔ تبصرپ: یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1736

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1737

1737 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّمَا «جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، لِأَنَّهُ عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ بِحَاجٍّ بَعْدَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کر تے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھے ادا کئے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس کے بعد آپ کو حج کا موقع نہیں ملے گا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن أيوب أنبأ مسدد ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1737

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1738

1738 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِي؟ قَالَ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟ قَالَ: إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَتَنَفَّسْ ثَلَاثًا، وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْهَا فَاحْمَدِ اللَّهَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «آيَةٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لَا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِنْ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ سَمِعَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ "

حضرت عثمان بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔ آپ نے اس سے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں آب زم زم پی کر آیا ہوں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم نے اس کے آداب لحاظ رکھتے ہوئے پیا ہے؟ اس نے کہا: اس کے آداب کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا: جب آب زم زم پینے لگو تو قبلہ رو ہو جاؤ ، بسم اللہ پڑھو، تین سانسوں میں پیو اور سیر ہو کر پیو ، جب فارغ ہو جاؤ تو الحمد للہ پڑھو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہمارے اور منافقوں کے مابین فرق قراردیا ہے ۔ کیونکہ منافقین زم زم کا پانی سیر ہوکرنہیں پیتے ہیں ۔ عثمان بن الاسود نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے تو یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کےمعیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اے نقل نہیں کیا ۔

عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1738

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1739

1739 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ، فَإِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِي بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ مُسْتَعِيذًا عَاذَكَ اللَّهُ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِيَقْطَعَ ظَمَأَكَ قَطَعَهُ» قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا شَرِبَ مَاءَ زَمْزَمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ سَلِمَ مِنَ الْجَارُودِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: آب زم زم پینے سے مراد یں پوری ہوتی ہیں ۔اگرتم اس کو حصول شفا کی نیت سے پیو گے تو اللہ تعالی اس کے ذریعے تمہیں شفاد یگا اور اگر تم اسے حصول پناہ کی نیت سے پیو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں پناہ دیگا اوراگرتم اسے صرف پیاس بجھانے کے لے پیو گے تو یہ تمہاری( صرف) پیاس بجھائے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آب زم زم پینے کے بعد یوں دعا مانگا کر تے تھے "اللهم أسالك علما نافعا، ورزقا واسعا، وشفاء من كل داء‘‘ اے اللہ میں تجھ سے علم نافع ، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں‘‘ اگر یہ سند جارودی کی طرف سے سلامت رہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1739

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1740

1740 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ عَلَى الْحَجَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پر سجدہ کیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1740

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1741

1741 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَطِيعُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ» قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: مُنْذُ كَمْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوعامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی جد عاء اونٹنی پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمار ہے تھے : اے لوگو! اپنے رب کی اطاعت کرو، نماز پنجگانہ ادا کرو، اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرواور ماہ رمضان کے روزے رکھواورا پنے امیر کی اطاعت کرو تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے ( سلیم بن عامرفرماتے ہیں) میں نے ابوامامہ سے پوچھا آپ نے یہ حدیث کب سے سن رکھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ حدیث اس وقت سے سن رکھی ہے جب میری عمرتیس برس تھی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1741

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1742

1742 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَثُرَتِ الْقَالَةُ مِنَ النَّاسِ فَخَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّى لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَنْ نَحِلَّ إِلَّا لَيَالِيَ قَلَائِلَ أُمِرْنَا بِالْإِحْلَالِ فَيَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَى عَرَفَةَ، وَفَرْجُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: «أَبَاللَّهِ تُعَلِّمُونِي أَيُّهَا النَّاسُ، فَأَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ هَدْيًا، وَلَحَلَلْتُ كَمَا أَحَلُّوا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ، فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ، عَنْ سَبْعَةٍ» قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِهِ غَنَمًا، فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ فَذَبَحَهُ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ أَمَرَ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، فَقَامَ تَحْتَ يَدَيْ نَاقَتِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْرُخْ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ شَهْرٍ هَذَا؟» قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ. قَالَ: «فَهَلْ تَدْرُونَ أَيَّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا» فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ " وَقَالَ حِينَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ: «هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ» وَقَالَ حِينَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ: «هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ أَلْفَاظٌ مِنْ أَلْفَاظِ حَدِيثِ جَعْفَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَفِيهِ أَيْضًا زِيَادَةُ أَلْفَاظٍ كَثِيرَةٍ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں لوگوں میں چہ میگوئیاں زیادہ ہوگئیں کیونکہ ہم حج کرنے کے لئے نکلے تھے تقریبا ًتمام مناسک حج ادا کر لئے تھے اور احرام کھولنے میں ابھی چند دن باقی تھے ۔لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا ، (ایک صحابی نے کہا) ہم میں سے کوئی شخص عرفہ کی طرف اس حال میں روانہ ہوگا کہ اس کے آلہ تناسل سے منیٰ کے قطرے ٹپک رہے ہوں ( دراصل وہ لوگ حج کے ایام میں عمرہ نا جائز سمجھتے تھے اور یہ بات کر نے کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو ہم بیویوں سے جماع کر کے آ ئیں ہیں گویا کہ ابھی تو جماع کے اثرات باقی ہیں اوران کے ذکر سے قطرے ٹپک رہے ہیں )۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ دیا اورفر مایا:اے لوگو! تم مجھے اللہ کے بارے علم سکھاتے ہو؟ خدا کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کے بارے میں جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ ڈرتا ہوں اور جو معاملہ تمہارے ساتھ پیش آیا ہے اگر اس بات کے متعلق پہلے ہی حکم نازل ہو گیا ہوتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لا تا اور میں احرام کھول دیتا جیسا کہ ان لوگوں نے کھولا ، اس لئے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو ، اس کو چاہئے کہ تین روزے و ہیں پر اور سات روزے اپنے گھر والوں کے پاس جب لوٹے تب رکھ لے اور جس کو قربانی کا جانور میسر ہو، اس کو چاہیے کہ وہ قربانی کرے ۔ چنانچہ ہم نے ایک اونٹ سات افراد کی جانب سے قربان کیا ۔ عطاءفرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ میں مال غنیمت تقسیم کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بکرا آیا جوانہوں نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا تو ربیعہ بن امیہ بن خلف کوحکم دیا تو وہ آپ کی اونٹنی کے آگے کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تم بلند آواز میں لوگو ں سے کہو اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سامہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ حرمت والامہینہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا : یہ حرمت والا شہر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح یہ مہینہ ، یہ شہر اور یہ دن حرمت والا ہے، اسی طرح اللہ تعالی نے تم پر تمہارے مال اور خون حرام کئے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا کیا اور جب عرفات میں ٹھہرے تو فرمایا: یہ ٹھہر نے کی جگہ ہے اور پورامیدان عرفات ٹھہر نے کی جگہ ہے، اور جب آپ مزدلفہ میں ٹھہرے تو فرمایا : یہ ٹھہر نے کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ٹھہر نے کی جگہ ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور اس حدیث میں اس کے بھی الفاظ موجود ہیں: جس کو جعفر بن محمد صادق نے اپنے والد کے واسطے سے جابر سے روایت کیا ہے اور اس میں کئی الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1742

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1743

1743 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَنَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهَ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَهُ بَيْنَ النَّاسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شیطان کو کنکریاں مار لیں اور اپنا قربانی کاجانور ذبح کر لیا اورحلق کروالیا تو ابوطلحہ کو بلا کر وہ( موئے مبارک )لوگوں میں تقسیم کر نے کا حکم دیا ۔ یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1743

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1744

1744 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، «شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ، وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبِهِ» ، قَالُوا: فَإِنَّهُ عِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ، وَالْكَتَمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت محمد بن عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے والد اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ قربان گاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کر وا کر بال ایک کپڑے میں ڈال کر ان کو دے دیے اور انہوں نے وہ با ل لوگوں میں تقسیم کر دیے ۔ اور آپ نے اپنے ناخن تراش کر ایک صحابی کو عطا فرمائے ۔صحابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ بال اب بھی ہمارے پاس کتم اور مہندی سے رنگے ہوئے موجود ہیں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أن محمد بن عبد الله بن زيد ← يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1744

chevron_left Previous
1…171819…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section