Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1709

1709 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَأَفَاضَ بِالسَّكِينَةِ» ، وَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ: «لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ» فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا حَتَّى أَتَى مِنًى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پیچھے سوار کرالیا۔ اور بڑے اطمینان سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! اطمنان سے چلو، گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ (اسامہ فرماتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد منیٰ کے پہنچنے تک میں نے کسی اونٹنی کو تیز چلتے نہیں دیکھا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أُسَامَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1709

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1710

1710 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بُدُوُّ الْإِيضَاعِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَّتَيِ النَّاسِ قَدْ عَلَّقُوا الْقِعَابَ وَالْعِصِيَّ، فَإِذَا أَفَاضُوا تَقَعْقَعُوا فَأَنْفَرَتِ النَّاسَ، «وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَىْ ظُفُرَيْ نَاقَتِهِ لَا يَمَسُّ الْأَرْضَ حَارِكَةً» ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گھوڑے دوڑانے کا آغاز د یہاتیوں کی طرف سے ہوا ، وہ لوگ دوسرے لوگوں کے کناروں پرٹھہرتے تھے اور اپنا ساز وسامان ( پہلے سے ہی باندھ کر رکھتے تھے ، جب لوگ وہاں سے کوچ کر تے ( تو سب سے پہلے یہ لوگ )بھاگتے پھر دوسرے لوگ بھی نکل پڑتے اور جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ سبک رفتاری کے باعث آپ کی اونٹنی کے ناخن زمین پرنہیں لگتے تھے ، اس وقت آپ ارشادفر ما رہے تھے :اے لوگو! اطمینان کے ساتھ چلو ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1710

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1711

1711 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الْخَوَّاصُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، ثنا أَبُو الْعَالِيَةِ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ: «هَاتِ الْقُطْ لِي حَصَيَاتٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ» ، فَلَمَّا وُضِعْنَ فِي يَدِهِ قَالَ: «بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس دن کنکر یاں ماری جاتی ہیں ، اس دن صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا:ادھر آؤ! کنکر یاں جمع کر کے مجھے دو، جب وہ کنکر یاں آپ کے ہاتھ میں رکھی گئیں تو آپ نے ( متوسط سائز کی کنکر یوں کی طرف اشارہ کر کے) فرمایا : ان کنکر یوں جیسی ( کنکریاں مارنی چائیں) اور اپنے دین میں غلو سے بچو! کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: ← أَبُو الْعَالِيَةِ، ← زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الْخَوَّاصُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1711

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1712

1712 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٌّ الْحَنَفِيُّ، وَأَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، قَالُوا: ثنا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيَّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ، لَا ضَرْبَ، وَلَا طَرْدَ، وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت قدامہ بن عبداللہ ،عمارکابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوا پنی صہباءاونٹنی پر شیطان کو کنکریاں مارتے دیکھا۔اس میں نہ کسی کو مارا گیانہ الگ ہو کر کھڑے ہوئے اور نہ ہٹو بچو کا شور ہوا۔ ( یہ تعریض ہے امراء کے لئے کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی نیا انداز نہ ا پنالیں ) یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے

قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ ← أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ← أَبُو عَلِيٌّ الْحَنَفِيُّ، وَأَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عبد الرحمن بن منصور ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1712

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1713

1713 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَمَّا أَتَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللَّهِ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدِ الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ فِي الْأَرْضِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «الشَّيْطَانَ تَرْجُمُونِ وَمِلَّةَ أَبِيكُمْ تَنْعُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مناسک حج ادا کرنے لگے تو جمرہ عقبہ کے پاس شیطان آپ کے پاس آیا:( اور ورغلانے کی کوشش کر نے لگا) تو آپ علیہ السلام نے اس کو سات کنکریاں مار یں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر دوسرے جمرہ کے قریب وہ دوبارہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا ، آپ علیہ السلام نے پھر اس کوسات کنکریاں مار یں ، جن کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا ، تیسرے جمرہ کے مقام پر وہ پھر آپ علیہ السلام کے پاس آیا ، آپ علیہ السلام نے پھر اس کو سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم( بھی عجیب لوگ ہو) شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہواوراپنے باپ کی ملت کا انکار کر تے ہو ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الحسن بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1713

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1714

1714 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بِنَاءً يُظِلُّكَ؟ قَالَ: «لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں کوئی عمارت نہ بناد یں؟ جس سے آپ کوسا یہ ملتا رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں ، کیونکہ )منیٰ میں ( قیام کاحق) پہلے آیئے پہلے پایئے کی بنیاد ہے ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بِنَاءً يُظِلُّكَ؟ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1714

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1715

1715 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَاهُ جَمَلًا لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ بِذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال اپنی قربانیوں میں ابوجہل کا ایک او نٹ روانہ فرمایا: جس کے سر میں چاندی کے زیورات ڈالے ہوئے تھے تا کہ اس سے مشرکین کاغم وغصہ اور بڑ ھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1715

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1716

1716 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دومینڈ ھے ذبح کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کوقبلہ رولٹالیا تو یوں دعا مانگی: وجهت وجهيت للذي فطرالسماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين(الانعام: 162 )، بسم الله والله أكبر، اللهم منك ولك عن محمد وأمته میں نے اپنامنہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ، ایک اسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں ،تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میر امرنا سب اللہ کے لئے ہے جورب سارے جہان کا ،اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلامسلمان ہوں‘‘(ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) (پھر)بسم الله والله أكبر اللهم منك ولك عن محمد وأمته ( پڑھ کر جانور ذبح کر دیا ) یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1716

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1717

1717 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ بِمِصْرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنِ اعْتَمَرَ مِنْ نِسَائِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی از واج نے حجۃ الوداع میں عمرہ کیا تھا ، ان سب کیجانب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گائے ذبح کی ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَلَمَةَ، ← محمد بن أبي كثير

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1717

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1718

1718 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ شُعْبَةَ - وَهَذَا اللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي الْعَبَّاسِ - قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَنِي عَمَّا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِي، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لَا يَجْزِينَ فِي الْأَضَاحِي: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى " قَالَ: قُلْتُ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. قَالَ: «فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِقِلَّةِ رِوَايَاتِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَدْ أَظْهَرَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فَضَائِلَهُ وَإِتْقَانَهُ «وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ مُتَفَرِّقَةٌ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهَا» فَمِنْهَا:

حضرت عبید بن فیروز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے بتائیے کہ قربانی کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی چیزوں کو نا پسند کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یوں (اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا : ( جبکہ میراہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) ۔ چار ( طرح کے جانور) کی قربانی جائز نہیں (ا) ایسا بھینگا جس کا بھینگا پن صاف ظاہر ہو۔(۲) اتنا بیمار جس کی بیماری بالکل واضح ہو ۔( ۳ ) ایسا لنگڑ اجسکالنگڑاپن ظا ہر ہو ۔(۴ )اور اتناغر کہ اسکی ہڈیوں کا گوداباقی نہ رہا ہو ۔عبید بن فیروز فر ماتے ہیں : میں نے کہا: میں تو کان اور سینگ کے نقص کو بھی پسند نہیں کرتا ہوں ۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ کو پسندنہیں ہے اس کو آپ خود چھوڑ دیں لیکن دوسروں پر اس کوحرام قرار نہ دیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے سلیمان بن عبدالرحمٰن کی روایات کم ہونے کی وجہ سے اس کونقل نہیں کیا۔ حالانکہ علی بن المدینی نے ان کے فضائل اور ان کی ذہنی پختگی بیان کی ہے ۔ اور اس حدیث کے متفرق صحیح اسانید کے ہمراہ شواہد بھی موجود ہیں لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ شاہدنمبر 1

الْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى ← عَمَّا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْأَضَاحِي، ← قلت للبراء ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةَ وَهَذَا اللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي الْعَبَّاسِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مكرم بن أحمد القاضي، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1718

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1719

1719 - مَا حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ الزُّهْرِيُّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ» قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " الْعَضَبُ: النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ وَمِنْهَا "

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے۔ قمادہ فرماتے ہیں : میں نے اس حدیث کا تذکر و سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث میں کٹے ہوئے اور ٹوٹے ہوئے سے مرادآ دھا یا اس سے زیادہ ہے ۔شاہدنمبر 2

الْعَضَبُ: النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ وَمِنْهَا ← قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ← عَلِيٍّ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نَهَى أَنْ يُضَحّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ. ← جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ الزُّهْرِيُّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَفَّانُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1719

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1720

1720 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو النَّضْرِ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَلِيٍّ الْكِنْدِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ» وَمِنْهَا ":

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ قربانی کا جانور خرید تے وقت اس کے کان اور آنکھوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کر لیں ۔ شاہدنمبر 3

«أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ» وَمِنْهَا ← عَلِيًّا ← حُجَيَّةَ بْنَ عَلِيٍّ الْكِنْدِيَّ، ← شُعْبَةُ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو النَّضْرِ، ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1720

chevron_left Previous
1…151617…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section