المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1709
1709 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَأَفَاضَ بِالسَّكِينَةِ» ، وَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَقَالَ: «لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ» فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا حَتَّى أَتَى مِنًى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پیچھے سوار کرالیا۔ اور بڑے اطمینان سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! اطمنان سے چلو، گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ (اسامہ فرماتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد منیٰ کے پہنچنے تک میں نے کسی اونٹنی کو تیز چلتے نہیں دیکھا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
أُسَامَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1709
