حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیع بشرط قرض جائز نہیں اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں نہ ایسا منافع جس کا ضمان نہ ہو اور نہ ایسی چیز فروخت کرنا جائز ہے جو تمہارے پاس موجود نہیں ۔ یہ حدیث ائمہ مسلمین کے روایت حدیث کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یونہی یہ حدیث داؤد بن ابی ہند اور عبدالملک بن ابی سلیمان اور یگر محدثین نے بھی عمر و بن شعیب کے حوالے سے بیان کی ہے جبکہ عطاء بن مسلم الخراسانی نے بھی یہ حدیث عمرو بن شعیب کے حوالے سے بیان کی ہے تاہم ان کی روایت میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے ۔ ( ان کی روایت کر دہ حدیث درج ذیل ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے کئی باتیں سنتا ہوں اور مجھے خدشہ کے کہیں میں ان کو بھول نہ جاؤں کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں ان کو لکھ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو انہوں نے جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےحوالے سے لکھا تھا اس میں سے یہ بھی تھا کہ آپ نے جب عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ کی طرف بھیجا تو فرمایا ان کو یہ بتا دو کہ ایک سودے میں دو سودے جائز نہیں ہیں اور ایسی چیز کی فروخت بھی جائز نہیں ہے جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی بیع بشرط قرض جائز ہے اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں ۔
حضرت عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ کے چچا صحابی رسول ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا آپ اس کو اپنے ساتھ لے کر چل دیے تاکہ اس کو گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا تیز چل رہے تھے اور دیہاتی آہستہ چل رہا تھا کچھ لوگ اس دیہاتی کے ساتھ گھوڑ ے کا سودا کرنے لگ گئے کیونکہ ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ گھوڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خرید چکے ہیں ( گھوڑے کی قیمت لگاتے لگاتے ) ایک صحابی نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لگائی ہوئی قیمت سے ) زیادہ دام بول دیے جب اس کے گھوڑے کا باؤ زیادہ لگ گیا تو اس نے وہیں سے آواز دی : اگر آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں ورنہ میں یہ بیچ رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیہاتی کی آواز سن کر رک گئے جب وہ دیہاتی آپ کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے یہ گھوڑا تجھ سے خرید نہیں لیا ہے ؟ اس نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ میں نے آپ کو یہ نہیں بیچا بلکہ یہ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ہے ۔ اس پر آپ کے اور اعرابی کے درمیان بات بڑھ گئی اور لوگ آپ کے اور اس اعرابی کے گرد جمع ہو گئے ۔ اعرابی نے کہا : آپ کوئی گواہ پیش کریں کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کو بیچا ہے تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ بولے ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ گھوڑا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہو کر بولے تم نے کس بنا پر گواہی دے دی ؟ انہوں نے جوا ب دیا آپ کی تصدیق کی بنا پر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ حالانکہ شیخین کے اتفاق کے ساتھ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور عمارہ بن خزیمہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بھی سنی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)
حضرت عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواء بن حارث المحاربی سے ایک گھوڑا خریدا بعد میں وہ مکر گیا تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ) گواہی دے دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا جب تم ( خریدتے وقت ) وہاں موجود نہیں تھے تو تم نے اسکی گواہی کیسے دے دی ؟ ( حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سچ فرما رہے ہیں لیکن میں نے تو آپ کی بات سن کر گواہی دی ہے اور میں یہ جانتا ہوں کہ آپ حق کے سوا کچھ بولتے ہی نہیں ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے متعلق خزیمہ گواہی دے تو یہ ( صرف ایک آدمی کی ) گواہی کافی ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں " ام ولد " کو بیچا کرتے تھے ۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے ہمیں اس سے روک دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ ایک صحیح حدیث اس حدیث کی شاہد بھی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے ۔)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: مجھے 12 مبلغ چاہئیں ۔ تو ہم نے حضرت سعد بن عبادہ بن دلیم بن حارثہ بن حزیمہ بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ کو پیش کیا۔ یہ بنی ساعدہ کے مبلغ تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5100
عبدالحمید بن عیش بن جبر اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ قریش نے رات کے وقت جبل ابو قبیس سے کسی کہنے والے کی یہ آواز سنی ، وہ کہہ رہاتھا، اگر سعد مسلمان ہو گیا تو محمد ﷺ کو مکہ میں کسی مخالف کی مخالفت کا خوف نہیں رہے گا۔ قریش نے سمجھا کہ یہ بات تمیم کے سعد اور ہذیم کے سعد کے بارے میں ہو رہی ہے۔ جب اگلی رات ہوئی تو انہوں نے یہ آوازیں سنیں۔ اے سعد ، قبیلہ اوس کے سعد تو مدد گار بن جا، اور اے سعد تبکر کرنے والے خزرجیوں کے سعد تم دونوں ہدایت کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول کرو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عارف کی طرح جنت الفردوس کی آرزو کرو۔ کیونکہ ہدایت کے طلب گار کے لئے اللہ تعالیٰ ثواب رفرف والی جنت الفردوس ہے۔ جب صبح ہوئی تو سفیان نے کہا: خدا کی قسم! وہ تو سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کے بارے میں آواز آ رہی تھی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5101
محمد سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک قبیلے کے کوڑے کے ڈھیر کے پاس سے گزررہے تھے کہ وہیں پر اچانک مر کر گر گئے۔ تو ایک جن نے کہا: ہم نے خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو مارا ہے اور ہم نے دو تیر مارے ہیں اور دونوں سیدھے اس کے دل پر جا کر لگے ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5102
حضرت قتادہ فرماتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیشاب کرنے کے لئے گئے، پھر جب واپس آئے تو کہہ رہے تھے : میری کمر میں درد ہو رہا ہے، اس حالت میں آپ زیادہ دیر نہیں رہے تھے کہ فوت ہو گئے تو اس وقت جنات نے یہ نوحہ پڑھا ہم نے خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو مارا ہے اور ہم نے دو تیر مارے ہیں جو کہ ان کے دل سے خطا نہیں ہوئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5103
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو سفیان کے آنے کی اطلاع ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ کی تو انہوں نے انکار کر دیا ، پھر آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ دریا میں کود جانے کا حکم دیں تو ہم دریا میں کود جائیں، اگر آپ کہیں تو ہم "برک الغماد" تک کا سفر کر جائیں۔(برک الغماد، یمن کے انتہائی دور دراز کے علاقوں کو کہا جاتا ہے)۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آواز دی اور یہ تمام لوگ روانہ ہو گئے اور میدان بدر میں آ کر خیمہ زن ہو گئے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5104
حضرت عروہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا مانگا کرتے تھے "اے اللہ ! مجھے عزت عطا فرما، اور عزت بغیر کام کے نہیں ملتی اور کا م بغیر کے نہیں ہوتا۔ یا قلیل مال نہ میرے قریب آئے اور نہ میں اس کے قریب جاؤں۔ اور اگر کوئی منادی ہوتا تو وہ کسی بلنڈ ٹیلے پر چڑھ کو یوں ندا دیتا : جس جس کو چربی یا گوشت چاہیئے وہ سعد کے پاس آ جائے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5105
حضرت عبداللہ بن ابو بکر فرماتےہیں : مشرکوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکڑ کر ان کے ہاتھ گردن پر باندھ دئیے اور ان کو مارتے ہوئے اور پیشانی کے بل گھسیٹتے ہوئے مکہ لے آئے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بال لمبے تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the messenger Sa`d ibn 'Ubadah al-Khazraji, al-Naqib, may God be pleased with him · Hadith 5106