Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5088

5088 - أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْغِفَارِيُّ بِمَرْوَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَيَّارٍ يَقُولُ: «خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وُلِدَ لِأَبِيهِ سَعِيدٍ عِشْرُونَ ابْنَا وَعِشْرُونَ ابْنَةً، فَأَمَّا الْخَالدُ بْنُ سَعِيدٍ فَإِنَّهُ قُتِلَ يَوْمَ مَرْجِ الصُّفْرِ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

احمد بن سیار فرماتے ہیں:حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کے 20 بیٹے ور 20 بیٹیاں تھیں۔ اور خالد بن سعید مرج الصفر کے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں سن 14 ہجری کو شہید ہوئے۔

أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْغِفَارِيُّ بِمَرْوَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the commentator Khalid bin Saeed bin Al-Aas bin Umayya bin Abed Shams bin Abd Manaf, may God be pleased with him · Hadith 5088

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5089

5089 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْخَاتَمُ؟» فَقَالَ: خَاتَمٌ اتَّخَذْتُهُ، قَالَ: «فَاطْرَحْهُ» فَطَرَحْتُهُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَقَشْتَهُ؟» قُلْتُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَتَّمَ بِهِ حَتَّى مَاتَ، فَهُوَ الْخَاتَمُ الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5089 - يحيى الحماني ضعيف

حضرت خلاد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ، اس وقت انہوں نے ایک انگوٹھی ہنی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ انگوٹھی کیسی ہے؟ انہوں نے کہا: حضور! یہ میں نے بنوائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اتارو، (حضرت خالد کہتےہیں) میں نے وہ انگوٹھی اتار کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دی، یہ انگوٹھی لوہے کی تھی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس پر کیا نقش کروایا ہے؟میں نے کہا: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " نقش کروایا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ہو انگوٹھی اپنے پاس رکھ لی اور اسی کے ساتھ (دستاویزات وغیرہ پر( مہر لگایا کرتے تھے، یہ وہی مہر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے س کو نقل نہیں کیا۔

«فَاطْرَحْهُ» فَطَرَحْتُهُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، ← خَاتَمٌ اتَّخَذْتُهُ، ← لَهُ النَّبِيُّ «مَا هَذَا الْخَاتَمُ؟» ← خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ، ← أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ← يحيى بن عبد الحميد ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله المزني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the commentator Khalid bin Saeed bin Al-Aas bin Umayya bin Abed Shams bin Abd Manaf, may God be pleased with him · Hadith 5089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2173

2173 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجِّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَوَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقِيلَ لَهُ مَا أَسْهَرَكَ؟ قَالَ: «إِنِّي وَجَدْتُ تَمْرَةً سَاقِطَةً فَأَكَلْتُهَا، ثُمَّ تَذَكَّرْتُ تَمْرًا، كَانَ عِنْدَنَا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَلَا أَدْرِي أَمِنْ ذَلِكَ كَانَتِ التَّمْرَةُ، أَوْ مِنْ تَمْرِ أَهْلِي فَذَلِكَ أَسْهَرَنِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2173 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سار ی رات کروٹیں بدلتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا آپ رات بھر کیوں جاگتے رہے ؟ تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے گھر میں ایک گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھا لیا ہے ۔ پھر مجھے یاد آیا کہ کچھ کھجوریں ہمارے پاس صدقہ کی بھی تھیں۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں نے جو کھجور کھائی ہے وہ صدقہ کی کھجوروں میں سے تھی یا ہماری گھر کی کھجوروں میں سے تھی بس اسی وجہ سے رات بھر مجھے نیند نہیں آئی ۔ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2173

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2174

2174 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَدْرِي أَتُبَّعُ لَعِينًا كَانَ أَمْ لَا، وَمَا أَدْرِي ذُو الْقَرْنَيْنِ نَبِيًّا كَانَ أَمْ لَا، وَمَا أَدْرِي الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لِأَهْلِهَا أَمْ لَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2174 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نہیں جانتا کہ تبع لعین تھایا نہیں ؟ اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقر نین نبی تھے یا نہیں؟ اور میں نہیں جانتا کہ حدود صاحب حد ( کے گناہوں ) کے لیے کفارہ ہیں یا نہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن رافع ومحمد بن يحيى ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2174

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2175

2175 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اشْتَرَى بَيْعًا فَوَجَبَ بِالْخِيَارِ، فَهُوَ لَهُ مَا لَمْ يُفَارِقْهُ صَاحِبُهُ، إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ، فَإِنْ فَارَقَهُ فَلَا خِيَارَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2175 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کوئی چیز خریدے تو یہ بیع اختیار کے ساتھ ثابت ہوتی ہے وہ اپنے ساتھی کے جدا ہونے سے پہلے پہلے بااختیار ہوتا ہے ۔ چاہے تو رکھ لے ( اور چاہے تو واپس کر دے) لیکن اگر اس کا ساتھی جدا ہو گیا تو اب اس کا اختیار ختم ہوگیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى اللَّخْمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2175

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2176

2176 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ غُلَامًا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ رَدَّهُ مِنْ عَيْبٍ وُجِدَ بِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ حِينَ رَدَّ عَلَيْهِ الْغُلَامُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ اسْتَغَلَّ غُلَامِي مُنْذُ كَانَ عِنْدَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2176 - صحيح

امیر المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا کچھ رصہ وہ غلام اس خریدار کے پاس رہا ۔ پھر اس کو اس غلام میں عیب معلوم ہوا تو واپس کر دیا اور جب اس نے یہ غلام واپس کیا تو وہ بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک غلام اس کے پاس رہا ہے یہ اس سے کام کرواتا رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2176

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2177

2177 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا اشْتَرَى غُلَامًا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ عَيْبٌ لَمْ يُعْلِمْ بِهِ فَاسْتَغَلَّهُ، ثُمَّ عَلِمَ الْعَيْبَ فَرَدَّهُ فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ اسْتَغَلَّهُ مُنْذُ زَمَانٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مُخْتَصَرًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2177 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے دوسرے سے عیب دار غلام خریدا لیکن خریدار کو خریدتے وقت اس کا علم نہ تھا ۔ وہ غلام سے غلہ جمع کرواتا رہا پھر اس کو عیب کا پتہ چلا تو واپس کر دیا ۔ و ہ اپنا جھگڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے غلام سے ایک عرصہ تک غلہ جمع کروایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلہ ضمان کے بدلے ہوتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اس حدیث کو ابن ابی ذئب نے مخلدبن خفاف پھر عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مختصراً روایت کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2177

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2178

2178 - أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ» وَحَدِيثُ عَاصِمٍ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ» رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ «أَمَّا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ»

ابن ابی ذئب رضی اللہ عنہ نے مخلد بن خفاف ، عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے۔ عاصم کی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ " خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے " اس حدیث کو ثوری ، یحیٰ بن سعید اور ابن مبارک نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے ۔ ثوری کی حدیث ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عمر بن جعفر السدوسي ← أحمد بن يعقوب الثقفي ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ ← عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2178

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2179

2179 - فَأَخْبَرَنَاهُ بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ» وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ "

حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے اپنی سند کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ " خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے "۔ ابن مبارک کی حدیث :۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ← قَبِيصَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← فَأَخْبَرَنَاهُ بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2179

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2180

2180 - فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ» وَأَمَّا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ "

ابن مبارک نے اپنی سند کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " خراج ضمان کے بدلے ہوتا ہے "۔یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث :

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عبدان أنبأ عبد الله ← فَأَخْبَرَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2180

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2181

2181 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ»

یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ " خراج ضمان کے عوض ہوتا ہے "

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2181

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5090

5090 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ عَمِّهِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَكْبَرِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَمَعَهُ ابْنَتُهُ أُمُّ خَالِدٍ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا قَمِيصٌ أَصْفَرُ وَقَدْ أَعْجَبَ الْجَارِيَةَ قَمِيصُهَا، وَقَدْ كَانَتْ فَهِمَتْ بَعْضَ كَلَامِ الْحَبَشَةِ فَرَاطَنَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِ الْحَبَشَةِ سَنَهْ سَنَهْ وَهِيَ بِالْحَبَشَةِ حَسَنٌ حَسَنٌ، ثُمَّ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْلِي وأَخْلِقِي، أَبْلِي وأَخْلِقِي» قَالَ: فَأَبْلَتْ وَاللَّهِ، ثُمَّ أَخْلَقَتْ، ثُمَّ مَالَتْ إِلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى مَوْضِعِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَأَخَذَهَا أَبُوهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهَا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ أَحَادِيثَ لِإِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ آبَائِهِ وَعُمُوَمَتِهِ، وَهَذِهِ أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ الَّتِي حَمَلَهَا أَبُوهَا صَغِيرَةً إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَحِبَتْ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَتْ عَنْهُ " حَدَّثَنِي بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاوُدَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْبَلَاذُرِّيُّ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدِ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ الْأَكْبَرِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5090 - لكنه منقطع

حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حبشہ سے واپس لوٹے تو وہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس وقت ان کی صاحبزادی حضرت ام خالد بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ اور انہوں نے زرد رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھی، اور یہ قمیص اس لڑکو کو بہت پسند تھی، اور یہ لڑکی کچھ کچھ حبشی زبان بھی سمجھتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حبشی زبان میں اس لڑکی کو کہا: سنہ سنہ ۔ حبشی زبان میں اس کا مطلب ہے "خوبصورت،خوبصورت"۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا: اس کو پہن پہن کر بوسیدہ کر دو،(راوی کہتے ہیں: اس نے واقعی وہ کپڑے پہن پہن کر بوسیدہ کر دئیے تھے) پھر وہ لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت کی جانب ہوئی اور مہر نبوت کو چھو لیا۔ ان کے والد حضرت خالد بن سعید ان کو پکڑ کر ہٹانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید کی ان کے آباء اور چچوں کے بارے میں حدیث نقل کی ہے۔ اور یہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص وہی ہیں جن کو ان کے والد نے بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا تھا۔ اس کے بعد وہ بارگاہ رسالت میں ہی رہیں۔ اور ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کردہ احادیث بھی موجود ہیں۔ اور اس بات کی دلیل یہ حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔

عَمِّهِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَكْبَرِ، ← أَبِي يَذْکُرُ ← خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the commentator Khalid bin Saeed bin Al-Aas bin Umayya bin Abed Shams bin Abd Manaf, may God be pleased with him · Hadith 5090

chevron_left Previous
1…129130131…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section