Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2068

2068 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزْنَجَرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَدِّثْنِي عَنْ قِصَّةِ الشَّيْطَانِ حِينَ أَخَذْتَهُ، فَقَالَ: جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ فَجَعَلْتُ الثَّمَرَ فِي غُرْفَةٍ، فَوَجَدْتُ فِيهِ نُقْصَانًا، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَذَا الشَّيْطَانُ يَأْخُذُهُ» قَالَ: فَدَخَلْتُ الْغُرْفَةَ فَأَغْلَقْتُ الْبَابَ عَلَيَّ فَجَاءَتْ ظُلْمَةٌ عَظِيمَةٌ فَغَشِيتُ الْبَابَ، ثُمَّ تَصَوَّرَ فِي صُورَةِ فِيلٍ، ثُمَّ تَصَوَّرَ فِي صُورَةٍ أُخْرَى، فَدَخَلَ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَشَدَدْتُ إِزَارِي عَلَيَّ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ، قَالَ: فَوَثَبْتُ إِلَيْهِ فَضَبَطْتُهُ فَالْتَقَتْ يَدَايَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي فَإِنِّي كَبِيرٌ ذُو عِيَالٍ كَثِيرٍ وَأَنَا فَقِيرٌ وَأَنَا مِنْ جِنِّ نَصِيبِينَ وَكَانَتْ لَنَا هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ صَاحِبُكُمْ، فَلَمَّا بُعِثَ أُخْرِجْنَا عَنْهَا فَخَلِّ عَنِّي، فَلَنْ أَعُودَ إِلَيْكَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَنَادَى مُنَادِيهِ أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا مُعَاذُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَعُودُ» فَعَادَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ الْغُرْفَةَ، وَأَغْلَقْتُ عَلَيَّ الْبَابَ فَدَخَلَ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَصَنَعْتُ بِهِ كَمَا صَنَعْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ إِلَيْكَ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَلَمْ تَقُلْ: لَا أَعُودُ؟ قَالَ: فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ وَآيَةُ ذَلِكَ عَلَيَّ أَنْ لَا يَقْرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ خَاتِمَةَ الْبَقَرَةِ فَيَدْخُلَ أَحَدٌ مِنَّا فِي بَيْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَعَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ مَرْوَزِيٌّ ثِقَةٌ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ، وَرَوَى عَنْهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ هَذَا الْحَدِيثَ بِعَيْنِهِ» .

ابوالاسودالد یلی فرماتے ہیں میں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے شیطان کا وہ قصہ سنائیں جب آپ نے اس کو پکڑ لیا تھا ۔ انہوں نے بتایا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے جمع کئے ہوئے ) صدقات کی نگرانی پر مقرر کیا۔ میں نے تمام پھل ایک کوٹھڑی میں رکھ دیئے ۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پھل کم ہو گئے ہیں ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں سے شیطان لے گیا ہے ۔ ( معاذ ) فرماتے ہیں : میں نے خودکوٹھڑی کے اندر داخل ہو کر اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پھر ایک اندھیرا سا چھا گیا جس نے دروازے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر مجھے ایک مرتبہ کسی ہاتھی کی صورت محسوس ہوئی ، دوبارہ کسی دوسری صورت میں محسوس ہوا پھر وہ دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا ، میں نے اپنی چادر اپنے او پر کھینچ لی تو وہ آ کر کھجور یں کھانے لگ گیا۔ میں نے اچھل کر اس کو دبوچ لیا۔ میں نے اس کو کہا: اے اللہ! کے دشمن ! ( یہ کیا کر رہے ہو؟) اس نے جوابا کہا: مجھے مچھوڑ دو کیونکہ میں بوڑھا آدمی ہوں ، کثیر عیالدارشخص ہوں اور فقیر ہوں اور میں نصیبین کے جنات میں سے ہوں ۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہ علاقہ ہمارا مسکن ہوا کرتا تھا۔ جب ان کی بعثت ہوئی تو ہمیں یہاں سے نکال دیا گیا ۔ آپ مجھے چھوڑ دیں، میں دو بارہ ادھر نہیں آؤں گا۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بتادیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑ ھالی تو آواز دے کر پوچھا: معاذ بن جبل کہاں ہے؟ میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ ! تیرے قیدی کا کیا بنا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات والا قصہ سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دوبارہ پھرآئے گا ۔ ( پھر حضرت معاز رضی اللہ عنہ ) لوٹ آئے۔ (معاذ ) فرماتے ہیں : میں نے پھر کوٹھری میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔ وہ پھر دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا اور کھجور یں کھانے لگ گیا، میں نے اس کے ساتھ وہی والا معاملہ کیا جو پچھلی رات کیا تھا ۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دیں میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن تو نے گذشتہ رات بھی یہی بات کی تھی کہ میں لوٹ کر نہیں آؤں گا ؟ اس نے کہا: (اب میں پکاوعد ہ کر تا ہوں کہ) ہر گز لوٹ کر نہیں آؤں گا ۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ جوشخص سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھے تو اس رات ہم میں سے کوئی بھی اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ اور عبدالمومن بن خالد المروزی حنفی ثقہ ہیں ، ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں اور بعینہ یہی حدیث زید بن الحباب نے ان سے روایت کی ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے)

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنْجَرْدِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2068

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2069

2069 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُرْجَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ الْخُرَاسَانِيُّ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَخْبِرْنِي عَنْ قِصَّةِ الشَّيْطَانِ - ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ -

مذکور ہسند کے ہمراہ بھی گذشتہ حدیث منقول ہے۔

الْحَدِيثَ. ← قِصَّةِ الشَّيْطَانِ ثُمَّ ← قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ الْخُرَاسَانِيُّ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُرْجَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2069

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2070

2070 - أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ حَبِيبِ بْنِ هِنْدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَهُوَ خَيْرٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوقر آن کریم کی پہلی سات ( آیتوں) کولیتا ہے ،تو یہ’’خیر‘‘ ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← حَبِيبِ بْنِ هِنْدَ الْأَسْلَمِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يحيى بن يحيى أنبا إسماعيل بن جعفر ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2070

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2071

2071 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ شَفِيعٌ لِأَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ» قِيلَ: وَمَا الزَّهْرَاوَانِ؟ قَالَ: «الْبَقَرَةُ، وَآلُ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَفِرْقَيْنِ مِنَ الطَّيْرِ بِيضٍ صَوَافَّ يَدْفَعَانِ بَأَجْنِحَتِهِمَا عَنْ أَصْحَابِهِمَا، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ تَعَلُّمَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ»

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: قرآن پاک سیکھو کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والوں کے لئے قیامت کے دن شفاعت کنندہ ہوگا ۔ اور دومحافظوں کو پڑھو! آپ سے پوچھا گیا: دومحا فظوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ بقرہ اور سورہ ال عمران ۔ کیونکہ یہ قیامت کے روز دو بادلوں کی طرح یا غبار کے گولوں کی طرح یا سفید پرندوں کی دو جماعتوں کی طرح جنہوں نے اپنے پر پھیلائے ہوئے ہوں اپنے پروں سے اپنے اصحاب کا دفاع کر یں گے ۔تم سورہ بقر ہ سیکھو کیونکہ اس کی تعلیم میں برکت ہے اس کو ترک کر نا حسرت ہے اور کفار کو اس کی استطاعت نہیں ہے ۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← حرملة بن يحيى أنبأ عبد الله بن وهب ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2071

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2072

2072 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُقْرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ كَمَا أُنْزِلَتْ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَقَامِهِ إِلَى مَكَّةَ، وَمَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا ثُمَّ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ كُتِبَ فِي رَقٍّ، ثُمَّ طُبِعَ بِطَابَعٍ فَلَمْ يُكْسَرْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ". وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ فَأَوْقَفَهُ [ص:753].

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جوشخص’’ سورۂ کہف‘‘ اس طرح پڑھے جس طرح نازل ہوئی تو یہ قیامت میں اس کے لئے اس کے کھڑا ہونے کی جگہ سے مکہ تک روشنی ہوگی ۔ اور جوشخص اس کی آخری دس آیتیں تلاوت کرے اس پر دجال مسلط نہیں ہو سکے گا۔اور جوشخص وضوکر کے یہ پڑ ھے’’سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك ‘‘ اس کو ایک کا غذ پرلکھ کر اسے سربمہر کر دیا جا تا ہے تو وہ کاغذ قیامت تک نہیں کھولا جائے گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔اس حدیث کوسفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے ابو ہاشم سے موقو فا روایت کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← أَبِي هَاشِمٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْمُقْرِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2072

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2073

2073 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُوسَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ - فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ -

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جوشخص’’سورہ کہف‘‘ پڑھے پھر اس کے بعد گذشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔

مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُوسَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2073

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2074

2074 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُورَةُ يس اقْرَءُوهَا عِنْدَ مَوْتَاكُمْ» . أَوْقَفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ. «وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ إِذِ الزِّيَادَةُ مِنَ الثِّقَةِ مَقْبُولَةٌ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اپنے مرنے والوں کے پاس ’’سورۂ یٰسین ‘‘ پڑھا کرو۔ یحیٰ بن سعید اور دیگر محد ثین رحمتہ اللہ نے اس کو سلیمان التیمی سے موقوفاً بیان کیا ہے ۔ اور اس سلسلہ میں ابن مبارک کا قول معتبر ہے کیونکہ ثقہ کی جانب سے زیادتی مقبول ہوتی ہے۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِ ← أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانَ التَّمِيمِيِّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2074

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ مَرْثَدِ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ · حديث 4979

4979 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ، وَهُمَا حَيَّانِ مِنْ جَدِيلَةَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: إِنَّ بِأَرْضِنَا إِسْلَامًا، فَابْعَثْ مَعَنَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِكَ يُقْرِئُونَنَا الْقُرْآنَ وَيُفَقِّهُونَنَا فِي الْإِسْلَامِ، " فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ سِتَّةَ نَفَرٍ مِنْهُمْ: مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ حَلِيفُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ أَمِيرُهُمْ، وَخَالِدُ بْنُ الْبُكَيْرِ اللَّيْثِيُّ حَلِيفُ بَنِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَارِقٍ الظَّفَرِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ، وَخُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ، وَعَاصِمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَفْلَحِ "، فَخَرَجُوا وَأَمِيرُهُمْ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالرَّجِيعِ أَتَتْهُمُ هُذَيْلُ، فَلَمْ يَرَعِ الْقَوْمُ فِي رِحَالِهِمْ إِلَّا الرِّجَالَ فِي أَيْدِيهِمُ السُّيُوفُ قَدْ غَشُوهُمْ بِهَا، فَأَخَذَ الْقَوْمُ أَسْيَافَهُمْ لِيُقَاتِلُوا فَقَالُوا: اللَّهُمَّ مَا نُرِيدُ قَتْلَكُمْ، وَلَكِنَّا نُرِيدُ أَنْ نُصِيبَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَلَكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ، فَأَمَّا عَاصِمٌ وَمَرْثَدٌ وَخَالِدٌ فَقَاتَلُوا حَتَّى قُتِلُوا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَقْبَلُ مِنْ مُشْرِكٍ عَهْدًا وَلَا عَقْدًا أَبَدًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4979 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ احدکے بعد جدیلہ کے دو قبیلوں عضل اور قارہ کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے علاقے میں بھی اسلام (پہنچ چکا) ہے، اس لئے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ وہ ہمیں قرآن سکھائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ہمراہ 6 آدمی روانہ فرما دئیے، ان میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حلیف حضرت مرثد ابی مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ اور یہ ان کے امیر تھے۔ اور بنی عدی کے حلیف حضرت خالد بن بکیر الیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عبداللہ بن طارق الظفری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن دثن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت خبیب بن عد ی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عاصم بن ثاب بن ابی الافلح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ یہ سب لوگ روانہ ہو گئے اور مرثدابن ابی مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے امیر تھے۔ جب یہ لوگ مقام رجیع میں پہنچے تو ہذیل کے لوگ وہاں آ پہنچے، ان لوگوں نے اپنے خیموں میں سے دیکھا کہ یہ لوگ ہاتھوں میں تلواریں اٹھائے ان کا گھیراؤ کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی اپنی تلواریں نیام سے نکال لیں، ہذیل کے لوگوں نے کہا: ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے بلکہ ہم تو (تمہیں زندہ اہل مکہ کے حوالے کر کے) اہل مکہ سے تمہارے عوض انعام و اکرام لینا چاہتے ہیں، اس لئے تم ہمارے ساتھ اللہ کے نام پر عہد کرو( کہ تم ہمارے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کرو گے)۔ حضرت عاصم ، حضرت مرثد اور حضرت خالد نے ان کا عہد قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ کہہ کر کہ ہم کسی مشرک کا عہد اور وعدہ کبھی بھی قبول نہیں کر سکتے، ان کے ساتھ لڑ پڑے حتی کہ تینوں شہید ہو گئے۔ (اور باقی تینوں نے انکا عہد قبول کر لیا تھا، ہذیل ان تینوں کو لیکر مکہ روانہ ہو گئے، جب یہ لوگ مرا لظہران مقام پر پہنچے تو حضرت عبداللہ بن طارق ان سے لڑ پڑھے، ان لوگوں نے پتھر مار مار کر ان کو وہیں شہید کر دیا، باقی دونوں کو مکہ لے جا کر بیچ ڈالا، حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجیر ابن ابی اہاب کی اولادوں نے خرید ا اور حارث بن عامر کے بدلے میں ان کو شہید کر دیا، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خرید ا اور اپنے باپ کے بدلے میں ان کو شہید کر دیا)۔

عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the marshals of Ibn Abi, the martyr of the Ghani · Hadith 4979

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ مَرْثَدِ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ · حديث 4980

4980 - فَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَالِكٍ الْغَنَوِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ «شَهِدَ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ السُّبُلُ» ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: «اسْتُشْهِدَ مَرْثَدُ الْغَنَوِيُّ فِيمَا بَيْنَ أُحُدٍ وَالْخَنْدَقُ فِي صَفَرٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ» هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَرْثَدَ اسْتُشْهِدَ قَبْلَ أَبِيهِ أَبِي مَرْثَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِثَمَانِ سِنِينَ، فَإِنَّ أَبَا مَرْثَدٍ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ بِالْمَدِينَةِ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، جَهِدْتُ فِي طَلَبِ حَدِيثٍ يُسْنِدُهُ مَرْثَدٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا الْحَدِيثَ الَّذِي "

حضرت سعید بن مالک غنوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ بدر کے دن اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوئے ۔ ان کے گھوڑے کا نام "السبل " تھا۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: حضرت مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ احد اور خندق کے درمیان چوتھی سن ہجری میں ماہ سفر میں شہید ہوئے۔

أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ مَالِكٍ الْغَنَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَهْ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the marshals of Ibn Abi, the martyr of the Ghani · Hadith 4980

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ مَرْثَدِ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ · حديث 4981

4981 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ سَرَّكُمْ أَنْ تُقْبَلَ صَلَاتُكُمْ فَلْيَؤُمَّكُمْ خِيَارُكُمْ، فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری صحابی ہیں، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری خوشی یہ ہے کہ تمہاری نمازیں قبول ہوں، اس لئے اپنے میں سے بہترین کو امام بنایا کرو کیونکہ یہ تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں۔

مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ وَكَانَ بَدْرِيًّا ← الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، ← يحيى بن يعلى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the marshals of Ibn Abi, the martyr of the Ghani · Hadith 4981

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جُبَارِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدِ الْبَدْرِيِّينَ · حديث 4982

4982 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَارُ بْنُ صَخْرِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَنْسَاءَ بْنِ سِنَانٍ»

حضرت عروہ نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں حضرت جبار بن صحر بن امیہ بن خنساء بن سنان کا بھی ذکر کیا ہے۔

أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Jabbar Ibn Sakhr, may God be pleased with him, one of the Badrists · Hadith 4982

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جُبَارِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَدِ الْبَدْرِيِّينَ · حديث 4983

4983 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ جُبَارُ بْنُ صَخْرٍ بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ ثَلَاثِينَ وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّينَ سَنَةً»

حضرت خلیفہ بن خیاط فرماتے ہیں: حضرت جبار بن صخر رضی اللہ عنہ نے تیسری سن ہجری میں 62 سال کی عمر میں مدینہ شریف میں وفات پائی۔

«تُوُفِّيَ جُبَارُ بْنُ صَخْرٍ بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ ثَلَاثِينَ وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّينَ سَنَةً» ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا ← أحمد بن يعقوب الثقفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Jabbar Ibn Sakhr, may God be pleased with him, one of the Badrists · Hadith 4983

chevron_left Previous
1…111112113…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section