Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 2027

2027 - حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ وَهْبٍ الْجَنَدِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ: «هُوَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ، وَمَا بَيْنَهُ، وَبَيْنَ اسْمِ اللَّهِ الْأَكْبَرِ، إِلَّا كَمَا بَيْنَ سَوَّادِ الْعَيْنِ، وَبَيَاضِهَا مِنَ الْقُرْبِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے’’ بسم الله الرّحمن الرّحیم ‘‘ کے متعلق در یافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: یہ اللہ تعالی کے اسماء میں سے ایک ہے ،اس میں اور اللہ تعالی کے اسم اعظم میں اتنا قرب ہے جتنا آنکھ کی سفید کا سیاہی کے ساتھ قرب ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

بسم الله الرَّحْمَن الرحيم. ← ابن عباس، أن عثمان بن عفان سأل رسول الله ← طَاوْسٍ ← أَبِي ← سلام بن وهب الجندي ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › Insurance section · Hadith 2027

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2028

2028 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَقَدِ اسْتَدَرَجَ النُّبُوَّةَ بَيْنَ جَنْبَيْهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُوحَى إِلَيْهِ، لَا يَنْبَغِي لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ أَنْ يَحِدَّ مَعَ مَنْ حَدَّ، وَلَا يَجْهَلَ مَعَ مَنْ جَهِلَ وَفِي جَوْفِهِ كَلَامُ اللَّهِ تَعَالَى» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:جوشخص قرآن پڑھتا ہے وہ نبوت کو اپنے دائیں بائیں قریب کر لیتا ہے تا ہم اس کی طرف وحی نہیں آتی ( یعنی در جہ نبوت کے قریب ترین پہنچ جا تا ہے) قرآن پڑھنے والے کو یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے سینے میں قرآن ہو اور وہ بحث کر نے والوں کے ساتھ بحث کر نے لگ جائے اور جاہلوں کے ساتھ جاہل بن جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← ثعلبة بن يزيد ← خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2028

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2029

2029 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَجِيءُ صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: الْقُرْآنُ يَا رَبِّ حَلِّهِ فَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ زِدْهُ يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ فَيَرْضَى عَنْهُ، وَيُقَالُ لَهُ اقْرِهِ وَارْقَهْ، وَيَزْدَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : صاحب قرآن ، قیامت کے دن جب آئے گا تو قرآن کہے گا : اے میرے رب! اس کو قیمتی لباس پہنا تو اس کوعزت کا تاج پہنایا جائے گا ،قر آن پھر کہے گا: اے میرے رب! اس کی عزت میں اضافہ فرما، اے میرے رب! اس کو راضی فرما۔ تو اس کو راضی کیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: قرآن پڑھتا جااور جنت کے درجوں میں چڑھتا جا اور ہر آیت کے بد لے اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ← محمد بن إسحاق الإمام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2029

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2030

2030 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اقْرَهْ، وَارْقَهْ، وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ فِي آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا: قرآن کی تلاوت کر تا جا اور در جوں میں چڑھتا جا اور جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر قرآن کریم پڑھتا تھا ، اسی طرح پڑھ کیونکہ جہاں تک تو آخری آیت کی تلاوت کے وقت پہنچے گا وہی تیری منزل ہوگی ۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2030

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2031

2031 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَزَلَ الْكِتَابُ الْأَوَّلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ زَاجِرًا، وَآمِرًا وَحَلَالًا وَحَرَامًا وَمُحْكَمًا وَمُتَشَابِهًا وَأَمْثَالًا فَأَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ، وَاعْتَبِرُوا بَأَمْثَالِهِ، وَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ، وَآمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ وَقُولُوا: آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: پہلی کتابیں ایک ہی انداز سے،ایک ہی قرآت کے مطابق نازل ہوئیں ،البتہ قرآن کریم سات قراءتوں میں نازل ہوا، اس میں ڈانٹ بھی ہے، احکام بھی ہیں، بھی ہیں، حلال بھی ہیں،حرام بھی ہیں محکم بھی ہیں ،متشابھات بھی ہیں اور بھی بہت سارے احکام ہیں ، اس لئے اس کے حلال کردہ کوحلال جانو ، اس کے حرام کردہ کوحرام جانو ، جواس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے منع کیا گیا ہے اس سے رک جاؤ اور اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو اس کی محکمات پر عمل کرواور اس کے متشابھات پر ایمان رکھواور کہو: ہم ان پر ایمان لائے ،سب کا سب ہمارے رب کی طرف سے ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← سلمة بن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2031

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2032

2032 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ وَحْشِيٌّ، أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ، مِنَ الْإِبِلِ، مِنْ عُقُلِهَا، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:قرآن پاک کی خوب دیکھ بھال کرو کیونکہ یہ وحشی اونٹ کے اپنی رسی سے بھاگنے سے بھی زیادہ سخت طریقے سے لوگوں کے سینوں سے بھاگ جا تا ہے ۔اور کوئی شخص یہ نہ کہے کہ مجھےفلاں آیت بھول گئی ہے بلکہ وہ خودآیت کو بھول گیا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ خَالِدٍ الرَّازِيُّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2032

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2033

2033 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَيْنَا أقْرَأُ إِذْ غَشِيَنِي شَيْءٌ كَالسَّحَابِ وَالْمَرْأَةُ فِي الْبَيْتِ وَالْفَرَسُ فِي الدَّارِ فَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَسْقُطَ الْمَرْأَةُ، وَتَنْفَلِتَ الْفَرَسُ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ يَا أُسَيْدُ فَإِنَّمَا هُوَ مَلَكٌ اسْتَمَعَ الْقُرْآنَ»

حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے اور آپ کی آواز بہت خوبصورت تھی ۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ،انہوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ابھی تلاوت کر رہا تھا کہ بادل جیسی چیز نے مجھے گھیرلیا۔اور گھر میں عورتوں اور صحن میں گھوڑے کا بھی یہ حال تھا اور مجھے یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ عورتیں گر پڑیں گی اور گھوڑا چھوٹ ( کر بھاگ ) جائے گا ۔ اس لئے میں نے تلاوت روک دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اے اسید ! تم تلاوت کر تے رہا کرو کیونکہ فرشتہ تمہاری تلاوت سنتا ہے۔

مَالِكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2033

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2034

2034 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ -، وَقَالَ فِيهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ أُسَيْدُ، اقْرَأْ أُسَيْدُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَلَكٌ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدٍ

حضرت ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسید بن حضیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے پھر اس کے بعد گذشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اے اسید پڑھو،اے اسید پڑھو کیونکہ وہ فرشتہ ہے اور تمہاری تلاوت سنتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور ایک حدیث اس کی شاہد بھی ہے جو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اس کو عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اسید سے روایت کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

فِيهِ ← الحديث بنحوه ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ أَتَى النَّبِيَّ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2034

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ قُتِلَ بِمُؤْتَةَ شَهِيدًا فِي سَنَةِ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4937

4937 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ، بَيَّاعُ السَّابِرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَرِيبَةٌ مِنْهُ إِذْ رَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَسْمَاءُ، هَذَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ سَلَّمُوا عَلَيْنَا فَرُدِّي عَلَيْهِمُ السَّلَامَ» ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ مَمَرِّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، فَقَالَ: لَقِيتُ الْمُشْرِكِينَ فَأُصِبْتُ فِي جَسَدِي مِنْ مَقَادِيمِي ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ بَيْنَ رَمْيَةٍ وَطَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ، ثُمَّ أَخَذْتُ اللِّوَاءَ بِيَدِي الْيُمْنَى فَقُطِعَتْ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِي الْيُسْرَى فَقُطِعَتْ، فَعَوَّضَنِي اللَّهُ مِنْ يَدِي جَنَاحَيْنِ أَطِيرُ بِهِمَا مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَنْزِلُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتُ، وَآكَلُ مِنْ ثِمَارِهَا مَا شِئْتُ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: هَنِيئًا لِجَعْفَرٍ مَا رَزَقَهُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ لَا يُصَدِّقُ النَّاسُ، فَاصْعَدِ الْمِنْبَرَ فأَخْبِرْ بِهِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ جَعْفَرًا مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ سَلَّمَ عَلَيَّ» ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُ حَيْثُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ، فَاسْتَبَانَ لِلنَّاسِ بَعْدَ الْيَوْمِ الَّذِي أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جَعْفَرًا لَقِيَهُمْ؛ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ الطَّيَّارُ فِي الْجَنَّةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4937 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے، حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کے بالکل قریب بیٹھی ہوئی تھیں، آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا:پھر فرمایا: اے اسماء ! یہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کے ہمراہ ہمیں سلام کہہ رہے ہیں،تم (بھی) ان کے سلام کاجواب دو، اور انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی فلاں دن مشرکین سے مڈبھیڑ ہو گئی تھی، اور یہ بات حضور ﷺ کے پاس سے گزرنے سے تین یا چار دن پہلے کی ہے۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں مشرکین سے لڑا، میرے جسم کے صرف اگلی جانب تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے 73 زخم تھے، پھر میں نے جھنڈا اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑلیا، میرا یہ ہاتھ کٹ گیا، پھر میں نے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا، یہ ہاتھ بھی کٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ان دونوں ہاتھوں کے بدلے دو "پر" عطا فرمائے ہیں، ان کی مدد سے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ہمراہ اڑتا ہوں، جنت میں جہاں چاہوں چلا جاتا ہوں، اور جہاں سے دل چاہے جنت کی نعمتیں کھاتا ہوں۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے حضرت جعفر کوجو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کو مبارک ہوں، لیکن ( یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ اپنی زبان مبارک سے لوگوں کونہیں بتائیں گے) مجھے خدشہ ہے کہ لوگ یہ بات تسلیم نہیں کریں گے۔ اس لئے آپ منبر پر جلوہ گر ہو کرلوگوں کو بتا دیجئے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا: اے لوگو! حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ہمراہ ہیں،ان کے دو پر ہیں، جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دونوں ہاتھوں کے بدلے دئیے ہیں انہوں نے مجھے سلام کہا ہے۔ پھر اس کے بعد مشرکین کے ساتھ جنگ کا پورا واقعہ سنایا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتانے کے بعد لوگوں پر یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے ان کو "طیار" کہا جاتا ہے۔ (یعنی جنت میں اڑنے والے)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ، بَيَّاعُ السَّابِرِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4937

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ قُتِلَ بِمُؤْتَةَ شَهِيدًا فِي سَنَةِ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4938

4938 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سِنِينَ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ عَمَّارِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ، ثنا مَعْنُ بْنُ زَائِدَةَ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ قَائِدُ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ لِجَعْفَرٍ دَرَجَةً فَوْقَ دَرَجَةِ زَيْدٍ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ زَيْدًا يَدُونُ أَحَدًا، فَقِيلَ لِي: يَا مُحَمَّدُ، تَدْرِي بِمَا رُفِعَتْ دَرَجَةُ جَعْفَرٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قِيلَ: لَقَرَابَةٍ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4938 - منكر وإسناده مظلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں نے (خواب میں) دیکھا جیسا کہ میں جنت میں داخل ہوا ، میں نے وہاں جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامقام، زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام سے بھی بلند دیکھا، میں نے کہا: میرا تو خیال تھا کہ زید کامرتبہ کسی سے کم نہیں ہو گا، تومجھے بتایا گیا کہ اے محمد ﷺ! کیا آپ جانتے ہیں کہ جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامقام کس وجہ سے اونچا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو مجھے بتایا گیاکہ آپ کے ساتھ رشتہ داری کی وجہ سے۔ (سبحان اللہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مَعْنُ بْنُ زَائِدَةَ الْأَسَدِيُّ الْكُوفِيُّ قَائِدُ الْأَعْمَشِ، ← الْمُنْذِرُ بْنُ عَمَّارِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سِنِينَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4938

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ قُتِلَ بِمُؤْتَةَ شَهِيدًا فِي سَنَةِ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4939

4939 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ فِي قِصَّةِ بِنْتِ حَمْزَةَ ـ قَالَ: فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا، إِنَّ خَالَتَهَا عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَأَنْتَ مِنْ شَجَرَتِي الَّتِي أَنَا مِنْهَا» قَالَ: قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِذَلِكَ، وَأَمَّا الْجَارِيَةُ فأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ، فَإِنَّ خَالَتَهَا عِنْدَهُ، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ عَلَى وَجْهٍ أَحَبَّ إِلَيَّ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4939 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اس (کی کفالت) کا زیادہ مستحق ہوں کیونکہ اس کی خالہ بھی میرے پاس ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تم صورت و سیرت میں بالکل میرے جیسے ہو ، اور تم بھی اسی درخت سے ہو جس سے میں ہوں (یعنی تیرا اور میرا شجرہ نسب بھی ایک ہی ہے) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس پر راضی ہوں، آپ اس بچی کا جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں فیصلہ فرما دیجئے کیونکہ اس کی خالہ ان کے پاس ہے۔ اور خالہ ماں ہی (کی طرح) ہوتی ہے۔ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے جب حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ یہ کہا کہ " صورت اور سیرت میں تم بالکل میرے جیسے ہو" اس پر حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر جو خوشی کے آثار نظر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مجھے انہی کے چہرے پر سب سے زیادہ اچھے لگے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

قَدْ رَضِيتُ ← مِنْهَا: ← أَحَقُّ بِهَا، إِنَّ خَالَتَهَا عِنْدِي، ← جَعْفَرٌ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي قِصَّةِ بِنْتِ حَمْزَةَ ← أبيه نافع ← محمد بن نافع بن عجير ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4939

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ قُتِلَ بِمُؤْتَةَ شَهِيدًا فِي سَنَةِ ثَمَانٍ مِنَ الْهِجْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 4940

4940 - أَخْبَرَنِي مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحْنُ بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ: أَنَا وَعَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَالْمَهْدِيُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4940 - ذا موضوع

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم بنی عبدالمطلب جنتی لوگوں کے سردار ہیں ۔ میں ، علی، جعفر، حمزہ، حسن ، حسین اور مہدی (رضوان اللہ علیہم اجمعین)۔یہ حدیث ا مام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْيَمَامِيُّ، ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ← مكرم بن أحمد القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The male relative of Ja`far ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem was killed with a martyr in a year of eight years. · Hadith 4940

chevron_left Previous
1…104105106…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section