یحیٰ بن عباد بن عبداللہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابو سفیان بن حارث کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی اور شداد بن اسود نے ان کو اپنی تلوار کے ساتھ شہید کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شہادت کے موقع پر فرمایا: تمہارے اس ساتھ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی زوجہ محترمہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اعلان جہاد سنا تو اس وقت یہ جنبی تھے اور اسی حالت میں یہ جہاد کی طرف روانہ ہو گئےتھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتوں نے اس کو غسل دیا ہے۔ یہ حدیث ا مام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the nuqiyyat of Abdallah Ibn Abd Allah and the nuniyyat of Abd Allah Abu Amer Ibn Abed Omar Al Ansari who is Ghasa · Hadith 4917
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب لوگوں میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ کو دوہزار درہم دئیے، تو حضرت (طلحہ) اپنے بھتیجے کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے آئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو عبداللہ بن حنظلہ سے کم حصہ دیا۔ تو (حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا: اے امیر المومنین! آپ نے اس انصاری کو میرے بھتیجے سے زیادہ حصہ دیا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ (واقعی میں نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے زیادہ حصہ دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ) میں نے ان کو جنگ احد کے دن اس طرح دوڑ دوڑ کر تلوار چلاتے دیکھا ہے جیسے اونٹ دوڑتا ہے۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the nuqiyyat of Abdallah Ibn Abd Allah and the nuniyyat of Abd Allah Abu Amer Ibn Abed Omar Al Ansari who is Ghasa · Hadith 4918
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mention of the governor of Amr ibn al-Jamuh ibn Zayd ibn Ka'b al-Khazraji · Hadith 4919
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of the virtue of Sa`d ibn Muadh ibn al-Nu`man ibn Imra al-Qayyis ibn Zayd ibn Abd al-ashhal al-Khazri · Hadith 4920
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 2011
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب سونے کے لئے بستر پر آتا ہے تو ایک فرشتہ اورایک شیطان اس کی جانب دوڑ کر آ تے ہیں ، شیطان اس کو کہتا ہے گناہ شروع کر ،فرشتہ کہتا ہے : نیکی کا آغاز کر ۔ پھر اگر وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے ، تو شیطان چلا جا تا ہے اور اس کی جان چھوڑ دیتا ہے اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کی طرف دوڑ کر آ تے ہیں ۔ شیطان کہتا ہے: گناہ شروع کر اور فرشتہ کہتا ہے کہ نیکی شروع کر پھر اگر وہ یوں کہے’’ الحمد لله الذي رد إلى نفسي بعد موتها ولم يمتها في منامها، الحمد لله الذي يمسك السّماء أن تقع على الأرض إلا بإذنه، إن الله بالناس لرؤوف رحيم، الحمد لله الذي يحيي الموتى وهو على كل شيء قدير‘‘ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میرے مرنے کے بعد میری روح مجھ میں لوٹائی اور مجھے نیند کی حالت میں موت نہیں دی ۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے آسمانوں کوز مین پر گر نے سے روکا ہوا ہے ۔ اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ بے شک اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربان ، رحم کر نے والا ہے ۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو مردوں کوزند ہ کر تا ہے اور وہ ہر چاہت پر قادر ہے۔ اگر وہ جانور سے گر جائے تو شہید ہے اور اگر وہ نماز میں مشغول ہو جائے ،تو و ہ فضائل میں نماز پڑھتا ہے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
حضرت زہیرالانماری رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ اللهم اغفر لي ذنبي، واخسأ شيطاني، وفك رهاني وثقل ميزاني، واجعلني في الملا الأعلى‘‘۔ ”اے اللہ ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے شیطان کو نا کام کر اور میری رہن رکھی ہوئی اشیاء کو چھڑا اور میرا نامہ اعمال بھاری فرما اور مجھے ملا اعلی میں شامل فرما‘‘ یہ حدیث صحیح ا لاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب کوئی شخص کسی بیمار کی عیادت کرنےجائے تو اس کو چاہیے کہ یہ دعا پڑھے: اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا، أو يمشى لك إلى صلاة”اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاءعطا فر ما تا کہ یہ تیرے دشمنوں کا مقابلہ کرے اور نماز پڑھنے کے لیے چل کر آ سکے‘‘یہ حدیث مصری صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے نقل نہیں کیا۔اور اس موضوع پر کوفی راویوں کی سند کے ہمراہ بھی ایک دوسری حدیث روی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )۔
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں بیمارتھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان ! اللہ تعالی تیری بیماری کو شفا دے۔ تیرے گناہوں کی مغفرت کرے اور تیرے جسم اور بدن کو تیری موت تک صحت و تندرستی عطا کرے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس حدیث کی شاہد بھی ہے ۔(شاہد حدیث درج ذیل ہے )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہوجس کے پاس میراذکر یا جائے اور وہ مجھ پر درودنہ پڑھے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 2016
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 2017
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جولوگ ایک مجلس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر یں لیکن اپنے نبی پر درود نہ پڑھیں و ہ محفل ان کے لئے بے فائدہ ہے اور جولوگ بیٹھیں اور اللہ کا ذکر نہ کر یں ان کا بیٹھنا بھی ان کےلیے بے فائدہ ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص ایک مرتبہ میرے او پر درود پڑھتا ہے ۔ اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرما تا ہے اوراس کے دس گناہ مٹا تا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔