حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میں جوتمہیں تا کید کرتا ہوں اس پرعمل کر نے سے تمہیں کیا رکاوٹ ہے؟ صبح وشام اللہ تعالی سے یہ دعامانگا کرو: ’’يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث، أصلح لي شأني كله، ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين ‘‘۔ ’’یا حی یا قیوم ! میں تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں تو میرے تمام کاموں کی اصلاح فرمادے اور ایک لمحہ کے لیے بھی تو مجھے میرے آسرے پرنہ چھوڑ‘‘۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص سوتے وقت یہ دعا پڑھے ’’الحمد لله الذی گفانی و آوانی، الحمد لله الذي أطعمني وسقاني، الحمد لله الذي من على فافضل،اللهم إني أسألك بعزتك أن تنجيني من النار‘‘ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو میرے لیے کافی ہے اور جو میرا ٹھکانہ ہے،تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے کھلایا اور پلایا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میرے اوپر احسان کیا اورفضیلت دی، اے اللہ! میں تیری عزت کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں تو مجھے دوزخ سے بچا‘‘ اس نے تمام مخلوقات کی تمام تعریفوں کے برابرتعریف کی ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
ابراہیم بن محمد العبدی اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حسین و جمیل نوجوان تھے، ان کے ماں باپ ان سے محبت کرتے تھے، ان کی والدہ ان کو بہت ہی دیدہ زیب لباس زیب تن کرواتی تھیں اور آپ پورے مکہ میں سب سے زیادہ اچھی خوشبو لگاتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے" میں نے مصعب بن عمیر سے زیادہ خوبصورت ، خوش لباس اور صاحب نعمت کسی کو نہیں دیکھا"۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mas'ab al-Khair, which is Ibn Umayr ibn Hashem, was killed on the day of Uhud, may God be pleased with him. · Hadith 4904
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ غزوہ احد سے فارغ ہوئے تو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے قریب سے آپ ﷺ کا گزر ہوا، حضرت مصعب بن عمیر ایک راہ گزر میں شہید پڑے ہوئے تھے۔ ان کو دیکھ کر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:"﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ٢٣﴾"مسلمانوں میں کچھ وہ مردہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیا تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← قَطَنِ بْنِ وُهَيْبٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Mas'ab al-Khair, which is Ibn Umayr ibn Hashem, was killed on the day of Uhud, may God be pleased with him. · Hadith 4905
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے دن مجھے حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ڈھونڈنے بھیجا ، اور مجھے فرمایا: اگر تم ان کو دیکھو تو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے فرما رہے ہیں کہ تم نے اپنے آپ کو کیسا پایا؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں ان کو شہداء میں ڈھونڈنے لگ گیا، بالآخر میں نے ان کو دیکھ لیا، اس وقت وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہےتھے، ان پر نیزوں ، تلواروں اور تیروں کے ستر زخم موجود تھے، میں نے ان سے کہا: اے سعد ! تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے اپنی کیفیت بتاؤ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور تم پر سلامتی ہو، آپ ﷺ سے کہہ دینا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اور میری انصار قوم سے کہہ دینا "تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہا چھوڑنے کا کوئی عذر نہیں ہو گا جب تک کہ تمہاری پلکیں ہل رہی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں اس کے بعد ان کی روح پرواز کر گئی۔ اللہ تعالیٰ ان پر کڑوروں رحمتیں نازل فرمائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the poster of Sa`d ibn al-Rabi 'ibn Umar al-Khazri al-Uqbi · Hadith 4906
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون یہ دیکھ کر مجھے آکر بتائے گا کہ سعد بن الربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کیا ہوا؟ پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح پوری حدیث بیان کی اور فرمایا: حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دو کہ میں شہداء میں ہوں اور میں ان کو سلام کہہ رہا ہوں، اور آپ ﷺ سے یہ بھی کہہ دینا کہ سعد کہتا ہے " اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے اور پوری امت کی طرف سے آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the poster of Sa`d ibn al-Rabi 'ibn Umar al-Khazri al-Uqbi · Hadith 4907
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ہمارے غزوہ بدر میں شرکت سے محروم رہنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں اور میرے والد گرامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے جا رہے تھے کہ راستے میں قریش کے کفار نے ہمیں پکڑ لیا اور کہنے لگے : تم محمد کے پاس جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم اس کےپاس نہیں جارہے بلکہ ہم تو مدینے جارہے ہیں، انہوں نے ہم سے اللہ کے نام کا عہد لیا کہ تم صرف مدینہ ہی جاؤ گے اور محمد ﷺ کی ہمراہ جہاد میں شریک نہیں ہو گے۔ جب ہم وہاں سے چھوٹے تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آ گئے، اور سارا ماجرا سنا کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہم ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مدد لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو ا اللہ تعالیٰ کے نام کا معاہدہ توڑتے ہیں ( تو یہ اچھا نہیں لگے گا) چنانچہ ہم مدینہ کی طرف چلے گئے۔ یہ تھی وجہ جس بناء پر ہم غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the nagar of Yemen Ibn Jabir Abu Hudhaifa ibn al-Yaman, who was one of the witnesses · Hadith 4908
محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ احد کےلئے روانہ ہوئے تو حذیفہ کے والد یمان بن جابر اور ثابت بن وقش بن زعوراء کو بلند مضبوط مکانوں میں عورتوں اور بچوں کی نگرانی کے لئے مقرر کیا گیا۔ ان میں سے ایک نےاپنے ساتھی سے کہا: (یہ دونوں عمر رسیدہ تھے) ہمارا بھی کوئی حال نہیں ہے، ہم کب تک انتظار کرتے رہیں گے۔ ہماری تھوڑی سی تو عمر باقی بچی ہے جبکہ ہم اپنی قوم کے سردار ہیں کیوں نہ ہم اپنی تلواریں پکڑیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوں، چنانچہ دونوں جا کر مسلمانوں کے لشکر میں شریک ہو گئے، جبکہ مسلمان مجاہدین ان کو جانتے نہ تھے۔ حضرت ثابت بن وقش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشرکین نے شہید کر دیا اور حضرت حذیفہ کے والد، مسلم مجاہدین کے ہاتھوں شہید ہو گئے، کیونکہ یہ لوگ ان کو جانتے نہ تھے اس لئے لاعلمی میں مجاہدین نے ان کو شہید کر ڈالا، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ مجاہدین نے جواب دیا: ہم نے ان کو پہچانا نہیں تھا، اور ان کی یہ بات سچ تھی (انہوں نے واقعی ان کو نہیں پہچانا تھا) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے اور وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دیت ادا کرنا چاہی ، لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ دیت بھی مسلمانوں پر صدقہ کر دی۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں ان کا مقام اور بھی بڑھ گیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the nagar of Yemen Ibn Jabir Abu Hudhaifa ibn al-Yaman, who was one of the witnesses · Hadith 4909
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم ! میرے والد نے غزوہ احد کے دن صبح کے وقت شراب پی ( اس وقت تک ابھی شراب کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) پھر ناشتہ کیا ، پھر جنگ میں شریک ہوئے، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں لڑتے لڑتے میدان احد میں شہید ہو گئے۔ یہ حدیث ا مام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Maqib Abd Allah Ibn Amr Ibn Haram Ibn Tha`labah Ibn Haram Ibn Ka`ab Bin Ghanam Bin Kaab Bin Bin · Hadith 4910
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےفر مایا: اے جابر! میں تمہیں ایک خوشخبری نہ دوں؟ انہوں نے جواباً کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ مجھے خوشخبری دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے بھی اچھی خوشخبری عطا فرمائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات القاء کی گئی ہے کہ تیرے والد کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کر کے اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا: اے میرے بندے آج تو مجھ سے جو بھی خواہش کرے گا میں وہ تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکا، میری یہی تمنا ہے کہ تو مجھے واپس دنیا میں بھیج دے اور میں تیرے نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد کروں اور پھر شہید ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ( کسی کو دنیا میں واپس نہیں بھیجوں گا) اس لئے تجھے بھی واپس نہیں بھیجوں گا۔ تبصرہ: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Maqib Abd Allah Ibn Amr Ibn Haram Ibn Tha`labah Ibn Haram Ibn Ka`ab Bin Ghanam Bin Kaab Bin Bin · Hadith 4911
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 2002
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تم سونے لگوتو یہ دعا پڑھو’’ اللهم رب السماوات ورب الأرض ربنا ورب كل شيء، أنت اخذ بناصيته، أنت الأول فليس قبلك شيء"، وأنت الآخر فليس بعدك شيء ، وأنت الباطن فليس دونك شيء"، أغينا من الفقر، واقض عنّا الدين‘‘ ۔”اے اللہ ! اے زمین اور آسمان کے رب، ہمارے اور ہرشئی کے رب ،تو ہی پیشانی سے پکڑنے والا ہے ،تو اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیزنہیں ہے تو باطن ہے تیرے سوا کوئی چیزنہیں ہے ،ہمیں فقر سے غنی کر دے اور ہمارا قرضہ ادا فرما دے‘‘یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔اور یہ یوسف وہی ہیں جن کو سکر ہ کا غلام کہا جا تا ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يوسف بن عبد الرحمن ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، بِالْكُوفَةِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 2002
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 2003
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اہل قباء میں سے ایک انصاری شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت پر بلایا ، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل دئیے ۔ جب( وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو ہاتھ دھوئے اور یہ دعا مانگی’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو کھلا تا ہے ، کھا تانہیں ، جس نے ہم پر احسان کیا ،ہمیں ہدایت دی ،ہمیں کھلا یا ، پلایا اور وہ ہمیں جس آزمائش میں بھی ڈالتا ہے اس میں ہمیں بھلائی کی تو فیق دیتا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ نہ وہ ہمیں چھوڑے ، نہ (اس کی نعمتوں کا) بدلہ دیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا انکار کیا جاسکتا ہے ۔ اور نہ ہی اس سے بے نیازی کی جاسکتی ہے ،تمام تعریفیں اس کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانے کے ساتھ سیر کیا اور پانی کے ساتھ سیراب کیا ،لباس پہنایا ، اور گمراہی سے ہمیں ہدایت دی اور نا بینائی سے ہمیں بینائی دی اوراپنی بہت ساری مخلوقات میں سے مجھے فضیلت دی ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔