Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1638

1638 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ وَأَنَا أَنْظُرُ فِي هَذَا الْكِتَابِ فَأَقَرَّ بِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ مَنْ جَمَعَ أَئِمَّةُ الْإِسْلَامِ حَدِيثَهُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا ، پھر کپڑے پہنے پھر جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھ گئے پھر جب آپ مقام بیداء میں پہنچ گئے تو حج کا احرام باندھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ یعقوب بن عطا بن ابی رباح کی احادیث ائمہ اسلام جمع کر تے ہیں ۔اور اس حدیث کی ایک شاہد بھی ہے جو کہ شیخین رحمتہ اللہ کے معیار پرصحیح ہے۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے )۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← أَنْظُرُ فِي هَذَا الْكِتَابِ فَأَقَرَّ بِهِ ← قُرِئَ عَلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1638

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1639

1639 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آ دمی احرام کا ارادہ کرے یا مکہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو غسل کرناسنت ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1639

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1640

1640 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَاصِيَةُ الْخُزَاعِيُّ، صَاحِبُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ بُدْنِي، «فَأَمَرَنِي أَنْ أَنْحَرَ كُلَّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ، ثُمَّ يُلْقِي نَعْلُهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ يُخَلِّي بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَيَأْكُلُونَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ناصیہ رضی اللہ عنہ خزاعی سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ جب میرا قربانی کا جانور تھک جائے تو میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ جو جانورتھک جائے ، اس کونحر کر دوں پھر اس کے کھروں کو اس کے خون میں ڈال دیا جائے ، پھر اس کے اورلوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں تا کہ لوگ اس کو کھالیں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1640

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1641

1641 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا، ثُمَّ ضَلَّتْ فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ فِي نَذْرٍ فَلْيُبَدِّلْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص نفلی قربانی کا جانور بھیجے پھروہ گم ہو جائے تو اگر چاہے تو اس کے بدلے میں کوئی دوسرا جانور دے اور چاہے تو ر ہنے دے اور اگر وہ جانور نذ رکا تھا تو اس کے بدلے میں دوسرا جا نو رد ینا ضروری ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1641

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1642

1642 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْتَمْلِي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا يُحْرَمُ بِالْحَجِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ يُحْرَمَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ جَرَتْ فِيهِ مُنَاظَرَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ شَيْخِنَا أَبِي مُحَمَّدٍ السَّبِيعِيِّ، فَإِنَّهُ أَنْكَرَهُ، وَقَالَ إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ «عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنِ الْحَكَمِ» فَمِنْ أَيْنَ جَاءَ بِهِ شَيْخُكُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، فَقُلْتُ: تَأَمَّلْ مَا تَقُولُ، فَإِنَّ شَيْخِنَا أَتَى بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، فَكَأَنَّمَا أَلْقَمْتُهُ حَجَرًا "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حج کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھا جائے ۔ حج کی سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینے میں باندھا جائے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں گیا۔اوراس حدیث کے متعلق شیخ ابوسبیعی کے ساتھ میرامناظر ہ بھی ہوا تھا کیونکہ وہ اس کا انکار کر تے ہیں ۔انکا موقف یہ ہے کہ اس حدیث کو بہت سارے راویوں نے ابو خالد سے’’ حجاج بن ارطاۃ‘‘ کے واسطے سے’حکم‘‘ سے روایت کیا ہے ۔ تو تمہارے استاد نے اس حدیث کو شعبہ کے واسطے سے کیسے روایت کر دیا؟ میں نے کہا: آپ اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائیں۔ کیونکہ ہمارے استاد نے اس حدیث کو دونوں اسنادوں کے ہمراہ روایت کیا ہے تو ( وہ اس طرح خاموش ہو گئے ) گویا کہ ان کے منہ میں پتھر ڈال دیا گیا ہو۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1642

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1643

1643 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ أَحَبَّ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جبیر بن مطعم بیان کر تے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اے بنی عبد مناف ! تم کسی شخص کو دن اور رات میں کسی بھی وقت اس گھر کا طواف کر نے اور اس میں نماز پڑھنے سے منع مت کرو۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ ہی کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1643

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1644

1644 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اسلام میں صرورۃ ( زندگی بھر شادی نہ کرنےاور حج نہ کر نے )کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1644

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1645

1645 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأَبُو صَفْوَانَ هَذَا سَمَّاهُ غَيْرُهُ مِهْرَانَ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ وَلَا يُعْرَفُ بِالْجَرْحِ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جوشخص حج کا ارادہ رکھتا ہو، وہ ( حج کرنےمیں) جلدی کرے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔اور یہ ابوصفوان جو ہیں ،حسن بن عمرو کے علاوہ کئی محد ثین رحمتہ اللہ نے ان کا نام’’مہران‘ بیان کیا ہے جو کہ قریش کے غلام تھے اور ان کے بارے میں کوئی جرح بھی ثابت نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي صَفْوَانَ، ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1645

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1646

1646 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «حُجُّوا قَبْلَ أَنْ لَا تَحُجُّوا» ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى حَبَشِيٍّ أَصْمَعَ أَفْدَعَ بِيَدِهِ، مِعْوَلٌ يَهْدِمُهَا حَجَرًا حَجَرًا، فَقُلْتُ لَهُ شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حارث بن سوید فر ماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حج کرو ۔ اس دن سے پہلے کہ تم حج نہ کرسکو۔ گویا کہ میں اس ٹیڑھی پنڈلیوں والے ،سر کے ساتھ چپکے ہوئے چھوٹے چھوٹے کانوں والے حبشی کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے ہاتھ میں ہتھوڑا لئے ،اس ( کعبۃ اللہ) کی ایک ایک اینٹ کر کے اکھاڑ رہا ہے (یعنی ایک وقت آئے گا کہ اس کو گراد یا جائے گا )۔ میں نے ان سے کہا: یہ بات تم اپنی رائے سے کہہ ر ہے ہو؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے دانہ گندم کو پھاڑا اور جس نے سانس کو جاری کیا، میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

حُجُّوا قَبْلَ ← عَلِيًّا ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسِيُّ، ← يحيى بن عبد الحميد ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1646

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1647

1647 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبٍ، ثنا أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا أُكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَكَانَ أُنَاسٌ يَقُولُونَ لِي: إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي رَجُلٌ أُكْرِي فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ لِي: إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ حَجٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ تُحْرِمُ، وَتُلَبِّي، وَتَطُوفُ، وَتُفِيضُ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَتَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَإِنَّ لَكَ حَجًّا، رَجُلٌ أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ، فَسَكَتَّ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «لَكَ حَجٌّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عمامہ تیمی فرماتے ہیں: میں ( حج کے موقع پر سواریاں) کرایہ پر دیتا ہوں کئی لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تیراحج نہیں ۔ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملاتو ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن ! میں ( حج کے موقع پر سواریاں) کرایہ پر دیتا ہوں ، اور لوگ کہتے ہیں کہ تیراحج نہیں ہے۔انہوں نے کہا: کیا تم احرام نہیں باندھتے اور تلبیہ نہیں کہتے ،طواف نہیں کرتے ہو،عرفات سے کوچ نہیں کرتے اور شیطانوں کو کنکرنہیں مارتے ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو تیراحج ( قبول )ہے ۔ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تھا اور اس نے تیری ہی طرح سوال کیا تھا ،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تھے اور اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم(البقرة: 198 ) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کافضل تلاش کرو ( کنز الایمان ) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ایک آدمی بھیجا اس نے یہ آیت پڑھ کر اس کو سنائی اور کہا: تیراحج قبول ہے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبُو أُمَامَةَ التَّيْمِيُّ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1647

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1648

1648 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى، وَعَرَفَةَ، وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ، فَخَافُوا الْبُيُوعَ وَهُمْ حُرُمٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ " قَالَ: فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا مِنَ الْمُصْحَفِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلے پہل حج کے موسم میں لوگ منٰی ،عرفہ اور ذی المجاز بازار میں خرید وفروخت کیا کرتے تھے ۔ لیکن پھر حالت احرام میں خرید وفروخت کر نے سے ان لوگوں کوخوف آیا تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم(البقرة: 198 ) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کافضل تلاش کر و( کنز الایمان ) ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ عبیدابن عمیر نے ہمیں یہ بتایا کہ وہ اس آیت کوقر آن سے پڑھتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1648

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1649

1649 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، وَسَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ «إِذَا مَرَّ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بَاتَ فِيهَا حَتَّى يُصْبِحَ، وَيُخْبِرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ كَذَا "

حضرت نافع اور سالم بیان کر تے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب ذو الحلیفہ جاتے تو صبح تک وہیں رہتے اور فر ماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کر تے تھے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

مُوسَى بْنُ أَبِي عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← هشام بن علي السدوسي، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1649

chevron_left Previous
1…91011…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section