Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4088

4088 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ، فَقَالَ لَهُ: «يَا أَعْرَابِيُّ سَلْ حَاجَتَكَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاقَةً بِرَحْلِهَا وَأَعْنُزَ يَحْلُبُهَا أَهْلِي. قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعَجَزْتَ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟» فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: " إِنَّ مُوسَى أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَأُضِلَّ عَنِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ: نَحْنُ نُحَدِّثُكَ أَنَّ يُوسُفَ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوَاثِيقَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا، قَالَ: وَأَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ؟ قَالُوا: مَا تَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ إِلَّا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: " وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَالَتْ فَقِيلَ لَهُ: أَعْطِهَا حُكْمَهَا فَأَعْطَاهَا حُكْمَهَا فَأَتَتْ بُحَيْرَةً، فَقَالَتْ: أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ. فَلَمَّا نَضَبُوهُ قَالَتِ: احْفِرُوا هَهُنَا فَلَمَّا حَفَرُوا إِذَا عِظَامُ يُوسُفَ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا مِنَ الْأَرْضِ فَإِذَا الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ایک دیہاتی کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ کی بہت عزت و تکریم کی ۔ آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: اے اعرابی ! تو مجھ سے اپنی حاجت کا سوال کر۔ اس نے کہا : یا رسول اللۃ ﷺ ! ایک اونٹنی کجاوہ سمیت اور کچھ بکریاں عطا فرما دیں ، میرے گھر والے اس کا دودھ دوہیں گے ۔ اس نے اپنا یہ سوال دو مرتبہ دہرایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا : کیا تو بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا ہونے سے بھی عاجز ہے ۔ آپ کے صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! یہ بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے جانے کا ارادہ کیا تو راستہ گم کر بیٹھے ۔ تو آپ سے بنی اسرائیل کے علماء نے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ جب مصر سے نکلیں گے تو میرا جسم بھی ساتھ لے کر جائیں گے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تو تم میں سے یوسف علیہ السلام کی قبر انور کا کس کو پتہ ہے ؟ انہوں نے کہا: یوسف علیہ السلام کی قبر کا صرف بنی اسرائیل کی ( فلاں) عورت کو پتہ ہے ۔ آپ نے اس بڑھیا کی طرف پیغام بھیجا اور کہا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔اس نے کہا: خدا کی قسم ! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک آپ مجھے اپنے ساتھ جنت میں رکھنے کا وعدہ نہیں کرلیتے ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کو اس کی یہ بات ( اس طرح برملا کہنا ) اچھی نہ لگی ۔ آپ سے عرض کی گئی : یہ جو کچھ مانگ رہی ہے آپ عطا فرما دیجیے ۔ تو آپ نے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا ۔ وہ ان کو ایک جھیل پر لئے آئی اور بولی : یہ پانی خشک کرو۔ جب انہوں نےوہ پانی خشک کر لیا تو اس نے کہا : یہاں سے کھدائی کرو۔ جب انہوں نے وہاں سے کھدائی کی تو ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا ۔ جب انہوں نے آپ کا جسم اطہر زمین سے نکال لیا تو ( وہ گمشدہ ) راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَحْمَسِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4088

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4089

4089 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ عِلْمُ اللَّهِ وَحِكْمَتُهُ فِي وَرَثَةِ إِبْرَاهِيمَ فَعِنْدَ ذَلِكَ آتَى اللَّهُ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ مُلْكَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَمَلَكَ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَذَلِكَ قَوْلُهُ فِيمَا أَنْزَلَ مِنْ كِتَابِهِ {رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ} [يوسف: 101] الْآيَةُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4089 - لم يصح

حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت مسلسل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء میں رہی اللہ تعالیٰ نے یوسف بن یعقوب علیہ السلام کو ارض مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی ، چنانچہ آپ نے 72 سال حکومت کی ۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے : ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ١٠١﴾ [يوسف: 101]" اے میرے رب بے شک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4090

4090 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ فِرَاقِ يُوسُفَ حِجْرَ يَعْقُوبَ إِلَى أَنِ الْتَقَيَا ثَمَانُونَ سَنَةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4090 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یوسف علیہ السلام کے حضرت یعقوب علیہ السلام سے جدا ہونے سے لے کر دوبارہ ملنے تک فراق کی مدت 80 سال تھی۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4090

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4091

4091 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّمَا اشْتُرِيَ يُوسُفُ بِعِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَكَانَ أَهْلُهُ حِينَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ بِمِصْرَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا رِجَالُهُمْ أَنْبِيَاءُ وَنِسَاؤُهُمْ صِدِّيقَاتٌ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا مَعَ مُوسَى حَتَّى بَلَغُوا سِتَّمِائَةَ أَلْفٍ وَسَبْعِينَ أَلْفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4091 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت یوسف علیہ السلام کو 20 درہموں میں خریدا گیا تھا اور جب آپ نے اپنے گھر والوں کو مصر میں بلوایا اس وقت ان ( کے خاندان کے افراد ) کی تعداد 370 تھی ۔ ان میں مرد نبی تھے اور عورتیں صدیقات تھیں۔ اور خدا کی قسم ! جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ نکلے تو ان کی تعداد 670000 چھ لاکھ ستر ہزار تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4091

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4092

4092 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «ثُمَّ وُلِدَ لِيَعْقُوبَ، يُوسُفُ الصِّدِّيقُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَاخْتَارَهُ وَأَكْرَمَهُ وَقَسَمَ لَهُ مِنَ الْجَمَالِ الثُّلُثَيْنِ وَقَسَمَ بَيْنَ عِبَادِهِ الثُّلُثَ، وَكَانَ يُشْبِهُ آدَمَ يَوْمَ خَلْقَهُ اللَّهُ وَصَوَّرَهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَ الْمَعْصِيَةَ، فَلَمَّا عَصَى آدَمُ نُزِعَ مِنْهُ النُّورُ وَالْبَهَاءُ، وَالْحُسْنُ وَكَانَ اللَّهُ أَعْطَى آدَمَ الْحُسْنَ وَالْجَمَالَ وَالنُّورَ وَالْبَهَاءَ يَوْمَ خَلْقَهُ، فَلَمَّا فَعَلَ مَا فَعَلَ وَأَصَابَ الذَّنْبَ نُزِعَ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ وَهَبَ اللَّهُ لِآدَمَ الثُّلُثَ مِنَ الْجَمَالِ مَعَ التَّوْبَةِ الَّذِي تَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى يُوسُفَ الْحُسْنَ وَالْجَمَالَ وَالنُّورَ وَالْبَهَاءَ الَّذِي نَزَعَهُ مِنْ آدَمَ حِينَ أَصَابَ الذَّنْبَ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ الْعِبَادَ أَنَّهُ قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءَ وَأَعْطَى يُوسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْجَمَالِ مَا لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْعِلْمَ بِتَأْوِيلِ الرُّؤْيَا، وَكَانَ يُخْبِرُ بِالْأَمْرِ الَّذِي رَآهُ فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ سَيَكُونُ وَقَبْلَ أَنْ يَكُونَ عَلَّمَهُ اللَّهُ كَمَا عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، وَكَانَ إِذَا تَبَسَّمَ رَأَيْتَ النُّورَ فِي ضَوَاحِكِهِ، وَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ رَأَيْتَ شُعَاعَ النُّورِ فِي كَلَامِهِ وَيَلْتَهِبُ الْتِهَابًا بَيْنَ ثَنَايَاهُ» قَدِ اخْتَصَرْتُ مِنْ أَخْبَارِ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا صَحَّ إِلَيْهِ الطَّرِيقُ وَلَوْ أَخَذْتُ فِي عَجَائِبِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيِّ لَطَالَتِ التَّرْجَمَةُ بِهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4092 - عن سمرة عن كعب والسند واه

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاں یوسف الصدیق علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا اور منتخب فرما لیا تھا اور ان کو عزت بخشی تھی اور حسن کا دو تہائی حصہ ان کو دیا تھا اور باقی ایک تہائی پوری دنیا میں تقسیم فرمایا اور آپ حضرت آدم علیہ السلام کی اس صورت کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے جو معصیت میں مبتلا ہونے سے پہلے اس دن تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ، ان کی صورت بنائی اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی لیکن جب آدم علیہ السلام معصیت میں مبتلا ہوئے تو آپ کا وہ نور ، خوبصورتی اور وہ حسن جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو حسن و جمال اور نور اور رعب عطا فرمایا تھا لیکن جب ان سے ذنب کا ارتکاب ہوا تو یہ تمام حسن و جمال ان سے ختم ہو گیا ۔ پھر جب آپ کی توبہ قبول ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی حسن آپ کو عطا فرما دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وہ حسن و جمال جو حضرت آدم علیہ السلام سے اتار تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام عطا فرما دیا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیہ دکھا دینا چاہتا ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہ حسن وہ جمال عطا فرمایا جو کسی اور انسان کو نہیں دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا اور جو کوئی خواب دیکھتا تو آ پاس کی تعبیر کرتے ہوئے مستقبل میں ہونے والے کام کی پہلے ہی خبر دے دیا کرتے تھے اور اس کے ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی خبر دے دیتا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے تھے ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام مسکراتے تو آ پ کے دانتوں سے نور کی شعائیں نکلتی تھیں اور جب آپ گفتگو کرتے تو آپ کے کلام میں نور نظر آتا اور آپ کے دانتوں میں روشنی نظر آتی ۔ میں نے مختصراً حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کر دیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے اور اگر وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ اور ابو عبداللہ واقدی کے عجائب شروع کر دیتا تو بہت زیادہ طوالت ہو جاتی ۔

«ثُمَّ وُلِدَ لِيَعْقُوبَ، يُوسُفُ الصِّدِّيقُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ ← کَعْبٍ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مروان بن جعفر السمري ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أبو سعيد الأحمسي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4092

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4093

4093 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ بِمَرْوَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: «وُلِدَ مُوسَى بْنُ مِيشَا بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ، فَتَنَبَّأَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قَبْلَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، فِيمَا يَزْعُمُونَ وَيَزْعُمُ أَهْلُ التَّيَقُّنِ بِهَا أَنَّهُ هُوَ الَّذِي طَلَبَ الْعَالِمَ لِيَتَعَلَّمَ مِنْهُ حَتَّى أَدْرَكَ الْعَالِمَ الَّذِي خَرَقَ السَّفِينَةَ، وَقَتَلَ الْغُلَامَ، وَبَنَى الْجِدَارَ وَمُوسَى بْنُ مِيشَا مَعَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ حَتَّى بَلَغَ مَا بَلَغَ» قَالَ الْحَاكِمُ: هَكَذَا يَذْكُرُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَيَسْتَدِلُّ بِالْحَدِيثِ الثَّابِتِ الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَىَ صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4093 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے پہلے حضرت موسیٰ بن میشا بن یوسف بن یعقوب پیدا ہوئے اور بنی اسرائیل میں نبوت کا دعوی کیا ۔ اہل تیقن کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی حضرت موسیٰ ہیں جو علم حاصل کرنے کے لئے عالم کو ڈھونڈتے رہے حتیٰ کہ یہ اس عالم کے پاس گئے جس نے کشتی توڑ دی تھی ، بچے کو قتل کیا تھا اور دیوار تعمیر کی تھی اور موسیٰ بن میشا ان کے ہمراہ تھے اور پھر واپس آ گئے تھے اور جہاں جانا تھا وہاں چلے گئے ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ ایسے ہی ذکر کیا کرتے ہیں اور ثابت صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں ( حدیث یہ ہے ) حضرت عمر و بن دینار رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : نوفل البکالی یہ سمجھتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام جو حضرت خضر کے ساتھی تھے وہ موسیٰ بن عمران ( جو بنی اسرائیل کے نبی تھے ) نہیں ہیں بلکہ وہ تو کوئی اور موسیٰ علیہ السلام ہے ۔ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے دشمن نے جھوٹ بولا۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الرَّئِيسُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4093

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4094

4094 - حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَامَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ» الْحَدِيثُ بِطُولِهِ. هَذَا حَدِيثٌ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذِكْرِهِ لِأَنِّي تَرَكْتُ ذِكْرَهُ مِنَ الْوَسَطِ، فَأَمَّا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ الْكَلِيمُ

حضر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موسیٰ بن عمران بنی اسرائیل میں خطیب کے طہور پر کھڑے ہوئے پھر طویل حدیث بیان کی ۔ یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے اور میں نے اس کو یہاں پر اس لئے درج کیا ہے کہ میں نے درمیان میں اس کو چھوڑ دیا تھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4094

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4095

4095 - فَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرِ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبَايَةَ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ {إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي، فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} [الأعراف: 144] قَالَ: {وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ} [الأعراف: 145] قَالَ: فَكَانَ مُوسَى يَرَى أَنَّ جَمِيعَ الْأَشْيَاءِ قَدْ أُثْبِتَتْ لَهُ كَمَا تَرَوْنَ أَنْتُمْ أَنَّ عُلَمَاءَكُمْ قَدْ أَثْبَتُوا لَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ كَمَا يُثْبِتُوهُ، فَلَمَّا انْتَهَى مُوسَى إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ لَقِيَ الْعَالِمَ فَاسْتَنْطَقَهُ فَأَقَرَّ لَهُ بِفَضْلِ عَلْمِهِ وَلَمْ يَحْسُدْهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى وَرَغِبَ إِلَيْهِ: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِيَ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، فَعَلِمَ الْعَالِمُ أَنَّ مُوسَىَ لَا يُطِيقُ صُحْبَتَهُ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى عِلْمِهِ فَقَالَ لَهُ الْعَالِمُ: إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تَحِطْ بِهِ خُبْرًا. فَقَالَ لَهُ مُوسَى وَهُوَ يَعْتَذِرُ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَعَلِمَ أَنَّ مُوسَىَ لَا يُطِيقُ صُحْبَتَهُ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى عِلْمِهِ فَقَالَ لَهُ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا فَرَكِبَا فِي السَّفِينَةِ فَخَرَقَهَا الْعَالِمُ وَكَانَ خَرَقَهَا لِلَّهِ رِضًا وَلِمُوسَى سُخْطًا وَلَقِيَ الْغُلَامَ فَقَتَلَهُ لِلَّهِ رِضًا «ثُمَّ ذَكَرَ بَعْضَ الْقِصَّةِ وَالْكَلَامِ وَلَمْ يُجَاوِزِ ابْنُ عَبَّاسٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيان

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الله تعالی اپنی کتاب میں حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے: ﴿ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ١٤٤ وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ ١٤٥﴾ [الأعراف: 144-145]" اے موسیٰ ! میں نے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو اور ہم نے اس کے لئے تختیوں میں لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل“۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ ) حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ سمجھتے تھے کہ تمام چیز یں انہیں کے لئے ثابت ہیں۔ جیسا کہ تم لوگ دیکھتے ہو کہ تمہارے علما تمہارے لئے تمام چیزیں ثابت کرتے ہیں جیسا کہ وہ جانتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ساحل سمندر پر پہنچے تو عالم سے ملے اور اس سے گفت و شنید کی اور اس کے علم وفضل کا اقرار کیا اور حسد نہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف دلچسپی سے درخواست کی : کیا میں تمہارے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھادو گے جو ہمیں تعلیم ہوئیں؟ وہ عالم سمجھتا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی سنگت میں نہیں رہ سکتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے تو اس عالم نے ان سے کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کرتے ہوئے کہا:عنقریب اللہ تعالی چاہے تو تم مجھے صبر کرنے والا پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا لیکن وہ جانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام ان کی صحبت میں رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس کے علم پر صبر نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ اس عالم نے کہا: اگر آپ میرے ساتھ رہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پو چھنا جب تک میں . خود اس کا ذکر نہ کروں ۔ پھر یہ دونوں کشتی پر سوار ہوئے تو اس عالم نے اس کشتی کو چیرڈالا۔ ان کا کشتی کو چیرنے کا یہ عمل اللہ تعالی کی رضا کے لئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتحان کے لئے تھا۔ پھر یہ ایک بچے سے ملے تو اس کو قتل کر ڈالا اور اس بچے کو کرنا بھی اللہ تعالی کی رضا کے لئے ہی تھا پھر اس کے بعد مکمل قصہ اور نقل کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے تجاوز نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

فِي كِتَابِهِ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ ← إن الله ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبَايَةَ الْأَسَدِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرِ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ ← أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4095

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4096

4096 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحْمَةُ اللَّهُ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى» فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ " لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِ وَلَكِنْ قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4096 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ہم پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ۔ انہوں نے خود ہی ابتداء کر لی اگر وہ صبر کر لیتے تو وہ ہمیں اپنا قصہ خود سناتے ۔ لیکن انہوں نے کہا: اگر آئندہ میں تم سے کچھ پوچھوں تو تم میرے ساتھ نہ رہنا بے شک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہو چکا ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4096

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4097

4097 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ الْيَمَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: " ذِكْرُ مَوْلِدِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ قَاهَتَ بْنِ لَاوِي بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَحَدِيثِ عَدُوِّ اللَّهِ فِرْعَوْنَ حِينَ كَانَ يَسْتَعْبِدُ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي أَعْمَالِهِ بِمِصْرَ وَأَمْرِ مُوسَى وَالْخَضِرِ، قَالَ وَهْبٌ: وَلَمَّا حَمَلَتْ أُمُّ مُوسَى بِمُوسَى كَتَمَتْ أَمْرَهَا جَمِيعَ النَّاسِ، فَلَمْ يَطَّلِعْ عَلَى حَمْلِهَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ وَذَلِكَ شَيْءٌ أَسَرَهَا اللَّهُ بِهِ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَمُنَّ بِهِ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّنَةُ الَّتِي يُولَدُ فِيهَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ بَعَثَ فِرْعَوْنُ الْقَوَابِلَ، وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِنَّ وَفَتَّشَ النِّسَاءَ تَفْتِيشًا لَمْ يُفَتِّشْهُنَّ قَبْلَ ذَلِكَ وَحَمَلَتْ أُمُّ مُوسَى بِمُوسَى فَلَمْ يَنْتُ بَطْنُهَا، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ لَوْنُهَا، وَلَمْ يَفْسَدْ لَبَنُهَا، وَلَكِنَّ الْقَوَابِلَ لَا تَعْرِضُ لَهَا، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا مُوسَى وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَلَا رَقِيبَ عَلَيْهَا وَلَا قَابِلَ وَلَمْ يَطَّلِّعْ عَلَيْهَا أَحَدٌ إِلَّا أُخْتُهَا مَرْيَمُ وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهَا أَنْ أَرْضِعِيهِ، فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ. قَالَ: فَكَتَمَتْهُ أُمُّهُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ تُرْضِعُهُ فِي حِجْرِهَا لَا يَبْكِي وَلَا يَتَحَرَّكُ فَلَمَّا خَافَتْ عَلَيْهِ وَعَلَيْهَا عَمِلَتْ لَهُ تَابُوتًا مُطْبَقًا وَمَهَّدَتْ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ أَلْقَتْهُ فِي الْبَحْرِ لَيْلًا كَمَا أَمَرَهَا اللَّهُ وَعُمِلَ التَّابُوتُ عَلَى عَمَلِ سُفُنِ الْبَحْرِ خَمْسَةَ أَشْبَارٍ فِي خَمْسَةِ أَشْبَارٍ وَلَمْ يُقَيَّرْ فَأَقْبَلَ التَّابُوتُ يَطْفُو عَلَى الْمَاءِ، فَأَلْقَى الْبَحْرُ التَّابُوتَ بِالسَّاحِلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ فِرْعَوْنُ جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ عَلَى شَاطِئِ النِّيلِ فَبَصُرَ بِالتَّابُوتِ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ مِنْ خَدَمِهِ إِيتُونِي بِهَذَا التَّابُوتِ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَحُوهُ فَوَجَدَ فِيهِ مُوسَى، قَالَ: فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ فِرْعَوْنُ قَالَ: غَيْرَ أَنِّي مِنَ الْأَعْدَاءِ فَأَعْظَمَهُ ذَلِكَ وَغَاظَهُ، وَقَالَ: كَيْفَ أَخْطَأَ هَذَا الْغُلَامَ الذَّبْحُ وَقَدْ أَمَرْتُ الْقَوَابِلَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مَوْلُودًا يُولَدُ، قَالَ: وَكَانَ فِرْعَوْنُ قَدِ اسْتَنْكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ يُقَالَ لَهَا آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ، وَكَانَتْ مِنْ خِيَارِ النِّسَاءِ الْمَعْدُودَاتِ وَمِنْ بَنَاتِ الْأَنْبِيَاءِ، وَكَانَتْ أُمًّا لِلْمُسْلِمِينَ تَرْحَمُهُمْ وَتَتَصَدَّقُ عَلَيْهِمْ وَتُعْطِيهِمْ وَيَدْخُلُونَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ لِفِرْعَوْنَ وَهِيَ قَاعِدَةٌ إِلَى جَنْبِهِ هَذَا الْوَلِيدُ أَكْبَرُ مِنِ ابْنِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا أَمَرْتَ أَنْ تَذْبَحَ الْوِلْدَانَ لِهَذِهِ السَّنَةِ فَدَعْهُ يَكُونُ قُرَّةَ عَيْنٍ لِي وَلَكَ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ هَلَاكَهُمْ عَلَى يَدَيْهِ، وَكَانَ فِرْعَوْنُ لَا يُولَدُ لَهُ إِلَّا الْبَنَاتُ فَاسْتَحْيَاهُ فِرْعَوْنُ وَرَفَعَهُ وَأَلْقَى اللَّهُ إِلَيْهِ مَحَبَّتَهُ وَرَأْفَتَهُ وَرَحْمَتَهُ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: عَسَى أَنْ يَنْفَعَكِ أَنْتِ فَأَمَّا أَنَا فَلَا أُرِيدُ نَفْعَهُ، قَالَ وَهْبٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ أَنَّ عَدُوَّ اللَّهِ قَالَ فِي مُوسَى كَمَا قَالَتِ امْرَأَتُهُ: عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا لَنَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّهُ أَبَى لِلشَّقَاءِ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى الْمَرَاضِعَ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، كُلَّمَا أُتِيَ بِمُرْضِعَةٍ لَمْ يَقْبَلْ ثَدْيَهَا فَرَقَّ لَهُ فِرْعَوْنُ وَرَحِمَهُ وَطُلِبَتْ لَهُ الْمَرَاضِعُ، وَذَكَرَ وَهْبُ حُزْنَ أُمِّ مُوسَى وَبُكَاءَهَا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُبْدِيَ بِهِ، ثُمَّ تَدَارَكَهَا اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ فَرَبَطَ عَلَى قَلْبِهَا إِلَى أَنْ بَلَغَهَا خَبَرَهُ، فَقَالَتْ لِأُخْتِهِ تَنَكَّرِي وَاذْهَبِي مَعَ النَّاسِ وَانْظُرِي مَاذَا يَفْعَلُونَ بِهِ فَدَخَلَتْ أُخْتُهُ مَعَ الْقَوَابِلِ عَلَى آسِيَةَ بِنْتِ مُزَاحِمٍ، فَلَمَّا رَأَتْ وَجْدَهُمْ بِمُوسَى وَحُبَّهُمْ لَهُ وَرِقَّتَهُمْ عَلَيْهِ، قَالَتْ: هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ إِلَى أَنْ رُدَّ إِلَى أُمِّهِ فَمَكَثَ مُوسَى عِنْدَ أُمِّهِ حَتَّى فَطَمَتْهُ، ثُمَّ رَدَّتْهُ إِلَيْهِ فَنَشَأَ مُوسَى فِي حِجْرِ فِرْعَوْنَ وَامْرَأَتِهِ يُرَبِّيَانِهِ بِأَيْدِيهِمَا وَاتَّخَذَاهُ وَلَدًا فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ بَيْنَ يَدَيْ فِرْعَوْنَ وَبِيَدِهِ قَضِيبٌ لَهُ خَفِيفٌ صَغِيرٌ يَلْعَبُ بِهِ، إِذْ رَفَعَ الْقَضِيبَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ فِرْعَوْنَ وَنَظَرَ مَنْ ضَرَبَهُ حَتَّى هَمَّ بِقَتْلِهِ، فَقَالَتْ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ: أَيُّهَا الْمَلِكُ لَا تَغْضَبْ وَلَا يَشُقَّنَّ عَلَيْكَ فَإِنَّهُ صَبِيٌّ صَغِيرٌ لَا يَعْقِلُ جَرِّبْهُ إِنْ شِئْتَ اجْعَلْ فِي هَذَا الطَّشْتِ جَمْرَةً وَذَهَبًا فَانْظُرْ عَلَى أَيُّهُمَا يَقْبِضُ فَأَمَرَ فِرْعَوْنُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا مَدَّ مُوسَى يَدَهُ لِيَقْبِضَ عَلَى الذَّهَبِ قَبَضَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ عَلَى يَدِهِ فَرَدَّهَا إِلَى الْجَمْرَةِ فَقَبَضَ عَلَيْهَا مُوسَى فَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ ثُمَّ قَذَفَهَا حِينَ وَجَدَ حَرَارَتَهَا، فَقَالَتْ آسِيَةُ لِفِرْعَوْنَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّهُ لَا يَعْقِلُ شَيْئًا وَلَا يَعْلَمُهُ وَكَفَّ عَنْهُ فِرْعَوْنُ وَصَدَّقَهَا وَكَانَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَيُقَالُ: إِنَّ الْعُقْدَةَ الَّتِي كَانَتْ فِي لِسَانِ مُوسَى أَثَرُ تِلْكَ الْجَمْرَةِ الَّتِي الْتَقَمَهَا، قَالَ وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ: وَلَمَّا بَلَغَ مُوسَى أَشَدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَحُكْمًا وَفَهْمًا فَلَبِثَ بِذَلِكَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً دَاعِيًا إِلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ وَشَرَائِعِهِ وَإِلَى دِينِ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ فَآمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے موسیٰ بن عمران بن قامت بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ان کی ولادت کا واقعہ اور الله تعالی کے دشمن فرعون کا قصہ جب وہ بنی اسرائیل سے اپنے اعمال میں اپنی عبادت کرواتا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر کا واقعہ مروی ہے۔ چنانچہ حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حمل ہوا (جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ) تو انہوں نے یہ معاملہ ہر کسی سے پوشیدہ رکھا اور اپنے حمل کے تعلق الله تعالی کی مخلوق میں سے کسی کونہ بتایا اور یہی چیز تھی جس کو الله تعالی نے چھپایا کیونکہ وہ اس کے ذریعے بنی اسرائیل پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ جب وہ سال شروع ہوا جس میں حضرت موسیٰ بن عمران نام علیہ السلام پیدا ہوئے تو فرعون نے دائیاں بھیجیں جو عورتوں کی اس قدر سختی سے چھان بین کرتیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسی تفتیس نہ ہوئی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حاملہ ہوئیں حمل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے تو آپ کی والدہ کا نہ تو پیٹ بڑھا ہوا اور نہ ان کا رنگ بدلا اور نہ ان کے دودھ میں کوئی فرق آیا یہی وجہ ہے کہ دائیاں ان کی جانب توجہ نہیں دیتیں تھیں۔ جب وہ رات آئی جس میں حضرت موی را پیدا ہوئے تو اس رات نہ کوئی وہاں نگران تھانہ کوئی دائی تھی اور ان (حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ) کی بہن کے سوا کسی کو بھی اس معاملہ کا پتہ نہ چلا۔ اللہ تعالی نے ان کی طرف الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلائیں پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور غم نہ کر بے شک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے آپ کی والدہ نے تین مہینے تک آپ کو دودھ پلایا، آپ نے روتے تھے اور نہ حرکت کرتے۔ پھر جب ان کی والدہ نے ان کے اور خود اپنے متعلق خوف محسوس کیا تو ان کے لئے ایک مضبوط ( واٹر پروف ) صندوق بنایا اور اس میں ان کے لئے بستر بچھا کر اس میں لٹا دیا اور پھر یہ صندوق الله تعالی کے حکم کے مطابق رات کے وقت دریا میں ڈال دیا، یہ تابوت کشتی کی طرز پر پانچ بالشت مربع سائز میں بنایا گیا تھا جبکہ اس میں تارکول نہیں ملایا گیا تھا۔ یہ تابوت پانی پر تیرنے لگا، دریا نے یہ تابوت رات کے اندھیرے میں ساحل پر پہنچا دیا۔ جب صبح ہوئی تو فرعون دریائے نیل کے کنارے اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تابوت کو دیکھ لیا اور اپنے خدام سے کہا: یہ تابوت میرے پاس لے کر آؤ۔ انہوں نے تابوت لاکرفرعون کے سامنے رکھ دیا، جب اس کو کھولا تو اس میں موسیٰ علیہ السلام موجود تھے۔ جب فرعون نے آپ کو دیکھا تو بولا:بی تو مجھے میرے دشمنوں میں سے لگتا ہے وہ اس سے بہت گھبرایا اور بہت غصہ میں کہنے لگا: یہ بچہ نہ ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا باوجود یکہ میں نے دائیوں کو حکم دے رکھا ہے کہ کوئی بھی نومولود ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہنا چاہئے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی خاتون آسیہ بنت مزاحم سے نکاح کر رکھا تھامی خاتون بنی اسرائیل کی گنتی کی چند نیک خواتین میں سے ایک تھیں اور بنات انبیاء میں سے تھیں ۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت نرم گوشہ تھا۔ یہ ان کا بہت خیال رکھتی تھیں ان پر صدقہ کرتیں اور بہت کچھ عطا کرتی رہتی تھیں اور مسلمان ان کے پاس آیا کرتے تھے، یہ اس وقت فرعون کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا: یہ بچہ تو ایک سال سے زیادہ عمر کا لگتا ہے جبکہ تو نے اس سال کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، اس کو چھوڑ دے کہ یہ تیرے اور میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے ۔ تم لوگ اس کو قتل مت کرو، ہوسکتا ہے کہ یہ میں کوئی فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بچہ بنالیں اور ان کو اس کا پتہ بھی نہ تھا کہ ان کی بربادی اس کے ہاتھوں ہوگی اور فرعون کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہتا تھا، صرف بیٹیاں زندہ بچتی تھیں، تو فرعون کے دل میں اس کا حیا آگیا اور اس نے موسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا، الله تعالی نے اس کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کی محبت ، الفت اورشفقت ڈال دی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: ہوسکتا ہے کہ یہ تمہیں کوئی فائدہ دے، بہرحال مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں چاہے۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالی کا دشمن بھی اگر موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی بیوی کی طرح کہہ دیتا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے توالله تعالی اسے بھی فائدہ دے دیتا لیکن اس کو اس کی بدبختی نے ایسا بولنے سے روک دیا جو ازل سے ہی اس کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ الله تعالی نے آٹھ دن اور آٹھ راتیں موسیٰ علیہ السلام پر دودھ پلانے والیاں حرام کیں۔ جب بھی کوئی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو آپ اس کا پستان قبول نہ کرتے۔ اس پر فرعون کو بہت ترس اورتم آیا، اس نے آپ کے لئے دودھ پلانے والیاں منگوائیں۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی پریشانی اور ان کی آہ بکا کا ذکر کیا ہے ( آپ فرماتے ہیں) قریب تھا کہ وہ سب راز افشاء کر دیتی تو الله تعالی نے اپنی رحمت سے اس کا تدارک فرمایا، اس کے دل کو مضبوط کیا حتی کہ اس تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خبر پہنچ گئی ۔ انہوں نے اپنی بہن سے کہا: تو بھیس بدل کر لوگوں کے ہمراہ وہاں پر جا اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بہن دوسری دائیوں کے ہمراہ آسیہ بنت مزاحم کے پاس گئی۔ وہاں پر اس نے موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت دیکھی تو بولی: میں تمہیں ایک ایسا گھر بتا سکتی ہوں جو نیک جذبات کے ساتھ اس کی کفالت کر سکتے ہیں۔ المختصر کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دودھ پینے کا پورا عرصہ اپنی ماں کے پاس رہے۔ جب وہ کھانا وغیرہ کھانے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ فرعون کے سپرد کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پلتے رہے، وہ دونوں اپنے ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتے رہے اور انہوں نے آپ کو اپنا بیٹا بنالیا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس کھیل رہے تھے، آپ کے ہاتھ چھوٹی سی ڈنڈی تھی، جس کے ساتھ آپ کھیل رہے تھے، اچانک آپ نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر میں دے ماری ، فرعون نے آپ کی اس مار پر بہت غور و فکر کیا ، اور بالاخر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، تو آسیہ بنت مزاحم بولیں: اے بادشاہ! غصہ مت کیجئے ! اور یہ بد بختی اپنے اوپر مت ڈالئے کیونکہ یہ تو چھوٹا نا سمجھ بچہ ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کو آزما لے، میں اس تھال میں سونا اور انگارہ رکھ دیتی ہوں تو دیکھے کہ یہ کس کو اٹھاتا ہے۔ فرعون اس کے لئے تیار ہوگیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے سونے کی جانب ہاتھ بڑھایا تو فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا۔ آپ نے وہ انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر جب اس کی تپش محسوس ہوئی تو اسے پھینک دیا۔ حضرت آسیہ رضی اللہ عنہ نے فرعون سے کہا: میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یہ نا سمجھ بے عقل بچہ ہے۔ اس طرح فرعون رک گیا اور آسیہ کی بات تسلیم کر گیا ورنہ اس نے تو آپ کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں جو گرہ تھی وہ اسی انگارے کی وجہ سے تھی جو آپ نے اپنے منہ میں ڈالا تھا۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور آپ کی عمر چالیس سال کو بھی تو اللہ تعالی نے آپ کوعلم حکمت (نبوت) اور فہم و فراست عطا فرمائی تو آپ وہاں پر 12سال تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے دین اور شریعت کی تبلیغ کرتے رہے تو بنی اسرائیل کی ایک مختصر سی جماعت آپ پر ایمان لائی۔ پھر اس کے بعد تفصیلی قصہ بیان کیا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ الْيَمَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4097

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4098

4098 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مُوسَى بِالْكَلَامِ وَإِبْرَاهِيمَ بِالْخَلَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4098 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کلام کے لئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلت کے منتخب فرمایا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4098

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4099

4099 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُوسَى فَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ وَكَلَّمَهُ مُوسَى مَرَّتَيْنِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4099 - على شرط مسلم

حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان اپنے دیدار اور اپنے کلام کو بانٹ دیا ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا اور موسیٰ علیہ السلام نے دوبار اللہ تعالیٰ سے کلام کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

كعب الأحبار ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4099

chevron_left Previous
1…8910…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section