المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4088
4088 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ، فَقَالَ لَهُ: «يَا أَعْرَابِيُّ سَلْ حَاجَتَكَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاقَةً بِرَحْلِهَا وَأَعْنُزَ يَحْلُبُهَا أَهْلِي. قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعَجَزْتَ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟» فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: " إِنَّ مُوسَى أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَأُضِلَّ عَنِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ: نَحْنُ نُحَدِّثُكَ أَنَّ يُوسُفَ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوَاثِيقَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا، قَالَ: وَأَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ؟ قَالُوا: مَا تَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ إِلَّا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: " وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَالَتْ فَقِيلَ لَهُ: أَعْطِهَا حُكْمَهَا فَأَعْطَاهَا حُكْمَهَا فَأَتَتْ بُحَيْرَةً، فَقَالَتْ: أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ. فَلَمَّا نَضَبُوهُ قَالَتِ: احْفِرُوا هَهُنَا فَلَمَّا حَفَرُوا إِذَا عِظَامُ يُوسُفَ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا مِنَ الْأَرْضِ فَإِذَا الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ایک دیہاتی کے پاس ٹھہرے تو اس نے آپ کی بہت عزت و تکریم کی ۔ آپ نے اس دیہاتی سے فرمایا: اے اعرابی ! تو مجھ سے اپنی حاجت کا سوال کر۔ اس نے کہا : یا رسول اللۃ ﷺ ! ایک اونٹنی کجاوہ سمیت اور کچھ بکریاں عطا فرما دیں ، میرے گھر والے اس کا دودھ دوہیں گے ۔ اس نے اپنا یہ سوال دو مرتبہ دہرایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا : کیا تو بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا ہونے سے بھی عاجز ہے ۔ آپ کے صحابہ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! یہ بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے جانے کا ارادہ کیا تو راستہ گم کر بیٹھے ۔ تو آپ سے بنی اسرائیل کے علماء نے کہا: ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ جب مصر سے نکلیں گے تو میرا جسم بھی ساتھ لے کر جائیں گے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تو تم میں سے یوسف علیہ السلام کی قبر انور کا کس کو پتہ ہے ؟ انہوں نے کہا: یوسف علیہ السلام کی قبر کا صرف بنی اسرائیل کی ( فلاں) عورت کو پتہ ہے ۔ آپ نے اس بڑھیا کی طرف پیغام بھیجا اور کہا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔اس نے کہا: خدا کی قسم ! میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک آپ مجھے اپنے ساتھ جنت میں رکھنے کا وعدہ نہیں کرلیتے ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کو اس کی یہ بات ( اس طرح برملا کہنا ) اچھی نہ لگی ۔ آپ سے عرض کی گئی : یہ جو کچھ مانگ رہی ہے آپ عطا فرما دیجیے ۔ تو آپ نے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا ۔ وہ ان کو ایک جھیل پر لئے آئی اور بولی : یہ پانی خشک کرو۔ جب انہوں نےوہ پانی خشک کر لیا تو اس نے کہا : یہاں سے کھدائی کرو۔ جب انہوں نے وہاں سے کھدائی کی تو ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا ۔ جب انہوں نے آپ کا جسم اطہر زمین سے نکال لیا تو ( وہ گمشدہ ) راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَحْمَسِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4088
