Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ هُودٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4064

4064 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي مُدْرِكٌ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ هُودٌ أَشْبَهَ النَّاسِ بِآدَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4064 - إسناده واه

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ھود علیہ السلام ، حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔

کَعْبٍ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكٍ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the hood of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4064

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ صَالِحٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4065

4065 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ نَوْفٍ الشَّامِيِّ، «أَنَّ صَالِحَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَرَبِ لَمَّا أَهْلَكَ اللَّهُ عَادًا وَانْقَضَى أَمْرُهَا عَمَّرَتْ ثَمُودُ بَعْدَهَا، فَاسْتُخْلِفُوا فِي الْأَرْضِ فَانْتَشَرُوا، ثُمَّ عَتَوْا عَلَى اللَّهِ فَلَمَّا ظَهَرَ فَسَادُهُمْ وَعَبَدُوا غَيْرَ اللَّهِ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ صَالِحًا وَكَانُوا قَوْمًا عَرَبًا وَهُوَ مِنْ أَوْسَطِهِمْ نَسَبًا وَأَفْضَلِهِمْ مَوْضِعًا وَكَانَتْ مَنَازِلُهُمُ الْحِجْرَ إِلَى قَرْعٍ وَهُوَ وَادِي الْقُرَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا فِيمَا بَيْنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجَازِ، فَبَعَثَهُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ غُلَامًا شَابًّا فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ حَتَّى شَمِطَ وَكَبِرَ وَلَا يَتْبَعُهُ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فَهَلَكَتْ عَادٌ وَثَمُودُ وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مِنْ تِلْكَ الْأُمَمِ وَكَانُوا مِنْ وَلَدِ لَاوِذِ بْنِ سَامِ بْنِ نُوحٍ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ نَبِيٌّ قَبْلَهُ يَعْنِي قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا هُودٌ وَصَالِحٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4065 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت نوف شامی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت صالح علیہ السلام عرب سے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہلاک کر دیا اور ان کا قصہ تمام ہو گیا تو ان کے بعد قوم ثمود کو آباد کیا گیا ، یہ لوگ زمین میں بسنے لگے اور ( دور دور تک ) پھیل گئے ۔ پھر انہوں نے بھی سر کشی کی ۔ جب ان کا فساد بڑھ گیا اور یہ لوگ غیر خدا کی عبادت کرنے لگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ۔ یہ قوم عرب تھی جبکہ حضرت صالح علیہ السلام ان میں متوسط خاندان سے تعلق رکھتے تھے جبکہ سب سے اعلیٰ مقام پر رہتے تھے ، ان کی آبادی حجر سے قرع کی طرف تھی اور قرع وہ وادی القریٰ ہے جو حجر سے حجاز تک اٹھارہ میل تک پھیلی ہوئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب ایک نوجوان لڑکے کو مبعوث فرمایا ۔ وہ اپنے بال سفید ہونے تک ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا رہا لیکن سوائے ایک چھوٹی سی ضعیف جماعت کے اور کوئی بھی اس پر ایمان نہ لایا ۔ تو قوم ثمود اور عاد اور دیگر امتیں جو انہیں سے تعلق رکھتی تھیں سب کو ہلاک کر دیا گیا اور یہ لوگ لاوذبن سام بن نوح کی أولاد میں سے تھے اور نوح علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے صرف ھود علیہ السلام ہی نبی ہوئے ہیں ۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4065

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ صَالِحٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4066

4066 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي مُدْرِكٌ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «ثُمَّ كَانَ صَالِحٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُشْبِهُ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَحْمَرَ إِلَى الْبَيَاضِ مَا هُوَ سَبِطَ الرَّأْسِ»

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت صالح علیہ السلام تھے ۔ آپ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے ( آپ کا رنگ ) سرخ مائل سفید تھا اور آپ لٹکتے ہوئے بالوں والے تھے ۔

کَعْبٍ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكٍ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4066

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ صَالِحٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4067

4067 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: حَدِيثُ صَالِحِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ جَابِرِ بْنِ ثَمُودَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَامِ بْنِ نُوحٍ قَالَ وَهْبٌ: «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ صَالِحًا إِلَى قَوْمِهِ حِينَ رَاهَقَ الْحُلُمَ، وَكَانَ رَجُلًا أَحْمَرَ إِلَى الْبَيَاضِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ يَمْشِي حَافِيًا كَمَا كَانَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ لَا يَتَّخِذُ حِذَاءً، وَلَا يَدَّهِنُ وَلَا يَتَّخِذُ بَيْتًا وَلَا مَسْكَنًا وَلَا يَزَالُ مَعَ نَاقَةِ رَبِّهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ تَوَجَّهَ مَعَهَا وَحَيْثُمَا نَزَلَتْ نَزَلَ مَعَهَا، وَكَانَ قَدْ صَامَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا قَبْلَ أَنْ تُعْقَرَ النَّاقَةُ، وَكَانَتْ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى شَامَةٌ عَلَامَةٌ، فَلَبِثَ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ عَامًا يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ مِنْ لَدُنْ كَانَ غُلَامًا إِلَى أَنْ شَمِطَ وَهُمْ لَا يَزْدَادُونَ إِلَّا طُغْيَانًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4067 - وعن وهب بإسناد واه

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت صالح علیہ السلام کا نسب یوں بیان فرمایا ہے ۔ صالح بن عبید بن جابر بن ثمود بن جابر بن سام بن نوح ۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو بالغ ہوتے ہی ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمادیا تھا آپ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، آپ کے سر کے بال سیدھے تھے ، آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ننگے پاؤں رہا کرتے تھے ، آپ نے جوتے پہنتے تھے ، نہ تیل لگاتے تھے ، نہ انہوں نے اپنا کوئی مکان بنایا نہ کوئی خاص ٹھکانہ بنایا۔ آپ ہمیشہ اپنے رب کی اونٹنی کے ہمراہ رہتے تھے ، وہ جدھر کا رخ کرتی ، آپ بھی اس کے ساتھ جاتے اور جہاں وہ ٹھہرتی ، آپ بھی وہیں قیام کرتے ۔ اونٹنی کے قتل کئے جانے سے پہلے چالیس دن تک آپ روزے سے رہے اور آپ کے دائین ہاتھ پر تل کا نشان تھا ۔ آپ اپنی بلوغت سے بالوں میں چاندی آنے تک چالیس سال کا عرصہ ان میں رہے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے لیکن ان لوگوں کی مسلسل سر کشی بڑھتی رہی ۔

وَھْبٍ ← حَدِيثُ صَالِحِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ جَابِرِ بْنِ ثَمُودَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَامِ بْنِ نُوحٍ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4067

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ صَالِحٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4068

4068 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَزَلْنَا الْحِجْرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عَمِلَ مِنْ هَذَا الْمَاءِ طَعَامًا فَلْيُلْقِهِ» قَالَ: فَمِنْهُمْ مَنْ عَجَنَ الْعَجِينَ وَمِنْهُمْ مَنْ حَاسَ الْحَيْسَ فَأَلْقُوهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِجْرَ ثَمُودَ» بِغَيْرِ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4068 - صحيح

حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم نے مقام حجر میں پڑاؤ دالا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس جس نے اس پانی سے کھانا تیار کیا ہو، وہ پھینک دے ۔ تو ان میں سے کچھ لوگوں نے آتا گوندھا تھا اور کچھ نے حیس ( کھجور ، گھی اور ستو کا کھانا) تیار کر لیا تھا ، تو سب نے پھینک دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے جویریہ بن أسماء کی حدیث حضرت نارع کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ثمود کے مقام حجر میں ٹھہرے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4068

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ صَالِحٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4069

4069 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: قُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثَ ثَمُودَ. فَقَالَ: أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ ثَمُودَ، وَكَانَتْ ثَمُودُ قَوْمَ صَالِحٍ أَعْمَرَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا، فَطَالَ أَعْمَارَهُمْ حَتَّى جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَبْنِي الْمَسْكَنَ مِنَ الْمَدَرِ فَيَنْهَدِمُ وَالرَّجُلُ مِنْهُمْ حَيٌّ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اتَّخَذُوا مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَرِهِينَ فَنَحَتُوهَا وَجَابُوهَا وَجَوَّفُوهَا، وَكَانُوا فِي سَعَةٍ مِنْ مَعَائِشِهِمْ، فَقَالُوا: يَا صَالِحُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ لِيَخْرُجَ لَنَا آيَةً نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَدَعَا صَالِحٌ رَبَّهُ فَأَخْرَجَ لَهُمُ النَّاقَةَ، وَكَانَ شِرْبُهَا يَوْمًا وَشِرْبُهُمْ يَوْمًا مَعْلُومًا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ شِرْبِهَا خَلُّوا عَنْهَا، وَعَنِ الْمَاءِ وَحَلَبُوا عَنْهَا الْمَاءَ، فَمَلَئُوا كُلَّ إِنَاءٍ وَوِعَاءٍ وَسِقَاءٍ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى صَالِحٍ أَنَّ قَوْمَكَ سَيَعْقِرُونَ نَاقَتَكَ، فَقَالَ لَهُمْ فَقَالُوا: مَا كُنَّا لَنَفْعَلَ. قَالَ: «إِنْ لَمْ تَعْقِرُوهَا أَنْتُمْ يُوشِكُ أَنْ يُولَدَ فِيكُمْ مَوْلُودٌ يَعْقِرُهَا» قَالَ: مَا عَلَامَةُ ذَلِكَ الْمَوْلُودِ فَوَاللَّهِ لَا نَجِدُهُ إِلَّا قَتَلْنَاهُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ غُلَامٌ أَشْقَرُ أَزْرَقُ أَصْهَبَ» ، قَالَ: وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ شَيْخَانِ عَزِيزَانِ مَنِيعَانِ لِأَحَدِهِمَا ابْنٌ يَرْغَبُ عَنِ الْمَنَاكِحِ وَلِلْآخَرِ ابْنَةٌ لَا يَجِدُ لَهَا كُفُوًا فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا مَجْلِسٌ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُزَوِّجَ ابْنَكَ؟ قَالَ: لَا أَجِدُ لَهُ كُفُوًا، قَالَ: فَإِنَّ ابْنَتِي كُفْءٌ لَهُ وَأَنَا أُزَوِّجُ ابْنَكَ فَزَوَّجَهُ فَوُلِدَ بَيْنَهُمَا ذَلِكَ الْمَوْلُودُ وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ ثَمَانِيَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ، قَالَ لَهُمْ صَالِحٌ: " إِنَّمَا يَعْقِرُهَا مَوْلُودٌ فِيكُمْ فَاخْتَارُوا ثَمَانِيَةَ نِسْوَةٍ قَوَابِلَ مِنَ الْقَرْيَةِ وَجَعَلُوا مَعَهُمْ شَرْطًا فَكَانُوا يَطُوفُونَ فِي الْقَرْيَةِ، فَإِذَا وَجَدُوا امْرَأَةً تُمْخَضُ نَظَرُوا مَا وَلَدُهَا، فَإِنْ كَانَ غُلَامًا فَلَبِثُوا يَنْظُرُونَ مَا هُوَ، وَإِنْ كَانَتْ جَارِيَةً اعْرَضُوا عَنْهَا، فَلَمَّا وَجَدُوا ذَلِكَ الْمَوْلُودَ صَرَخْنَ النِّسْوَةُ، قُلْنَ هَذَا الَّذِي يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَالِحٌ، فَأَرَادَ الشُّرَطُ أَنْ يَأْخُذُوهُ فَحَالَ جَدَّاهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، وَقَالُوا: إِنْ كَانَ صَالِحٌ أَرَادَ هَذَا قَتَلْنَاهُ وَكَانَ شَرَّ مَوْلُودٍ وَكَانَ يَشُبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ غَيْرِهِ فِي الْجُمُعَةِ، وَيَشِبُّ فِي الْجُمُعَةِ شَبَابَ غَيْرِهِ فِي الشَّهْرِ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ غَيْرِهِ فِي السَّنَةِ فَاجْتَمَعَ الثَّمَانِيَةُ الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ وَالشَّيْخَانِ، فَقَالُوا: نَسْتَعْمِلُ عَلَيْنَا هَذَا الْغُلَامَ لِمَنْزِلَتِهِ وَشَرَفِ جَدَّيْهِ فَكَانُوا تِسْعَةً وَكَانَ صَالِحٌ لَا يَنَامُ مَعَهُمْ فِي الْقَرْيَةِ بَلْ كَانَ فِي الْبَرِيَّةِ فِي مَسْجِدٍ، يُقَالَ لَهُ: مَسْجِدُ صَالِحٍ فِيهِ يَبِيتُ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ أَتَاهُمْ فَوَعَظَهُمْ وَذَكَّرَهُمْ، وَإِذَا أَمْسَى خَرَجَ فِيهِ يَبِيتُ بِاللَّيْلِ فَبَاتَ فِيهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَمْكُرُوا بِصَالِحٍ مَشَوْا حَتَّى أَتَوْا عَلَى شِرْبٍ عَلَى طَرِيقِ صَالِحٍ، فَاخْتَبَأَ فِيهِ ثَمَانِيَةٌ: وَقَالُوا إِذَا خَرَجَ عَلَيْنَا قَتَلْنَاهُ وَأَتَيْنَا أَهْلَهُ فَبَيَّتْنَاهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْأَرْضَ فَاسْتَوَتْ عَلَيْهِمْ فَاجْتَمَعُوا وَمَشَوْا إِلَى النَّاقَةِ وَهِيَ عَلَى حَوْضِهَا قَائِمَةٌ فَقَالَ الشَّقِيُّ لِأَحَدِهِمْ: ائْتِهَا فَاعْقِرْهَا فَأَتَاهَا فَتَعَاظَمَهُ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ، فَبَعَثَ آخَرَ فَأَعْظَمَ ذَلِكَ فَجَعَلَ لَا يَبْعَثُ رَجُلًا إِلَّا يُعَاظِمُهُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهَا حَتَّى مَشَى إِلَيْهَا وَتَطَاوَلَ فَضَرَبَ عُرْقُوبَهَا، فَوَقَعَتْ تَرْكُضُ فَأَتَى رَجُلٌ مِنْهُمْ صَالِحًا فَقَالَ: أَدْرِكِ النَّاقَةَ فَقَدْ عُقِرَتْ فَأَقْبَلَ وَخَرَجُوا يَتَلَقَّوْنَهُ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ: إِنَّمَا عَقَرَهَا فُلَانٌ لَا ذَنْبَ لَنَا قَالَ: انْظُرُوا هَلْ تُدْرِكُونَ فَصِيلَهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَ عَنْكُمُ الْعَذَابَ فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَهُ وَلَمَّا رَأَى الْفَصِيلُ أُمَّهُ تَضْطَرِبُ أَتَى جَبَلًا يُقَالَ لَهُ الْغَارَةُ قَصِيرًا، فَصَعِدَ وَذَهَبُوا يَأْخُذُوهُ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى الْجَبَلِ فَطَارَ فِي السَّمَاءِ حَتَّى مَا يَنَالُهُ الطَّيْرُ، قَالَ: «وَدَخَلَ صَالِحٌ الْقَرْيَةَ، فَلَمَّا رَآهُ الْفَصِيلُ بَكَى حَتَّى سَالَتْ دُمُوعُهُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ صَالِحًا فَرَغَا رَغْوَةً، ثُمَّ رَغَا أُخْرَى، ثُمَّ رَغَا أُخْرَى، فَقَالَ صَالِحٌ لِكُلِّ رَغْوَةٍ أَجَلُ يَوْمٍ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ إِلَّا أَنَّ آيَةَ الْعَذَابِ أَنَّ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ تُصْبِحُ وُجُوهُهُمْ مُصْفَرَّةٌ، وَالْيَوْمَ الثَّانِي مُحْمَرَّةٌ، وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ مُسْوَدَّةً، فَلَمَّا أَصْبَحُوا إِذَا وُجُوهُهُمْ كَأَنَّمَا طُلِيَتْ بِالْخَلُوقِ صَغِيرَهُمْ وَكَبِيرَهُمْ ذَكَرَهُمْ وَإِنَاثَهُمْ، فَلَمَّا أَمْسَوْا صَاحُوا بِأَجْمَعِهِمْ أَلَا قَدْ مَضَى يَوْمٌ مِنَ الْأَجَلِ وَحَضَرَكُمُ الْعَذَابُ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا يَوْمَ الثَّانِي إِذَا وُجُوهُهُمْ مُحْمَرَّةٌ كَأَنَّمَا خُضِبَتْ بِالدِّمَاءِ فَصَاحُوا وَضَجُّوا وَبَكَوْا وَعَرَفُوا أَنَّهُ الْعَذَابُ، فَلَمَّا أَمْسَوْا صَاحُوا بِأَجْمَعِهِمْ أَلَا قَدْ مَضَى يَوْمَانِ مِنَ الْأَجَلِ وَحَضَرَكُمُ الْعَذَابُ فَلَمَّا أَصْبَحُوا الْيَوْمَ الثَّالِثَ، إِذَا وُجُوهُهُمْ مُسْوَدَّةٌ كَأَنَّمَا طُلِيَتْ بِالْقَارِ فَصَاحُوا جَمِيعًا أَلَا قَدْ حَضَرَكُمُ الْعَذَابُ فَتَكَفَّنُوا وَتَحَنَّطُوا وَكَانَ حَنُوطَهُمُ الصَّبْرُ وَالْمُرُّ، وَكَانَتْ أَكْفَانُهُمُ الْأَنْطَاعَ، ثُمَّ أَلْقَوْا أَنْفُسَهُمْ بِالْأَرْضِ فَجَعَلُوا يُقَلِّبُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ مَرَّةً وَإِلَى الْأَرْضِ مَرَّةً لَا يَدْرُونَ مِنْ حَيْثُ يَأْتِيهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ مِنَ السَّمَاءِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ مِنَ الْأَرْضِ خُشَّعًا وَفُرُقًا، فَلَمَّا أَصْبَحُوا الْيَوْمَ الرَّابِعَ أَتَتْهُمْ صَيْحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِيهَا صَوْتُ كُلِّ صَاعِقَةٍ وَصَوْتُ كُلِّ شَيْءٍ لَهُ صَوْتٌ فِي الْأَرْضِ فَتَقَطَّعَتْ قُلُوبُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ» هَذَا حَدِيثٌ جَامِعٌ لِذِكْرِ هَلَاكِ آلِ ثَمُودَ تَفَرَّدَ بِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ غَيْرَهَا وَلَمْ يَسْتَغْنِ عَنْ إِخْرَاجِهِ وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى سَبِيلِ الِاخْتِصَارِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ دَلَّ عَلَى صِحَّةِ الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4069 - أبو بكر بن عبد الله واه

شهر بن حوشب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں قوم ثمود کا واقعہ سنائیں۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا قوم ثمود کا قصہ سناتا ہوں ۔ ثمود، حضرت صالح علیہ السلام کی قوم تھی ۔ اللہ تعالی نے ان کو دنیا میں بہت لمبی لمبی عمریں عطا فرمائی تھیں حتی کہ کوئی مٹی کا مکان بنالیتا تو وہ ( اپنی عمر پوری کر کے ) مغموم ہو جاتا لیکن ان بنانے والوں میں سے ابھی بھی کوئی نہ کوئی زندہ ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ پہاڑوں میں مکانات بنا کر خوش ہوتے تھے۔ انہوں نے پہاڑوں کو ہموار کیا اور ان کو تراش تراش کر گہرا کر لیا۔ یہ لوگ بہت خوش عیش تھے۔ انہوں نے کہا: اے صالح علیہ السلام : آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے کوئی ایسی نشانی ظاہر کردے جس سے ہم جان جائیں کہ آپ واقعی اللہ تعالی کے رسول ہیں۔ چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالی نے ان کے لئے ایک اونٹنی نکال دی ۔ گھاٹ سے پانی پینے کے لئے ایک دن اونٹنی کا اور ایک دن ان لوگوں کا مقرر تھا۔ جو دن اونٹنی کا ہوتا اس دن لوگ اونٹنی اور پانی سے ہٹ جاتے اور اس کا دودھ دوہتے (اور اس کا دودھ اتنا ہوتا کہ ) کہ وہ لوگ اپنے تمام برتن مشکیزے اور ڈول وغیرہ بھر لیتے تو اللہ تعالی نے حضرت صالح علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ تمہاری قوم عنقریب اس کی کونچیں کاٹ ڈالے گی (یعنی اس کو قتل کر دے گی)۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان کو اس بات سے خبر دار کیا تو وہ لوگ بولے: ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا تم نے نہ کیا تو ہوسکتا ہے کہ تمہاری اولادوں میں سے کوئی یہ کام کردے۔ انہوں نے کہا: آپ ہمیں اس مولود کی نشانی بتائیں، ہم اس کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالیں گے۔ آپ نے فرمایا: وہ لڑکا سرخ وز ر دنیلگوں ہوگا، جس کے رنگ میں سرخی مائل سفیدی ہوگی ۔ آپ فرماتے ہیں: شہر میں دو عمر رسیدہ طاقتور آدمی رہتے تھے ، ان میں سے ایک کا بیٹا تھا جو کہ شادی سے گریزاں تھا اور دوسرے کی ایک بیٹٰ تھی جس کا کوئی کفونہ تھا (یعنی اس کے سٹیٹس کا کوئی رشتہ نہ تھا ) ایک دفعہ دونوں ایک امجلس میں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: آپ اپنے بیٹے کی شادی کیوں نہیں کررہے؟ اس نے کہا: مجھے اس کا کوئی کفو ( سٹیٹس کا رشتہ ) نہیں مل رہا۔ اس نے کہا: میری بیٹی اس کا کفو ہے۔ میں اس کا نکاح تیرے بیٹے سے کرنے کو تیار ہوں ۔ چنانچہ انہوں نے دونوں کی شادی کر دی تو ان کے ہاں وہ بچہ پیدا ہوا، اس شہر میں آٹھ افراد فسادی تھے جوکسی طرح اصلاح کی طرف نہ آتے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے کہا:جو اس اونٹنی کو مارے گا وہ تم میں پیدا ہو چکا ہے توانہوں نے اس بستی میں سے آٹھ دائیاں منتخب کیں اور ان کے ہمراہ سپاہی بھی مقرر کر دیئے، بستی میں گشت کرتے رہتے تھے اور جس کسی عورت کو دردزہ میں مبتلا پاتے تو نظر رکھتے کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے یا لڑکی اگر لڑ کا ہوتا تو اس کوز یر نظر رکھتے اور اگرلڑ کی ہوتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔ جب ان کو وہ مولود مل گیا تو عورتیں چیخ چیخ کر بولے لگیں : یہی ہے وہ مولود جو صالح علیہ السلام کو مطلوب ہے۔ سپاہیوں نے اس بچے کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا تواس بچے کے دادا دادی بیچ میں آ گئے ، وہ کہنے لگے : اگر صالح علیہ السلام کا مطلوب ہی بچہ ہے تو ہم خوداس کو قتل کردیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ بچہ نقصان دہ ہوگا، وہ لڑکا ایک دن میں اتنا بڑھتا جتنا دوسرے بچے پورے ایک ہفتے میں بڑھتے ہیں اور میرا ایک ہفتہ میں اتنا بڑھتا، جتنا دوسرے بچے پورے مہینے میں بڑھتے ہیں اور یہ ایک مہینہ میں اتنا بڑھتا جتنا دوسرے بچے پورے ایک سال میں بڑھتے ہیں۔ تو وہ آنکھوں افراد جمع ہو گئے ، جو فسادی تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے اور دونوں بوڑ ھے جمع ہو گئے ۔ اور کہنے لگے : ہم اس بچے کو اس کے مقام اور اس کے باپ دادا کے مرتبہ کی وجہ سے کام پر رکھتے ہیں تو یہ لوگ 9 تھے اور حضرت صالح علیہ السلام ان کے ہمراہ بستی میں آرام نہیں کرتے تھے بلکہ دور پہاڑ پر مسجد میں (جس کا نام مسجد صالح علیہ السلام ہے) رات گزارا کرتے تھے۔ صبح ہوتی تو آپ ان کے پاس آتے اور ان کو وعظ ونصیحت کرتے اور جب شام ہو جاتی تو آپ واپس اسی مسجد میں چلے جاتے اور اسی میں رات گزارتے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب ان لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کے خلاف سازش کا ارادہ کیا تو وہ آٹھ آدی حضرت صالح علیہ السلام کی گزرگاہ میں گھات لگا کر بیٹھ گئے اور انہوں نے یہ طے کر لیا کہ جب آپ یہاں سے گزریں گے تو ہم انہیں قتل کر دیں گے اور پر ان کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔ الله تعالی نے زمین کو حکم دیا تو وہ سمٹ گئی۔ یہ سب لوگ جمع ہوئے اور اونٹنی کی جانب چل پڑے۔ یہ اونٹنی اس وقت حوض پر تھی ۔ ان میں سے ایک بد بخت نے کہا: اس کے پاس جاؤ اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالو۔ وہ اس کے پاس آیا لیکن اس کو قتل کرنے کی جسارت نہ کر سکا اور واپس چلا گیا۔ پھر دوسرے کو بھیجا لیکن وہ بھی گھبرا گیا۔ وہ جس کوبھی بھیجتا گھبرا جاتا حتیٰ کہ وہ بد بخت خود چل پڑا اور دور سے گردن اٹھا کر اسے دیکھا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں ۔ وہ گر کر تڑپنے لگی، ان میں سے ایک آدمی حضرت صالح علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا:اونٹنی کے پاس پہنچئے کیونکہ اس کی کونچیں کاٹ دی گئی ہیں ۔ آپ فورا نکلے اور یہ لوگ آپ سے مل کر کہنے لگے : اے اللہ تعالی کے نبی !اس کو فلاں شخص نے قتل کیا ہے، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: کوشش کر کے اس کے بچے کوحاصل کرلو اگرتم اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہوسکتا ہے کہ عذاب الہی سے بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے۔ لوگ اس اونٹنی کے بچے کی تلاش میں نکل پڑے، ادھر جب بچے نے اپنی ماں کو تڑپتے دیکھا تو وہ پہاڑ پر دوڑ گیا اس کو "غارہ قیصر "کہتے ہیں۔ یہ لوگ اس کو پکڑنے کے لئے پہاڑ پر آئے تو الله تعالی نے پہاڑ کوحکم دیا تو وہ آسمان کی طرف اٹھ گیا اور پرندوں کی رسائی سے بھی اونچا ہوگیا۔ حضرت صالح علیہ السلام کی بستی میں داخل ہوئے ۔ جب آپ کو اونٹنی کے بچے نے دیکھا تو رونے لگ گیا حتیٰ کہ اس کے آنسو بہہ نکلے۔ پھر وہ حضرت صالح علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوا اور بلبلایا، پھر دوبارہ بلبلایا پھر تیسری مرتبہ بلبلایا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا: اس کی ہر بلبلاہٹ ایک دن کی مہلت ہے چنانچہ تم لوگ تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھالو یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا اور عذاب کی نشانی یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن کا لے۔ جب اگلا دن ہواتو واقعی ان کے چہرے ایسے (زرد) ہو گئے یوں لگتا تھا گویا کہ ان پر زعفران کا رنگ چڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے بڑے، چھوٹے ، مردو عورت (سب کا یہی حال تھا) جب شام ہوئی تو سب اکٹھے چلانے لگے کہ خبردار! مہلت کا ایک دن گزر چکا ہے اور عنقریب تم پر عذاب آنے والا ہے۔ جب اگلا دن ہوا تو ان کے چہرے سرخ ہو چکے تھے گویا کہ خون مل دیا گیا ہو یہ پھر آہ و بکا اور چیخ و پکار کرنے لگے اور یہ سمجھ گئے کہ یہ واقعی عذاب ہی ہے۔ جب شام ہوئی تو سب چلانے لگے : خبر دار! مہلت کے دو دن گزر گئے اور اب عذاب بالکل آنے ہی والا ہے۔ جب تیسرا دن آیا تو ان کے چہرے سیاہ ہو چکے تھے گویا کہ ان پر تارکول مل دیا گیا ہو یہ پھر سب چلائے: خبردار!تم پر عذاب آرہا ہے۔ انہوں نے خود ہی اپنے کفن پہنے اور خود ہی اپنے آپ کو مردوں والی خوشبو لگائی ان کی مردوں والی خوشبو ایلوا اور کڑ واہٹ تھی اور ان کے کفن" انطاع" (وہ چمڑے کا فرش جس پر مجرم کو قتل کیا جاتا ہے) کا تھا۔ پھر یہ زمین کے اوپر لیٹ گئے کیونکہ ان کو کچھ اندازہ نہ تھا کہ عذاب آسمان کی طرف سے آئے گا یا زمین کی طرف سے، اس لئے گھبراہٹ اور خوف کی وجہ سے وہ کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی زمین کی طرف۔ جب چوتھا دن آیا تو آسمان سے ایک بچے کی آواز آئی، اس میں ہر کڑک کی آواز موجود تھی اور ہر اس شے کی آواز بھی موجو تھی جس کی روئے زمین میں آواز ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے سینوں میں ان کے دل پھٹ گئے تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔ یہ حد یث قوم ثمود کی ہلاکت کے واقعات کی جامع ہے اور اس کی روایت کرنے میں شھر بن حوشب رضی اللہ عنہ منفرد ہیں اور اس سند کے علاوہ اس کی کوئی دوسری سند نہیں ہے اور اس کو نقل کرنا ضروری تھا اور سند صحیح کے ہمراہ ایک مختصر حدیث اس کی شاہد بھی ہے جو کہ اس مفصل حدیث کی صحت کی دلیل ہے اور یہ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أُحَدِّثُكُمْ ← حَدِيثَ ثَمُودَ. ← قلْنَا لَهُ ← عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُسَدَّدٌ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4069

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ صَالِحٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4070

4070 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى عَلَى الْحِجْرِ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَلَا تَسْأَلُوا رَسُولَكُمُ الْآيَاتِ هَذَا قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا رَسُولَهُمُ الْآيَةَ فَبَعَثَ اللَّهُ لَهُمْ نَاقَةً فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4070 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مقام حجر پر پہنچے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا : تم اپنے رسول اسے معجزات کا مطالبہ مت کرنا ۔ یہ قوم صالح علیہ السلام ہے ، انہوں نے اپنے رسول سے نشانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب اونٹنی بھیجی وہ ایک پھٹن سے داخل ہوتی اور دوسری سے نکل آتی ۔ وہ اپنی باری پر ان کا سارا پانی پی جاتی تھی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ بِالرِّيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The good mention of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4070

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ شُعَيْبٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4071

4071 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَشُعَيْبُ بْنُ مِيكَائِيلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ اللَّهُ نَبِيًّا فَكَانَ مِنْ خَبَرِهِ وَخَبَرِ قَوْمِهِ مَا ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ: «ذَاكَ خَطِيبُ الْأَنْبِيَاءِ» لِمُرَاجَعَتِهِ قَوْمَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4071 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ " شعیب بن میکائل علیہ السلام " اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی بنا کر بھیجا تھا اور ان کا اور ان کی قوم کا قصہ قرآن کریم میں موجود ہے اور نبی اکرم ﷺ جب بھی ان کا تذکرہ کرتے تو فرماتے : وہ انبیاء علیہ السلام کے خطیب تھے کیونکہ وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے تھے ۔

«ذَاكَ خَطِيبُ الْأَنْبِيَاءِ» لِمُرَاجَعَتِهِ قَوْمَهُ سكت عنه الذهبي في التلخيص ← اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا ذَكَرَهُ ← وَشُعَيْبُ بْنُ مِيكَائِيلَ النَّبِيُّ بَعَثَهُ اللَّهُ نَبِيًّا فَكَانَ مِنْ خَبَرِهِ وَخَبَرِ قَوْمِهِ مَا ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet’s people, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4071

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ شُعَيْبٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4072

4072 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَسَالِمِ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا} [هود: 91] قَالَ: «كَانَ شُعَيْبٌ أَعْمَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4072 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ٩١﴾ [هود: 91]" اور بے شک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت شعیب علیہ السلام " نابینا " تھے ۔

لنراك فينا ضعيفا {هود: ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ وَسَالِمِ الْأَفْطَسِ ← شريك بن عبد الله ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet’s people, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4072

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ شُعَيْبٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4073

4073 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ شُعَيْبًا إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ وَهُمْ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ فَكَانَتِ الْأَيْكَةُ مِنَ الشَّجَرِ الْمُلْتَفِّ، وَكَانُوا أَهْلَ كُفْرٍ بِاللَّهِ وَبَخْسٍ لِلنَّاسِ فِي الْمَكَايِيلِ وَالْمَوَازِينَ، وَإِفْسَادٍ لِأَمْوَالِهِمْ، وَكَانَ اللَّهُ تَعَالَى وَسَّعَ عَلَيْهِمْ فِي الرِّزْقِ وَبَسَطَ لَهُمْ فِي الْعَيْشِ اسْتِدْرَاجًا مِنْهُ لَهُمْ مَعَ كُفْرِهِمْ بِهِ فَقَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ: «يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٌ فَكَانَ مِنْ قَوْلِ شُعَيْبٍ لِقَوْمِهِ وَجَوَابِ قَوْمِهِ لَهُ مَا قَدْ ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4073 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت وہب منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا اور کہ گنجان سر سبز درختوں کے جھنڈ والے تھے ۔ یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے اور ناپ تول میں کمی اور لوگوں کے مال برباد کرنے والے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت وسیع رزق دیا تھا اور ان کو زندگی کی تمام آسائشیں عطا کی تھیں ۔ حالانکہ یہ لوگ خدا کے منکر تھے ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا: اے میری قوم ! اللہ کی عباد کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو، بے شک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کا عذاب کا ڈر ہے ۔ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام کی اپنی قوم سے گفتگو اور ان کی قوم کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے ۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet’s people, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4073

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ شُعَيْبٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4074

4074 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، حَدَّثَنِي بَرِيرٌ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسِ، عَنْ هَلَاكٍ قَوْمِ شُعَيْبٍ وَقَوْلِ اللَّهِ لَهُمْ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: «بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَرًّا شَدِيدًا فَأَخَذَ بِأَنْفَاسِهِمْ فَدَخَلُوا أَجْوَافَ الْبُيُوتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَجْوَافَ الْبُيُوتِ فَأَخَذَ بِأَنْفَاسِهِمْ، فَخَرَجُوا مِنَ الْبُيُوتِ هِرَابًا إِلَى الْبَرِيَّةِ، فَبَعَثَ اللَّهُ سَحَابَةً فَأَظَلَّتْهُمْ مِنَ الشَّمْسِ فَوَجَدُوا لَهَا بَرْدًا وَلَذَّةً فَنَادَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا تَحْتَهَا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نَارًا» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: «فَذَاكَ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4074 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت بریر باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وضاحت پوچھی : ﴿ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ١٨٩﴾ [الشعراء: 189]" تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا " ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت گرمی بھیجی ، جس سے ان کا دم گھٹنے لگا ۔ یہ لوگ اپنے کمروں کے اندر گھس گئے لیکن اس گرمی نے وہاں پہنچ کر بھی ان کی سانس بند کر دی پھر یہ گھروں سے باہر میدانوں کی طرف بھاگ نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جس نے ان پر چھاؤں کر دی ، ان لوگوں نے اس کے سائے میں ٹھنڈک اور سکون محسوس کیا تو انہوں نے خود ایک دوسرے کو آوازیں دے دے کر وہاں اکٹھے کر لیا ، جب وہ تمام لوگ اس بادل کے نیچے جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ بر ساد ی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ تھا شامیانے کے دن کا عذاب " بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا "

سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ← بَرِيرٌ الْبَاهِلِيُّ، ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← سعيد بن زيد أخو حماد بن زيد ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet’s people, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4074

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ شُعَيْبٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4075

4075 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ، يَقُولُ: " بَعَثَ اللَّهُ شُعَيْبًا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمَّتَيْنِ إِلَى قَوْمِهِ أَهْلِ مَدْيَنَ وَإِلَى أَصْحَابِ الْأَيْكَةِ فَكَانَتِ الْأَيْكَةُ مِنْ شَجَرٍ مُلْتَفٍّ، فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَرًّا شَدِيدًا، وَرَفَعَ لَهُمُ الْعَذَابَ كَأَنَّهُ سَحَابَةٌ، فَلَمَّا دَنَتْ مِنْهُمْ خَرَجُوا إِلَيْهَا رَجَاءَ بَرْدِهَا، فَلَمَّا كَانُوا تَحْتَهَا مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ} [الشعراء: 189] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو دو امتوں کی طرف بھیجا تھا ۔ ایک آپ کی قوم اہل مدین اور دوسرے اصھاب الایکۃ ۔ پھلدار درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب دینے کا ارادہ فرمایا : تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت گرمی بھیجی اور ان کے لئے بادل کی صورت میں عذاب بلند کیا، جب وہ بادل ان کے قریب آیا تو یہ لوگ ٹھنڈ حاصل کرنے کی امید سے اس کی طرف نکلے ، جب یہ لوگ اس کے عین نیچے آ گئے تو ( اس میں آگ ) ان پر برس پڑی ۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاخذھم عذاب یوم الظلتہ" تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آ لیا" ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet’s people, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 4075

chevron_left Previous
1…678…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section