Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4040

4040 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيُّ، قَالَ: قَدِ اخْتَلَفَ عَلَيْنَا فِي إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ أَيُّهُمَا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ، وَأَيْنَ أَرَادَ ذَبْحَهُ بِمِنًى أَمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَكَتَبْتُ كُلَّمَا سَمِعْتُ مِنَ ذَلِكَ مِنْ أَخْبَارِ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ مِنْ وَلَدِ مَالِكِ الدَّارِ وَكَانَ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ خَوَّاتَ بْنَ جُبَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ ذَبِيحِ اللَّهِ أَيُّهُمَا كَانَ؟ فَقَالَ: إِسْمَاعِيلُ، لَمَّا بَلَغَ إِسْمَاعِيلُ سَبْعَ سِنِينَ رَأَى إِبْرَاهِيمُ فِي النَّوْمِ فِي مَنْزِلِهِ بِالشَّامِ أَنَّهُ يَذْبَحُ إِسْمَاعِيلَ فَرَكِبَ إِلَيْهِ عَلَى الْبُرَاقِ حَتَّى جَاءَهُ فَوَجَدَهُ عِنْدَ أُمِّهِ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ وَمَضَى بِهِ لِمَا أُمِرَ بِهِ وَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ رَجُلٍ يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: يَا إِبْرَاهِيمُ، أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «فِي حَاجَتِي» . قَالَ: تُرِيدُ أَنْ تَذْبَحَ إِسْمَاعِيلَ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «أَرَأَيْتَ وَالِدًا يَذْبَحُ وَلَدَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، أَنْتَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «وَلِمَ؟» قَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «فَإِنْ كَانَ اللَّهُ أَمَرَنِي أَطَعْنَا لِلَّهِ وَأَحْسَنْتُ» ، فَانْصَرَفَ عَنْهُ وَجَاءَ إِبْلِيسُ إِلَى هَاجَرَ فَقَالَ: أَيْنَ ذَهَبَ إِبْرَاهِيمُ بِابْنِكِ؟ قَالَتْ: ذَهَبَ فِي حَاجَتِهِ، قَالَ: فَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ، قَالَتْ: وَهَلْ رَأَيْتَ وَالِدًا يَذْبَحُ وَلَدَهُ؟ قَالَ: هُوَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَتْ: فَقَدْ أَحْسَنَ حَيْثُ أَطَاعَ اللَّهَ، ثُمَّ أَدْرَكَ إِسْمَاعِيلَ فَقَالَ: يَا إِسْمَاعِيلُ أَيْنَ يَذْهَبُ بِكَ أَبُوكَ؟ قَالَ: لِحَاجَتِهِ، قَالَ: فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِكَ لِيَذْبَحَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَيْتَ وَالِدًا قَطُّ يَذْبَحُ وَلَدَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ هُوَ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَقَدْ أَحْسَنَ حَيْثُ أَطَاعَ رَبَّهُ، قَالَ: فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى مِنًى حَيْثُ أَمَرَ، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى مَنْحَرِ الْبُدْنِ الْيَوْمَ، فَقَالَ: «أَبُنَيَّ، إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَكَ» ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَأَطِعْ فَإِنَّ طَاعَةَ رَبِّكَ كُلُّ خَيْرٍ، ثُمَّ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: هَلْ أَعْلَمْتَ أُمِّي بِذَلِكَ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَ: أَصَبْتَ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَحْزَنَ وَلَكِنْ إِذَا قَرِّبْتَ السِّكِّينَ مِنْ حَلْقِي فَأَعْرِضْ عَنِّي، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ تَصْبِرَ وَلَا تَرَانِي فَفَعَلَ إِبْرَاهِيمُ، فَجَعَلَ يَحُزُّ فِي حَلْقِهِ، فَإِذَا الْحَزُّ فِي نُحَاسٍ مَا يَحْتَكُّ الشَّفْرَةُ فَشَحَذَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً بِالْحَجَرِ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُزَّ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ مِنَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ» ، فَإِذَا بِوَعْلٍ وَاقِفٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «قُمْ يَا بُنَيَّ فَقَدْ نَزَلَ فِدَاكَ» فَذَبَحَهُ هُنَاكَ بِمِنًى قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ: «الذَّبِيحُ هُوَ إِسْمَاعِيلُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4040 - ما للواقدي وللصحاح

ابو عبد اللہ واقدی کہتے ہیں: ہمارے ہاں اس بات میں اختلاف ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور یہ کہ کہاں پر ذبح کرنے لے گئے تھے؟ منی میں یا بیت المقدس میں؟ اس سلسلہ میں مجھے جو بھی روایت ملی میں نے اس کو لکھ لیا۔ چنانچہ ابن ابی سرہ نے ابو ما لک ( جو کہ مالک الدار کی اولاد میں سے ہے) اور یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام بھی تھے۔ انہوں نے حضرت عطاء بن یسار کا یہ ارشاد نقل کیا ہے میں نے خوات بن جبیر الانصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ دونوں میں سے ذبیح اللہ تعالیٰ کون تھے؟ تو انہوں نے فرمایا : حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام سات سال کے ہو گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک شام میں اپنے گھر میں یہ خواب دیکھا کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ کو ذبح کر رہے ہیں، تو وہ وہاں سے سفر کر کے ان کے پاس پہنچے۔ اس وقت وہ اپنی والدہ کے پاس تھے، انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکمیل کے لئے چل پڑے (راستے میں) شیطان ایک جانی پہچانی صورت میں آپ کے پاس آیا اور بولا : اے ابراہیم ! کہاں جا رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: اپنے ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں ۔ اس نے کہا: آپ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے جا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کبھی کوئی والد بھی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ (آپ ایسا کریں گے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میں کیوں ذبح کروں گا ؟ اس نے کہا: اس لئے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے ذبح کا حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہم اس کے حکم کی تعمیل کریں تو یہ اچھی بات ہے۔ شیطان وہاں سے ہٹ گیا۔ پھر شیطان حضرت حاجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور بولا : ابراہیم تیرے بیٹے کو کہاں لے کر گیا ہے؟ انہوں نے کہا: اپنے کسی کام سے گئے ہیں ۔ شیطان نے کہا: وہ تو اسماعیل کو ذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا: کبھی کوئی باپ بھی اپنے بچے کو ذبح کرتا ہے؟ شیطان نے کہا: وہ (ابراہیم علیہ السلام) یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا: پھر تو اچھی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ پھر وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اسماعیل! تیرا باپ تجھے کہاں لے کر جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کسی کام سے۔ شیطان نے کہا: وہ تو تجھے ذبح کرنے کے لئے لے کر جا رہا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: کوئی باپ بھی کبھی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ وہ کر دے گا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: کیوں؟ شیطان نے کہا: وہ سمجھ رہا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: تب تو اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کر رہے ہیں ( بہرحال) حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لے کر منیٰ کے اس مقام پر لے گئے جہاں کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ پھر وہاں پر آئے جہاں پر آج کل قربانی کی جاتی ہے ( یہاں پر آ کر) حضرت ابراہیم علیہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ نے تیرے ذبح کرنے کا مجھے حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواباً کہا: آپ حکم کی تعمیل کیجیے ! کیونکہ رب کی اطاعت میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پوچھا : کیا آپ نے یہ بات والدہ محترم کو بتائی ہے؟ آپ نے کہا نہیں ۔ اسماعیل علیہ السلام نے کہا: بہت اچھا کیا ورنہ وہ بہت پریشان ہوتیں لیکن ایک بات کا دھیان رکھئے گا کہ جب آپ چھری میرے حلق کے قریب کریں تو اپنا منہ دوسری طرف پھیر لینا کیونکہ یہ بہتر ہے کہ آپ صبر کریں اور مجھے نہ دیکھیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانا شروع کر دی لیکن یوں لگ رہا تھا جیسے تانبے پر چھری چلائی جاتی ہے جس سے چھری کی دھار کند ہو جاتی ہے۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ پتھر پر ( رگڑ کر ) اس کو تیز کیا لیکن وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلق نہ کاٹ سکی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ یہ بھی من جانب اللہ تعالیٰ ہے۔ آپ نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ایک مینڈھا آپ کے سامنے کھڑا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! اٹھئے ! اللہ تعالیٰ نے تیرا فدیہ نازل فرما دیا ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مینڈھے کو وہیں پر منیٰ میں ذبح فرما دیا۔ واقدی نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن سلام کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ "ذبیح ’’ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنِ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني،

Hadith 4040

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4041

4041 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْخَبَّابِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ دَاوُدُ: يَا رَبِّ، أَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ: رَبُّ إِسْحَاقَ قَالَ: إِنَّ إِسْحَاقَ جَادَ لِي بِنَفْسِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ النَّاسُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ تَفَرَّدَ بِهِ»

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب ! میں لوگوں کی زبان سے یہ الفاظ سنتا ہوں " اے ( ابراہیم ) اسحاق ( اور یعقوب ) کے رب " میں چاہتا ہوں کہ ( اسی طرح میرے نام کے ساتھ بھی تجھے پکارا جائے اور یوں کہا جائے ) اے داؤد کے رب " ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا : ( ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں ڈالا گیا ) بے شک اسحاق علیہ السلام نے ہمارے لئے اپنی جان پیش کی ( اور یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کا فراق دیا گیا، اتنی آزمائشوں کے بعد ان کے نام کے ساتھ مجھے پکارا جاتا ہے جبکہ آپ کو تو اس طرح کی کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا گیا۔ یہ حدیث صحیح ہے اس کو کئی محدثین نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے اور وہ اس کی روایت کرنے میں متفرد ہیں ۔

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← زَيْدُ بْنُ الْخَبَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 4041

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4042

4042 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ سَارَةُ بِنْتَ تِسْعِينَ سَنَةً، وَإِبْرَاهِيمُ ابْنَ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً، فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى بِإِسْحَاقَ، وَأَمِنَ مِمَّنْ كَانَ يَخَافُهُ، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى سَارَةَ بِالْبُشْرَى، فَقَالَ: «أَبْشِرِي بِوَلَدٍ يُقَالَ لَهُ إِسْحَاقُ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبُ» قَالَ: فَضَرَبَتْ جَبْهَتَهَا عَجَبًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَصَكَّتْ وَجْهَهَا} [الذاريات: 29] وَقَالَتْ: أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ، قَالُوا: أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ «قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعِكْرِمَةَ وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِالسُّدِيِّ وَالْحَدِيثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4042 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سارہ 90 سال کی تھیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام 160 سال کے تھے ۔ جب ابراہیم علیہ السلام کا خوف زائل ہو اور انہیں حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری ملی اور اس چیز سے ان کو امن ہو گیا جس سے وہ خوفزدہ تھے تو بولے ۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام دئیے ، بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے ۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے ، جن کا نام اسحاق علیہ السلام ہے اور اسحاق علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام آپ ( حضرت سارہ رضی اللہ عنہ ) نے حیرانگی کے عالم میں اپنا ماتھا پکڑ لیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا " فصکت وجھھا " (پھر اپنا ماتھا ٹھونکا ) اور بولیں : میں بچہ جنوں گی ؟ حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے ۔ یہ بڑی عجیب شے ہے ۔ فرشتے بولے : کیا اللہ تعالیٰ کے کام کو عجیب سمجھتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو، بے شک وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کی اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے " سدی " کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى بِإِسْحَاقَ، وَأَمِنَ مِمَّنْ كَانَ يَخَافُهُ، ← إِبْرَاهِيمُ ابْنَ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ ← كَانَتْ سَارَةُ بِنْتَ تِسْعِينَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ،

Hadith 4042

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4043

4043 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، قَالَ: «ثُمَّ كَانَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ نُورًا وَضِيَاءً وَقُرَّةَ عَيْنٍ لِوَالِدَيْهِ، فَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا وَأَكْثَرَهُ جَمَالًا وَأَحْسَنَهُ مِنْطَقًا، فَكَانَ أَبْيَضَ جَعْدَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مُشْبِهًا بِإِبْرَاهِيمَ خَلْقًا وَخُلُقًا، وَوُلِدَ لِإِسْحَاقَ يَعْقُوبُ وَعِيصُ فَكَانَ يَعْقُوبُ أَحْسَنَهُمَا وَأَنْطَقَهُمَا وَأَكْثَرَهُمَا جَمَالًا وَظُرْفًا، وَكَانَ عِيصُ كَثِيرَ شَعْرِ الرَّأْسِ وَالْجَسَدِ وَالْوَجْهِ وَكَانَ يَسْكُنُ الرُّومَ» فِيمَا حَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4043 - إسناده واه

حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام وہ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نور اور روشنی ، ان کے والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔ وہ سب سے زیادہ حسین تھے ، سب سے اچھی گفتگو کے مالک تھے ۔ ان کا رنگ سفید تھا، سر اور داڑھی کے بال گھنگریالے تھے ، صورت و سیرت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتے جلتے تھے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام اور عیص پیدا ہوئے ۔ ان دونوں میں سے حضرت یعقوب علیہ السلام زیادہ خوبصورت ، زیادہ فصیح و بلیغ زیادہ ظرف کے مالک تھے جبکہ عیص کے سر، جسم اور چہرے پر بہت زیادہ بال تھے ، اور یہ روم میں رہتے تھے جہاں پر سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ حدیث کا درس دیتے رہے ۔

كعب الأحبار ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مروان بن جعفر السمري ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ،

Hadith 4043

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4044

4044 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ} قَالَ: «بُشْرَى نُبُوَّةٍ بُشِّرَ بِهِ مَرَّتَيْنِ حِينَ وُلِدَ وَحِينَ نُبِّئَ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4044 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ : ﴿وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ ١١٢﴾ [الصافات: 112]" اور ہم نے ان کو اسحاق کی خوشخبری دی " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں ۔ بشریٰ ( سے مراد ) نبوت ہے ، آپ کو اس کی دو مرتبہ خوشخبری دی گئی ایک دفعہ پیدائش کے وقت اور دوسری مرتبہ جب آپ کو مبعوث کیا گیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ {وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ} ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سُنَيْدَ بْنَ دَاوُدَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Hadith 4044

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4045

4045 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ كَعْبًا قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّبِيِّ،؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «بَلَى» قَالَ كَعْبٌ: لَمَّا رَأَى إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ إِسْحَاقَ قَالَ الشَّيْطَانُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ أَفْتِنَ عِنْدَهَا آلَ إِبْرَاهِيمَ لَا أَفْتِنُ أَحَدًا مِنْهُمْ أَبَدًا فَتَمَثَّلَ الشَّيْطَانُ لَهُمْ رَجُلًا يَعْرِفُونَهُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ حَتَّى إِذَا خَرَجَ إِبْرَاهِيمُ بِإِسْحَاقَ لِيَذْبَحَهُ دَخَلَ عَلَى سَارَةَ امْرَأَةِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ أَصْبَحَ إِبْرَاهِيمُ غَادِيًا بِإِسْحَاقَ؟ قَالَتْ سَارَةُ: غَدَا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا وَاللَّهِ مَا غَدَا لِذَلِكَ، قَالَتْ سَارَةُ: فَلِمَ غَدَا بِهِ؟ قَالَ: غَدَا بِهِ لِيَذْبَحَهُ، قَالَتْ سَارَةُ: وَلَيْسَ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ لَيَذْبَحَ ابْنَهُ، قَالَ الشَّيْطَانُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَتْ سَارَةُ: وَلِمَ يَذْبَحُهُ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّ رَبَّهُ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَتْ سَارَةُ: فَقَدْ أَحْسَنَ أَنْ يُطِيعَ رَبَّهُ إِنْ كَانَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ فَخَرَجَ الشَّيْطَانُ مِنْ عِنْدِ سَارَةَ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَ إِسْحَاقَ وَهُوَ يَمْشِي عَلَى أَثَرِ أَبِيهِ، فَقَالَ: أَيْنَ أَصْبَحَ أَبُوكَ غَادِيًا؟ قَالَ: غَدَا بِي لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا وَاللَّهِ مَا غَدَا بِكَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ وَلَكِنَّهُ غَدَا بِكَ لِيَذْبَحَكَ، قَالَ إِسْحَاقُ: فَمَا كَانَ أَبِي لِيَذْبَحَنِي، قَالَ: بَلَى، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ إِسْحَاقُ: فَوَاللَّهِ إِنْ أَمَرَهُ لَيُطِيعَنَّهُ فَتَرَكَهُ الشَّيْطَانُ وَأَسْرَعَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: أَيْنَ أَصْبَحْتَ غَادِيًا بِابْنِكَ. قَالَ: غَدَوْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي، قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا غَدَوْتَ بِهِ إِلَّا لِتَذْبَحَهُ، قَالَ: وَلِمَ أَذْبَحُهُ؟ قَالَ: زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ اللَّهُ أَمَرَنِي لَأَفْعَلَنَّ، قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ إِبْرَاهِيمُ إِسْحَاقَ لِيَذْبَحَهُ وَسَلَّمَ إِسْحَاقُ عَافَاهُ اللَّهُ وَفَدَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِإِسْحَاقَ: قُمْ يَا بُنَيَّ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْفَاكَ وَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى إِسْحَاقَ: إِنِّي أَعْطَيْتُكَ دَعْوَةً أَسْتَجِيبُ لَكَ فِيهَا، قَالَ إِسْحَاقُ: فَإِنِّي أَدْعُوكَ أَنْ تَسْتَجِيبَ لِي أَيُّمَا عَبْدٍ لَقِيَكَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " قَالَ الْحَاكِمُ: «سِيَاقَةُ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ كَلَامِ كَعْبِ بْنِ مَاتِعِ الْأَحْبَارِ وَلَوْ ظَهَرَ فِيهِ سَنَدٌ لَحَكَمْتُ بِالصِّحَّةِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَإِنَّ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4045 - صحيح لا غبار عليه

حضرت عمرو بن ابوسفیان ابن اسید بن جاریہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں تمہیں اللہ تعالی کے نبی حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر نہ دوں؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کررہے ہیں تو شیطان نے کہا: خدا کی قسم! اگر اس موقع پر میں ابراہیم علیہ السلام کی آل کو فتنہ میں نہ ڈال سکا تو پھر بھی کبھی ان کو کسی آزمائش میں نہ ڈال سکوں گا۔ چنانچہ شیطان نے ان کی ایک جانی پہچانی شکل اختیار کی اور آ گیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے اپنے ہمراہ لے کر نکل پڑے تو شیطان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابراہیم ! آج صبح سویرے اسماعیل کو کہاں لے گئے ہیں؟ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے کسی کام سے گئے ہیں۔ شیطان نے کہا نہیں خدا کی قسم وہ کسی کام سے نہیں گئے ۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ پوچھا: تو پھر اسماعیل علیہ السلام کو کس لئے لے کر گئے ہیں؟ شیطان نے کہا: ذبح کرنے کے لئے لے کر گئے ہیں ۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کوئی بات نہ ہوئی، باپ اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کرے گا؟ شیطان نے کہا: کیوں نہیں۔ خدا کی قسم۔ سارہ رضی اللہ عنہ کہا۔ وہ اپنے بیٹے کو کیوں ذبح کرے گا؟ شیطان نے کہا: اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے رب نے ان کو حکم دیا ہے۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر واقعی اللہ تعالی نے ان کو حکم دیا ہے تب تو اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ شیطان یہاں سے نکلا اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے پاس چلا گیا وہ اپنے والد کے پیچھے پیچھے جارہے تھے۔ شیطان نے ان سے کہا تمہارا باپ تمہیں کہاں لئے جارہا ہے؟ حضرت اسحاق علیہ السلام نے کہا: کسی کام سے جارہے ہیں ۔ شیطان نے کہا نہیں خدا کی قسم یہ تمہیں کسی کام سے نہیں بلکہ تمہیں ذبح کرنے کے لئے لے کر جارہا ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے کہا: میرا باپ مجھے ذبح نہیں کرے گا۔ شیطان نے کہا: کیوں نہیں کرے گا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے پوچھا: وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟ شیطان نے کہا، اس لئے کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو الله تعالی نے حکم دیا ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے کہا: خدا کی تم !اگر اللہ تعالی ان کوحکم دے تو وہ ضرور اس کی تعمیل کریں گے۔ شیطان نے ان کو چھوڑ دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آگیا اور کہنے لگا تم اپنے بیٹے کو کہاں لے کر جا رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں اپنے کسی ضروری کام سے لے جارہا ہوں ۔ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم ! تم تو اسے ذبح کرنے کے لئے لے جارہے ہو۔ آپ نے فرمایا: میں بھلا اس کو کیوں ذبح کروں گا؟ شیطان نے کہا: اس لئے کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالی نے تمہیں یہ حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی تم جو حکم الله تعالی نے مجھے دیا ہے، میں اس کی تعمیل ضرور کروں گا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کرنے کے لیے حضرت اسحاق علیہ السلام کو پکڑ لیا اور حضرت اسحاق نے بھی سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالی نے ان کو بچا لیا اور ایک عظیم ذبیحہ ان کے فدیہ میں دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام سے فرمایا: اے میرے بیٹے اٹھو کیونکہ اللہ تعالی نے تمہیں بچالیا ہے اور الله تعالی نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ میں آپ کو ایک دعا کا موقع دیتا ہوں ، آپ جوبھی دعا مانگیں گے میں اس کو ضرور پورا کروں گا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام فرماتے ہیں : میں اس میں یہ دعا مانگوں کا کہ اگلے پچھلے لوگوں میں سے جو بھی تجھے اس حالت میں ملے کہ اس کا نامہ اعمال شرک کے داغ سے صاف ہو تو اس کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس حدیث کی سند کعب بن ماتع احبار کے کلام سے ہے اور اگر اس کوسندمل جائے تو میں اس کو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق اسے صحیح قرار دینے کے حق میں ہوں کیونکہ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، اس پر کوئی غبارنہیں ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 4045

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4046

4046 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «هُوَ إِسْحَاقُ يَعْنِي الذَّبِيحَ» وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «الَّذِي أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ ذَبْحَهُ إِسْحَاقُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4046 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ اسحاق علیہ السلام یعنی ذبیح ہیں اور حماد بن سلمہ نے عبداللہ بن عثمان بن خیثم کے واسطے سے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جن کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا ، وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں ۔

«الَّذِي أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ ذَبْحَهُ إِسْحَاقُ» [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← «هُوَ إِسْحَاقُ يَعْنِي الذَّبِيحَ» وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُطَبِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 4046

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4047

4047 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «الذَّبِيحُ إِسْحَاقُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4047 - قال أبو داود سنيد لم يكن بذاك

حضرت ابو الاحوص نے حضرت عبداللہ علیہ السلام کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ذبیح حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سُنَيْدَ بْنَ دَاوُدَ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ،

Hadith 4047

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4048

4048 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّ الصَّخْرَةَ الَّتِي فِي أَصْلِ ثَبِيرٍ الَّتِي ذَبَحَ عَلَيْهَا إِبْرَاهِيمُ إِسْحَاقَ هَبَطَ عَلَيْهِ كَبْشٌ أَغْبَرُ لَهُ نُوَاحٌ مِنْ ثَبِيرٍ قَدْ نَوَّحَهُ» فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا. قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأُوَيْسِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا رَأَى إِبْرَاهِيمُ فِي الْمَنَامِ أَنْ يَذْبَحَ إِسْحَاقَ أَخَذَ بِيَدِهِ، فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ. قَالَ الْحَاكِمُ: وَقَدْ ذَكَرَهُ الْوَاقِدِيُّ بِأَسَانِيدِهِ وَهَذَا الْقَوْلُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَعُمَيْرِ بْنِ قَتَادَةَ اللَّيْثِيِّ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ كُنْتُ أَرَى مَشَايِخَ الْحَدِيثِ قَبْلَنَا وَفِي سَائِرِ الْمُدُنِ الَّتِي طَلَبْنَا الْحَدِيثَ فِيهِ وَهُمْ لَا يَخْتَلِفُونَ أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْمَاعِيلُ وَقَاعِدَتُهُمْ فِيهِ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا ابْنُ الذَّبِيحَيْنِ» إِذْ لَا خِلَافَ أَنَّهُ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَأَنَّ الذَّبِيحَ الْآخَرَ أَبُوهُ الْأَدْنَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْآنَ فَإِنِّي أَجِدُ مُصَنِّفِي هَذِهِ الْأَدِلَّةِ يَخْتَارُونَ قَوْلَ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ إِسْحَاقُ، فَأَمَّا الرِّوَايَةُ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ وَهُوَ بَابُ هَذِهِ الْعُلُومِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ چٹان جو ثبیر پہاڑ کے دامن میں ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کیا تھا جس پر خاکی رنگ کامینڈھا نازل کیا گیا تھا ، اس پہاڑ میں سے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ پھر اس کے بعد تفصیلی حدیث بیان کی ۔ نوٹ : واقدی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں تو ان کا ہاتھ پکڑا پھر اس کے بعد طویل حدیث نقل کی ہے ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : واقدی نے اس کو اپنی کئی سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ، حضرت عمیر بن قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ، حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے ۔ جبکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہم سے پہلے محدثین اور ان تمام علاقوں کے محدثین جہاں جہاں سے ہم نے حدیث پڑھی ہے ، ان میں کسی کا بھی اس بارے میں اختلاف نہیں ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : میں دو ذبیحوں کی اولاد میں سے ہوں۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور دوسرے ذبیح آپ کے والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب تھے اور ( ادھر ان دلائل پر مشتمل احادیث روایت کرنے والے لوگ ) خود ان لوگوں کے موقف کی تائید کرتے جو کہتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسحاق علیہ السلام تھے ۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کی روایت : ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ) اس روایت میں غلو سے کام لیا گیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بَطَّةَ،

Hadith 4048

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4049

4049 - فَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: حَدِيثُ إِسْحَاقَ حِينَ أَمَرَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ يَذْبَحَهُ وَهَبَ اللَّهُ لِإِبْرَاهِيمَ إِسْحَاقَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي فَارَقَتْهُ الْمَلَائِكَةُ، فَلَمَّا كَانَ ابْنَ سَبْعٍ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنْ يَذْبَحَهُ وَيَجْعَلَهُ قُرْبَانًا، وَكَانَ الْقُرْبَانُ يَوْمَئِذٍ يُتَقَبَّلُ وَيُرْفَعُ فَكَتَمَ إِبْرَاهِيمُ ذَلِكَ إِسْحَاقَ وَجَمِيعَ النَّاسِ وَأَسَرَّهُ إِلَى خَلِيلٍ لَهُ، فَقَالَ الْغَازِرُ الصِّدِّيقُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِإِبْرَاهِيمَ وَقَوْلُهُ: فَقَالَ لَهُ الصِّدِّيقُ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَبْتَلِي بِمِثْلِ هَذَا مِثْلَكَ وَلَكِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّبَكَ وَيَخْتَبِرَكَ فَلَا تَسُوءَنَّ بِاللَّهِ ظَنَّكَ، فَإِنَّ اللَّهَ يَجْعَلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ لِإِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ إِلَّا بِاللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَذَكَرَ وَهْبٌ حَدِيثًا طَوِيلًا إِلَى أَنْ قَالَ وَهْبٌ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَبَقَ إِسْحَاقُ النَّاسَ إِلَى دَعْوَةٍ مَا سَبَقَهَا إِلَيْهِ أَحَدٌ وَيَقُومَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَيَشْفَعَنَّ لِأَهْلِ هَذِهِ الدَّعْوَةِ وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي ذَلِكَ الْمَقَامِ فَقَالَ: اسْمَعْ مِنِّي يَا إِبْرَاهِيمُ يَا أَصْدَقَ الصَّادِقِينَ، وَقَالَ لِإِسْحَاقَ: اسْمَعْ مِنِّي يَا أَصْبِرَ الصَّابِرِينَ، فَإِنِّي قَدِ ابْتَلَيْتُكُمَا الْيَوْمَ بِبَلَاءٍ عَظِيمٍ لَمِ ابْتَلِ بِهِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِي ابْتَلَيْتُكَ يَا إِبْرَاهِيمُ بِالْحَرِيقِ، فَصَبَرْتَ صَبْرًا لَمْ يَصْبِرْ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَابْتَلَيْتُكَ بِالْجِهَادِ فِيَّ وَأَنْتَ وَحِيدٌ وَضَعِيفٌ، فَصَدَّقَتْ وَصَبَرَتْ صَبْرًا وَصِدْقًا لَمْ يُصَدِّقْ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَابْتَلَيْتُكَ يَا إِسْحَاقُ بِالذَّبْحِ، فَلَمْ تَبْخَلْ بِنَفْسِكَ وَلَمْ تُعَظِّمْ ذَلِكَ فِي طَاعَةِ أَبِيكَ، وَرَأَيْتَ ذَلِكَ هَنِيئًا صَغِيرًا فِي اللَّهِ كَمَا يَرْجُو مِنْ أَحْسَنِ ثَوَابِهِ وَيَسَّرَ بِهِ حُسْنَ لِقَائِهِ وَإِنِّي أُعَاهِدُكُمَا الْيَوْمَ عَهْدًا لَا أَحْبِسَنَّ بِهِ أَمَّا أَنْتَ يَا إِبْرَاهِيمُ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكَ الْجَنَّةُ عَلَيَّ، فَأَنْتَ خَلِيلِي مِنْ بَيْنِ أَهْلِ الْأَرْضِ دُونَ رِجَالِ الْعَالَمِينَ، وَهِيَ فَضِيلَةٌ لَمْ يَنَلْهَا أَحَدٌ قَبْلَكَ، وَلَا أَحَدٌ بَعْدَكَ فَخَرَّ إِبْرَاهِيمُ سَاجِدًا تَعْظِيمًا لِمَا سَمِعَ مِنَ قَوْلِ اللَّهِ مُتَشَكِّرًا لِلَّهِ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا إِسْحَاقُ فَتَمَنَّ عَلَيَّ بِمَا شِئْتَ وَسَلْنِي وَاحْتَكِمْ أُوتِكَ سُؤْلَكَ، قَالَ: أَسْأَلُكَ يَا إِلَهِي أَنْ تَصْطَفِيَنِي لِنَفْسِكَ وَأَنْ تُشَفِّعَنِي فِي عِبَادِكَ الْمُوَحِّدِينَ فَلَا يَلْقَاكَ عَبْدٌ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا إِلَّا أَجَرْتُهُ مِنَ النَّارِ قَالَ لَهُ رَبُّهُ: أَوْجَبْتُ لَكَ مَا سَأَلْتَ وَضَمِنْتُ لَكَ وَلَايَتَكَ مَا وَعَدْتُكُمَا عَلَى نَفْسِي وَعْدًا لَا أُخَلِّفُهُ وَعَهْدًا لَا أَحْبِسَنَّ بِهِ وَعَطَاءً هَنِيئًا لَيْسَ بِمَرْدُودٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4049 - عبد المنعم بن إدريس لا شيء

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا قصہ " کہ جب اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کریں" بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے ، جس رات فرشتے ان سے جدا ہوئے ۔ پھر جب حضرت اسحاق علیہ السلام سات سال کے ہوئے تو الله تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اس کو ذبح کر کے ان کی قربانی پیش کریں۔ ان دنوں قربانی کی قبولیت کی یہ نشانی تھی کہ اسے اٹھالیا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات حضرت اسحاق علیہ السلام اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھی اور صرف اپنے ایک بہت قریبی دوست کو یہ راز بتایا۔ آپ کا یہی دوست سب سے پہلے آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا۔ اس گہرے قریبی دوست نے کہا: اللہ تعالی آپ کو ایسی آزمائش میں ہرگز نہیں ڈالے گا، البتہ وہ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ اللہ تعالی کے بارے میں برا گمان ہرگز نہ کیجئے کیونکہ الله تعالی آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانا چاہتا ہے اور کوئی ہمت اور طاقت نہیں ہے ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی، اس اللہ کے سوا جو رحمن اور رحیم ہے۔ پھر حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:حضرت اسحاق علیہ السلام ایک دعا کی طرف تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور کوئی بھی اس میں سبقت نہ کر سکا ۔ یہ قیامت کے دن اس دعا کے اہل لوگوں کی شفاعت کریں گے اور اسی مقام پر اللہ تعالی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوگا اور فرمائے گا:اے اصدق الصادقین! (این اے سب سچوں سے بڑے سچے ) میری بات سن اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے فرمائے گا:اے اصبر الصابرین (یعنی اے تمام صبر کرنے والوں سے بڑے صبر کرنے والے) میری بات سنو! میں نے تم دونوں کو بہت بڑی آزمائش میں ڈالا ،ایسی آزمائش میں تم سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں ڈالا ۔ اے ابراہیم ! میں نے تمہیں آگ کی آزمائش میں ڈالا ، جس پر تم نے ایسا صبر کیا کہ اس جیسا صبر دنیا میں کوئی نہ کر سکا اور تمہیں اپنی ذات کے متعلق جہاد میں مبتلا کیا حالانکہ تو اکیلا اور ضعیف تھا لیکن اس کے باوجودتم نے سچائی اختیار کی اور ایسا صبر کیا کہ اس کی شکل دنیا میں کوئی بھی صبر اور سپائی اختیار نہ کر سکا اور اے اسحاق علیہ السلام ! میں نے تمہیں ذبح کی آزمائش میں ڈالا لیکن تم نے اپنی جان کا بخل نہیں کیا اور تم نے اپنے والد کی فرمانبرداری میں اس معاملہ کو بہت بڑا نہیں سمجھا بلکہ تم نے اس معاملہ کو الله تعالی کے بارے میں ہلکا پھلکا اور چھوٹا جانا جیسا کہ وہ امید کرتا ہے کہ حسن ثواب کی اور اس کی ملاقات پر وہ خوش ہوتا ہے۔ میں آج تم دونوں سے ایک وعدہ کرتا ہوں جن کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ اے ابراہیم علیہ السلام ! تمہارے لئے میرے اوپر جنت واجب ہے، ساری دنیا میں تم میرے دوست ہو اور یہ ایسی فضیلت ہے جو نہ تو تم سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ تمہارے بعد کسی کو ملی ۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ انعام سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ شکر ادا کیا اور اے اسحاق علیہ السلام ! تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارا سوال پورا کروں گا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کی : یا الہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے لئے چن لے اور تو اپنے توحید پرست بندوں کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما۔ چنانچہ تیری بارگاہ میں جو بھی آ ئے اور وہ مشرک نہ ہو تو اس کو دوزخ سے اپنی پناہ عطا فرما۔ اللہ تعالی نے ان سے فرمایا: تم نے جو سوال کیا ہے میں نے اس کو قبول کرلیا ہے اور میں تجھے تیری ولایت کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں نے تم سے اپنے اور جس چیز کا وعدہ کیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور تم سے ایسا عہد کیا ہے جس کوروکوں گا نہیں اور ایسی عطا کروں گا جو واپس نہیں لی جائے گی۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Hadith 4049

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ مَنْ قَالَ إِنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4050

4050 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ: {وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمُ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ} [البقرة: 124] قَالَ: «مَنَاسِكُ الْحَجِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَشَوَاهِدُهَا كَثِيرَةٌ قَدْ خَرَّجْتُهَا فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4050 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ١٢٤﴾ [البقرة: 124]" کے بارے میں فرمایا : ( اس سے مراد) مناسک حج ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے بہت سارے شواہد موجود ہیں جن کو میں نے کتاب المناسک میں نقل کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: {وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمُ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ} [البقرة: ← التميمي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 4050

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ لُوطٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اتَّفَقَتِ الرِّوَايَاتُ فِي أَنَّهُ مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اخْتَلَفُوا أَهُوَ مِنْ وَلَدِهِ أَوْ مِنْ وَلَدِ أَخِيهِ · حديث 4051

4051 - فَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: " لَمَّا تُوُفِّيَتْ سَارَةُ تَزَوَّجَ إِبْرَاهِيمُ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا: حَجُورَا فَوَلَدَتْ لَهُ سَبْعَةَ نَفَرٍ بَافِسَ، وَمَدْيَنَ، وَكَيْسَانَ، وَلُوطًا، وَسَرْخَ، وَأُمَيْمَ، وَنَعْشَانَ " وَذَكَرَ أَيْضًا فِي هَذَا الْكِتَابِ وَهْبٌ: مَدْيَنُ دَرَجَاتٌ لِإِبْرَاهِيمَ، وَأَنَّ لُوطًا كَانَ مِنْهُمْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4051 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت سارہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک حجورا نامی خاتون سے نکاح فرمایا۔ اس سے سات بچے پیدا ہوئے ۔ 1۔ بافس، 2۔ مدین، 3۔ کیسان، 4۔ لوط، 5۔ سرخ، 6۔ امیم اور 7۔ نعشان اور اس کتاب میں حضرت وہب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درجات میں سے ہے اور لوط بھی ان میں سے ایک ہے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْبَرَاءِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Hadith 4051

chevron_left Previous
1…456…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section