المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4040
4040 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيُّ، قَالَ: قَدِ اخْتَلَفَ عَلَيْنَا فِي إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ أَيُّهُمَا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ، وَأَيْنَ أَرَادَ ذَبْحَهُ بِمِنًى أَمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَكَتَبْتُ كُلَّمَا سَمِعْتُ مِنَ ذَلِكَ مِنْ أَخْبَارِ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ مِنْ وَلَدِ مَالِكِ الدَّارِ وَكَانَ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ خَوَّاتَ بْنَ جُبَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ ذَبِيحِ اللَّهِ أَيُّهُمَا كَانَ؟ فَقَالَ: إِسْمَاعِيلُ، لَمَّا بَلَغَ إِسْمَاعِيلُ سَبْعَ سِنِينَ رَأَى إِبْرَاهِيمُ فِي النَّوْمِ فِي مَنْزِلِهِ بِالشَّامِ أَنَّهُ يَذْبَحُ إِسْمَاعِيلَ فَرَكِبَ إِلَيْهِ عَلَى الْبُرَاقِ حَتَّى جَاءَهُ فَوَجَدَهُ عِنْدَ أُمِّهِ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ وَمَضَى بِهِ لِمَا أُمِرَ بِهِ وَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ فِي صُورَةِ رَجُلٍ يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: يَا إِبْرَاهِيمُ، أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «فِي حَاجَتِي» . قَالَ: تُرِيدُ أَنْ تَذْبَحَ إِسْمَاعِيلَ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «أَرَأَيْتَ وَالِدًا يَذْبَحُ وَلَدَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، أَنْتَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «وَلِمَ؟» قَالَ: تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «فَإِنْ كَانَ اللَّهُ أَمَرَنِي أَطَعْنَا لِلَّهِ وَأَحْسَنْتُ» ، فَانْصَرَفَ عَنْهُ وَجَاءَ إِبْلِيسُ إِلَى هَاجَرَ فَقَالَ: أَيْنَ ذَهَبَ إِبْرَاهِيمُ بِابْنِكِ؟ قَالَتْ: ذَهَبَ فِي حَاجَتِهِ، قَالَ: فَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ، قَالَتْ: وَهَلْ رَأَيْتَ وَالِدًا يَذْبَحُ وَلَدَهُ؟ قَالَ: هُوَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَتْ: فَقَدْ أَحْسَنَ حَيْثُ أَطَاعَ اللَّهَ، ثُمَّ أَدْرَكَ إِسْمَاعِيلَ فَقَالَ: يَا إِسْمَاعِيلُ أَيْنَ يَذْهَبُ بِكَ أَبُوكَ؟ قَالَ: لِحَاجَتِهِ، قَالَ: فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِكَ لِيَذْبَحَكَ، قَالَ: وَهَلْ رَأَيْتَ وَالِدًا قَطُّ يَذْبَحُ وَلَدَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ هُوَ، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَقَدْ أَحْسَنَ حَيْثُ أَطَاعَ رَبَّهُ، قَالَ: فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى مِنًى حَيْثُ أَمَرَ، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى مَنْحَرِ الْبُدْنِ الْيَوْمَ، فَقَالَ: «أَبُنَيَّ، إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَكَ» ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَأَطِعْ فَإِنَّ طَاعَةَ رَبِّكَ كُلُّ خَيْرٍ، ثُمَّ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: هَلْ أَعْلَمْتَ أُمِّي بِذَلِكَ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَ: أَصَبْتَ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَحْزَنَ وَلَكِنْ إِذَا قَرِّبْتَ السِّكِّينَ مِنْ حَلْقِي فَأَعْرِضْ عَنِّي، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ تَصْبِرَ وَلَا تَرَانِي فَفَعَلَ إِبْرَاهِيمُ، فَجَعَلَ يَحُزُّ فِي حَلْقِهِ، فَإِذَا الْحَزُّ فِي نُحَاسٍ مَا يَحْتَكُّ الشَّفْرَةُ فَشَحَذَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً بِالْحَجَرِ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُزَّ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ مِنَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ» ، فَإِذَا بِوَعْلٍ وَاقِفٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: «قُمْ يَا بُنَيَّ فَقَدْ نَزَلَ فِدَاكَ» فَذَبَحَهُ هُنَاكَ بِمِنًى قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ: «الذَّبِيحُ هُوَ إِسْمَاعِيلُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4040 - ما للواقدي وللصحاح
ابو عبد اللہ واقدی کہتے ہیں: ہمارے ہاں اس بات میں اختلاف ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور یہ کہ کہاں پر ذبح کرنے لے گئے تھے؟ منی میں یا بیت المقدس میں؟ اس سلسلہ میں مجھے جو بھی روایت ملی میں نے اس کو لکھ لیا۔ چنانچہ ابن ابی سرہ نے ابو ما لک ( جو کہ مالک الدار کی اولاد میں سے ہے) اور یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام بھی تھے۔ انہوں نے حضرت عطاء بن یسار کا یہ ارشاد نقل کیا ہے میں نے خوات بن جبیر الانصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ دونوں میں سے ذبیح اللہ تعالیٰ کون تھے؟ تو انہوں نے فرمایا : حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام سات سال کے ہو گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک شام میں اپنے گھر میں یہ خواب دیکھا کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ کو ذبح کر رہے ہیں، تو وہ وہاں سے سفر کر کے ان کے پاس پہنچے۔ اس وقت وہ اپنی والدہ کے پاس تھے، انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکمیل کے لئے چل پڑے (راستے میں) شیطان ایک جانی پہچانی صورت میں آپ کے پاس آیا اور بولا : اے ابراہیم ! کہاں جا رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: اپنے ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں ۔ اس نے کہا: آپ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے جا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کبھی کوئی والد بھی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ (آپ ایسا کریں گے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: میں کیوں ذبح کروں گا ؟ اس نے کہا: اس لئے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے ذبح کا حکم دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہم اس کے حکم کی تعمیل کریں تو یہ اچھی بات ہے۔ شیطان وہاں سے ہٹ گیا۔ پھر شیطان حضرت حاجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور بولا : ابراہیم تیرے بیٹے کو کہاں لے کر گیا ہے؟ انہوں نے کہا: اپنے کسی کام سے گئے ہیں ۔ شیطان نے کہا: وہ تو اسماعیل کو ذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا: کبھی کوئی باپ بھی اپنے بچے کو ذبح کرتا ہے؟ شیطان نے کہا: وہ (ابراہیم علیہ السلام) یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا: پھر تو اچھی بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ پھر وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اسماعیل! تیرا باپ تجھے کہاں لے کر جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: کسی کام سے۔ شیطان نے کہا: وہ تو تجھے ذبح کرنے کے لئے لے کر جا رہا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: کوئی باپ بھی کبھی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ وہ کر دے گا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: کیوں؟ شیطان نے کہا: وہ سمجھ رہا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: تب تو اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کر رہے ہیں ( بہرحال) حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لے کر منیٰ کے اس مقام پر لے گئے جہاں کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ پھر وہاں پر آئے جہاں پر آج کل قربانی کی جاتی ہے ( یہاں پر آ کر) حضرت ابراہیم علیہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ نے تیرے ذبح کرنے کا مجھے حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواباً کہا: آپ حکم کی تعمیل کیجیے ! کیونکہ رب کی اطاعت میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پوچھا : کیا آپ نے یہ بات والدہ محترم کو بتائی ہے؟ آپ نے کہا نہیں ۔ اسماعیل علیہ السلام نے کہا: بہت اچھا کیا ورنہ وہ بہت پریشان ہوتیں لیکن ایک بات کا دھیان رکھئے گا کہ جب آپ چھری میرے حلق کے قریب کریں تو اپنا منہ دوسری طرف پھیر لینا کیونکہ یہ بہتر ہے کہ آپ صبر کریں اور مجھے نہ دیکھیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلانا شروع کر دی لیکن یوں لگ رہا تھا جیسے تانبے پر چھری چلائی جاتی ہے جس سے چھری کی دھار کند ہو جاتی ہے۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ پتھر پر ( رگڑ کر ) اس کو تیز کیا لیکن وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلق نہ کاٹ سکی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ یہ بھی من جانب اللہ تعالیٰ ہے۔ آپ نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو ایک مینڈھا آپ کے سامنے کھڑا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! اٹھئے ! اللہ تعالیٰ نے تیرا فدیہ نازل فرما دیا ہے۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مینڈھے کو وہیں پر منیٰ میں ذبح فرما دیا۔ واقدی نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن سلام کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ "ذبیح ’’ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنِ، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني،
Hadith 4040
