Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4255

4255 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّصْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُزَامِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرُ سِنِينَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَبِثَ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً» قَالَ: إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَجُوزًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَقُولُ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْتَلِفُ إِلَى صِرْمَةِ بْنِ قَيْسٍ يَتَعَلَّمُ مِنْهُ هَذِهِ الْأَبْيَاتَ: [البحر الطويل] ثَوَى فِي قُرَيْشٍ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً ... يُذَكِّرُ لَوْ أَلْفَى صَدِيقًا مُوَاتِيَا وَيَعْرِضُ فِي أَهْلِ الْمَوَاسِمِ نَفْسَهُ ... فَلَمْ يَرَ مَنْ يُؤْوِي وَلَمْ يَرَ دَاعِيَا فَلَمَّا أَتَانَا وَاسْتَقَرَّتْ بِهِ النَّوَى ... وَأَصْبَحَ مَسْرُورًا بِطَيْبَةَ رَاضِيَا وَأَصْبَحَ مَا يَخْشَى ظُلَامَةَ ظَالِمٍ ... بَعِيدٍ وَمَا يَخْشَى مِنَ النَّاسِ بَاغِيَا بَذَلْنَا لَهُ الْأَمْوَالَ مِنْ جُلِّ مَالِنَا ... وَأَنْفُسَنَا عِنْدَ الْوَغَى وَالتَّأَسِّيَا نُعَادِي الَّذِي عَادَى مِنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ ... بِحَقٍّ وَإِنْ كَانَ الْحَبِيبُ الْمُوَاتِيَا وَنَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَا شَيْءَ غَيْرُهُ ... وَأَنَّ كِتَابَ اللَّهِ أَصْبَحَ هَادِيَا « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُوَ أَوْلَى مَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَى مَقَامِ سَيِّدَنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ بِضْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4255 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر بن دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کتنا عرصہ مکہ میں رہے ؟ انہوں نے کہا : دس سال۔ میں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہ تو کہتے ہیں : دس اور کچھ حج ( یعنی دس سال سے کچھ عرصہ زیادہ ) رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا : انہوں نے (یہ ) نتیجہ شاہر کے اشعار سے اخذ کیا ہوگا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : یحیی ٰ بن سعد کا بیان ہے کہ ایک انصاری خاتون کہا کرتی تھیں کہ میں نے کئی مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو صرمہ بن قیس کے پاس یہ اشعار سیکھنے کے لئے آتے دیکھا ہے ۔ " آپ قریش میں دس حج اور کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں ، زکر کرتا اگر کوئی موافقت کرنے والا دوست پاتا ۔ وہ حج کے موقعوں پر اپنے آپ کو پیش کرتا لیکن کوئی ایسا نہ ملتا جو ٹھکانہ دیتا اور نہ کوئی بلانے والا نظر آتا ۔ جب وہ ہمارے پاس آگیا اور اس کے دل کو قرار آگیا تو وہ طیبہ کی سرزمین پر راضی اور مسرور ہوگیا ۔ اور ظالم کے جس ظلم کا اور لوگوں کی بغاوت کا جو خدشہ تھا وہ بھی ہوگیا ۔ ہم نے لڑائی اور تسلی کے ہر موقع پر اپنا مال اور اپنی جانیں ان پر قربان کی ہیں ۔ ہم ہر اس شخص کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے ۔اگرچہ وہ پہلے ہمارا کتنا ہی موافقت کرنے والا دوست ہی کیو ں نہیں تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں اور بے شک اس کی کتاب ہدایت کا سرچشمہ ہے"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے مکۃالمکرمہ میں دس سالوں سے کچھ زیادہ قیام پر بہت اچھی دلیل ہے۔ نوٹ:۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔ وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ، ← «لَبِثَ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً» ← عَشْرُ سِنِينَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← قُلْتُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ بِمَكَّةَ؟ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُزَامِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو النَّصْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ بِهَمْدَانَ،

Hadith 4255

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4256

4256 - حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً بِمَكَّةَ، سَبْعًا وَثَمَانِيًا يَرَى الضَّوْءَ، وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4256 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( یہ اعلان نبوت کے بعد ) نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں 15 سال رہے، یعنی سات جمع آٹھ( اور ان میں ایسا بھی وقت گزرا) جب آپ ( روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے) آپ روشنی دیکھ سکتے تھے( باہر سے آنے والی ) آواز سن سکتے تھے اور مدینۃ المنورہ میں 10 سال رہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Hadith 4256

chevron_left Previous
1…20212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section