المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4255
4255 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّصْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُزَامِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرُ سِنِينَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَبِثَ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً» قَالَ: إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَجُوزًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَقُولُ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْتَلِفُ إِلَى صِرْمَةِ بْنِ قَيْسٍ يَتَعَلَّمُ مِنْهُ هَذِهِ الْأَبْيَاتَ: [البحر الطويل] ثَوَى فِي قُرَيْشٍ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً ... يُذَكِّرُ لَوْ أَلْفَى صَدِيقًا مُوَاتِيَا وَيَعْرِضُ فِي أَهْلِ الْمَوَاسِمِ نَفْسَهُ ... فَلَمْ يَرَ مَنْ يُؤْوِي وَلَمْ يَرَ دَاعِيَا فَلَمَّا أَتَانَا وَاسْتَقَرَّتْ بِهِ النَّوَى ... وَأَصْبَحَ مَسْرُورًا بِطَيْبَةَ رَاضِيَا وَأَصْبَحَ مَا يَخْشَى ظُلَامَةَ ظَالِمٍ ... بَعِيدٍ وَمَا يَخْشَى مِنَ النَّاسِ بَاغِيَا بَذَلْنَا لَهُ الْأَمْوَالَ مِنْ جُلِّ مَالِنَا ... وَأَنْفُسَنَا عِنْدَ الْوَغَى وَالتَّأَسِّيَا نُعَادِي الَّذِي عَادَى مِنَ النَّاسِ كُلِّهِمْ ... بِحَقٍّ وَإِنْ كَانَ الْحَبِيبُ الْمُوَاتِيَا وَنَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَا شَيْءَ غَيْرُهُ ... وَأَنَّ كِتَابَ اللَّهِ أَصْبَحَ هَادِيَا « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُوَ أَوْلَى مَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَى مَقَامِ سَيِّدَنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ بِضْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4255 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت عمر بن دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کتنا عرصہ مکہ میں رہے ؟ انہوں نے کہا : دس سال۔ میں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہ تو کہتے ہیں : دس اور کچھ حج ( یعنی دس سال سے کچھ عرصہ زیادہ ) رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا : انہوں نے (یہ ) نتیجہ شاہر کے اشعار سے اخذ کیا ہوگا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : یحیی ٰ بن سعد کا بیان ہے کہ ایک انصاری خاتون کہا کرتی تھیں کہ میں نے کئی مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو صرمہ بن قیس کے پاس یہ اشعار سیکھنے کے لئے آتے دیکھا ہے ۔ " آپ قریش میں دس حج اور کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں ، زکر کرتا اگر کوئی موافقت کرنے والا دوست پاتا ۔ وہ حج کے موقعوں پر اپنے آپ کو پیش کرتا لیکن کوئی ایسا نہ ملتا جو ٹھکانہ دیتا اور نہ کوئی بلانے والا نظر آتا ۔ جب وہ ہمارے پاس آگیا اور اس کے دل کو قرار آگیا تو وہ طیبہ کی سرزمین پر راضی اور مسرور ہوگیا ۔ اور ظالم کے جس ظلم کا اور لوگوں کی بغاوت کا جو خدشہ تھا وہ بھی ہوگیا ۔ ہم نے لڑائی اور تسلی کے ہر موقع پر اپنا مال اور اپنی جانیں ان پر قربان کی ہیں ۔ ہم ہر اس شخص کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے ۔اگرچہ وہ پہلے ہمارا کتنا ہی موافقت کرنے والا دوست ہی کیو ں نہیں تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں اور بے شک اس کی کتاب ہدایت کا سرچشمہ ہے"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے مکۃالمکرمہ میں دس سالوں سے کچھ زیادہ قیام پر بہت اچھی دلیل ہے۔ نوٹ:۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔ وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے۔
يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ، ← «لَبِثَ بِضْعَ عَشْرَةَ حَجَّةً» ← عَشْرُ سِنِينَ، قُلْتُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← قُلْتُ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ بِمَكَّةَ؟ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْخُزَامِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو النَّصْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ بِهَمْدَانَ،
Hadith 4255
