Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4243

4243 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عُقْبَةُ الْمُجَدَّرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا زَالَتْ قُرَيْشٌ كَاعَّةً حَتَّى تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تک ابو طالب زندہ رہے قریش ڈرتے رہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُقْبَةُ الْمُجَدَّرُ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4243

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4244

4244 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «كَانَ اسْمُ النَّجَاشِيِّ مَصْحَمَةَ وَهُوَ بِالْعَرَبِيَّةِ عَطِيَّةُ وَإِنَّمَا النَّجَاشِيُّ اسْمُ الْمَلِكِ، كَقَوْلِكَ كِسْرَى وَهِرَقْلُ» قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: هَذَا كِتَابٌ مِنَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى النَّجَاشِيِّ الْأَصْحَمِ عَظِيمِ الْحَبَشِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، وَآمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَدْعُوكَ بِدُعَاءِ اللَّهِ، فَإِنِّي أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ} [آل عمران: 64] الْآيَةُ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ النَّصَارَى «لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيُّ عَلَى اسْمِ النَّجَاشِيِّ أَنَّهُ مَصْحَمَةُ فَإِنَّ الْأَخْبَارَ الصَّحِيحَةَ الْمُخَرَّجَةَ فِي الْكِتَابَيْنِ الصَّحِيحَيْنِ بِالْأَلْفِ وَالْكِتَابُ إِلَيْهِ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ»

حضرت ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : نجاشی کا اصل نام "مصحمہ " تھا ۔ عربی میں میں اس کا مطلب "عطیہ " ہے ۔ نجاشی تو اس ملک کے بادشاہ کا لقب تھا جیسے کسریٰ اور ہرقل ۔ ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے نجاشی کی طرف مکتوب تھا۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ یہ خط ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اصحم نجاشی عظیم الجیش کی طرف سامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے ، نہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔میں تجھے اللہ تعالیٰ کا پیغام پیش کرتا ہوں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں تو اسلام قبول کر لے سامتی پائے گا۔ ﴿ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ٦٤﴾ [آل عمران: 64]" تم فرماؤ ! اے کتابیو! ایسے کمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خداکی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنا لے اللہ کے سوا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور اگر تو انکار کرے تو تجھ پر نصاریٰ کا گناہ ہے۔ محمد بن اسحاق قرشی کی اس بات میں کسی نے متابعت نہیں کہ کہ نجاشی کا م مصحمہ تھا کیونکہ بخاری و مسلم میں صحیح احادیث موجود ہیں جن میں یہ نام الف کے ساتھ ہے اور ان میں رسول اللہ ﷺ کے مکتوب کا ذکر موجود ہے۔

إِنَّمَا النَّجَاشِيُّ اسْمُ الْمَلِكِ، كَقَوْلِكَ كِسْرَى وَهِرَقْلُ» ← «كَانَ اسْمُ النَّجَاشِيِّ مَصْحَمَةَ وَهُوَ بِالْعَرَبِيَّةِ عَطِيَّةُ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4244

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4245

4245 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ، ثنا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ كَمَا أَخْرَجْتُهُ فِي التَّفْسِيرِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلِيَعْلَمْ طَالِبُ الْعِلْمِ أَنَّ النَّجَاشِيَّ مَنْ نَشْرِهِ قَبْلَ وُرُودِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابِهِ عَلَيْهِ الدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ إِخْرَاجُهُمَا فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ وَأُمَّ حَبِيبَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً وَأَنَّهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، الْحَدِيثِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا ۔ اس وقت ہم لگ بھگ 80 افراد تھے پھر اس کے بعد طویل حدیث بیان کی جیسا کہ میں نے کتاب التفسیر میں بیان کی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔اور علم کے طلبگار کو جاننا چاہیے کہ نجاشی وہ بادشاہ ہے جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس دربار میں پیش ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا لکھا ہوا خط پھاڑ ڈالا تھا ۔ اس بات پر دلیل وہ حدیث ہے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں درج کی ہے کہ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلمہرضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجا کا ذکر کیا ہے جس میں تصاویر وغیرہ تھیں اور گرجا حبشہ میں ہی تھا۔( الحدیث)

بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4245

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4246

4246 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: «أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَامْرَأَتُهُ رُقْيَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مُهَاجِرَيْنِ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْحَبَشَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، ثُمَّ هَاجَرَا إِلَى الْمَدِينَةِ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي خُرُوجِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فَلِذَلِكَ اخْتَصَرْتُ عَلَى رِوَايَةِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَذَكَرَ فِي الْمَغَازِي أَنَّ رُقْيَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرُوا لَمْ يُرَ فِي الْعَرَبِ وَلَا فِي الْحَبَشِ أَحْسَنَ مِنْهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4246 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی رضی اللہ عنہا نے مکہ سے حبشہ کی جانب پہلی ہجرت کی تھی پھر یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے اور پھر مدینۃ المنورہ کی جانب ہجرت فرمائی ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نےزہری پھر عروہ پھر عبید اللہ بن عدی کے ذریعے مسور بن مخرمہ کے حوالے سے ابن ابی شیبہ اور دیگر کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حبشہ کی طرف ہجرت کے متعلق حدیث نقل کی ہے اور طویل حدیث بیان کی ہے، اسی لئے میں نےموسیٰ بن عقبہ کی ابن اسحاق سے روایت پر اکتفاء کیا ہے اور مغازی میں یہ ذکر ہے کہ پورے عرب اور حبشہ میں رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ،رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں تھا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4246

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4247

4247 - فَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَبُو طَالِبٍ أَبْيَاتًا لِلنَّجَاشِيِّ يَحُضُّهُمْ عَلَى حُسْنِ جِوَارِهِمْ وَالدَّفْعِ عَنْهُمْ: « [البحر الطويل] لِيَعْلَمْ خِيَارُ النَّاسِ أَنَّ مُحَمَّدًا ... وَزِيرٌ لِمُوسَى وَالْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمْ أَتَانَا بِهَدْيٍ مِثْلِ مَا أَتَيَا بِهِ ... فَكُلٌّ بِأَمْرِ اللَّهِ يَهْدِي وَيَعْصِمْ وَأَنَّكُمْ تَتْلُونَهُ فِي كِتَابِكُمْ ... بِصِدْقِ حَدِيثٍ لَا حَدِيثَ الْمُبَرْجِمْ وَإِنَّكَ مَا تَأْتِيكَ مِنْهَا عِصَابَةٌ ... بِفَضْلِكَ إِلَّا أُرْجِعُوا بِالتَّكَرُّمِ»

حضرت اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ابو طالب نے نجاشی کے لئے کچھ اشعار لکھے تھےجو اس کو ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے اور ان کا دفاع کرنے کی ترغیب پر مشتمل تھے ۔ وہ اشعار یہ تھے: لوگوں میں سے بہترین آدمیوں کو جان لینا چاہیے محمدﷺ موسیٰ علیہ السلام اور ابن مریم علیہ السلام کے وزیر ہیں ۔ یہ ہمارے پاس وہی ہدایت لے کر آئے ہیں جیسی وہ لوگ لائے تھے تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہدایت دی جاتی ہے اور حفاظت کی جاتی ہے۔ بے شک تم بھی اس کو اپنی کتاب میں پڑھ چکے ہو، یہ سچی بات ہے کسی لالچ کی گفتگو نہیں ہے ۔ بے شک ان میں سے یہ جماعت تیری مہربانی کے لئے آئی ہے ، ان کو عزت و تکریم کے ساتھ واپس بھیجنا۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4247

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4248

4248 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدِ بِنْتِ خَالِدٍ، قَالَتْ: قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ، فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: " سَنَاهْ سَنَاهْ - يَعْنِي: حَسَنٌ حَسَنٌ - «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4248 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ام خالد بن خالد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں حبشہ سے آئی تو میں چھوٹی سی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک چادر اوڑھائی ، اس کے پھندنے لٹک رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کو ہاتھ لگاتے اور فرماتے " سناہ سناہ" یعنی یہ بہت اچھی ہے ، یہ بہت اچھی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ← أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ السَّعِيدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4248

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4249

4249 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، ثنا الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا أَنَا أَفْرَحُ بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4249 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، جب جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں فتح خیبر کی خوشی مناؤں یا جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← الْأَجْلَحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4249

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4250

4250 - حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَسِيلَةَ الصُّنَابِحِيّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: «كُنَّا أَحَدَ عَشَرَ فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى، مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ النِّسَاءِ قَبْلَ أَنْ يَفْرِضَ عَلَيْنَا الْحَرْبَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4250 - على شرط مسلم

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عقبہ اولیٰ میں ہم لوگ کل گیارہ افراد تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عورتوں کی بیعت لی۔ یہ جہاد فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَسِيلَةَ الصُّنَابِحِيّ، ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4250

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4251

4251 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَمَجَنَّةِ وَعُكَاظٍ وَمَنَازِلِهِمْ مِنْ مِنَىً «مَنْ يُؤْوِينِي، مَنْ يَنْصُرُنِي، حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي فَلَهُ الْجَنَّةُ؟» فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَلَا يُؤْوِيَهُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ، أَوْ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى ذِي رَحِمِهِ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ لَهُ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنَّنَكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، وَبَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ فَائْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا وَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ، فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدَنَا بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ لَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ: يَا ابْنَ أَخِي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءُوكَ إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ فِي وُجُوهِنَا قَالَ: هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا نَعْرِفُهُمْ، هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: «تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ، وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ، وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذْكُمْ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ، وَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ عَنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ» فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ يَعَضَّكُمُ السَّيْفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَيْهَا إِذَا مَسَّتْكُمْ وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ عُذْرٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالُوا: يَا أَسْعَدُ أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا فَأَخَذَ عَلَيْنَا لِيُعْطِيَنَا بِذَلِكَ الْجَنَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ جَامِعٌ لِبَيْعَةِ الْعَقَبَةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4251 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دس سال تک لوگوں کو حج کے موقع پر مجنہ اور عکاظ میں ، منی ٰ میں ان کے خیموں میں پیچھے پیچھے پھرتے اور فرماتے جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے میں مجھے ٹھکانہ دے گا اور میری مدد کرے گا ، اس کو جنت ملے گی۔ لیکن کوئی شخص نہ آپ کو ٹھکانہ دینے کے لئے تیار ہوتا نہ آپ کی مدد کے لئے تیار ہوتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی مصر یا یمن سے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کےلئے بھی آتا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو تاکید کرتے کہ قریش کے اس لڑکے سے بچ کر رہنا یہ کہیں تمہیں فتنہ میں مبتلا نہ کردے ۔ آپ ﷺ ان لوگوں کے قافلوں کے درمیان چلتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ۔ وہ لوگ انگلیوں کے ساتھ آپ کی طرف اشارے کرتے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب (مدینہ ) سے بھیجا ۔ تو ہم میں سے ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس جاتا آپ پر ایمان لاتا ، آپ اس کو قرآن پڑھاتے تو وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر آتا تو اس کے گھر والے اس کے اسلام کی وجہ سے اسلام لے آتے ۔ حتیٰ کہ انصار کی حویلیوں میں کوئی حویلی ایسی نہ بچی تھی جس میں کچھ لوگ مسلمان نہ ہوئے ہوں،وہ اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ آخر رسول اللہ ﷺ کب تک اس طرح پہاڑوں ، غاروں میں چھپ چھپ کر خوفزدہ رہ کر تبلیغ کریں گے۔ پھر ہم نکل پڑے اور حج کے موقع پر آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔ آپ نے ہم سے بیعت عقبہ کا وعدہ لیا۔ آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : اے بھتیجے ! یہ لوگ جو تیرے پاس آئے ہوئے ہیں، میں ان کو نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں اور میں اہل یثرب کو تو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ۔ پھر یک ایک ، دو دو کرکے رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے ۔ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ہمارے چہروں کی طرف دیکھا تو بولے : یہ لوگ کوئی نئے لوگ ہیں ، میں ان کو نہیں پہچانتا۔ ہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ہم کس بات پر آپ ﷺ کی بیعت کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ سستی و چستی ہر حال میں فرمانبرداری کرو گے اور خوشحالی اور تنگدستی ہر حال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اور یہ کہ جب میں تمہارے پاس آؤں گا تو تم میری مدد کرو گے اور جس طرح اپنی اور اپنے اہل وعیال کی حفاظت اور دفاع کرتے ہو اسی طرح میرا بھی دفاع کرو گے۔ اور( اس سب کے عوض) تمہارے لئے جنت ہے ۔ ہم نے آپ کی بیعت کرلی اور سعد بن زرارہ نے آپ کا ہاتھ تھا م لیا ۔ یہ ان ستر آدمیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ یہ کہنے لگے : اے اہل یثرب ٹھہرو! ہم ان کی طرف اس یقین کے ساتھ سفر کرکے آئے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ ہیں ( یہ بات یار رکھو کہ ) آج ان کو یہاں سے لے جانا پورے اہل عرب کے ساتھ دشمنی کےمترادب ہے اور تمہارے بڑوں کے قتل اور خود تمہاری موت کے مترادف ہے ۔ چنانچہ اگر تم آنے والی ان تکلیفوں پر صبر کرسکتے ہو، اپنے بڑوں کے قتل اور عرب کی دشمنی مول لے سکتے ہوں تو ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا اور اگر تمہارے اندر ان چیزوں کا خوف موجود ہے تو رہنے دو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہے۔ وہ لوگ بولے ! اے سعد اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھاؤ ۔ خدا کی قسم ! ہم یہ بیعت ضرور کریں گے اور کبھی اس کو نہیں توڑیں گے۔ آپ فرماتے ہیں : ہم ایک ایک کرکے آپ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے ہم سے جنت کے بدلے عہد لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بیعت عقبہ کی جامع ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الْعَدَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4251

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4252

4252 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ لَيْلَةِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ مُهَاجَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا وَكَانَتْ بَيْعَةُ الْأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4252 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : لیلۃالعقبہ اور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت میں تقریباً تین مہینے کا وقفہ ہے کیونکہ انصار نے ذی الحجہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور ربیع الاول میں حضورﷺ نےہجرت فرمائی ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4252

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4253

4253 - حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّقَبَاءِ مِنَ الْأَنْصَارِ: «تُؤْوُونِي وَتَمْنَعُونِي؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَمَا لَنَا؟ قَالَ: «الْجَنَّةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4253 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے انصاری عمائدین سے فرمایا تم مجھے ٹھکانہ دو گے اور میرا دفاع کروگے؟ انہوں نے کہا: بالکل کریں گے۔ لیکن اس کے بدلے میں ہمارے لئے کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جنت۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَغَيْرِهِ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4253

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4254

4254 - حَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكَانُوا يُقْرِءُونَنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَرَأْتُ سِبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَسُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ فَرَحَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4254 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مہاجرین میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ۔ یہ ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے اور جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو اس وقت تک میں سورۃ سبح اسم ربک الاعلیٰ اور مفصل میں سے ایک سورۃ پڑھ چکا تھا ۔ پھر حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، پھر حضرت عمر بن خطاب 20 افراد کے ہمراہ تشریف لائے۔ پھر حضور ﷺ بھی تشریف لے آئے تو جتنی خوشی ہمیں رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کی تھی کبھی کسی چیز کی اتنی خوشی نہیں ہوئی تو عورتیں اور بچے یہ کہتے ہوئے دوڑے چلے آرہے تھے کہ "یہ رسول اللہ ﷺ ہیں"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ← سِبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ← ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكَانُوا يُقْرِءُونَنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ ← أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا الْمَدِينَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامٍ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4254

chevron_left Previous
1…20212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section