حضرت طارق بن عبداللہ الحاربی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺکو ذی المجاز بازار سے گزرتے دیکھا، اس وقت میں ایک سودا کر رہا تھا۔ آپ گزر ے ، آپ کے اوپر سرخ رنگ کا جبہ مبارک تھا۔ میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے: اے لوگو! لا الہ الااللہ پڑھو کامیاب ہو جاؤ گے ۔ ایک آدمی آپ کے پیچھے پیچھے آپ کو کنکر مارتا آرہا تھا جس کی وجہ سے آپ کے قدم مبارک سے خون بہہ رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا : اے لوگو! اس کی بات مت ماننا ، یہ جھوٹا شخص ہے۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہر فرمایا تو ہم ربذہ سے نکلے اور ہمارے ساتھ ہماری عورتیں بھی تھیں ۔ ہم نے مدینہ کے قریب آکر پڑاؤ ڈالا ۔ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آیا ، اس کے اوپر رضی اللہ عنہ چادریں تھیں ۔ اس نے ہمیں سلام کیا اور کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہ : ربذہ سے ۔ اور ہمارے ساتھ سرخ اونٹ بھی ہے۔ اس نے کہا : تم یہ اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ ہم نے کہا : جی ہاں ۔ اس نے قیمت پوچھی تو ہم نے کہا : کھجور کے اتنے صاع ۔ اس نے کہا : بغیر کسی بحث و تمحیص کے میں نے انہیں لے لیا۔ پھر اس نے اونٹ کی لگام پکڑی اور چلا گیا ۔حتیٰ کہ مدینہ کے باغات میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پھر ہم ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: اور کہنے لگے : کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو۔ تو پوری قوم میں کوئی ایک بھی ایسا نہ ملا جو اس کو جانتا ہو۔ تو لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگےاور کہنے لگے: تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے آدمی کو دے دیا ہے جس کو تم جانتے نہیں ہو۔ عورت بولی : تم ایک دوسرے کو ملامت مت کرو ۔ ہم نےایسے شخص کو دیکھا ہے جو تم سے دھوکہ نہیں کرے گا، میں نے اس کے چہرے کے علاوہ اور کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو چودھویں کے چاند کے ساتھ اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو۔ شام کا وقت ہوا تو وہی شخص ہمارے پاس آیا اور بولا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ تم ہی ہو جو ربذہ سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں ۔ اس نےکہا: رسول اللہ ﷺ کی تمہاری طرف قاصد ہوں، آپ نےحکم دیا ہے کہ تم لوگ ان کھجوروں میں پیٹ بھر کر کھاؤ اور اپنی قیمت بھی پوری کر لو۔ چنانچہ ہم نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھجوریں کھائیں اور قیمت بھی پوری وصول کرلی ۔ پھراگلے دن ہم مدینہ شہر میں آئے تو رسول اللہ ﷺ منبر پرکھڑئے خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : دینے والا ہاتھ ، اوپر والا ہے اور تو اپنی ماں،باپ ، بہن ، بھائیوں کی رشتہ داریوں سے قریب سے قریب تر لوگوں سے شروع کر ۔وہاں ایک انصاری آدمی بھی موجود تھا ، اس نے کہا: یارسول اللہ ﷺیہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں ، انہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا آپ ہمیں انتقام دلوائیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ بلند کئے حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔ آپ نے کہا : ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کرسکتی ، ماں اپنی اولاد پر زیادتی نہیں کرسکتی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4219
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے موقف ( میدان عرفات ) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا : کوئی آدمی ایسا ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے احکام الٰہی کی تبلیغ سے روک دیا ہے ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : بنی ہمدان سے ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تیری قوم کے پاس فوج ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ان کا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے کہا: وہ بھی ہمدان کے ہی رہنے والے ہیں ۔پھر ہمدانی آدمی کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کے ساتھ بے وفائی نہ کردے ۔ وہ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا: میں اپنی قوم میں جاکر ان کو بتاتا ہوں پھر اگلے سال آپ سے ملوں گا۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ وہ آدمی چلا گیا پھر انصار کا وفد رجب میں آیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ یہاں پر کتاب البعث مکمل ہوئی۔ امام حاکم نے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے سن 401 ہجری میں کتاب السیر کی املاء کروائی ۔ اس میں صحیح الاسناد احادیث بھی موجود تھیں لیکن میں نے ان کو نقل نہیں کیا کیونکہ یہ اصل تو معراج کے سلسلے میں ہے اور شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو متعدد سندوں کے ساتھ نقل کیا۔
جَابِرٍ ← سَالِمٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4220
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " مجھے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4221
سعید بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حکیم بن افلح کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے عرض کی : اے ام المومنین رضی اللہ عنہا:ہمیں رسول اللہ ﷺ کےاخلاق کے متعلق کچھ بتائیے ! آپ نے فرمایا :کیا تم قرآن نہیں پڑھتےہو؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نبی کا اخلاق " قرآن " ہی تو ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4222
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہیں کی اور نہ اپنے ہاتھ سے کبھی کسی چیز کو مارا ، البتہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہاتھ کے ساتھ مارا ہے۔ اور آپ سے جب بھی کسی نے کچھ مانگا ، آپ نے اس کو منع نہیں فرمایا۔ البتہ گناہ کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ گناہ سے بہت دور رہنے والے تھے اور آپ نے اپنی کسی تکلیف پر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر حرمات اللہ کی توہین کی جاتی تو آپ اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیتے اور آپ کو جب بھی دو چیزوں میں سے کوئی ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے اس کو پسند کیا جو آسان تر ہو اور جب جبریل امین شروع شروع میں آپﷺ کے ساتھ( قرآن کریم کا ) دور کرنے آتے تھے تو آپ لوگوں پر تیز ہواسے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسےاس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔اور یہ ایوب سختیانی کی حدیث سے زیادہ غریب ہے چنانچہ اس کو سلمان بن حرب وغیرہ نے حضرت حماد کے حوالے سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایوب کا ذکر نہیں ہے اور " غارم" ثقہ ہیں ،ک مامون ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4223
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی صفات لکھی ہوئی تھیں ۔ آپ ﷺتند خو اور بد مزاج نہیں ، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں اور نہ آپ ﷺ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے اور درگزر فرما دیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4224
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں ، رسول اللہ ﷺ کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے۔ فضول گوئی نہیں کرتے تھے نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4225
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کثرت سے ذکر کریا کرتے تھےاور فضول گوئی نہیں کرتے تھے اور نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں نے یہ صحیح احادیث سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق میں سے دلائل نبوت کے ضمن میں درج کی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ٣٢﴾ [الدخان: 32]" بے شک ہم نے ان کو تمام جہانوں پر منتخب کر لیا "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ١٢٤﴾ [الأنعام: 124]"اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اور فرمایا: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ١ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ٢ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ٣ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ٤﴾ [القلم: 1-4]"قلم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں اور ضرور تمہارے لئے بے انتہا ء ثواب ہے اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو ان کے بعد یہ آیات صحیحہ سنو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4226
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ ! محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کو حکم دے دو کہ ان میں سے جوان کو پائے وہ ان پر ایمان لائے ۔ اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو میں آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پربنایا تو وہ ہلنے لگا تو میں نے اس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھ دیا تو وہ ساکن ہوگیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4227
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد مرمایا : جب حضرت آدم علیہ السلام نے خطا کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ سے عرض کی : اے میرے رب میں تجھ سے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں ، تو مجھے معاف کردے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم علیہ السلام ! تو نے محمد ﷺ کو کیسے پہچانا؟ حالانکہ ان کو تو میں نے ابھی پیدا ہی نہیں کیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب ! تو نے جب مجھے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے عرش کے پائے پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہو ا دیکھا تو میں پہچان گیا کہ تو نے جس کا نام اپنے نام کے ساتھ کر لکھا ہوا ہے وہ تمام مخلوقات میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ﷺ تو نے سچ کہا ہے ۔ واقعی وہ مجھے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب ہے تو مجھ سے اس کا واسطہ دے کر دعا مانگ ۔ میں نے تجھے معاف کردیا ہے اور محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا نہ کرتا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ پہلی حدیث ہے جو میں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے حوالے سے اس کتا ب میں درج کی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4228
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابوطالب شام کے سفر پر روانہ ہوئے اور چند قریشی بزرگوں کی معیت میں رسول اللہ ﷺ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ یہ لوگ راہب کے پاس گئے اور اپنی سواریوں کو ابھی باندھ رہے تھے کہ راہب خود چل کر ان کے پاس آیا ، حالانکہ یہ لوگ پہلے بھی وہاں سے گزرتے تھے تو نہ وہ کبھی خود چل کر ان کے پاس آیا اور نہ کبھی انہیں زیادہ اہمیت دی ( راوی ) کہتے ہیں ۔ یہ لوگ ابھی اپنی سواریاں کھول رہے تھے کہ وہ خود ان کے اندر آگھسا حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کا ہاتھ مبارک تھا م کر بولا : یہ " سیدالعا لمین " ہے یہ رسول رب العالمین ، اللہ تعالیٰ ان کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گا تو اشیاخ ، قریش نے اس سے کہا : تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا؟ اس نے کہا: تم جب اس پہاڑی پر چڑھے تو ہر درخت اور ہر پتھر سجدہ ریز ہو گیا اور یہ نبی کے علاوہ کسی کے آگے سجدہ نہیں کرتے اور میں اس کو اس مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھوں کے نیچے کی طرف ہے ۔ پھر وہ واپس گیا اور ان سب کے لئے کھانا تیار کرکے لایا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اونٹوں کے چرواہوں میں تھے۔اس نے کہا آپ ﷺ کو بلائیں ۔جب آپ ان کی طرف آرہے تھے تو ایک بادل مسلسل آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا ، جب آپ قوم کے قریب تشریف لائے تو سب لوگ درختوں کے سائے میں بیٹھ چکے تھے۔ جب آپ بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ کی جانب جھک گیا۔ راہب نے کہا : دیکھو درخت کا سایہ ان کی جانب جھکا جارہا ہے۔ اس دوران وہ راہب قریش کو تاکید کرتا رہا کہ تم لوگ ان کو روم کی جانب مت لے کر جاؤ کیونکہ اہل روم نے اگر ان کو دیکھ لیا تو وہ ان کی نشانیوں سے ان کو پہچان لیں گے اور وہ ان کو شہید کرڈالیں گے ۔ اچانک وہا ں پر روم کی طرف سے سات آدمی آپہنچے ۔ راہب نے نے ان سے ملاقات کی اور ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو وہ بولے : ہم اس لئے آئے ہیں کہ یہ نبی اس شہر کے باہر کہیں ہے اور شہر کے تمام راستوں پر لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے اور ہمیں اس راستہ پر بھیجا گیا ہے ۔ راہب نے ان سے کہا : کیا تم اپنے پیچھے کسی ایسے آدمی کو چھوڑکر آئے ہو جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : ہمیں تو اس کی خبر ملی تھی ، اسی لئے ہمیں تمہارے اس راستے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نےکہا: تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کسی میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس کو روک سکے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔ راہب نے کہا : تو پھر ان کی بیعت کر لو اور ان کے ہمراہ ٹھہر جاؤ۔ ( راوی ) کہتے ہیں ۔ پھر راہب قریش کے پاس آیا اور بولا: میں اللہ کی قسم دیتا ہوں ۔ تم میں ان کا سر پرست کون ہے ؟ ابو طالب نے کہا : میں ہوں ۔ راہب نے ابو طالب سے بہت اصرار کیا۔ بالآخر حضرت ابو طالب نے آپ کو حضرت ابوبکر اور حضرت بلا ل کی معیت میں واپس بھیج دیا ۔ راہب نے ان کو کیک اور زیتون ز اد راہ کے طور پر پیش کئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4229
حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کے ساتھ سب سے پہلا واقعہ کیا پیش آیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری دایہ بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھتی تھیں ۔ ایک دن میں اور ان کا بیٹا ریوڑ لے کر گئے ہوئے تھے اور ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے کہا: اے میرے بھائی ! تم جاؤ اور امی جان سے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ، تو میرا بھائی چلا گیا اور بکریوں کے پاس میں اکیلا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ گدھ کے جیسے دو سفید پرندے میری طرف آرہے ہیں ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : یہ ہے وہ دوسرے نے کہا: جی ہاں ،۔ تو وہ جلدی جلدی میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے پکڑ کر چت لٹا لیا۔ پھر میرا پیٹ چاک کیا، پھر میرا دل نکالا ، پھر اس کو بھی چیر ا اور اس میں سے دو سیاہ رنگ کے لوتھڑے نکالے ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اس کو کاٹ لو اور اس پر نبوت کی مہر ثبت کردو تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک ہاتھ میں رکھو اور دوسرے ہاتھ میں ان کی امت کے ایک ہزار آدمیوں کو رکھو ۔ تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک ہزار آدمی میرے اوپر تھے اور مجھے خدشہ تھا کہ کہیں یہ میرے اوپر نہ گر جائیں ۔ پھر انہوں نے کہا: اگر اس کی پوری امت کو بھی اس کے ساتھ ون کریں گے تو یہ پھر بھی بھاری ہوگا۔پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور وہ چلے گئے اور مجھ پر بہت شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی ۔ پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا اور تمام قصہ ان کو سنایا تو وہ خود اس بات سے ڈر گئیں کہ کہیں مجھکو کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ وہ بولیں : میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں ۔ پھر انہوں نے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھایا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئیں اور چل پڑیں ۔ حتیٰ کہ وہ مجھے میری والدہ کے لے آئی ۔ آپ میری والدہ سے بولیں : میں نے یہ امانت تمہارے سپرد کردی ہے اور اب میں بری الذمہ ہوں ۔ پھر میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ میری والدہ کو سنایا لیکن میری والدہ اس سے پریشان نہ ہوئیں اور بولیں : بے شک میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور خارج ہوا ہے جس کی روشنی سے شام کےمحلات روشن ہوگئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے ۔لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4230