حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ مدینۃ المنورہ تشریف لائے ، تو یہودی کہا کرتے تھے: اس دنیا کو قائم ہوئے سات ہزار سال ہوچکے ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4171
حضرتعبداللہبنعباسرضیاللہعنہفرماتےہیں : نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا زمانہ ہے ( یونہی ) حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان بھی ایک ہزار سال کا زمانہ ہے جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان سات سو سال کا زمانہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے صحیح روایات گزر چکی ہیں کہ آپ اکے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی اور نبی نہیں تھا اور حضرت خالد بن سنان علیہ السلام کے متعلقق روایات ، اس کی بیٹی کے متعلق روایت جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی اور آ پ ﷺ کا یہ فرمان " تو میر ے اس نبی بھائی کی بیٹی ہے جس کو اس کی قوم نے ضائع کردیا"۔درج ذیل ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4172
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی عس کا ایک آدمی جس کو خالد بن سنان کہتے ہیں، اس نے اپنی قوم سے کہا :میں تمہارے لئے "حدثان" کی آگ بجھا سکتا ہوں تو اس کی قوم میں سے ایک عمارہ بن زیاد نامی شخص بولا: اے خالد! خدا کی قسم ! تو نے ہم سے کبھی جھوٹ بات نہیں کہی لیکن کہاں تو اور کہاں " حدثان " کی آگ۔ اور تو سمجھ رہا ہے کہ تو اس کو بجھا دے گا( راوی ) کہتے ہیں ۔ خالد چل دئیے اور عمارہ بھی اس کے ہمراہ چل پڑا، انہوں نے اپنی قوم کے تیس آدمی اپنے ہمراہ لئے اور اس کے پاس آپہنچے ۔ خالد نے کہا: اگر مجھے تمہارے پاس آنے میں تاخیر ہو جائے تو مجھے میرا نام لے کر آواز مت دینا پھر وہ آگ نکلی گویاکہ سرخ و زرد گھوڑوں کی ایک جماعت ہے، جو ایک دوسرے کے پیچھے چلے آرہے ہیں۔ خالد اس کے سامنے آگیا اور اس کو اپنا عصا مارا اور وہ کہہ رہے تھے ظاہر ہو گئی ، ظاہر ہو گئی ، ظاہر ہو گئی ، ہر طرح کی ہدایت ۔ چرواہے کا بچہ سمجھتا ہے کہ میں وہاں سے نکل نہیں سکوں گا حالانکہ اس کے دانت تو میرے ہاتھ میں ہیں ۔حتیٰ کہ وہ اس کے ہمراہ غر میں داخل ہوگئے اور کافی دیر تک وہ باہر نہ نکلے ۔عمارہ بن زیاد کہنے لگا : خدا کی قسم ! اگر تمہارا ساتھی زندہ ہوتا تو ابھی تک باہر نکل آتا ۔کچھ لوگوں نے کہا : اس کو نام لے کر آواز دو لیکن کچھ لوگوں نے کہا : انہوں نے نام لے کر آواز دینے سے منع کیا ہے لیکن انہوں نے ان کو نام لے کر آواز دی تو وہ ان کی طرف نکل آئے ، اس وقت وہ اپنے سر کو پکے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا : کیا میں نے تمہیں نام لے کر آواز دینے سے روکا نہیں تھا۔ خدا کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے مروادیا ہے ۔ اب تم مجھے دفن کر دو اور جب تمہارے پاس سے گدھے گزریں اور ان میں سے ایک دم کٹا گدھا ہوگا تو اس وقت تم مجھے قبر کھود کر نکال لینا کیونکہ اس وقت تم مجھے زندہ پاؤ گے (راوی )کہتے ہیں : ان لوگوں نے خالد بن سنان کو دفن کردیا ۔ پھر وہاں سے گدھے گزرے تو ان میں ایک گدھا دم کٹا تھا ۔ ہم نے کہا: اب ان کی قبر کھودو کیونکہ اس نے کہا تھا کہ مجھے قبر کھود کر نکال لینا ۔ عمارہ بن زیاد نے کہا نہیں مضر کہیں گے: ہم اپنے مردوں اکھاڑتے ہیں ۔ خدا کی قسم ! ہم اس کو ہر گز نہیں اکھاڑیں گے۔ خالد بن سنان لوگوں کو بتایا کرتے تھے کہ ان کی بیوی کے پاس دو تختیاں ہیں ، اگر تمہیں کبھی کوئی مشکل پیش آجائے تو ان کو دیکھنا اس میں تمہارے ہر مسلہ کا حل ہو گا( البتہ ایک احتیاط ضرور کرنا کہ) حیض والی عورت اس کو ہاتھ نہ لگائے ۔ جب وہ لوگ ان کی بیوی کے پاس گئے اور اس سے ان تختیوں کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے وہ تختیاں نکال کر ان کو دے دیں ، اس وقت وہ خود حیض سے تھیں تو اس میں جو کچھ بھی علم تھا وہ سب ختم ہو گیا۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں : کیونکہ یہ ابو یونس وہی ہیں جو عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کرتے ہیں ۔ وہ حاتم بن ابی صغیرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں اور امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مرو ی تمام صحیح احادیث نقل کی ہیں اور خالد بن سنان کی اس طرح موت کے متعلق اختلاف ہے کیونکہ میر نزدیک ثقہ ہے ۔ یہ کہتے ہیں : ان کے اور قیروان کے درمیان پہاڑ کے اوپر جاسکتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار دیکھا وہاں پر ایک آدمی تھا، جس کے اوپر سفید اون تھی اور وہ سفید اون میں لپٹا ہو اتھا۔اس کا سر اس کے ہاتھ پر تھا جیسا کہ سویا ہوا ہو، اس کی کوئی چیز تبدیل نہیں ہوئی اور اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خالد بن سنان ہیں۔ ( واللہ تعالیٰ اعلم)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4173
حضرت خالد بن معدان ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہمیں خوداپنے متعلق بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ( میں ) اپنے باپ ( یعنی دادا) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور جب میری والدہ کو وہ حمل ہوا، جس میں ، میں تھا تو ان کےلئے بصری روشن ہو گیا اور بصری سرزمین شام پر ہے۔امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں : خالد بن معدان کبار تابعین میں سے ہیں ، آپ کو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والے صحابہ کرام رضواناللہعلیہماجمعین کی صحبت حاصل ہے۔کیونکہ آپ نے یہ حدیث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب کی ہے اس لئے یہ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4174
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک میں اللہ کے ہاں مجھے سب سے پہلے خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا جبکہ آدم علیہ السلام کا ابھی خمیر تیار کیا جارہا تھا اور عنقریب میں تمہیں اس کی تاویل سے آگاہ کروں گا ( میں ) اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور بشارت ہوں جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو دی تھی اور اپنی والدہ کی وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھی تھی کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا ہے جس سے ان کے لئے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔
الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← قُلْتُ لِأَبِي الْيَمَانِ: حَدَّثَكَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4175
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب نے کہا: ہم سردیوں کے سفر میں یمن گئے۔ اس دوران ہم نے ایک یہودی عالم کے پاس قیام کیا تو ایک زبور جاننے والے آدمی نے مجھ سے کہا : اے عبدالمطلب ! کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہو کہ میں عورت ( یعنی بدن کا وہ حصہ جس کو چھپانا ضروری ہے) کے علاوہ آپکے بدن کو دیکھ سکوں ( میں نے اجازت دی تو) اس نے میرے ناک کا ایک بانسہ کھولا اور اس میں دیکھا ، پھر دوسرا دیکھا ۔ پھر بولا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے اور دوسرے ہاتھ میں نبوت ۔ میں اس کو بنوزہرہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ وہ کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : اس وقت تو میری کوئی بیوری نہیں ہے۔ اس نے کہا : جب تو واپس جائے تو ان ( بنو زہرہ) میں شادی کرنا ۔ حضرت عبدالمطلب مکہ واپس آئے تو ہالہ بنت وہب بن عبد مناف رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی تو ان کے ہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں اور حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہ سے شادی کی تو ان کے ہاں رسول اللہ ﷺ کی کی ولادت ہوئی۔ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شادی حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی تو قریش کہنے لگے: عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بازی لے گیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4176
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : ایک یہودی مکہ میں تجارت کی غرض سے رہا کرتا تھا۔ جب وہ رات آئی ، جس میں نبی اکرم ﷺ کی ولادت ہوئی، اس نے قریش کی مجلس میں کہا: اے قریشیو! تم میں سے کسی کے ہاں آج کی رات کوئی بچہ پیدا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ۔ خدا کی قسم ! ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا : اللہ اکبر ۔ بہرحال ایک موقع تو تم ضائع کر بیٹھے ہو لیکن اب میں جو کچھ تمہیں بتا رہا ہوں اس کو یاد کرلو۔ اس رات اس آخری امت کا نبی پیدا ہوا ہے، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان ایک نشانی ہے، جس میں گھنے لمبے بال ہیں جیسا کہ گھوڑے کی کلغی ہوتی ہے، وہ دو راتیں دودھ نہیں پئیے گا کیونکہ ایک جن نے اپنی دو انگلیاں اس کے منہ میں ڈال رکھی ہیں جس کی وجہ سے وہ دودھ نہیں پی سکتا۔ لوگ اس مجلس سے نکلے تو اس یہودی کی گفتگو اور جو اس نے خبر سنائی اس پر بہت حیران ہورہے تھے۔ جب یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو گئے تو سب نے اپنے اپنے گھر والوں کو یہ خبر سنائی ۔ تو انہوں نے ان کو بتایا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے ، اس کا نام انہوں نے "محمد" رکھا ہے۔ پھر لوگ ایک دوسرے سے ملے اور بولے: کیا تم نے یہودی کی بات سنی ہے اور کیا تمہیں اس نومولود کی ولادت کا پتہ چلا ہے؟ یہ سب لوگ یہودی کے پاس آئے اور اس کو بتایا ( کہ وہ بچہ پیدا ہوچکا ہے ) اس نے کہا: مجھے بھی وہاں لے چلو، میں بھی اس کی زیارت کرنا چاہتا ہوں ، تو لوگ اس کو ہمراہ کے کر حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ کے گھر جا پہنچے اور حضرت آمنہ سے کہا : یہ بچہ ہمیں دکھائیں ۔ انہوں نے حضور ﷺ کو ان کے سامنے کردیا ، انہوں نے آپ کی پشت مبارک سے کپڑا ہٹایا تو اس نےمہر نبوت کی زیارت کر لی تو وہ یہودی غش کھا کر گر گیا ۔ جب اس کو افاقہ ہوا، تو لوگوں نے کہا: تیرا ستیاناس ہو، تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! بنی اسرائیل کے ہاتھ سے نبوت جاتی رہی ۔ اے قریشیو! تم پر کرم ہو گیا ہے ، تم خوشیاں مناؤ۔ خدا کی قسم ! وہ تمہیں ایسا غلبہ دلائے گا جس کی خبریں مشرق سے مغرب تک جائیں گی۔ اس دن یہودی کی گفتگو سننے والوں میں یہ لوگ بھی شامل تھے" ہشام بن ولید بن مغیرہ ، مسافر ابن ابی عمرو ، عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب اس وقت عتبہ بن ربیعہ ، بنی عبد مناف میں سے نوجوان لڑکا تھا اور قریشی کے دیگر بہت سارے لوگ موجود تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔نوٹ اس سلسلہ میں احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ختنہ شدہ مسکراتے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت مکہ کی اس گلی والے گھر میں ہوئی جو گلی " زقاق المدکل " کے نام سے مشہور تھی۔ مجھے اس گھر میں نماز پڑھنے کی سعادت حاصل ہے، یہ وہی گھر ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ہجرت کرجانے کے بعد عقیل ابن ابی طالب کے قبضۃ میں رہا اور اس کے بعد اس کی اولاد کے قبضے میں رہا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4177
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ اپنے مکہ والے گھر میں ٹھہریں گے؟ کیا عقیل اس کا کوئی کمرہ ہمارے لئے چھوڑے گا؟ یہ عقیل کو ابو طالب کی وراثت سے ملا تھا جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو ابو طالب کی وراثت نہیں ملی تھی کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4178
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا: بے شک یہ وہ دن ہے کہ اس میں میری ولادت ہوئی ہے اور اسی دن مجھ پر وحی آئی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔ جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سند کے ہمراہ شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے قتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک اور اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4179
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : نبی اکرم ﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4180
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : نبی اکرم ﷺ واقعہ فیل والے دن پیدا ہوئے ۔ان الفاظ کے ہمراہ حدیث روایت کرنے میں حمید بن ربیع متفرد ہیں اور انہوں نے اس کی متابعت نہیں کی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4181
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And the family of divine from the time of his birth said news of the Messengers and the Seal of the Prophets Mohammed bin Abdullah bin Abdul Muttalib Mustafa peace be upon him to the time of his death are true, including p · Hadith 4182