Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4159

4159 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَيَأْتُونَ عِيسَى بِالشَّفَاعَةِ فَيَقُولُ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَحَدًا هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ وَيُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوْتَى غَيْرِي؟ فَيَقُولُونَ: لَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4159 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر سب لوگ حضرت عیسی ٰعلیہ السلام کے پاس شفاعت کے لئے آئیں گے تو آپ فرمائیں گے: کیا تم میرے سوا کسی اور کو جانتے ہو جو کلمۃ اللہ ہو ؟ جو روح اللہ ہو؟ جو مادر زاد اندھوں کو اور برص کے مریضوں کو شفا دیتا ہو؟ اور جو مردوں کو زندہ کرتا ہو؟ وہ کہیں گے : نہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← مَيْسَرَةَ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4159

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4160

4160 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا دَاودُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، ثنا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4160 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا جہاں کی تما عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہ ، فاطمہ بنت محمد ﷺ ، مریم بنت عمران رضی اللہ عنہ اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہما ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4160

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4161

4161 - حَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعِيرِيُّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ مَاشِطَةَ بِنْتِ فِرْعَوْنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4161 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : گہوارے میں صرت تین اشخاص نے گفتگو کی ہے۔ (1) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (2) یوسف علیہ السلام کا گواہ۔(3) جرج کا گواہ۔ (4) ماشطہ بنت فرعون کا بیٹا۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4161

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4162

4162 - أَخْبَرَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَهْبِطَنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا، وَإِمَامًا مُقْسِطًا وَلَيَسْلُكَنَّ فَجًّا حَاجًّا، أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ بِنِيِّتِهِمَا وَلَيَأْتِيَنَّ قَبْرِي حَتَّى يُسَلِّمَ وَلَأَرُدَّنَ عَلَيْهِ» يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: " أَيْ بَنِي أَخِي إِنْ رَأَيْتُمُوهُ فَقُولُوا: أَبُو هُرَيْرَةَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4162 - صحيح

حضرتابوہریرہرضیاللہعنہفرماتےہیںکہرسولاللہﷺنےارشادفرمایا : حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ضرور عادل فیصلہ کرنے والے اور منصف حکمران بن کر اتریں گے اور وہ اس گلی میں سے حج کرتے یا عمرہ کرتے یا ان دونوں کی نیت سے گزریں گے اور وہ میری قبر انور پر آئیں گے اور مجھے سلام کریں گے۔ میں ان کا جواب دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں : اے میرے بھائی کے بیٹو ! اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان سے تو ان سے کہیے گا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطاء مولى أم حَبِيبَة ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4162

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4163

4163 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ رُوحَ اللَّهِ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ نَازِلٌ فِيكُمْ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ حَتَّى تَرْعَى الْأَسْوَدُ مَعَ الْإِبِلِ، وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ، مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبُ الصِّبْيَانُ مَعَ الْحَيَّاتِ، لَا تَضُرُّهُمْ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4163 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : روح اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تم میں اترنے والے ہیں ۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لو ، ان کا قد درمیانہ ، رنگ سرخی مائل سفید ہوگا۔ ان ک اوپر ہلکے زرد رنگ کے رنگے ہوئے دو کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر سے قطرے ٹپکتے ہوں گےاگرچہ ان کو تری نہ پہنچے گی۔ وہ صلیب توڑ دیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے، ٹیکس معاف کردیں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، روئے زمین پر امن کا دور دورہ ہوگا حتیٰ کہ شیر اور اونٹ ایک جگہ چریں گے، چیتا گایوں کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ہمراہ چرے گا۔ بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے پھر بھی سانپ ان کو کچھ نہ کہیں گے۔ آپ چالیس سال قیام کریں گے ۔ پھر آپ کا وصال ہو جائے گا۔اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4163

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4164

4164 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: «تَوَفَّى اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ مِنْ نَهَارٍ حِينَ رَفَعَهُ إِلَيْهِ وَالنَّصَارَى تَزْعُمُ أَنَّهُ تَوَفَّاهُ سَبْعَ سَاعَاتٍ مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ أَحْيَاهُ» قَالَ وَهْبٌ: «وَزَعَمَتِ النَّصَارَى أَنَّ مَرْيَمَ وَلَدَتْ عِيسَى لِمُضِيِّ ثَلَاثِ مِائَةِ سَنَةٍ وَثَلَاثٍ وَسِتِّينَ مِنْ وَقْتِ وِلَادَةِ الْإِسْكَنْدَرِ وَزَعَمُوا أَنَّ مَوْلِدَ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا كَانَ قَبْلَ مَوْلِدِ عِيسَى بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَزَعَمُوا أَنَّ مَرْيَمَ حَمَلَتْ بِعِيسَى وَلَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَأَنَّ عِيسَى عَاشَ إِلَى أَنْ رُفِعَ ابْنَ اثْنَيْنِ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، وَأَنَّ مَرْيَمَ بَقِيَتْ بَعْدَ رَفْعِهِ سِتَّ سِنِينَ فَكَانَ جَمِيعُ عُمْرِهَا سِتًّا وَخَمْسِينَ سَنَةً، وَكَانَ زَكَرِيَا بْنُ بَرْخِيَا أَبَا يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا زَعَمُوا ابْنَ مِائَتَيْنِ، وَأُمُّ مَرْيَمَ حَامِلٌ بِمَرْيَمَ فَلَمَّا وُلِدَتْ مَرْيَمَ كَفَلَهَا زَكَرِيَّا بَعْدَ مَوْتِ أُمِّهَا لِأَنَّ خَالَتَهَا أُخْتُ أُمِّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ وَاسْمُ أُمِّ مَرْيَمَ حَنَّةُ بِنْتُ فَاقُوذَ بْنِ قِيلَ» قَالَ الْحَاكِمُ: «قَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِي عَدَدِ الْمُرْسَلِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَسَائِرِ الْأَنْبِيَاءِ وَالَّذِي أَدَّى إِلَيْهِ الِاجْتِهَادُ مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ بُعِثَ نَبِيُّنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ ذَكَرْتُهُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4164 - عبد المنعم بن إدريس ساقط

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو اٹھایا تو دن کی تین ساعتیں ان کو فوت کئے رکھا، جبکہ عیسائی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو سات ساعتیں وفات دئیے رکھی پھر ان کو زندہ کردیا ۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اور عیسائی یہ بھی گمان رکھتےہیں کہ سکندر کی ولادت کے 363 برس بعد حضرت مریم علیہ السلام کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے او ر وہ یہ بھی گمان رکھتے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 6 ماہ پہلے پیدا ہوئے اور وہ یہ بھی گمان کرتے ہیں کہ تیرہ سال کی عمر میں حضرت مریم حاملہ ہوئیں اور حمل میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تھے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر اٹھائے جانے تک 32 سال عمر گزار چکے تھےاور یہ کہ حضرت مریم علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانےکے بعد چھ سال تک زندہ رہیں ۔ اس طرح ان کی کل عمر56 سال بنتی ہے اور زکریا بن برخیا رضی اللہ عنہ یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے والد تھے ۔وہ یہ بھی گمان کرتے ہیں کہ جب حضرت مریم علیہ السلام کو حمل ہوا تو اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر 200 سال تھی۔ جب پیدا ہوئیں تو ان کی والدہ کی وفات کے بعد حضرت زکریا رضی اللہ عنہ نے ان کی کفالت کی ۔ کیونکہ حضرت مریم علیہ السلام کی خالہ یعنی ان کی والدہ کی بہن ، حضرت زکریا علیہ السلام کے نکاح میں تھیں ، حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ کا نام حنہ بنت فاقو ذ بن قیل تھا۔ نوٹ: امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں : انبیاء اور مرسلین علیہ السلام کی تعداد کے سلسلے میں روایات مختلف ہیں۔ انتہائی جدو جہد کے بعد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم ﷺ کی بعثت تک انبیاء و مرسلین علیہ السلام کی تعداد جو ثابت ہوئی ہے وہ درج ذیل ہے۔ درج ذیل حدیث میں حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ نے مرسلین کا ذکر کیا ہے۔

وَهْبٌ: «وَزَعَمَتِ النَّصَارَى أَنَّ مَرْيَمَ ← النَّصَارَى تَزْعُمُ أَنَّهُ تَوَفَّاهُ سَبْعَ سَاعَاتٍ مِنَ النَّهَارِ، ثُمَّ أَحْيَاهُ» ← «تَوَفَّى اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ مِنْ نَهَارٍ حِينَ رَفَعَهُ إِلَيْهِ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4164

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4165

4165 - حَدَّثَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ جَالِسٍ عِنْدَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ: ادْنُ مِنِّي فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَبْقَاكَ اللَّهُ، وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ أَنْ أَسْأَلَكَ كَمَا سَأَلَ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ: ادْنُ مِنِّي فَأُحَدِّثُكَ عَنِ الْأَنْبِيَاءِ الْمَذْكُورِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ أُحَدِّثُكَ عَنْ آدَمَ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا حَرَّاثًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا نَجَّارًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا خَيَّاطًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ دَاوُدَ أَنَّهُ كَانَ عَبْدًا زَرَّادًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ مُوسَى أَنَّهُ كَانَ عَبْدًا رَاعِيًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ عَبْدًا زَرَّاعًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ صَالِحٍ أَنَّهُ كَانَ عَبْدًا تَاجِرًا، وَأُحَدِّثُكَ عَنْ سُلَيْمَانَ أَنَّهُ كَانَ عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَكَانَ يَصُومُ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ سِتَّةَ أَيَّامٍ وَفِي وَسَطِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَفِي آخِرِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَكَانَتْ لَهُ تِسْعُ مِائَةِ سَرِيَّةٍ، وَثَلَاثُ مِائَةِ فِهْرِيَّةٍ وَأُحَدِّثُكَ عَنِ ابْنِ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَخْبَأُ شَيْئًا لِغَدٍ وَيَقُولُ: الَّذِي غَدَّانِي سَوْفَ يُعَشِّينِي وَالَّذِي عَشَّانِي سَوْفَ يُغَدِّينِي، يَعْبُدُ اللَّهَ لَيْلَةً كُلَّهَا يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَهُوَ بِالنَّهَارِ سَائِحٌ، وَيَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ كُلَّهُ، " وَأُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى غَنْمَ أَهْلِ بَيْتِهِ بِأَجْيَادَ، وَكَانَ يَصُومُ فَنَقُولُ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ فَنَقُولُ: لَا يَصُومُ، وَكُلُّهَا مَا رَأَيْنَاهُ صَائِمًا وَيَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ أَلْيَنَ النَّاسِ جَنَاحًا وَأَطْيَبَهُمْ خَبَرًا، وَأَطْوَلَهُمْ عِلْمًا "، وَأُخْبِرُكَ عَنْ حَوَّاءَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْزِلُ الشَّعْرَ فَتُحَوِّلُهُ بِيَدِهَا فَتَكْسُو نَفْسَهَا وَوَلَدَهَا، وَأَنَّ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ كَانَتْ تَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ الْحَاكِمُ: «فَأَمَّا الْحَدِيثُ الْمُسْنَدُ الْعَالِي الَّذِي يَدُلُّ عَلَى الْجُمْلَةِ مُفَسَّرًا فَهُوَ الَّذِي»

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ، وہ اپنے ساتھیوں سے محو گفتگو تھا۔ آپ نے اس سے کہا: میرے قریب آجائیے ۔ اس آدمی نے کہا: خدا کی قسم ! جس طرح دوسرے لوگ سوالات کررہے ہیں ، اسی طرح میرا آپ سے سوال کرنا کتنا ہی اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا : میرے قریب آجائیے ! میں تمہیں انبیاء کرام علیہ السلام کے بارے میں بتاتا ہوں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑھئی تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام درزی تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام زر ہیں بنایا کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریا ں چرایا کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔حضر ت صالح علیہ السلام تاجر تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شاندار حکومت عطا کی تھی ۔ آپ ہر مہینے کے پہلے 6 دن ، درمیان میں 3 دن اور آخر میں 3 دن روزہ رکھا کرتے تھے، آپکے 700 فوجی دستوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔ اور میں تجھے یہ بھی بتاتا ہوں کہ کنواری مریم علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اگلے دن کے لئے کبھی کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے ، جس ذات نے مجھے ناشتہ دیا ہے، وہ شام کا کھانا بھی دے گی اور جس ذات نے مجھے شام کا کھانا دیا ہے ، وہ ناشتہ بھی دے گی۔ آپ پوری پوری رات نماز میں گزار دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ۔ آپ دن میں سیاحت کرتے تھے، آ پ کا تمام دن روزے سے گزرتا اور تمام رات قیام میں گزرتی اور میں تجھے محمد مصطفیٰ ﷺ کےبارے میں بتاتا ہوں۔آپ اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے اور آپ روزے رکھتے رہتے حتیٰ کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ کبھی روزہ کا ناغہ نہیں کریں گے اور جب آپ ناغہ کرتے تو اتنے کرتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھا کریں گے۔بہرحال ہم نے آپ کو اکثر روزے سے دیکھا ۔ آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ سب سے زیادہ نرم مزاج ، اچھی خبر دینے والے اور سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور میں تجھے حضرت حواء کے بارے میں بتاتا ہوں ، آپ چرخہ کاتا کرتی تھیں ۔ آپ روئی کات کر اپنے ہاتھ سے اس کو بن کر پہنتی تھیں اور اپنے بچوں کو بھی پہناتی تھیں اور حضرت مریم بنت عمران بھی یہی کام کیا کرتی تھیں۔امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں : وہ حدیث جو سند عالی کے ہمراہ مروی ہے جس میں انبیاء و مرسلین علیہ السلام کی تعداد کی وضاحت موجود ہے۔وہ درج ذیل ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4165

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4166

4166 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ إِدْرِيسَ السَّامِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ بْنِ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَتَهُ فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ لِلْمَسْجِدِ تَحِيَّةً» قُلْتُ: وَمَا تَحِيَّتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «رَكْعَتَانِ» فَرَكَعْتُهُمَا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِالصَّلَاةِ فَمَا الصَّلَاةُ؟ قَالَ: «خَيْرٌ مَوْضُوعٌ فَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ» ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ النَّبِيُّونَ؟ قَالَ: «مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفَ نَبِيٍّ» قُلْتُ: كَمِ الْمُرْسَلُونَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: «ثَلَاثُ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ» وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4166 - السعدي ليس بثقة

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کے ساتھ خلوت کو غنیمت جانا( سیدھا آپ کے پا س جاکر بیٹھ گیا) آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! مسجد کا بھی سلام ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : یارسولﷺ مسجد کا سلام کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دو رکعتیں۔میں نے دو رکعت نوافل پڑھے ۔ پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ ! آپ نے مجھے نماز کا حکم تو دے دیا ہے لیکن کتنی نماز پڑھنی ہے یہ نہیں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ نیکی ہے ، جو کم پڑھنا چاہے کم پڑھ لے اور جو زیادہ پڑھنا چاہے ، زیادہ پڑھ لے۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا( پھر اس کے بعدانہوں نے تفصیل حدیث ذکر کی حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے ) میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ ! انبیاء کرام علیہ السلام کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا : 1،24،000 ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں، میں نے پوچھا : ان میں سے مرسلین کتنے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 313 تین سو تیرہ ہیں ۔ پھر باقی حدیث بھی ذکر کی۔

دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَتَهُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ بْنِ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ، ← أبو الحسن علي بن الفضل بن إدريس السامري ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4166

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4167

4167 - حَدَّثَنَا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْجَزَّارُ بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيٌّ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَصَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَمَانِيَةِ آلَافٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4167 - إبراهيم ويزيد واهيان

حضرت ان بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آٹھ ہزار انبیاءعلیہ السلام کے بعد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ۔ ان آٹھ ہزار میں سے چار ہزار انبیاء علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَصَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنُ مِسْمَارٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ← عَلِيٌّ الصَّفَّارُ، ← أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْجَزَّارُ بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4167

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4168

4168 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4168 - مجالد ضعيف

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ایک لاکھ یا اس سے زائد انبیاء علیہ السلام کے اختتام پر آیا ہوں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← مجالد ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4168

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4169

4169 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: «لَقَدْ سَلَكَ فَجَّ الرَّوْحَاءَ سَبْعُونَ نَبِيًّا حُجَّاجًا عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، وَلَقَدْ صَلَّى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُونَ نَبِيًّا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4169 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : روحا ء بازار میں سے ستر نبی حج کرتے ہوئے گزرے ہیں ، ان کے اوپر اون کے کپڑے تھے اور مسجد خیف میں ستر انبیاء علیہ السلام نے نماز پڑھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4169

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4170

4170 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، ثنا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ فِيمَا خَلَا مِنْ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ نَبِيٍّ، ثُمَّ كَانَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ كُنْتُ أَنَا بَعْدَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4170 - سنده واه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے آٹھ ہزار نبی گزرے ہیں پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوئے ہیں پھر ان کے بعد میں ہوں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ ← أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4170

chevron_left Previous
1…141516…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section