Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا نَبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ · حديث 4147

4147 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بِبُخَارَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ نَوْفٍ الْبِكَالِيِّ، قَالَ: دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ فَقَالَ: " {رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سُمَيْعُ الدُّعَاءِ} [آل عمران: 38] {إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا} [مريم: 4] الْآيَاتُ، ثُمَّ قَالَ: {أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا} [مريم: 9] قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا قَالَ: فَخُتِمَ عَلَى لِسَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَهُوَ صَحِيحٌ لَا يَتَكَلَّمُ {فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً} [مريم: 11] وَعَشِيًّا يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا الْآيَاتُ إِلَى {يُبْعَثُ حَيًّا} [مريم: 15] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4147 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت نوف ابکالی فرماتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعامانگی : ﴿ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ٣٨﴾[آل عمران: 38]"اے میرے رب ! دے مجھے اپنے پاس سے ستھری اولاد، بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا ٤﴾[مريم: 4] " اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) پھر کہنے لگے: ﴿قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا٨﴾[مريم: 8]"میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا٩﴾[مريم: 9] " فرمایا :ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا : وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تو کچھ بھی نہیں تھا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا١٠﴾[مريم: 10]"عرض کی: اے میرے رب ! مجھے کوئی نشانی دے دے ۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) چنانچہ آپ کی زبان سیل کردی گئی ، آپ بالکل صحیح سلامت ہونے کے باوجود تین دن اور تین راتیں کسی سے بات نہ کر سکے ۔ ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا١١﴾﴿يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا١٢﴾[مريم: 12-11]"تو وہ اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو ۔ اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) یہ آیات" یبعث حیا " تک نازل ہوئیں ۔

نَوْفٍ الْبِكَالِيِّ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4147

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا نَبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ · حديث 4148

4148 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُونَ الْوَرَّاقُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ غَانِمٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: «كَانَ زَكَرِيَّا وَعِمْرَانُ تَزَوَّجَا أُخْتَيْنِ فَكَانَتْ أُمُّ يَحْيَى عِنْدَ زَكَرِيَّا وَكَانَتْ أُمُّ مَرْيَمَ عِنْدَ عِمْرَانَ فَهَلَكَ عِمْرَانُ وَأُمُّ مَرْيَمَ حَامِلٌ بِمَرْيَمَ وَهِيَ جَنِينٌ فِي بَطْنِهَا وَكَانَتْ فِيمَ يَزْعُمُونَ قَدْ أَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهَا الْوَلَدَ حَتَّى أَيِسَتْ وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4148 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسحاق کہتے ہیں :حضرت زکریا علیہ السلام اور عمران علیہ السلام دونوں کی بیویاں آپس میں سگی بہنیں تھیں ۔ چنانچہ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ زکریا کی بیوی تھیں اور مریم اور مریم کی والدہ عمران علیہ السلام کی بیوی تھی۔ عمران کا انتقال ہوگیا ، اس وقت حضرت مریم رضی اللہ عنہ کی والدہ حاملہ تھیں ۔ ان کے پیٹ میں مریم رضی اللہ عنہ تھی ۔ ان کے بارے میں لوگوں کا یہ موقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد دی حتی ٰ کہ یہ سن آیاس کو پہنچ گئیں جبکہ ان کے گھر والے اللہ تعالیٰ کے مقرب لوگ تھے۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← الفضل بن غانم ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدُونَ الْوَرَّاقُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4148

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا نَبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ · حديث 4149

4149 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ، وَأَبُو سَلَمَةَ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ آدَمَيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ أَوْ عَمِلَهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا لَمْ يَهِمَّ بِخَطِيئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4149 - إسناده جيد

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر آدمی سے خطا ہوئی ہے، یا خطا کا ارادہ کیا ہے یا اس پر عمل کیا ہے۔ سوائے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے کہ انہوں نے نہ کبھی گناہ کا سوچا اور نہ عملاً گناہ کیا۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← النبي وعلي بن زيد ← الْحَسَنِ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَحُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عفان وابو سلمة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4149

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا نَبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ · حديث 4150

4150 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا سَيِّدًا وَحَصُورًا وَكَانَ لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ وَلَا يَشْتَهِيهِنَّ، وَكَانَ شَابًّا حَسَنَ الْوَجْهِ وَالصُّورَةِ لَيَّنَ الْجَنَاحِ، قَلِيلَ الشَّعْرِ قَصِيرَ الْأَصَابِعِ طَوِيلَ الْأَنْفِ أَقْرَنَ الْحَاجِبَيْنِ، دَقِيقَ الصَّوْتِ كَثِيرَ الْعِبَادَةِ قَوِيًّا فِي طَاعَةِ اللَّهِ»

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سردار تھے اور عورتوں سے بچنے والے تھے، یہ عورتوں کے قریب بھی نہیں جاتے تھے، نہ ان کی خواہش کرتے تھے۔ حالانکہ آپ خوبصورت نوجوان تھے، نرم بازوؤں والے ، کم بالوں والے ، چھوٹی انگلیوں والے، لمبی ناک والے ، ملی ہوئی ابروؤں والے باریک آواز والے ۔ بہت زیادہ عبادت گزار اور اطاعت الٰہی میں بہت طاقتور تھے۔

کَعْبٍ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4150

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا نَبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ · حديث 4151

4151 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " بُعِثَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنَ الْحَوَارِيِّينَ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ قَالَ: وَكَانَ فِيمَا يَنْهَوْنَهُمْ عَنْهُ نِكَاحُ ابْنَةِ الْأَخِ قَالَ: وَكَانَتْ لِمَلِكِهِمُ ابْنَةُ أَخٍ تُعْجِبُهُ يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجُهَا فَكَانَتْ لَهَا كُلَّ يَوْمٍ حَاجَةٌ يَقْضِيهَا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ أُمَّهَا قَالَتْ لَهَا: إِذَا دَخَلْتِ عَلَى الْمَلِكِ فَسَأَلَكِ حَاجَتَكِ فَقُولِي حَاجَتِي أَنْ تَذْبَحَ لِي يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ سَأَلَهَا حَاجَتَهَا فَقَالَتْ: حَاجَتِي أَنْ تَذْبَحَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا فَقَالَ: سَلِينِي غَيْرَ هَذَا، فَقَالَتْ: مَا أَسْأَلُكَ إِلَّا هَذَا، فَقَالَ: فَلَمَّا أَبَتْ عَلَيْهِ دَعَا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا وَدَعِي بِطَشْتٍ فَذَبَحَهُ فَدَرَّتْ قَطْرَةً مِنْ دَمِهِ عَلَى الْأَرْضِ فَلَمْ تَزَلْ تَغْلِي حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ بُخْتَنَصَّرَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَتْهُ عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَدَلَّتْهُ عَلَى ذَلِكَ الدَّمِ فَأَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِهِ أَنْ يَقْتُلَ عَلَى ذَلِكَ الدَّمِ مِنْهُمْ حَتَّى يَسْكُنَ فَقَتَلَ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ مِنْ سِنٍّ وَاحِدَةٍ حَتَّى سَكَنَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ إِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو بارہ بارہ ہزار حواریوں میں مبعوث فرمایا۔ یہ لوگوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق بھائی کی بیٹی یعنی بھتیجی کے نکاح کرنا حرام تھا۔ ان کے بادشاہ کی ایک بھتیجی تھی جس کو بادشاہ پسند کرتا تھا اور اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو ہر دن اس کی ایک حاجت پوری کیا کرتا تھا۔ یہ بات اس لڑکی کی ماں تک پہنچی تو اس نے اپنی لڑکی کو سمجھاتے ہوئے کہا: جب تو بادشاہ کے پاس جائے اور وہ تیری حاجت پوچھے تو تو کہنا : میری حاجت یہ ہے کہ تم میری خاطر یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو ذبح کردو ۔ جب وہ بادشاہ کے پاس گئی ، اس نے اس سے حاجت پوچھی ، تو اس نے کہا : میری حاجت یہ ہے کہ تم یحییٰ بن زکریا کو ذبح کر دو ۔ اس نے کہا : اس کے علاوہ کوئی فرمائش کرو۔ اس نے کہا : میری اس کے علاوہ آپ سے اور کوئی فرمائش نہیں ہے۔ جب یہ اپنی ضد پر اڑ گئی تو بادشاہ نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو بلوایا اور ایک بڑا تھال منگوایا اور اس میں آپ کو ذبح کر ڈالا ، اس تھال میں سے خون کا ایک قطرہ زمین پر گر گیا تو وہ مسلسل تڑپتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط فرمایا ۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی خاتون نے بخت نصر کو اس خون کی کہانی سنائی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان سے انتقام لے گا، جب تک اس خون کو قرار نہیں آتا اس وقت میں ان کو قتل کرتا رہوں گا۔ چنانچہ صرف ایک سال میں اس نے ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ تب کہیں اس قطرہ خون کو سکون ملا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنَ الْحَوَارِيِّينَ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ ← بُعِثَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مسلم بن جنادة ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4151

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا نَبِيِّ اللَّهُ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ · حديث 4152

4152 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَدَّادٍ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَتَلْتُ بِيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا سَبْعِينَ أَلْفًا، وَإِنِّي قَاتِلٌ بِابْنِ ابْنَتِكَ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا» وَقَدْ رَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی جانب وحی فرمائی کہ میں یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے بدلے ستر ہزار لوگ قتل کئے تھے اور بے شک میں آپ کے نواسے کے بدلے اس سے دگنے لوگ قتل کروں گا۔۔اس حدیث کو حمید بن الربیع الخزاز نے ابونعیم کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

أَبِي نُعَيْمٍ، ← إِنِّي قَاتِلٌ بِابْنِ ابْنَتِكَ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا» وَقَدْ رَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ ← «أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُحَمَّدٍ إِنِّي قَتَلْتُ بِيَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا سَبْعِينَ أَلْفًا، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← محمد بن شداد المسمعي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4152

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4153

4153 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ نَبِيٌّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4153 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا اور آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اور تمام انبیاء علیہ السلام باپ کی طرف سے بھائی ہیں جبکہ ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان سب کا دین ایک ہی ہے اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کوئی نبی نہیں ہے۔" یہ حدیث امام بخاریْ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4153

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4154

4154 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «حَنَّةُ وَلَدَتْ مَرْيَمَ، وَمَرْيَمُ وَلَدَتْ عِيسَى» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حنہ کے ہاں مریم پیدا ہوئیں اور مریم کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ حَبِيبٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4154

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4155

4155 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، قَالَ: «وُلِدَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4155 - سنده واه

حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام 10 محرم الحرام کے دن پیدا ہوئے۔

«وُلِدَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ» [التعليق من تلخيص الذهبي] سنده واه ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْقَزِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4155

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4156

4156 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: " خَرَجَتْ مَرْيَمُ إِلَى جَانِبِ الْمِحْرَابِ بِحَيْضٍ أَصَابَهَا فَلَمَّا طَهُرَتْ إِذْ هِيَ بِرَجُلٍ مَعَهَا وَهُوَ قَوْلُهُ: {فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا} [مريم: 17] ، وَهُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَفَزِعَتْ مِنْهُ فَقَالَتْ: {إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا} [مريم: 18] قَالَ: {إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا} [مريم: 19] الْآيَةُ، فَخَرَجَتْ وَعَلَيْهَا جِلْبَابُهَا فَأَخَذَ بِكُمِّهَا فَنَفَخَ فِي جَيْبِ دِرْعِهَا وَكَانَ مَشْقُوقًا مِنْ قُدَّامِهَا فَدَخَلَتِ النَّفْخَةُ صَدْرَهَا فَحَمَلَتْ فَأَتَتْهَا أُخْتُهَا امْرَأَةُ زَكَرِيَّا لَيْلَةً تَزُورُهَا فَلَمَّا فَتَحَتْ لَهَا الْبَابَ الْتَزَمَتْهَا فَقَالَتِ امْرَأَةُ زَكَرِيَّا: يَا مَرْيَمُ أَشَعَرْتِ أَنِّي حُبْلَى؟ فَقَالَتْ مَرْيَمُ أَيْضًا: أَشَعَرْتِ أَنِّي حُبْلَى، فَقَالَتِ امْرَأَةُ زَكَرِيَّا: فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا فِي بَطْنِي يَسْجُدُ لِلَّذِي فِي بَطْنِكِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ} [آل عمران: 39] فَوَلَدَتِ امْرَأَةُ زَكَرِيَّا يَحْيَى وَلَمَّا بَلَغَ أَنْ تَضَعَ مَرْيَمُ خَرَجَتْ إِلَى جَانِبِ الْمِحْرَابِ فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتِ اسْتِحْيَاءً مِنَ النَّاسِ: {يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسِيًّا مَنْسِيًّا} [مريم: 23] فَنَادَاهَا جِبْرِيلُ {مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا} [مريم: 25] فَهَزَّتْهُ فَأَجْرَى لَهَا فِي الْمِحْرَابِ نَهْرًا وَالسَّرِيُّ: النَّهَرُ فَتَسَاقَطَتِ النَّخْلَةُ رُطَبًا جَنِيًّا فَلَمَّا وَلَدَتْهُ ذَهَبَ الشَّيْطَانُ فَأَخْبَرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّ مَرْيَمَ وَلَدَتْ فَلَمَّا أَرَادُوهَا عَلَى الْكَلَامِ أَشَارَتْ إِلَى عِيسَى فَتَكَلَّمَ عِيسَى فَقَالَ: إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا فَلَمَّا وُلِدَ عِيسَى لَمْ يَبْقَ فِي الْأَرْضِ صَنَمٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِلَّا وَقَعَ سَاجِدًا لِوَجْهِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4156 - على شرط مسلم

ابو مالک ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا اور مرہ ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام حیض آنے کی وجہ سے محراب کی طرف نکلیں ۔ جب آپ پاک ہوئیں تو ان کے پاس ایک مرد کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا١٧﴾[مريم: 17]" تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) وہ حضرت جبریل تھے ۔ آپ اس کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور بولیں : ﴿قإِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا١٨﴾[مريم: 18]" میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) وہ بولے:﴿ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا١٩﴾[مريم: 19]"میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں " ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) آپ وہاں سے نکلیں اور آپ کے اوپر کی بڑی چادر تھی۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کا کنارہ پکڑ کر آپ کے دوپٹے میں پھونک مار دی ، یہ دوپٹہ آگے سے کچھ پھٹا ہوا تھا یہ پھونک آپ کے سینے میں گئی ، جس کی وجہ سے آپ حاملہ ہوگئیں ۔ آپ رات کے وقت اپنی بہن زکریا کی بیوی کے پاس ملنے کے لئے گئیں ۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو وہ ان سے لپٹ گئیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی زوجہ نے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ میں حمل سے ہوں ؟ حضرت مریم علیہ السلام نے جواباً کہا: جی ہاں اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں بھی حمل سے ہوں ۔ تو حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی نے کہا: میں محسوس کررہ ہوں کہ میرے پیٹ میں جو ہے وہ اس کو سجدہ کر رہا ہے جو آپ کے پیٹ میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مصدقا بکلمۃ من اللہ " جو اللہ کی طرف سے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی نے یحییٰ علیہ السلام کو جنم دیا اور جب حضرت مریم علیہ السلام کے ہاں بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو آپ محراب کی جانب نکل گئیں ۔ پھر در دزہ کی وجہ سے وہ ایک کھجور کی جڑ میں آگئیں ۔ لوگوں سے شرم کی ماری مریم علیہ السلام کہنے لگی : ﴿ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا٢٣﴿فَنَادَاهَا [مريم: 23] " ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) تو حضرت جبریل نے نیچے کی طرف سے آواز دی : ﴿ أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا٢٤وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا٢٥﴾[مريم: 25-24]" کہ غم نہ کھا بے شک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی'' ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) حضرت مریم علیہ السلام نے اس کو ہلایا تو ان کے لئے محراب میں نہر جاری کردی گئی ۔ " السری" نہر کو کہتے ہیں ۔ تو کھجور کے درخت سے تازی پکی کھجوریں گرنے لگی ۔ جب ان کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوگئی تو شیطان نے بنی اسرائیل کو خبر دے دی کہ مریم علیہ السلام نے بچہ جنا ہے۔ جب لوگوں نے حضرت مریم علیہ السلام سے وضاحت چاہی تو آپ نے ( بجائے اس کے کہ اپنی صفائی خود بیان کرتی ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اشارہ کردیا تو عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے: ﴿قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا٣٠ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا ٣١﴾[مريم: 30-31]" میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھےکتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا نبی کی اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں "۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو روئے زمین کا ہر وہ بت جس کی عبادت کی جاتی تھی وہ سجدہ ریز ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَالِکٍ ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطٍ ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4156

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4157

4157 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ وَفْدَ نَجْرَانَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: مَا تَقُولُ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؟ فَقَالَ: «هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» قَالُوا لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ نُلَاعِنَكَ أَنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ؟ قَالَ: «وَذَاكَ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «فَإِذَا شِئْتُمْ» فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَمَعَ وَلَدَهُ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لَا تُلَاعِنُوا هَذَا الرَّجُلَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ لَاعَنْتُمُوهُ لَيُخْسَفَنَّ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ. فَجَاءُوا فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يُلَاعِنَكَ سُفَهَاؤُنَا وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنَا قَالَ: «قَدْ أَعْفَيْتُكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَذَابَ قَدْ أَظَلَّ نَجْرَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4157 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجران کا وفد نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے متعلق تمہارا کیا نظریہ ہے؟ آپ نےفرمایا : وہ روح اللہ ، کلمۃ اللہ ، عبداللہ اور اس کے رسول تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: اگر فی الواقع ایسا نہ ہو تو کیا ہم ایک دوسرے پر لعنت کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں یہ کام بہت اچھا لگتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، جیسے تمہاری مرضی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے بچوں اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلوالیا ، ان کا سردار کہنے لگا : اس آدمی (محمد) ﷺ پر لعنت مت کرو ، خدا کی قسم ! اگر تم اس کے ساتھ ملاعنہ کرو گے تو دونوں فریقوں میں سے ایک برباد ہوجائے گا۔ تو یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے ابوالقاسم ! ملاعنہ کی بات تو ہم میں سے بے وقوفوں نے کی ہے جبکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرمادیں ۔ آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں معاف کیا۔ پھر فرمایا : عذاب تو نجران پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

«قَدْ أَعْفَيْتُكُمْ» ثُمَّ ← نُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنَا ← يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يُلَاعِنَكَ سُفَهَاؤُنَا ← رَئِيسُهُمْ: لَا تُلَاعِنُوا هَذَا الرَّجُلَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ لَاعَنْتُمُوهُ لَيُخْسَفَنَّ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ. فَجَاءُوا ← «فَإِذَا شِئْتُمْ» فَجَاءَ النَّبِيُّ وَجَمَعَ وَلَدَهُ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ← نَعَمْ ← «وَذَاكَ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ؟» ← لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ نُلَاعِنَكَ أَنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ؟ ← «هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» ← مَا تَقُولُ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؟ ← جَابِرٍ أَنَّ وَفْدَ نَجْرَانَ أَتَوُا النَّبِيَّ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4157

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ وَرُوحِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4158

4158 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ وَلَدِ آدَمَ الشَّيْطَانُ نَائِلٌ مِنْهُ تِلْكَ الطَّعْنَةَ وَلَهَا يَسْتَهِلُّ الْمَوْلُودُ صَارِخًا، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ وَابْنِهَا، فَإِنَّ أُمَّهَا حِينَ وَضَعَتْهَا يَعْنِي أُمَّهَا قَالَتْ: إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَضَرَبَ دُونَهَا الْحِجَابَ فَطَعَنَ فِيهِ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَهَلَكَتْ أُمُّهَا فَضَمَّتْهَا إِلَى خَالَتِهَا أُمِّ يَحْيَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4158 - صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نومولود کو شیطان چوبھ مارتا ہے جس کی وجہ سے نومولود روتا ہے، سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے کہ جب مریم کی ماں نے ان کو جنا تو وہ بولیں :﴿ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ٣٦ ﴿فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ٣٧﴾[آل عمران: 36-37] "میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں تو اسے اس کے رب نے بڑی اچھی طرح قبول کیا اور اسے اچھا پروان چڑھایا اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا: ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو پھر ان کی خالہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ نے ان کی پرورش کی۔ یہ حدیث صحیح الاسناہے ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَائِنِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet and His Spirit, Essa Ibn Mary, may the prayers and peace of Allah be upon them · Hadith 4158

chevron_left Previous
1…131415…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section