حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور رسالت کےلئے حضرت داؤد بن ایشا علیہ السلام کو منتخب فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ نور اور حکمت جمع فرمائی اور اپنی طرف سے ان کے لئے زبور کا اضافہ فرمایا ۔ حضرت داؤد بن ایشا علیہ السلام نے ستر سال حکومت کی ۔ آپ نے لوگوں کو انصاف دلایا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ علم و حکمت سے ان میں درست فیصلے فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ آپ کا تابوت اٹھاتے تھے۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے علم اور نورکے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کے حلال کو نافذ فرماتے اور اس کے حرام سے روکتے رہے ۔حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کی جانب وحی فرمائی کہ وہ اپنا ظاہر باطن تمام نور اور حکمت اپنے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو دے دیں ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4135
حضرت شعبی ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (قال فی زبور داؤد من بعد ذکر موسیٰ)"اور بے شک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور میں موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد یہ تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے اس سے مراد " جنت" ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4136
عمر بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے چچا محمد بن علی بن حسین کے ہمراہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے کہا : لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ایسی بادشاہی مانگی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے اور شک وہ 20 ہیں ۔ آپ نے کہا: میں یہ نہیں جانتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ تاہم میرے والد علی بن حسین نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سابقہ انبیاء کرام علیہ السلام میں سے ان کی امت میں اتنی لمبی حکومت کسی نے نہیں کی ، جتنی لمبی حکومت اس نبی نے اپنی امت میں کی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4137
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ٧٨﴾[الأنبياء: 78]" اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے"۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) کے بارے میں فرماتے ہیں : ایک انگوروں کی بیل تھی جس پر گچھے آچکے تھے۔ اس کو بکریوں نے خراب کر ڈالا ۔حضرت داؤد نے فیصلہ کیا کہ یہ بکریاں انگوروں کی بیل کے مالک کے حوالے کردی جائیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : اے اللہ کے نبی علیہ السلام ! آپ اس فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں ۔ انہوں نے پوچھا : تو کیا فیصلہ کیا جائے؟ آپ نے فرمایا : انگور کی بیل بکریوں کے مالک کے حوالے کردیں تا آنکہ دوبارہ بر آور ہو جائیں اور اس وقت تک بکریاں انگور کے مالک کے حوالے کردیں ۔ جب انگور کی بیل دوبارہ اسی حالت پر آجائے گی جس پر تھی تو بکریاں ، بکریوں کے مالک کو دے دی جائیں اور انگور کی بیل اس کے مالک کو دی جائے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ٧٩﴾[الأنبياء: 79]"ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4138
حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کو زمین کے مشارق اور مغارب کی حکومت دی گئی تھی۔ چنانچہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے جنات ، انسان ، شیاطین ،جانوروں ، پرندوں اور درندوں تمام دنیا پر سات سو سال چھ مہنے حکومت کی ۔ آپ کو ہر چیز کا علم دیا گیا تھا اور ہر چیز کی بولی سکھائی گئی تھی۔ آپ کے زمانے میں بڑی عجیب و غریب ایجادات ہوئیں ، جن کے متعلق انسان نے کبھی سنا تک نہ تھا اور تمام چیزیں آپ کو زیرنگین تھیں ۔ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے نور اور حکمت کے ساتھ حکومت کی تدبیر فرماتے رہےحتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرنے کا ارادہ کیا تو ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ اپنا علم و حکمت اپنے بھائی اور داؤد علیہ السلام کے بیٹے کے سپرد کردیں ۔ چنانچہ ان میں 1480 افراد ایسے ہیں جن کو رسالت نہیں ملی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4139
امام شعبی کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے لے کر سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی حکومت تک بنو اسحاق نے تاریخ رقم کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : : ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ١٦﴾[النمل: 16] " اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) آپ فرماتے ہیں : ان کو نبوت و رسالت کے ہمراہ ایسی حکومت ملی تھی جو ان کے بعد کسی کو نہیں ملی۔ چنانچہ ان کے لئے جنات ، انسان ، پرندے اور ہوائیں مسخر کردی گئی تھیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4140
حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا لشکر ایک سو فرسخ تک پھیلا ہوتا تھا( اور ایک فوسخ آٹھ کلومیٹر کا ہوتا ہے) ان میں سے 25 فرسخ انسانوں کے لئے ، 25 فرسخ جنات کے ،لئے ، 25 فرسخ درندوں کے لئے اور 25 فرسخ پرندوں کے لئے تھا ۔ آپ کے لکڑی پر شیشے کے ایک ہزار محل تھے۔ ان میں سے تین سوظاہر تھے جبکہ 700 چھپے ہوئے تھے۔پھر آپ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان کو اٹھا لیا، پھر ہوا کو حکم دیا تو وہ اس کو لے کر چل پڑی ۔ ایک دفعہ آپ زمین اور آسمان کے درمیان سیر کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جانب وحی فرمائی ۔" میں نے آپ کی حکومت میں یہ اضافہ بھی کردیا ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی ، جوبھی بات کرے گا ، ہوا اس کی خبر آپ تک پہنچا دے گی۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4141
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے 600 کرسیاں رکھی جاتی تھیں پھر سر کردہ انسان آکر حضرت سلیمان علیہ السلام کےسب سے قریبی کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر سرکردہ جنات آتے اور انسانوں سے پیچھے بیٹھتے ۔ پھر پرندوں کو بلایا جاتا وہ ان سے پر سایہ کرتے ، پھرہوا کو بلایا جاتا وہ ان سب کو اٹھا لیتی تو یہ لوگ ایک میں پورے مہینے کا سفر کرلیتے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4142
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چار آدمیوں نے پوری روئے زمین پر حکومت کی ہے۔ (1) حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام (2) ذوالقرنین ۔ (3) اہل حلوان کا ایک آدمی۔ (4) ایک اور آدمی ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ( کیا وہ چوتھے آدمی) حضرت خضر ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ( تفسیر خازن ، تفسیر حقی ، زادالمسیر اور تفسیر بغوی میں مجاہد کے حوالے نقل کیا گیا ہے کہ " ملک الارض اربعۃ مومنان و کافران فالمو منان سلیمان و ذوالقرنین والکافران نمرود و بخت نصر" چار آدمیوں کو پوری روئے زمین میں حکومت دی گئی تھی ان میں سے دومومن تھے اور دو کافر ۔ مومن حضرت سلیمان اور ذوالقرنین علیہ السلام تھے اور کافر نمرود اور بخت نصر تھے ۔ شفیق)
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God, Suleiman bin David, and what God did not bring from the King, may God bless him and grant him peace · Hadith 4143
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں : بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت زکریا بن آدن بن مسلم علیہ السلام ہیں ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد امجاد میں سے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : مجھ سے میری حکومت کا وارث ہو اور آل یعقوب علیہ السلام سے نبوت کا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Zachariah bin Adan the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4144
حضرت ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Zachariah bin Adan the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 4145
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں دعا مانگی " اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر میں چاندی آگئی ہے اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔ وہ عصبہ ( قریبی مرد رشتہ دار ) ہیں اور میری عورت بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے ، وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا وارث ہواور اے میرے رب ! اسے پسندیدہ کر ۔ وہ یہ بھی دعا مانگا کرتے تھے : اے میرے رب ! مجھے اپنے سے دے ستھری اولاد ، بے شک تو ہی دعا سننے والا ۔ اور کہا: اے اللہ ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہتر وارث ہے۔ تو فرشتوں نے ان کو آواز دی ۔ یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے ، اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام اپنی نماز پڑھ رہے تھے ( یہ آواز دی ) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گا اور اس سے پہلے کبھی کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا ۔ اور فرشتوں نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ علیہ السلام کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا جو یہ آواز سنی ہے یہ من جانب اللہ نہیں ہے بلکہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو جس طرح آپ پر اور دیگر انبیاء پر وحی آتی ہے اس انداز میں آتی ۔ توحضرت زکریا علیہ السلام ک وشک پیدا ہوگیا اور کہنے لگے : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا ؟ جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے ، میں نے تجھے پیدا کیا جبکہ تو کچھ نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Yahya ibn Zakariyyah, the Prophet of God, on whom be blessings and peace · Hadith 4146