حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ثنیہ ( نامی پہاڑی ) پر گئے تو فرمایا: یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا : ثنیہ ( نامی پہاڑی) ہے ۔ آپ نے فرمایا : گویا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام رسی کی ہے اور انہوں نے اون کا جبہ زیب تن کر رکھا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں : لبیک اللھم لبیک یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4123
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4124
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد : ﴿فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ١٤٣﴾[الصافات: 143]"تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق دریافت کیا گیا( کہ ان کی تسبیح کیا تھی؟)آپ نے فرمایا: وہ رات کی تاریکی میں کثرت سے نماز پڑھا کرتے تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4125
حضرت شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو چاشت کے وقت نگلا تھا اور عشاء کے وقت باہر نکال دیا تھا۔
الشَّعْبِيِّ: «أَنَّ يُونُسَ بْنَ مَتَّى الْتَقَمَهُ الْحُوتُ ضُحًى وَلَفَظَهُ عَشِيَّةً» ← مجالد ← شريك بن عبد الله ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أبو سعيد الأحمسي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4126
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص وہ دعا مانگے جو حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی، قبول کر لی جاتی ہے۔ یہ حدیث گذشتہ حدیث کی شاہد ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4127
حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت یونس بن متی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تھے ، آپ ذرا کمزور بدن تھے جب آپ پر نبوت کابوجھ ڈالا گیا( یہ بوجھ بہت کم لوگ اٹھا سکتے ہیں) تو وہ بوجھ کے نیچے دب گئے ۔ آپ نے وہ بوجھ پھینک دیا اور بھاگ گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بنی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ٣٥﴾[الأحقاف: 35]"تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور ﴿فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ٤٨﴾[القلم: 48]"تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی تم ایسا رویہ نہ اپنانا جیسا انہوں نے اپنایا تھا۔
وَھْبٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4128
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں گئے تو وہ سمجھے کہ ان پر موت واقع ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنے پاؤں ہلائے تو وہ ہل گئے تو انہوں نے سجدہ ریز ہوکر عرض کی : یا اللہ ! میں نے اس مقام پر تجھے سجدہ کیا ہے جہاں کبھی بھی کسی نے سجدہ نہیں کیا۔
الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سُنَيْدَ بْنَ دَاوُدَ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet of God Yunus, the son of Matthew, upon whom prayer and peace be upon him. · Hadith 4129
حضر وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ ( حضرت داؤد علیہ السلام کا نسب بیان کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں : (داؤد بن ایشا بن عوبد بن باعر بن سلمون بن یحسون بن یارب بن رام بن حضرون بن فارص بن یھودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل ) آپ متوسط القامت تھے ، خوبصورت تھے۔ آپ کے ( سر پر ) کم بال تھے ۔ پاکیزہ دل والے فقیہہ تھے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4130
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتےہیں: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ٢٤٣ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ٢٤٤ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ٢٤٥ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ٢٤٦﴾[البقرة: 243-246]"اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرما دیا بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں ۔اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔ ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا ہے ۔ اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے یک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا جب اپنے پیغمبر سے بولے ہمارے لئے کھڑا کر دو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں ۔نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پ جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اللہ تعالیٰ نے نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں آدمی کی اولاد میں ایک شخص ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو ہلاک فرمائے گا ۔ اس کی نشانی یہ سینگ ہے، یہ اس کے سر پر رکھا جائے گا تو جو زائد ہو گا وہ خود ہی سمٹ جائے گا۔ وہ نبی علیہ السلام اس آدمی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے بتایا ہے کہ تیری اولاد میں ایک بچہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرے گا۔ اس نے کہا : اے اللہ تعالیٰ کے نبی ٹھیک ہے ۔ اس نے ستونوں کی طرح ( دراز قد) بارہ لڑکے ان کے سامنے کئے ، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ علم و فضل کا مالک تھا۔ آپ نے ہر ایک پر سینگ رکھ کر دیکھا لیکن کسی کو پورا نہ آیا ، انہوں نے کہا : کیا ان کے علاوہ بھی تیر ا کوئی لڑکا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ تعالیٰ کے نبی ۔ ایک کوتاہ قد لڑکا اور بھی ہے اس کو لوگوں کے سامنے لاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، اس لئے میں نے اس کو بکریوں کے ریوڑ میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا فلاں گھاٹی میں ہے ۔ وہ اس کی طرف چل دئیے ( جب اس کو دیکھا تو) فرمایا : یہی ہے وہ ، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پھر انہوں نے وہ سینگ اس کے سر پر رکھا اور واپس آگئے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4131
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت کو مسلا تو قیامت تک جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنا تھا، وہ تما م کے تمام باہر نکل آئے ۔ ان میں سے ہر انسان کی پیشانی پر نور کی ایک کرن موجود تھی۔پھر ان تمام کو حضرت علیہ السلام کے سامنے پیش کیا ۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیری اولاد ہے۔ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کی پیشانی کا نور ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے پوچھا : اے میرے رب ! یہ کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تیری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ہو گا، اس کا نام داؤد علیہ السلام ہے ۔ انہوں نے پوچھا : یا اللہ اس کی عمر تونے کتنی رکھی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 60 سال ۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی : یا اللہ ! میری عمر میں سے چالیس سال اس کو دے کر اس کی عمر بڑھا دی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ بات لکھ دی جائے گی اور پھر اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہوگئی تو ( روح قبض کرنے کے لئے ) ان کے پاس ملک الموت علیہ السلام آگئے ۔ آپ نے کہا : کیا میری عمر میں سے ابھی چالیس سال باقی نہیں رہتے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے حضرت داؤد علیہ السلام کو نہیں دے دئیے تھے ۔ فرمایا : آدم علیہ السلام نے انکار کیا توا ن کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔ وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے۔ ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطا ہوتی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4132
محمد بن اسحاق کہتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت داؤد علیہ السلام تک 529 برس کا زمانہ ہے۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أبو سعيد الأحمسي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4133
حضرت سدی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وشدد نا ملکہ " اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ہر روز چار ہزار محافظ آپ کی چوکیداری کرتے تھے۔ سدی کہتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام نے ایام کی تقسیم کررکھی تھی۔ ایک دن آپ لوگوں میں فیصلے کیا کرتے تھے، ایک دن آپ عبادت الٰہی کے لئے خلوت نشین رہتے اور ایک دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ آپ کی 99 بیویاں تھیں ۔ آپ کتاب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت اسحاق علیہ السلام اور پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے فضائل و کمالات پڑھا کرتے تھے۔ جب انہوں نے کتب کے مطالع میں یہ سب کچھ پالیا تو عرض کی: اے میرے رب تمام بھلائی تو مجھ سے پہلے میرے آباؤ اجداد لے گئے ہیں۔ تو مجھے بھی وہی کچھ عطا کر جو ان کو عطا کیا تھا۔اور میرے ساتھ بھی وہی معاملہ فرما جوا ن کے ساتھ کیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ تیرے آباؤ اجداد پر جو امتحانات ڈالے گئے تھے تم کو ابھی تک ان سے دو چار نہیں کیا گیا۔ ابراہیم علیہ السلام سے ان کے لخت جگر کوذبح کروانے کا امتحان لیا گیا اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی بینائی ختم کرکے آزمایا گیا۔ یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے کے فراق کی مصیبت میں ڈالا گیا اور تمہیں ان میں سے کسی آزمائش میں بھی نہیں ڈالا گیا۔انہوں نے عرض کی : اے میرے رب ! مجھے بھی ان جیسی آزمائش میں بے شک ڈال د ے لیکن مجھے وہ عطا کردے جو کچھ تو نے ان کو عطا کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ٹھیک ہے تمہیں آزمایا جائے گا تم تیار رہو۔ اس کے بعد کچھ وقت گزرا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ پھر شیطان سونے کی کبوتری بن کر ان کے قدمو ں میں آکر گرا ، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کو اٹھانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ روشندان میں سے اڑ گئی ۔ آپ دیکھنے لگے کہ کہاں جاتی ہے آپ کی نگاہیں اس کے تعاقب میں تھیں کہ اچانک آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی جو کہ چھت پر نہارہی تھی آپ نے دیکھا کہ وہ عورت بہت زیادہ حسین و جمیل ہے ، اچانک اس کی نظر آپ پر پڑ گئی اس نے آپکو دیکھا اور پھر اپنے بال ڈھلکا لئے ۔ پھر وہ آپ سے اوجھل ہوگئی ۔ اس وجہ سے آ پ کے دل میں ا س کی رغبت اور بھی بڑھ گئی۔ آپ نے اس کے بارے میں معلومات کروائیں تو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر کسی ( فوجی ) اسلحہ کے کارخانے میں کام کرتا ہے، آپ نے کارخانے کے مالک کو پیغام بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ اس کو فلاں فلاں دشمن کے علاقے میں بھیج دو ۔ اس کو بھیج دیا گیا تو وہاں فتح ہو گئی۔ آپ مسلسل اس کو جہاد میں بھیجتے رہے حتیٰ کہ تیسری مر تبہ وہ شہید ہو گیا۔ تو آپ نے اس کی بیوی سے نکاں کرلیا۔ جب آپ اس سے ہمبستر ہوئے تو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی شکل میں دو فرشتے ان کے پاس بھیجے ۔ انہوں نے آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تووہ آپ کی عبادت کا دن تھا، اس لئے محافظوں نے ان کو اندر آنے سے منع کردیا تو وہ دونوں دیوار کود کر داؤد علیہ السلام کی مسجد میں آگئے۔ آپ نماز میں مشغول تھے ، اس لئے آپ کو کچھ معلوم نہ ہوا ، آپ نے اچانک دیکھا تو دونوں آپ کے سامنےبیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام ان سے کچھ گھبر ا گئے تو انہوں نے کہا: آپ ڈرئیے مت ۔ ہم دو فریق ہیں ، ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے تو آپ ہمیں سچا فیصلہ فرمادیجیے اور خلاف حق نہ کیجئے ۔اس کے بعد آپ کی خطا ء کے اقرار کے سلسلہ میں طویل حدیث نقل فرمائی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The remembrance of the Prophet of God David, the Companion of the Psalms, upon him be peace · Hadith 4134