المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 4111
4111 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ شَبُّوَيْهِ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " كَانَ صَفِيُّ اللَّهِ مُوسَى قَدْ كَرِهَ الْمَوْتَ وَأَعْظَمَهُ فَلَمَّا كَرِهَهُ أَحَبَّ اللَّهُ أَنْ يُحَبِّبَ إِلَيْهِ الْمَوْتَ وَيُكَرِّهَ إِلَيْهِ الْحَيَاةَ، فَحُوِّلَتِ النُّبُوَّةُ إِلَى يُوشَعَ بْنِ نُونٍ فَكَانَ يَغْدُو إِلَيْهِ وَيَرُوحُ فَيَقُولُ لَهُ مُوسَى: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا أَحْدَثَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَيَقُولُ لَهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَمْ أَصْحَبْكَ كَذَا وَكَذَا سَنَةً فَهَلْ كُنْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ مِمَّا أَحْدَثَ اللَّهُ إِلَيْكَ حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تَبْتَدِئُ بِهِ وَتَذْكُرُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مُوسَى كَرِهَ الْحَيَاةَ وَأَحَبَّ الْمَوْتَ "
محمد بن اسحاق کہتے ہیں : حضرت موسیٰ صفی اللہ علیہ السلام موت کو بہت ناپسند کرتے تھےاور اس سے بہت گھبراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کے دل میں موت کی محبت اور زندگی کی نفرت پیدا کردے تو نبوت حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی طرف منتقل فرمادی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام صبح شام ان کے پاس آیا کرتے تھے اور ان سے پوچھا کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیا کیا حکم دیا ہے؟ تو حضرت یوشع بن نون علیہ السلام فرماتے : اے اللہ تعالیٰ کے نبی علیہ السلام ! کیا میں نے اتنے اتنے سال تمہاری صحبت اختیار نہیں کی ؟ میں نے کھبی آپ سے اس طرح کے سوالات کئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیا کیا حکم دیا؟ بلکہ آپ خود ہی اس کو بیان کیا کرتے تھے۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے یہ حالات دیکھے تو ان کو زندگی سے نفرت ہوگئی اور ان کو موت سے محبت ہوئی ۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← عَلِيُّ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ شَبُّوَيْهِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the death of Moses, peace be upon him · Hadith 4111
