Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4100

4100 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنِ مُطَهَّرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَفِيُّ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام " صفی اللہ " ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4100

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4101

4101 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَلَّابُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: «مَكَثَ مُوسَى بَعْدَ أَنْ كَلَّمَهُ اللَّهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا يَرَاهُ أَحَدٌ إِلَّا مَاتَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4101 - إسناده لين

ابوالحویرث عبدالرحمٰن بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے کےبعد حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس دن تک زندہ رہے اور اس کے بعد وفات تک آپ کو کسی نے نہیں دیکھا۔

أَبِي الْحُوَيْرِثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← حجاج، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4101

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4102

4102 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ مُوسَىَ بْنَ عِمْرَانَ، لَمَّا كَلَّمَهُ رَبُّهُ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَبِّي أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ، قَالَ: «لَنْ تَرَانِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ، فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَحَفَّ حَوْلَ الْجَبَلِ الْمَلَائِكَةَ، وَحَفَّ حَوْلَ الْمَلَائِكَةِ بِنَارٍ، وَحَفَّ حَوْلَ النَّارِ بِمَلَائِكَةٍ، وَحَفَّ حَوْلَ الْمَلَائِكَةِ بِنَارٍ، ثُمَّ تَجَلَّى رَبُّكَ لِلْجَبَلِ، ثُمَّ تَجَلَّى مِنْهُ مِثْلُ الْخِنْصَرِ فَجَعَلَ الْجَبَلَ دَكًّا» وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنَّهُ أَفَاقَ فَقَالَ: سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي أَوَّلَ مَنْ آمَنَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4102 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تو آپ کے دل میں اس کے دیدار کی خواہش پیدا ہوئی۔ آپ نے عرض کی: اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں ۔ فرمایا : تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔ ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھے گا۔ پھر پہاڑ کے گرد فرشتوں نے گھیرا ڈال لیا اور فرشتوں کے گرد آگ کا حالہ بنادیا گیا اور آگ کو فرشتوں نےگھیرا ڈال لیا اور ان فرشتوں کے گرد بھی آگ نے گھیرا ڈالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی مقدار تجلی ڈالی جس کی وجہ سے پہاڑ پاش پاش ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے ، جتنی دیر اللہ نے چاہا( آپ بے ہوش گرے پڑے رہے) پھر آپ کو ہوش آیا تو بولے : پاکی ہے تجھے ۔ میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں یعنی بنی اسرائیل کے ایمان لانے والوں میں سے میں سب سے پہلا ہوں ۔یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4102

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4103

4103 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا خَلْفُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «ذُكِرَتْ لِيَ الشَّجَرَةُ الَّتِي آوَى إِلَيْهَا مُوسَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسِرْتُ إِلَيْهَا يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ، ثُمَّ صَبَّحْتُهَا، فَإِذَا هِيَ خَضْرَاءُ تَرِفُّ فَصَلَّيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْتُ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بَعِيرِي وَهُوَ جَائِعٌ فَأَخَذَ مِنْهَا مِلْءَ فِيهِ وَهُوَ جَائِعٌ فَلَاكَهُ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهُ فَلَفَظَهُ، فَصَلَّيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4103 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے اس درخت کا پتہ چلا جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پناہ لی تھی تو میں دو دن اور دو راتوں کا سفر کرکے وہاں پہنچا تو وہ سر سبز تھا، لہلہا رہا تھا ۔ تو میں نے نبی ﷺ پر درود شریف پڑھا۔ میرا اونٹ بھوکا تھا، اس نے درخت کی خواہش کی ۔اس نے منہ بھرا س کے پتے اپنے منہ میں لئے اورچبانا شروع کئے لیکن وہ ان کو نگل نہ سکا تو اس نے ان کو اگل دیا ۔ میں نے پھر نبی ﷺ پر درود شریف پڑھا اور واپس لوٹ آیا۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4103

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4104

4104 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَطْمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: " {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا} [الأعراف: 143] " أَشَارَ حَمَّادٌ وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى مَفْصِلِ الْخِنْصَرِ قَالَ: فَسَاخَ الْجَبَلُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا ﴾)الأعراف:143) پھر حماد نے اشارہ کیا اور اپنا انگوٹھا اپنی چھنگلیا کےجوڑ پر رکھا اور فرمایا ( صرف اتنی سی تجلی ڈالی تھی جس سے ) پہاڑ دھنس گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَطْمِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4104

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4105

4105 - فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - شَكَّ أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ - {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا} [الأعراف: 143] قَالَ: «سَاخَ الْجَبَلُ» فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْجُرْجَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالُوا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخُزَاعِيِّ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ هُدْبَةُ

حضرت ان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے ( ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے موسیٰ بن اسماعیل پر شک کیا ہے ) آپ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو اس کو پاش پاش کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں : پہاڑ دھنس گیا ۔ امام حاکم بن رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : حسن بن سفیان ، عمران بن موسیٰ جرجانی اور احمد بن المثنی نے ہدبہ بن خالد کے حوالے سے حماد بن سلمہ سے خزاعی کی طرح حدیث روایت کی ہے اور اس میں ہدبہ کو شک نہیں ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَ حَدِيثِ الْخُزَاعِيِّ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ هُدْبَةُ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْجُرْجَانِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← «سَاخَ الْجَبَلُ» ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4105

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4105.1

4105 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: كَانَ هَارُونُ بْنُ عِمْرَانَ فَصِيحَ اللِّسَانِ بَيِّنَ الْمِنْطِقِ يَتَكَلَّمُ فِي تُؤَدَةٍ وَيَقُولُ بِعِلْمٍ وَحِلْمٍ وَكَانَ أَطْوَلَ مِنْ مُوسَى طَوْلًا وَأَكْبَرَهُمَا فِي السِّنِّ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمَا لَحْمًا وَأَبْيَضَهُمَا جِسْمًا وَأَعْظَمَهُمَا أَلْوَاحًا، وَكَانَ مُوسَى رَجُلًا جَعْدًا آدَمَ طُوَالًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا وَقَدْ كَانَتْ عَلَيْهِ شَامَةُ النُّبُوَّةِ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ شَامَةَ النُّبُوَّةِ كَانَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَقَدْ سُئِلَ نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «هَذِهِ الشَّامَةُ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيَّ شَامَةُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي لِأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُولَ»

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام فصیح اللسان ، واصح البیان تھے۔ بہت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ گفتگو کرتے اور بردباری کے ساتھ عالمانہ کلام کیا کرتے تھے۔ ان کا قد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لمبا اور ویسے بھی آپ موسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بھی بڑے تھے اور ان سے زیادہ جسیم تھے۔ ان کا رنگ بھی موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ سفید تھا اور ان کی تختیاں بھی زیادہ تھیں جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگت کے گول جسامت والے شنوءۃ ( علاقے ) مردوں کی طرح تھے اور اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبی بنا کر مبعوث فرمایا ، اس کے داہنے بازو پر نبوت کی نشانی رکھی، سوائے ہمارے نبی اکرم ﷺ کے کہ آپ کی مہر کندھوں کے درمیان ہے یہ مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہ السلام کی نشانیاں ہیں کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی آ سکتا ہے نہ رسول ۔

كَانَ هَارُونُ بْنُ عِمْرَانَ فَصِيحَ اللِّسَانِ بَيِّنَ الْمِنْطِقِ يَتَكَلَّمُ فِي تُؤَدَةٍ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4105.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4106

4106 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كَانَ عِلْمُ اللَّهِ وَحِكْمَتُهُ فِي ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ فَعِنْدَ ذَلِكَ آتَى اللَّهُ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ مُلْكَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، فَمَلَكَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} الْآيَةُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ مُوسَى وَهَارُونَ فَأَوْرَثَهُمَا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا وَمَلَّكْهُمَا مُلْكًا نَاعِمًا فَمَلَكَ مُوسَى وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَرَادَ أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَمَلَّكَهُمْ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا وَآتَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا حَتَّى سَأَلُوا أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ، فَقَالُوا: أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً، وَذَلِكَ حِينَ رَأَوْا مُوسَى كَلَّمَهُ رَبَّهُ وَسَمِعُوا فَطَلَبُوا الرُّؤْيَةَ، وَكَانَ مُوسَى انْتَقَى خِيَارَهُمْ لِيَشْهَدُوا لَهُ عِنْدَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّ رَبَّهُ قَدْ كَلَّمَهُ، فَقَالُوا: لَنْ نَشْهَدَ لَكَ حَتَّى تُرِيَنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ "

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہی رہی ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف بن یعقوب علیہ السلام کو ارض مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے وہاں پر 72 سال حکومت کی ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:: ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ﴾[يوسف: 101]" اے میرے رب بے شک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا اے آسمانوں اور زمیں کے بنانے والے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو 88 سال حکومت دی پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مزید وسعت فرمائی اور ان کو زمین کے مشارق و مغارب کا مالک کردیا اور ان کو عظیم حکومت عطا فرمائی ، حتیٰ کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کردیا اور بولے : تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا دیدار کرا، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رپ سے ہمکلام ہوتے ہیں اور انہوں نے خود سن بھی لیا تو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کردیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے برگزیدہ لوگوں کو چن لیا تھا تاکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آکر اس بات کی گواہی دیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا لیکن یہ لوگ کہنے لگے : جب تک ہم خود اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ لیں گے اس وقت تمہارے حق میں گواہی نہیں دیں گے ۔تو ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک زور دار چیخ آئی ( اور یہ لوگ مر گئے)

أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4106

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ · حديث 4107

4107 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ كَانَ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا، فَأَتَى مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ فَلَطَمَهُ مُوسَى فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَعَرَجَ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ عَبْدَكَ مُوسَى فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ اللَّهُ إِيتِ عَبْدِي مُوسَى فَخَيِّرْهُ بَيْنَ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْهَا كَفُّهُ سَنَةٌ وَبَيْنَ أَنْ يَمُوتَ الْآنَ، فَأَتَاهُ فَخَيَّرَهُ، فَقَالَ مُوسَى: فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ إِذًا، فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ وَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَأْتِي النَّاسَ فِي خِفْيَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4107 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت عزرائیل علیہ السلام لوگوں کے پاس ظاہراً آیا کرتے تھے۔ اسی طرح یہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس آگئے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو تھپڑ مارا ، جس کی وجہ سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی تو ملک الموت علیہ السلام واپس چلے گئے اور عرض کی: اے میرے رب ! تیرے بندے موسیٰ علیہ السلام نے میرے ساتھ یہ معاملہ کیا۔ اگر وہ تیری بارگاہ میں معزز نہ ہوتا تو میں اسے مشقت میں ڈال دیتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے کے پاس چلا جا اور اسے اختیار دے دے کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھیں ، جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں ، ان میں سے ہر بال کے بدلے ان کی عمر مٰں ایک سال کا اضافہ کردیا جائے گا یا وہ موت کے لئے تیار ہو جائیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ( جو اضافی سال مجھے مل جائیں گے جب ) وہ بھی گزر جائیں گے تو پھر کیا ہوگا ؟ اس نے کہا : موت ۔ آپ نے فرمایا : تو پھر ابھی جان نکال لے۔ ملک الموت علیہ السلام نے آپ کو ایک خوشبو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آنکھ لوٹا دی ۔ اس کے بعد ملک الموت لوگوں کے پاس خفیہ طریقے سے آنے لگے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of the Prophet Musa bin Amran and his brother Aaron bin Amran · Hadith 4107

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4108

4108 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: وَنَعَى اللَّهُ هَارُونَ لِمُوسَى حِينَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْبِضَهُ، فَلَمَّا نَعَاهُ لَهُ حَزِنَ، فَلَمَّا قُبِضَ جَزَعَ جَزَعًا شَدِيدًا وَبَكَى بُكَاءً طَوِيلًا، فَلَمَّا عَادَ فِي ذَلِكَ أَقْبَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ يُعَزِّيهِ وَيَعِظُهً فَقَالَ لَهُ: «يَا مُوسَى مَا كَانَ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَحِنَّ إِلَى فَقْدِ شَيْءٍ مَعِي وَلَا أَنْ تَسْتَأْنِسَ بِغَيْرِي، وَلَا أَنْ تُشَدَّ رُكَبَكَ إِلَّا بِي، وَلَا أَنْ يَكُونَ جَزَعُكَ هَذَا الْآنَ عَلَى هَارُونَ إِلَّا لِي، وَكَيْفَ تَسْتَوْحِشُ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ، وَأَنْتَ تَسْمَعُ كَلَامِي أَمْ كَيْفَ تَحِنُّ إِلَى فَقْدِ شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا بَعْدَ إِذِ اصْطَفَيْتُكَ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي وَذَكَرَ مُنَاجَاةً طَوِيلَةً» قَالَ وَقُبِضَ هَارُونُ وَمُوسَى ابْنُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَمِائَةِ سَنَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنْقَضِيَ التِّيهُ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَقُبِضَ هَارُونُ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ بَقِيَ مُوسَى بَعْدَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ حَتَّى، تَمَّ لَهُ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً وَبَنُو إِسْرَائِيلَ مُتَفَرِّقُونَ عَلَيْهِ يَجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ مَرَّةً وَيَفْتَرِقُونَ أُخْرَى "

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو وفات دینے کا ارادہ کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی وفات کی اطلاع ( پہلے ہی ) دے دی تھی ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے اور آپ بہت روئے ۔ جب آپ کو کچھ قرار آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے موسیٰ علیہ السلام ! میرے ہوتےہوئے آپ کو کسی چیز کے کھونے پر اس قد پریشان نہیں ہونا چاہیے ، میرے علاوہ کسی اور سے اس قدر انس بھی نہیں رکھنا چاہیے اور آپ کو ہمیشہ میری جانب ہی متوجہ رہنا چاہیے اور اس موقع پر آپ کو ہارون علیہ السلام کے لئے اس قدر آہ و بکا نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ میرا کلام سنتے ہوئے آپ کسی بھی چیز سے مانوس کیسے رہ سکتے ہیں۔ یا آپ دنیا کی کوئی چیز کھو جانے پر کیسے رو سکتے ہیں جب کہ میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا ہےاور بہت طویل مناجاۃ کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : اور مقام تیہ کی مدت پوری ہونے سے تین سال قبل جب حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر117 سال تھی جبکہ حضرت ہارون علیہ السلام کی عمر، ان کی وفات کے وقت 120 سال تھی۔آپ کے انتقال کے بعد تین سال تک مزید حضرت موسیٰ علیہ السلام مقام تیہ میں رہے ۔ حتیٰ کہ آپ کی عمر بھی 120 سال مکمل ہوگئی اور بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے۔ کبھی تو آپ کی بات پر اکٹھے ہو جاتے اور کبھی پھر بکھر جاتے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4108

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4109

4109 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، فِي خَبَرٍ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ إِنِّي مُتَوَفِّي هَارُونَ، فَأْتِ بِهِ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقَ مُوسَى وَهَارُونُ نَحْوَ ذَلِكَ الْجَبَلِ، فَإِذَا هُمْ بِشَجَرَةٍ مَثَّلَهَا بِبَيْتٍ مَبْنِيٍّ، وَإِذَا هُمْ فِيهِ بِسَرِيرٍ عَلَيْهِ فُرُشٌ، وَإِذَا فِيهِ رِيحٌ طَيِّبٌ، فَلَمَّا نَظَرَ هَارُونُ إِلَى ذَلِكَ الْجَبَلِ وَالْبَيْتِ وَمَا فِيهِ أَعْجَبَهُ، وَقَالَ: يَا مُوسَى إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَنَامَ عَلَى هَذَا السَّرِيرِ، قَالَ لَهُ مُوسَى: فَنَمْ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ رَبُّ هَذَا الْبَيْتِ فَيَغْضَبَ عَلَيَّ. قَالَ لَهُ مُوسَى: لَا تَرْهَبْ أَنَا أَكْفِيكَ رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ فَنَمْ، فَقَالَ: يَا مُوسَى بَلْ نَمْ مَعِي، فَإِنْ جَاءَ رَبُّ هَذَا الْبَيْتِ غَضِبَ عَلَيَّ وَعَلَيْكَ جَمِيعًا، فَلَمَّا نَامَا أَخَذَ هَارُونَ الْمَوْتُ، فَلَمَّا وَجَدَ حِسَّهُ، قَالَ: يَا مُوسَى خَدَعَتْنِي، فَلَمَّا قُبِضَ رُفِعَ ذَلِكَ الْبَيْتُ وَذَهَبَتْ تِلْكَ الشَّجَرَةُ وَرُفِعَ السَّرِيرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَيْسَ مَعَهُ هَارُونُ قَالُوا: إِنَّ مُوسَى قَتَلَ هَارُونَ وَحَسَدَهُ حُبَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَهُ، وَكَانَ هَارُونُ آلَفَ عِنْدَهُمْ وَأَلْيَنَ لَهُمْ مِنْ مُوسَى، وَكَانَ فِي مُوسَى بَعْضُ الْغِلَظِ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا بَلَغَهُ ذَلِكَ، قَالَ لَهُمْ: وَيْحَكُمْ إِنَّهُ كَانَ أَخِي أَفَتَرُونِي أَقْتُلُهُ؟ فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ فَنَزَلَ بِالسَّرِيرِ حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَصَدَّقُوهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4109 - على شرط البخاري ومسلم

حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ،عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں ہارون علیہ السلام کو وفات دینے والا ہوں، اس لئےاس کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے آؤ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو ہمراہ لے کر اس پہاڑ پر چلے گئے ۔ وہان انہوں نے ایک درخت دیکھا جو ایک مکان کی طرح تھا ۔ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو ایک چارپائی پر موجود پایا جس کے اوپر بستر بچھا ہوا تھا اور اس سے بہت عمدہ خوشبو آرہی تھی۔جب حضرت ہارون علیہ السلام نے وہ پہاڑ اور مکان اورجو کچھ اس میں تھا اس کو دیکھا تو یہ سب ان کو بہت اچھا لگا اور بولے اے موسیٰ علیہ السلام میرا دل چاہا رہا ہے کہ میں اس چارپائی پر سو جاؤں ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : سوجائیے ۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے کہا : لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس گھر کا مالک آگیا تو وہ مجھ پر ناراض ہوگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : اس کی آپ فکر نہ کریں ، اس سے میں خود نمٹ لوں گا۔ آپ سو جائیے ۔ وہ بولے ! آپ بھی میرے ساتھ لیٹیں تاکہ اگر اس گھر کا مالک آئے تو ہم دونوں پر ناراض ہو ۔ جب وہ دونوں سو گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات ہوگئی تو وہ مکان اوپر اٹھا لیا گیا اوروہ درخت بھی چلا گیا اور وہ چار پائی آسمانوں کی طرف اٹھا لی گئی ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس بنی اسرائیل کی طرف آئے اور ان کے ہمراہ حضرت ہارون علیہ السلام نہ تھے تو وہ بولے : بنی اسرائیل کی ہارون علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے حسد میں آکر موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کو قتل کردیا ہے۔ بنی اسرائیل ہارون علیہ السلام سے بہت الفت رکھتے تھے اور ویسے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت آپ نرم مزاج تھے جبکہ موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت میں کچھ سختی تھی۔جب آپ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا : وہ تو میرے بھائی تھے، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے بھائی کو قتل کیا ہے؟ جب ان لوگوں کی طرف سے یہ الزام زور پکڑ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دورکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نےوہ چارپائی اتار دی اور ان لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے زمین اور آسمان کے درمیان دیکھا ۔ تب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کا اعتبار کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَالِکٍ ← السُّدِّيِّ، فِي خَبَرٍ ذَكَرَهُ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4109

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4110

4110 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا} [الأحزاب: 69] قَالَ: " صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: أَنْتَ قَتَلْتَهُ كَانَ أَشَدَّ حُبًّا لَنَا مِنْكَ وَأَلْيَنَ لَنَا مِنْكَ فَآذَوْهُ فِي ذَلِكَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ فَحَمَلَتْهُ فَمَرُّوا بِهِ عَلَى مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى عَلِمُوا بِمَوْتِهِ فَدَفَنُوهُ وَلَمْ يَعْرِفْ قَبْرَهُ إِلَّا الرَّخَمُ وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ أَصَمَّ أَبْكَمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4110 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ﴾[الأحزاب: 69] "اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تکلیف دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے الزامات سے ان کو بری کردیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پہاڑ پر چڑھے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وہاں انتقال ہو گیا، تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ محبت تم سے زیادہ تھی۔اور وہ ہم پر آپ سے زیادہ نرم بھی تھے۔تو اس سلسلہ میں الزام لگا کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس سے گزرے ۔ تب ان کو حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا یقین ہوا پھر انہوں نے ان کو دفن کیا اور آپ کی قبر کو سوائے ایک "رضم " نامی آدمی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا اور اس " رضم " کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ ← عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4110

chevron_left Previous
1…91011…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section