المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ قُرَيْشٍ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3975
3975 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَضَّلَ اللَّهُ قُرَيْشًا بِسَبْعِ خِلَالٍ؛ أَنِّي فِيهِمْ وَأَنَّ النُّبُوَّةَ فِيهِمْ، وَالْحِجَابَةَ فِيهِمْ، وَالسِّقَايَةَ فِيهِمْ، وَأَنَّ اللَّهَ نَصَرَهُمْ عَلَى الْفِيلِ، وَأَنَّهُمْ عَبَدُوا اللَّهَ عَشْرَ سِنِينَ لَا يَعْبُدُهُ غَيْرُهُمْ، وَأَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِيهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ» ثُمَّ تَلَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ، فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ} [قريش: 2] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3975 - يعقوب ضعيف وإبراهيم صاحب مناكير هذا أنكرها
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کی وجہ سے قریش کو فضیلت بخشی ہے ۔ 1۔ میں قریش میں ہوں، 2۔ نبوت ان میں ہے ، 3۔ ( کعبۃ اللہ کی ) دربانی ان کے پاس ہے ، 4۔ ( آب زم زم کی ) نگرانی ان کے پاس ہے ، 5۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں پر ان کو غلبہ دیا، 6۔ انہوں نے وہ دس سال اللہ تعالیٰ کی عباد کی ہے جب ان کے سوا کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرتا تھا ، 7 ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق قرآن کریم کی ایک مکمل سورۃ نازل فرمائی ہے ۔ پھر حضور ﷺ نے اس سورت کی تلاوت فرمائی : ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ١ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ٢ فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ٣ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ٤﴾ [قريش: 1-4]" اس لیے کہ قریش کو میل دلایا ان کے جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ میں میل دلایا تو انہیں چاہیئے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ← إبراهيم بن محمد بن ثابت بن شرحبيل، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the Quraysh chapter › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3975
