المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفِيلِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3974
3974 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ أَصْحَابُ الْفِيلِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُمْ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لِمَلِكِهِمْ: مَا جَاءَ بِكَ إِلَيْنَا مَا عَنَاكَ يَا رَبَّنَا أَلَا بَعَثْتَ فَنَأْتِيكَ بِكُلِّ شَيْءٍ أَرَدْتَ؟ " فَقَالَ: أُخْبِرْتُ بِهَذَا الْبَيْتِ الَّذِي لَا يَدْخُلُهُ أَحَدٌ إِلَّا آمَنَ فَجِئْتُ أُخِيفُ أَهْلَهُ. فَقَالَ: إِنَّا نَأْتِيكَ بِكُلِّ شَيْءٍ تُرِيدُ فَارْجِعْ" فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَدْخُلَهُ وَانْطَلَقَ يَسِيرُ نَحْوَهُ وَتَخَلَّفَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَقَامَ عَلَى جَبَلٍ فَقَالَ: " لَا أَشْهَدُ مَهْلِكَ هَذَا الْبَيْتِ وَأَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: [البحر الكامل] اللَّهُمَّ إِنَّ لِكُلِّ إِلَهٍ ... حَلَالًا فَامْنَعْ حَلَالَكْ لَا يَغْلِبَنَّ مُحَالُهُمْ ... أَبَدًا مِحَالَكْ اللَّهُمَّ فَإِنْ فَعَلْتَ ... فَأْمُرْ مَا بَدَا لَكْ فَأَقْبَلَتْ مِثْلُ السَّحَابَةِ مِنْ نَحْوِ الْبَحْرِ حَتَّى أَظَلَّتْهُمْ طَيْرٌ أَبَابِيلُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ} [الفيل: 4] قَالَ: فَجَعَلَ الْفِيلُ يَعُجُّ عَجًّا {فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ} [الفيل: 5] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3974 - صحيح
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اصحاب الفیل جب مکۃ المکرمہ کے قریب پہنچے تو عبدالمطلب ان کے سامنے آئے اور ان کے سردار سے کہا: تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو، تم نے کوئی پیغام بھیج دیا ہوتا تو ہم آپ کی مطلوبہ ہر چیز تم تک خود پہنچا دیتے ، اس نے کہا : مجھے پتہ چلا ہے کہ اس گھر میں جو بھی داخل ہو گا امن والا ہو گا۔ میں اس کے رہنے والوں کو ڈرانے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے کہا: تم جو چیز بھی چاہتے ہو ہم تمہیں دے دیتے ہیں لیکن تم واپس چلے جاؤ۔ لیکن وہ نہ مانا بلکہ داخل ہونے پر بضد رہا اور مکہ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ۔ عبدالمطلب وہاں سے ہٹ کر پہاڑ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور بولے : کوئی تخریب کار اس گھر اور اس کے اہل کے ہلاک کرنے کے لئے یہاں داخل نہیں ہو سکا ، پھر کہا: اے اللہ تعالیٰ ! ہر معبود کا حلال ہے تو اپنے حلال کی حفاظت فرما۔ ان کی کوشش تیری کوشش پر ہرگز غالب نہیں آئے گی۔ اے اللہ ! میں کچھ نہیں کر سکتا ، تو جو مناسب سمجھے وہی کر۔ چنانچہ دریا کی جانب سے بادلوں کی سی کوئی چیز آئی اور ان کو ابابیلوں نے اڑتے ہوئے گھیر لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ٤﴾ [الفيل: 4]" کہ انہیں کنکر کے پتھر مارتے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) آپ فرماتے ہیں : ہاتھی چیختا تھا ۔ ﴿فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ٥﴾ [الفيل: 5]" تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Fil › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3974
