المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3969
3969 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} [التكاثر: 1] وَهُوَ يَقُولُ: " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَاوٍ غَيْرَ ابْنِهِ مُطَرِّفٍ، نَظَرْنَا فَإِذَا مُسْلِمٌ قَدْ أَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ مُخْتَصَرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3969 - أخرجه مسلم مختصرا
حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ " الھاکم التکاثر " پڑھ رہے تھے ۔ آپ فرما رہے تھے ۔ بندہ کہتا ہے : میرا مال ، میرا مال حالانکہ اس کا مال تو صرف وہ ہے جو " اس نے کھایا اور ختم کر دیا " ، " پہنا اور پرانا کر دیا " یا " صدقہ کیا اور آخرت کے لئے بچا لیا " ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور یہ شیخین کے معیار کے مطابق نہیں ہے اور عبداللہ بن شخیر کا راوی اس کے بیٹے مطرف سے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔ ہم نے غور کیا تو امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے شعبہ کی حدیث ، قتادہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختصر اً نقل کی ہے ۔
مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّ أَبَاهُ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّمَّاكِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat your God of multiplication › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3969
