المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَارِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3968
3968 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ تَلْقَى رُوحَهُ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَقُولُوا لَهُ: مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَإِذَا قَالَ: مَاتَ، قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِيَّةُ «هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنِّي لَمْ أَجِدْ لِهَذِهِ السُّورَةِ تَفْسِيرًا عَلَى شَرْطِ الْكِتَابِ فَأَخْرَجْتُهُ إِذْ لَمْ أَسْتَجِزْ إِخْلَاءَهُ مِنْ حَدِيثٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3968 - مرسل
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بندہ مومن فوت ہوتا ہے تو اس کی روح ، مومنین کی روحوں سے ملاقات کرتی ہے ۔ وہ اس سے پوچھتی ہیں : فلاں کا کیا ہوا ؟ جب یہ کہتا ہے کہ وہ مر چکا ہے تو وہ کہتی ہیں : وہ اپنی ماں ہاویہ میں چلا گیا ہے اور یہ بہت ہی بری ماں ہے اور بہت بری پالنے والی ۔ یہ حدیث مرسل ہے صحیح الاسناد ہے کیونکہ مجھے اس سورۃ کی تفسیر میں اس کتاب کے معیار کے مطابق کوئی روایت نیں ملکی ۔ اس لئے میں نے یہی روایت نقل کر دی کیونکہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ اس سورۃ کو حدیث سے خالی رکھا جائے ۔
الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهمدان
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Qarah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3968
