المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزَّلْزَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3964
3964 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرَّاءِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: كَبِرَتْ سِنِّي، وَاشْتَدَّ قَلْبِي، وَغَلُظَ لِسَانِي، قَالَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم» فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقَالَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ» فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً. فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِذَا زُلْزِلَتْ} [الزلزلة: 1] حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِ أَبَدًا. ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ» ثُمَّ ذَكَرَ مَا يُقِيمُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3964 - بل صحيح
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی رسول اللہ ﷺ خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے قرآن پڑحائیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: راء والی سورتوں میں تین پڑھ لو ۔ اس نے کہا : میں بوڑھا ہو چکا ہوں ، میرا دل سخت ہو چکا ہے اور میری زبان بھی گاڑھی ہو چکی ہے ۔ آپ نے فرمایا : تو " حم والی سورتوں میں سے تین پڑھ لو " اس نے پھر وہی جواب دیا ۔ آپ نے فرمایا: " سبحات میں سے تین پڑھ لو " ۔ اس نے پھر وہی جواب دیا ۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی جامع سورۃ پڑھا دیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو سورۃ الزلزال پڑھائی ۔ جب پڑھا کر فارغ ہوئے تو اس آدمی نے کہا: اس ذاب کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔ میں اس سے زیادہ ہر گز نہیں پڑھو گا۔ پھر وہ آدمی چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ آدمی کامیاب ہو گیا پھر آپ نے اس چیز کا ذکر کیا جو اس کو استقامت دے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَقْرِئْنِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The interpretation of the earthquake › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3964
