Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3958

3958 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} [القدر: 1] قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ جُمْلَةً وَاحِدَةً إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا كَانَ بِمَوْقِعِ النُّجُومِ» ، فَكَانَ اللَّهُ يُنَزِّلُهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهُ فِي أَثَرِ بَعْضٍ، قَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا} [الفرقان: 32] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3958 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ١﴾ [القدر: 1]" کے متعلق فرماتے ہیں : قرآن پاک شب قدر میں آسمان دنیا پر یکبارگی اتار گیا جو کہ ستاروں کے مقام پر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے وہاں سے رسول اللہ ﷺ پر وقتاً فوقتاً نازل فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا٣٢﴾ [الفرقان: 32]" اور کافر بولے : قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا ہم نے یونہی اسے بتدریج اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah We have sent it down › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3958

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3959

3959 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا جُمْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ فُرِّقَ فِي السِّنِينَ، قَالَ: وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ، وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ} [الواقعة: 76] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3959 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کریم شب قدر میں سب سے اوپر والے آسمان سے آسمان دنیا پر یکبارگی نازل ہوا پھر ( وہاں سے ) کئی سالوں میں نازل ہوا اور آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ٧٥ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ٧٦﴾ [الواقعة: 75-76]" تو مجھے ان جگہوں کی قسم ہے جہاں تارے ڈوبتے ہیں اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے"۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حكيم بن جبير ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah We have sent it down › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3959

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3960

3960 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكِ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ، أَمْ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ؟ قَالَ: «بَلْ فِي رَمَضَانَ» قُلْتُ: أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضَ الْأَنْبِيَاءُ رُفِعَتْ أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي فِي أَيَّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ: «فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا» فَقُلْتُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي أَيِّ عَشْرٍ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا شَدِيدًا مَا غَضِبَ عَلَيَّ قَبْلُ وَلَا بَعْدُ مِثْلَهُ، وَقَالَ: «لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَأَطْلَعَكُمْ عَلَيْهَا الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3960 - صحيح

حضرت مرثد کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی شب قدر کا تذکرہ کرنے سنا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے ( ایک دفعہ ) عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے شب قدر کے متعلق بتائیے کہ یہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے یا غیر رمضان میں ؟ آپ نے فرمایا : رمضان المبارک میں ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ صرف انبیاء کرام کی ظاہری حیات تک ہی ہوتی ہے اور نبی کی وفات کے ساتھ اس کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے ، یا قیامت تک کے لئے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ یہ رمضان المبارک کے کن ایام میں ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : آخری عشرہ میں اور اب اس کے بعد اس سلسلہ میں مجھ سے کوئی سوال مت کرنا ۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو آپ پر ہے ۔ آخری عشرے کے کس دن ہوتی ہے ؟ ( ابوذر رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : اس بات پر رسول اللہ ﷺ مجھ پر اس قدر شدید ناراض ہوئے تھے اور پ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں اس کی بھی اطلاع دے دیتا اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اس کے بعد اب مجھ سے کوئی سوال مت کرنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَسُولَ اللَّهِ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: ← قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ هَلْ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكِ الْحَنَفِيِّ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ الْيَمَامِيِّ، ← إِسْحَاقُ، أنبا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah We have sent it down › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3960

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3961

3961 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ: أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ. فَقَالُوا: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. فَنَزَلَتْ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا} [الإسراء: 85] قَالُوا: نَحْنُ لَمْ نُؤْتَ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا وَقَدْ أُوتِينَا التَّوْرَاةَ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا} [الكهف: 109] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3961 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قریش نے یہود سے کہا : ہمیں کوئی ایسی چیز بتاؤ جس کے بارے میں ہم اس آدمی ( محمد ﷺ ) سے سوال کریں ۔ انہوں نے کہا: اس سے روح کے متعلق پوچھو ! تب یہ آیت نازل ہوئی : ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا٨٥﴾ [الإسراء: 85]" اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں ، تم فرماؤ روح میرے ر ب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) انہوں نے کہا: ہمیں تھوڑا علم ملا ہے جبکہ ہمیں توراۃ دی گئی ، جس میں اللہ کا حکم موجود ہے اور جس کو توراۃ دی گئی اس کو خیر کثیر دیا گیا۔ آپ فرماتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی : ﴿قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا١٠٩﴾ [الكهف: 109]" تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں ے لئے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الرُّوحِ. فَنَزَلَتْ ← سَلُوہُ ← قُرَیْشٌ لِلْیَھُوْدِ اَعْطُونَا شَیْئًا نَسْاَلُ عَنْہُ ھٰذَا الرَّجُلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah We have sent it down › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3961

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section