المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ أَلَمْ نَشْرَحْ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3949
3949 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، قَالَ: فَغَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ " قَالَ: وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ، يَعْنِي ظِئْرَهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَأَقْبَلَتْ ظِئْرُهُ تُرِيدُهُ فَاسْتَقْبَلَهَا رَاجِعًا وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ: وَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . " وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «لَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ» وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3949 - صحيح على شرط مسلم
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین رحمتہ اللہ علیہ ، علیہ السلام رسول اکرم ﷺ کے پاس آئے ، اس وقت آپ بچون کے ہمراہ کھیل رہے تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پکڑ کر لٹا لیا اور آپ کا سینہ چاک کیا اور اس میں سے ایک لوتھڑا نکالا اور بولے : یہ تمہارے اندر شیطان کا حصہ ہے ۔ پھر انہوں نے سونے کے ایک تھال میں رکھ کر آب زم زم کے ساتھ اسے دھویا پھر اس کو سمیٹ کر دوبارہ اپنے مقام پر رکھ دیا۔ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : بچے دوڑتے ہوئے آپ کی رضاعی والدہ کے پاس آئے اور بولے : محمد ﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے تو آپ کی رضاعی والدہ ان کی تلاش میں نکل پڑیں ، اس وقت آپ واپس گھر آ رہے تھے ۔ اس وقت گھبراہٹ کے ساتھ آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے خود آپ کے سینہ اقدس پر سلائی کے نشانات دیکھے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔جبکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صحیح سند کے ہمراہ منقول ہے کہ ایک مشقت کبھی بھی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی اور ایک مرسل سند کے ہمراہ بھی نبی اکرم ﷺ سے روایت موجود ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أَبُو مُسْلِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Have we not explained the interpretation of Surat? › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3949
