Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالضُّحَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3943

3943 - حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أُرِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِهِ مِنْ بَعْدِهِ، فَسُرَّ بِذَلِكَ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى إِلَى قَوْلِهِ {وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى} [الضحى: 5] قَالَ: «فَأَعْطَاهُ أَلْفَ قَصْرٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤٍ تُرَابُهُ الْمِسْكُ فِي كُلِّ قَصْرٍ مِنْهَا مَا يَنْبَغِي لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3943 - تفرد به عصام بن رواد عن أبيه وقد ضعف

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے بعد امت کی فتوحات دکھائیں اور ان پر خوش ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : ﴿وَالضُّحَى١ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى٢﴾ [الضحى: 1-2]" چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈلے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس آیت تک : ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى٥﴾ [الضحى: 5]" اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو جنت میں ایک ہزار موتیوں کے محل عطا فرمائے جن کی مٹی مشک ہے اور ہر محل میں اس کی آسائش کا مکمل سامان ہو گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، ← محمد بن الحسن العسقلاني ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah and Ad-Duha › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3943

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالضُّحَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3944

3944 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَأَلْتُ اللَّهَ مَسْأَلَةً وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ ذَكَرْتُ رُسُلَ رَبِّي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، سَخَّرْتَ لِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ، وَكَلَّمْتَ مُوسَى فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَلَمْ أَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَيْتُكَ وَضَالًّا فَهَدَيْتُكَ وَعَائِلًا فَأَغْنَيْتُكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَوَدِدْتُ أَنْ لَمْ أَسْأَلْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3944 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک سوال پوچھا ، کاش کہ میں وہ سوال نہ پوچھا ہوتا، میں نے اللہ کے رسولوں کا ذکر کیا، پھر میں نے کہا: اے میرے رب تو نے سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر کیا اور تو نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ میں نے تمہیں یتیم پایا تو تمہیں ٹھکانا دیا اور تمہیں ( اپنی محبت میں ) گم پایا تو تمہیں راہ دی اور تمہیں بے سرو سامان پایا تو تمہیں غنی کر دیا ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے کہا : جی ہاں تو مجھے یہ خواہش ہوئی کہ کاش ہم نے یہ سوال نہ پوچھا ہوتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah and Ad-Duha › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3944

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالضُّحَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3945

3945 - أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ إِلَى {وَامْرَأَتُهُ حَمَالَةَ الْحَطَبِ فِي جِيدِهَا} [المسد: 5] حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ قَالَ: فَقِيلَ لِامْرَأَةِ أَبِي لَهَبٍ: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ هَجَاكِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَلَأِ فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ عَلَى مَا تَهْجُونِي؟ قَالَ: فَقَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا هَجَوْتُكِ مَا هَجَاكِ إِلَّا اللَّهُ» قَالَ: فَقَالَتْ: هَلْ رَأَيْتَنِي أَحْمِلُ حَطَبًا أَوْ رَأَيْتَ فِيَ جِيدِي حَبْلًا مِنْ مَسَدٍ؟ ثُمَّ انْطَلَقَتْ، فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا لَا يُنَزَّلُ عَلَيْهِ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ مَا أَرَى صَاحِبَكَ إِلَّا قَدْ وَدَّعَكَ وَقَلَاكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى} [الضحى: 1] مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ كَمَا حَدَّثَنَاهُ هَذَا الشَّيْخُ إِلَّا أَنِّي وَجَدْتُ لَهُ عِلَّةً» [ص:574]

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سورۃ لہب : ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ١ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ٢ سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ٣ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ٤ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ٥﴾ [المسد: 1-5]" تباہ ہو جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا ، اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا ، اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ اور اس کی جورو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسا" ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) نازہ ہوئی تو ابو لہب کی بیوی سے کیا گیا : محمد نے تیری مذمت کی ہے ۔ وہ رسول اکرم ﷺ کے پاس آئی ، اس وقت آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ وہ آکر بولی : اے محمد ﷺ ! تم میری مذمت کیوں کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! تیری مذمت میں نے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیری مذمت کی ہے ۔ اس نے کہا : کیا تم نے مجھے دیکھا ہے ، میں لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتی ہوں یا تو نے دیکھا ہے میرے گلے میں کھجور کی شال کا رسا ہے ۔ پھر وہ چلی گئی ، پھر کئی دن گزر گئے اور رسول اکرم ﷺ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی تووہ آپ کے پاس آئی اور بولی : اے محمد ! میرا خیال ہے کہ آ پ کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں : ﴿وَالضُّحَى١ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى٢ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى٣﴾ [الضحى: 1-3]" چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈالے کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا اور نہ مکروہ جانا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ ہمارے شیخ نے بیان کی ہے مگر یہ کہ مجھے اس میں علت مل گئی ہے ۔

لَمَّا نَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ إِلَى حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah and Ad-Duha › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3945

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالضُّحَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3946

3946 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ حَرْفًا بِحَرْفٍ، وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ} [الضحى: 11] لَمْ أَجِدْ فِيهِ حَرْفًا مُسْنَدًا وَلَا قَوْلًا لِلصَّحَابَةِ فَذَكَرْتُ فِيهِ حَرْفَيْنِ لِلتَّابِعِينَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3945 - قال الحاكم إسناده صحيح إلا أني وجدت له علة

یزید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب سورۃ " لہب " نازل ہوئی۔ پھر اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح لفظ بہ لفظ حدیث بیان کی اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد " واما بنعمۃ ربک فحدث " کے متعلق مجھے نہ تو کوئی مسند جملہ ملا ہے اور نہ کسی صحابی کا قول ملا ہے ۔ اس لئے میں نے تابعین کے دو جملے نقل کر دئیے ہیں ۔

لَمَّا نَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ← يَزِيدَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah and Ad-Duha › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3946

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالضُّحَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3947

3947 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، اغْتَنِمُوا قَلَّمَا تَمُرُّ بِي لَيْلَةٌ إِلَّا وَأَقَرَأُ فِيهَا أَلْفَ آيَةٍ وَإِنِّي لَأَقْرَأُ الْبَقَرَةَ فِي رَكْعَةٍ، وَإِنِّي لَأَصُومُ أَشْهُرَ الْحُرُمِ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ، ثُمَّ تَلَا {وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ} [الضحى: 11] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3947 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابو الاحوص کہتے ہیں : ابو اسحاق نے کہا: اے نوجوانوں ! ( وقت کو ) غنیمت جانو، میں تقریبا ہر رات ایک ہزار آیات پڑھتا ہوں اور میں پوری سورۃ بقرہ ایک رکعت میں پڑھتا ہوں ، میں حرمت والے مہینوں کے روزے رکھتا ہوں اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہوں اور ہر پیر اور جمعرات کا بھی روزہ رکھتا ہوں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی " واما بنعمۃ ربک فحدث "

أَبِي الْأَحْوَصِ، ← حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ الرَّازِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah and Ad-Duha › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3947

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ وَالضُّحَى ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3948

3948 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ أَبُو بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: " كَانَ يَلْقَى الرَّجُلُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ رَزَقَنِي اللَّهُ الْبَارِحَةَ مِنَ الصَّلَاةِ كَذَا وَرَزَقَ مِنَ الْخَيْرِ كَذَا " فَرَحِمَ اللَّهُ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّبِيعِيَّ، وَعَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيَّ فَلَقَدْ نَبَّهَا لِمَا يُرَغِّبُ الشَّبَابَ فِي الْعِبَادَةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3948 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : ایک آدمی اپنے بھائیوں سے ملتا تو یوں کہتا تھا : اللہ تعالیٰ نے گزشتہ رات مجھے اتنی اتنی نماز پڑھنے کی توفیق دی اور مجھے فلاں فلاں بھلائی دی ۔ اللہ تعالیٰ عمرو بن عبید اللہ السبیعی اور عمرو بن میمون اودی پر رحم کرے ، انہوں نے ہمیں ایسی چیز پر تنبیہ کی ہے جو جوانی میں عبادت کی ترغیب دلاتی ہے ۔

كَانَ يَلْقَى الرَّجُلُ مِنْ إِخْوَانِهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← هُشَيْمٌ أنبأ] أَبُو بَلْجٍ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah and Ad-Duha › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3948

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section