المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3938
3938 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا} [الشمس: 1] قَالَ: «ضَوْءُهَا» {وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا} [الشمس: 2] «تَبِعَهَا» {وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا} [الشمس: 3] قَالَ: «أَضَاءَهَا» {وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا} [الشمس: 5] قَالَ: «اللَّهُ بَنَى السَّمَاءَ» {وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا} [الشمس: 6] قَالَ: «دَحَاهَا» قَالَ: {وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} [الشمس: 8] قَالَ: «عَرَفَ شَقَاءَهَا وَسَعَادَتَهَا» {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا} [الشمس: 9] قَالَ: «أَغْوَاهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3938 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا١﴾ [الشمس: 1]" سورج اور اس کی روشنی کی قسم " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )( کی تفسیر کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں ۔ ( ضحاہا سے مراد ) اس کی روشنی ہے ۔ " ﴿وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا٢﴾ [الشمس: 2]" اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( میں تلاہا سے مراد ) تبعھا یعنی اس کے پیچھے آنا ہے ۔ اور " ﴿وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا٣﴾ [الشمس: 3]" اور دن کی جب اسے چمکائے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( میں جلاھا کا معنی ) اضاء ھا یعنی اسے چمکائے ہے ۔ اور " ﴿وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا٥﴾ [الشمس: 5]" اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( کی تفسیر کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا : ﴿وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا٦﴾ [الشمس: 6]" اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( میں طحاھا سے مراد ) دحاھا یعنی اس کو پھیلایا ہے ۔ اور : ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا٧ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا٨﴾ [الشمس: 7-8]" اور جان کی اور جس نے اسے ٹھیک بنایا پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( کی تفسیر کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں : اس کو اس کی بدبختی اور نیک بختی کی پہچان کرا دی ۔ " ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا٩ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا١٠﴾ [الشمس: 9-10]" بے شک مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا اور نا مراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( میں دساھا کا معنی ) اغواھا یعنی ( اسے چھپایا ) ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
عَرَفَ شَقَاءَهَا وَسَعَادَتَهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا [الشمس: ← وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا [الشمس: ← دَحَاهَا ← اللَّهُ بَنَى السَّمَاءَ وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا [الشمس: ← أَضَاءَهَا وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا [الشمس: ← ضَوْءُهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا [الشمس: تَبِعَهَا وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا [الشمس: ← ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا [الشمس: ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the Surah al-Shams › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3938
