المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْغَاشِيَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3925
3925 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ، يَقُولُ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِدَيْرِ رَاهِبٍ فَنَادَاهُ: يَا رَاهِبُ يَا رَاهِبُ. قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيَبْكِي، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُبْكِيكَ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: " ذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: {عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ} [الغاشية: 4] فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي «هَذِهِ حِكَايَةٌ فِي وَقْتِهَا، فَإِنَّ أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ لَمْ يُدْرِكْ زَمَانَ عُمَرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3925 - الجوني لم يدرك عمر لكنها حكاية في موضعها
ابو عمران جونی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک راہب کے عباد خانے سے گزرے اور راہب کو آواز دی : اے راہب ، اے راہب ۔ ( راوی ) کہتے ہیں ۔ وہ راہب باہر آیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی جانب دیکھ کر رونے لگے ۔ آپ سے کسی نے کہا : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! آ پاس کو دیکھ کر رو کیوں رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آ گیا جو کہ قرآن کریم میں موجود ہے : ﴿عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ٣ تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً٤ تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ٥﴾ [الغاشية: 3-5]" کام کریں ، مشقت جھیلیں ، جائیں بھڑکتی آگ میں ، نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس ارشاد نے مجھے رلا دیا ہے ۔ یہ واقعہ کی اور وقت کا ہے کیونکہ ابو عمران الجونی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
فَقِيلَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُبْكِيكَ مِنْ هَذَا؟ ← فَأَشْرَفَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيَبْكِي، ← مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِدَيْرِ رَاهِبٍ فَنَادَاهُ: يَا رَاهِبُ يَا رَاهِبُ. ← أَبَا عِمْرَانَ الْجَوْنِيَّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of surah al-Ghashiya › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3925
