المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3889
3889 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ أَرْسَلَ الرِّيحَ، فَتَسَحَّبَتِ الْمَاءَ حَتَّى أَبْدَتْ عَنْ حَشَفَةٍ وَهِيَ الَّتِي تَحْتَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ مَدَّ الْأَرْضَ حَتَّى بَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الطُّوَلِ وَالْعَرْضِ» ، قَالَ: وَكَانَتْ هَكَذَا تَمْتَدُّ وَأَرَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ بِيَدِهِ هَكَذَا وَهَكَذَا، قَالَ: «فَجَعَلَ اللَّهُ الْجِبَالَ رَوَاسِيَ أَوْتَادًا» فَكَانَ أَبُو قُبَيْسٍ مِنْ أَوَّلِ جَبَلٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3889 - طلحة بن عمرو ضعفوه
حضرت عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق بنانے کا ارادہ کیا تو ہوا کو بھیجا ۔ اس نے پانی کو گھسیٹا اور ایک جزیرے سے اس کو ظاہر کیا یہ وہ جزیرہ تھا جو کعبہ کے نیچے پھر زمین بنائی اور اپنی مرضی کے مطابق اس کا طول اور عرض رکھا ( عطاء ) کہتے ہیں اس طرح اس کو بچھایا اور مجھے ابن عباس نے اس اس طرح اپنا ہاتھ کر کے دکھایا ۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو میخیں بنایا تو ابوقبیس ( پہاڑ ) زمین پر رکھے جانے والے پہاڑوں میں سب سے پہلا پہاڑ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The interpretation of Surah about what they ask › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3889
