Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3889

3889 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ أَرْسَلَ الرِّيحَ، فَتَسَحَّبَتِ الْمَاءَ حَتَّى أَبْدَتْ عَنْ حَشَفَةٍ وَهِيَ الَّتِي تَحْتَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ مَدَّ الْأَرْضَ حَتَّى بَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الطُّوَلِ وَالْعَرْضِ» ، قَالَ: وَكَانَتْ هَكَذَا تَمْتَدُّ وَأَرَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ بِيَدِهِ هَكَذَا وَهَكَذَا، قَالَ: «فَجَعَلَ اللَّهُ الْجِبَالَ رَوَاسِيَ أَوْتَادًا» فَكَانَ أَبُو قُبَيْسٍ مِنْ أَوَّلِ جَبَلٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3889 - طلحة بن عمرو ضعفوه

حضرت عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق بنانے کا ارادہ کیا تو ہوا کو بھیجا ۔ اس نے پانی کو گھسیٹا اور ایک جزیرے سے اس کو ظاہر کیا یہ وہ جزیرہ تھا جو کعبہ کے نیچے پھر زمین بنائی اور اپنی مرضی کے مطابق اس کا طول اور عرض رکھا ( عطاء ) کہتے ہیں اس طرح اس کو بچھایا اور مجھے ابن عباس نے اس اس طرح اپنا ہاتھ کر کے دکھایا ۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو میخیں بنایا تو ابوقبیس ( پہاڑ ) زمین پر رکھے جانے والے پہاڑوں میں سب سے پہلا پہاڑ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The interpretation of Surah about what they ask › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3889

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3890

3890 - حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا} [النبأ: 23] قَالَ: «الْحُقْبُ ثَمَانُونَ سَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3890 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا٢٣﴾ [النبأ: 23]" اس میں قرنوں رہیں گے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) (کی تفسیر میں ) فرماتے ہیں : ایک حقب 80 برس کا ہوتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ [فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا [النبأ: ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أبو بلج،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The interpretation of Surah about what they ask › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3890

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3891

3891 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {كَأْسًا دِهَاقًا} [النبأ: 34] قَالَ: «هِيَ الْمُتَتَابِعَةُ الْمُمْتَلِئَةُ.» قَالَ: وَرُبَّمَا سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ يَقُولُ: اسْقِنَا وَادْهَقْ لَنَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3891 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿كَأْسًا دِهَاقًا٣٤﴾ [النبأ: 34]" اور چھلکتا جام " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : یہ مسلسل اور بھرے ہوئے جام ہوں گے ۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو میں نے کئی مرتبہ یہ دعا مانگتے سنا ہے ( یا اللہ وہ جام ) ہمیں پلا اور ہمارے لئے بھر دے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْعَبَّاسُ: ← وَرُبَّمَا ← «هِيَ الْمُتَتَابِعَةُ الْمُمْتَلِيَةُ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: كَأْسًا دِهَاقًا [النبأ: ← عِكْرِمَةَ، ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنٌ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The interpretation of Surah about what they ask › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3891

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3892

3892 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ خُنَيْسٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ نَعُودُهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيُّ وَكَانَ قَاصَّ جَمَاعَتِنَا، وَكَانَ يَقُومُ بِنَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ: كَيْفَ الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنِ أُمِّ صَالِحٍ؟ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَامُ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ، أَوْ ذِكْرُ اللَّهِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: قُلْتُ: مَا أَشَدَّ هَذَا، فَقَالَ سُفْيَانُ: وَمَا شِدَّةُ هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّمَا جَاءَتْ بِهِ امْرَأَةٌ عَنِ امْرَأَةٍ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي أَرْسَلَ بِهِ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ {يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا} [النبأ: 38] ، وَقَالَ: {وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبِرِ} [العصر: 2] وَقَالَ: {لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ} [النساء: 114] الْآيَةُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3892 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن یزید بن خنیس رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہم حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لئے گئے ہوئے تھے ۔ ان کے پاس سعید بن حسان المخزومی آئے ، یہ ہماری جماعت کے قصہ گو تھے اور یہ ماہ رمضان ہمارے پاس گزارا کرتے تھے ۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : وہ حدیث کیسی ہے جو تم نے مجھے ام صالح کے حوالے سے بیان کی تھی ؟ انہوں نے کہا : ام صالح رحمتہ اللہ علیہ نے صفیہ بنت شیبہ رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعے ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابن آدم کا کلام صرف امر بالمعروف یا نہی عن المنکر یا ذکر اللہ ہونا چاہئے ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں : میں نے کہا : یہ کس قدر سخت ہے ، سفیان نے کہا: اس حدیث اللہ تعالیٰ کی اس کتاب میں جو اس نے تمہارے نبی پر نازل فرمائی ہے ، ایک عورت نے عورت سے روایت کی ہے پھر آپ نے یہ آیات پڑھیں ۔ : ﴿يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا٣٨﴾ [النبأ: 38]" جس دن جبریل کھڑا ہو گا اور سب فرشتے پہرا باندھے کوئی بول نہ سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور فرمایا : ﴿وَالْعَصْرِ١ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ٢ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ٣﴾ [العصر: 1-3]" اس زمانہ محبوب کی قسم ! آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو وصیت کی تاکید کی " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور فرمایا : ﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ﴾ [النساء: 114]" ان کے زیادہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہے مگر وہ جو صدقہ یا بھلائی کا حکم کرے یا لوگوں میں اصلاح کرے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The interpretation of Surah about what they ask › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3892

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section