المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقِيَامَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3877
3877 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ تَمِيمٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: اخْتَلَفْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَنَةً لَا أُكَلِّمُهُ، وَلَا يَعْرِفُنِي فَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: «مَنِ الرَّجُلُ؟» قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ. قَالَ: «مِنْ أَيِّهِمْ؟» قُلْتُ: مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: «مِنْ حَرُورِيَّتِهِمْ أَوْ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ؟» قُلْتُ: مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: " {لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [القيامة: 1] " قَالَ: يُقْسِمُ رَبُّكَ بِمَا شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، قُلْتُ: " {وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ} [القيامة: 2] " قَالَ: مِنَ النَّفْسِ الْمَلُومِ. قُلْتُ: " {أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ} [القيامة: 4] " قَالَ: لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ خُفًّا أَوْ حَافِرًا، قُلْتُ: " {فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ} [الأنعام: 98] " قَالَ: الْمُسْتَقَرُّ فِي الرَّحِمِ وَالْمُسْتَوْدَعُ فِي الصُّلْبِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3877 - صحيح
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک سال تک میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس مختلف مواقع پر گیا، اس دوران نہ میں نے ان سے گفتگو کی اور نہ انہوں نے مجھے پہچانا۔ پھر ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تم کون ہو؟ میں نے کہا : اہل عراق سے ہوں۔ آپ نے پوچھا : کس قبیلے سے تعلق ہے ؟ میں نے کہا: بنی اسد سے ۔ آپ نے پوچھا : باغیوں میں سے یا ان میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ؟ میں نے کہا: ان میں سے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ۔ آپ نے فرمایا : پوچھو ( کیا پوچھنا چاہتے ہو ) میں نے کہا : ﴿لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ١﴾ [القيامة: 1]" روز قیامت کی قسم یاد فرماتا ہوں " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( کا مطلب سمجھنا چاہتا ہوں ) آ پ نے فرمایا : تمہارا رب اپنی خلق میں سے جس کی چاہتا ہے قسم کھاتا ہے ۔ میں نے کہا : ﴿وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ٢﴾ [القيامة: 2]" اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر ملامت کرے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )( کا کیا مطلب ہے ) آپ نے فرمایا : وہ نفس جس کی ملامت کی گئی ہے ۔ میں نے کہا : ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ٣ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ٤﴾ [القيامة: 3-4]" کیا آدمی یہ سمجھتا کہ ہم ہر گز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنا دیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( کا کیا مطلب ہے ) آپ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ( اس کی انگلیوں کے پورے ) اونٹ یا گدھے کے کھر جیسے ( بھی ) بنا سکتا تھا ۔ میں نے کہا : ﴿ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ ﴾ [الأنعام: 98]" پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا اور کہیں امانت رہنا ہے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )( کا کیا مطلب ہے ) آپ نے فرمایا : ٹھہرنا رحم میں ہے اور امانت پشت میں رہنا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← تَمِيمٍ الضَّبِّيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the Surat al-Qiyamah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3877
