Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْجِنِّ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3857

3857 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمْ وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظَ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: قَدْ حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا هَذَا إِلَّا شَيْءٌ قَدْ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا هَذَا الَّذِي قَدْ حَدَثَ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي قَدْ حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَهُنَاكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ} [الجن: 2] فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ وَحْدَهُ حَدِيثَ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِطُولِهِ بِغَيْرِ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ، وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ، فَذَكَرَ أَحْرُفًا يَسِيرَةً " وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ تَدَاوَلَهُ الْأَئِمَّةُ الثِّقَاتُ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3857 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے نہ تو جنات پر قرآن کی تلاوت کی اور نہ ان کو دیکھا ۔ البتہ آپ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عکاظۃ بازار میں جانے کے ارادے سے نکلے اور شیاطین اور آسمان کی خبروں کے مابین رکاوٹ پیدا ہو چکی تھی اور ان کو شہاب ثاقب مارے گئے تھے ۔ یہ جنات لوٹ اپنی قوم کی طرف چلے گئے ۔ ان کی قوم نے ان سے لوٹنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواباً کہا : ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہو گئی اور ہم پر شہاب ثاقب برسائے گئے ۔ انہوں نے کہا : یہ تو کوئی نئی چیز ہے ۔ چنانچہ زمین کے مشارق و مغارب کو چھان مارو اور اس نئی چیز کو ڈھونڈو ۔ یہ جناب مزین کے طول و عرض میں یہ چیز ڈھونڈنے چل نکلے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے ؟ پھر جب یہ ( جنات ) وہاں ( رسول اکرم ﷺ کے پاس سے ) اپنی قوم کے پاس واپس گئے تو ان سے بولے : ﴿ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا١ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا٢﴾ [الجن: 1-2]" تو بولے ہم نے عجیب قرآن سنا کہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں : ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ ﴾ [الجن: 1]" تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور اپ کی طرف جنات کا کلام وحی کیا گیا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ تاہم صرف امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے داؤد بن ابی ہند کے ذریعے شعبی کے واسطے سے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مفصل حدیث نقل کی ہے ۔ البتہ اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے شعبہ سے انہوں نے اعمش سے روایت کیا کہ ابراہیم کہتے ہیں : میں نے علقمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا لیلتہ الجن ( جس رات جنات کا گروہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا ) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ، رسول اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ؟ تو اس سلسلے میں انہوں نے مختصر کلام کیا ۔ یہ حدیث ایک مجہول شخص کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے اور اس حدیث کو معتبرائمہ حدیث نے نقل کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے ۔ )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← مكرم بن أحمد القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Jin › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3857

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْجِنِّ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3858

3858 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُثْمَانَ بْنُ سَنَّةَ الْخُزَاعِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «مَنْ أَحَبُّ مِنْكُمْ أَنْ يَحْضُرَ اللَّيْلَةَ أَمْرَ الْجِنِّ فَلْيَفْعَلْ» ، فَلَمْ يَحْضُرْ مِنْهُمْ أَحَدٌ غَيْرِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ خَطَّ لِي بِرِجْلِهِ خَطًّا، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أَجْلِسَ فِيهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَامَ فَافْتَتَحَ الْقُرْآنَ فَغَشِيَتْهُ أَسْوِدَةٌ كَثِيرَةٌ حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ حَتَّى مَا أَسْمَعُ صَوْتَهُ، ثُمَّ انْطَلِقُوا وَطَفِقُوا يَنْقَطِعُونَ مِثْلَ قِطَعِ السَّحَابِ ذَاهِبِينَ حَتَّى بَقِيَتْ مِنْهُمْ رَهْطٌ، وَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْفَجْرِ وَانْطَلَقَ فَبَرَزَ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ: «مَا فَعَلَ الرَّهْطُ؟» فَقُلْتُ: هُمْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخَذَ عَظْمًا وَرَوْثًا فَأَعْطَاهُمْ إِيَّاهُ زَادًا، ثُمَّ نَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ بِرَوْثٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3858 - هو صحيح عند جماعة

ابو عثمان بن سنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : شام کے ایک باشندے نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکۃ المکرمہ میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سےفرمایا : آج رات جو بھی جنات کے معاملے میں حاضر ہونا چاہیے ، اس کو اجازت ہے لیکن میرے سوا اور کوئی نہ آیا۔ پھر چل دئیے اور جب مکہ سے کافی دور چلے گئے تو آپ نے اپنے پاؤں سے ایک دائرہ لگایا اور مجھے اس میں بیٹھنے کا حکم دیا اور خود اگے جا کر کھڑے ہو گئے اور آپ نے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی ، آپ کو دھوئیں جیسی کسی چیز نے اس طرح ڈھانپ لیا کہ میں آپ کی آواز نہیں سن پا رہا تھا۔ پھر وہ دھوئیں کی سی چیز واپس جانے لگی اور اس طرح وہاں سے چھٹنے لگی جیسے بادل چھٹتے ہیں حتیٰ کہ آپ کے پاس صرف ایک گروہ باقی رہ گیا ۔ رسول اللہ ﷺ فجر کے وقت فارغ ہوئے پھر آپ وہاں سے چلے تو نظر آنے لگے ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لائے ۔ آپ نے فرمایا : وہ گروہ کہاں ہے ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ وہ وہاں ہیں ۔ آپ نے ہڈیاں اور لید ان کو کھانے کے لئے دی پھر آپ نے سب کو ہڈی اور لید کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرما دیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبُو عُثْمَانَ بْنُ سَنَّةَ الْخُزَاعِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو الْحُسَيْنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Jin › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3858

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْجِنِّ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3859

3859 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صُعُدًا} [الجن: 17] قَالَ: «جَبَلًا فِي جَهَنَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3859 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ : ﴿ وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا١٧﴾ [الجن: 17]"( کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ) جہنم میں ( پایا جانے والا ) ایک پہاڑ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا} {الجن: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَمَنْ يُعْرِضْ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Jin › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3859

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْجِنِّ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3860

3860 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا} [الجن: 19] قَالَ: «كَانُوا يَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ، يَعْنِي الْجِنَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3860 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا١٩﴾ [الجن: 19]" تو قریب تھا کہ جن ان پر ٹھٹھہ ہو جائیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : وہ جنات آپ کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے اور آپ کے سجدہ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ ← جدي أحمدُ بنُ منيعٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Jin › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3860

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section