المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْجِنِّ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3857
3857 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمْ وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظَ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: قَدْ حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا هَذَا إِلَّا شَيْءٌ قَدْ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا هَذَا الَّذِي قَدْ حَدَثَ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي قَدْ حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ فَهُنَاكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ} [الجن: 2] فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ وَحْدَهُ حَدِيثَ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِطُولِهِ بِغَيْرِ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ، وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثَ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ، فَذَكَرَ أَحْرُفًا يَسِيرَةً " وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ تَدَاوَلَهُ الْأَئِمَّةُ الثِّقَاتُ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3857 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے نہ تو جنات پر قرآن کی تلاوت کی اور نہ ان کو دیکھا ۔ البتہ آپ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عکاظۃ بازار میں جانے کے ارادے سے نکلے اور شیاطین اور آسمان کی خبروں کے مابین رکاوٹ پیدا ہو چکی تھی اور ان کو شہاب ثاقب مارے گئے تھے ۔ یہ جنات لوٹ اپنی قوم کی طرف چلے گئے ۔ ان کی قوم نے ان سے لوٹنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواباً کہا : ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہو گئی اور ہم پر شہاب ثاقب برسائے گئے ۔ انہوں نے کہا : یہ تو کوئی نئی چیز ہے ۔ چنانچہ زمین کے مشارق و مغارب کو چھان مارو اور اس نئی چیز کو ڈھونڈو ۔ یہ جناب مزین کے طول و عرض میں یہ چیز ڈھونڈنے چل نکلے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے ؟ پھر جب یہ ( جنات ) وہاں ( رسول اکرم ﷺ کے پاس سے ) اپنی قوم کے پاس واپس گئے تو ان سے بولے : ﴿ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا١ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا٢﴾ [الجن: 1-2]" تو بولے ہم نے عجیب قرآن سنا کہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں : ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ ﴾ [الجن: 1]" تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور اپ کی طرف جنات کا کلام وحی کیا گیا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ تاہم صرف امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے داؤد بن ابی ہند کے ذریعے شعبی کے واسطے سے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مفصل حدیث نقل کی ہے ۔ البتہ اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے شعبہ سے انہوں نے اعمش سے روایت کیا کہ ابراہیم کہتے ہیں : میں نے علقمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا لیلتہ الجن ( جس رات جنات کا گروہ حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا ) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ، رسول اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ؟ تو اس سلسلے میں انہوں نے مختصر کلام کیا ۔ یہ حدیث ایک مجہول شخص کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے اور اس حدیث کو معتبرائمہ حدیث نے نقل کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے ۔ )
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← مكرم بن أحمد القاضي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Jin › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3857
