Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3812

3812 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَزْدِيِّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَعَنَا نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَكُنَّا نَبْتَدِرُ الْمَاءَ، وَكَانَ الْأَعْرَابُ يَسْبِقُونَا فَيَسْبِقُ الْأَعْرَابِيُّ أَصْحَابَهُ فَيَمْلَأُ الْحَوْضَ، وَيَجْعَلُ حَوْلَهُ حِجَارَةً، وَيَجْعَلُ النِّطْعَ عَلَيْهِ حَتَّى يَجِيءَ أَصْحَابُهُ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ الْأَعْرَابِيَّ فَأَرْخَى زِمَامَ نَاقَتِهِ لِتَشْرَبَ، فَأَبَى أَنْ يَدَعَهُ فَانْتَزَعَ حَجَرًا فَفَاضَ فَرَفَعَ الْأَعْرَابِيُّ خَشَبَةً، فَضَرَبَ بِهَا رَأْسَ الْأَنْصَارِيِّ فَشَجَّهُ، فَأَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ فَأَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِهِ فَغَضِبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ يَعْنِي الْأَعْرَابَ، وَكَانُوا يُحَدِّثُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الطَّعَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا انْفَضُّوا مِنْ عِنْدِ مُحَمَّدٍ، فَأْتُوا مُحَمَّدًا لِلطَّعَامِ فَلْيَأْكُلْ هُوَ وَمَنْ عِنْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلْيُخْرِجِ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ زَيْدٌ: وَأَنَا رِدْفُ عَمِّي، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَكُنَّا أَخْوَالَهُ فَأَخْبَرْتُ عَمِّي، فَانْطَلَقَ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَفَ وَجَحَدَ وَاعْتَذَرَ، فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَنِي، فَجَاءَ إِلَى عَمِّي، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ إِنْ مَقَتَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَكَ، وَكَذَّبَكَ الْمُسْلِمُونَ. فَوَقَعَ عَلَيَّ مِنَ الْغَمِّ مَا لَمْ يَقَعْ عَلَى أَحَدٍ قَطُّ، فَبَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَقَدْ خَفَقْتُ بِرَأْسِي مِنَ الْهَمِّ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَعَرَكَ أُذُنِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي» فَمَا كَانَ يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الْخُلْدُ أَوِ الدُّنْيَا، ثُمَّ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَحِقَنِي، فَقَالَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ «عَرَكَ أُذُنِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي» فَقَالَ: أَبْشِرْ. ثُمَّ لَحِقَنِي عُمَرُ فَقَالَ: مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ قُولِي لِأَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْمُنَافِقُونَ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لِرَسُولُ اللَّهِ} [المنافقون: 1] حَتَّى بَلَغَ {الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: 7] حَتَّى بَلَغَ {لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: 8] «قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ أَحْرُفٍ يَسِيرَةٍ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ» وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ مُتَابِعًا لِأَبِي إِسْحَاقَ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِطُولِهِ وَالْإِسْنَادُ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3812 - صحيح وأخرجا منه

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول ﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک ہوئے ، ہمارے ہمراہ کچھ دیہاتی لوگ بھی تھے، ہم پانی کی طرف ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے لگے (عموماً ) دیہاتی ہم سے آگے نکل جایا کرتے تھے چنانچہ (اس دن بھی ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا۔ اس نے حوض بھر لیا اور اس کے اردگرد پتھر رکھ کراس کی حلقہ بندی کر لی۔ پھر اس کے ساتھی بھی اس کے پاس پہنچ گئے ، ایک انصاری دیہاتی اس کے قریب آیا، اس نے اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی کی تاکہ وہ پانی پی لے۔ اس دیہاتی نے اونٹنی کو پانی پلانے کی اجازت نہ دی تو اس انصاری نے وہاں سے ایک پتھر کھینچ دیا جس کی وجہ سے حوض کا پانی بہ گیا ۔ اس دیہاتی نے ایک ڈنڈا اٹھا کر انصاری کے سر پر مارا اور اس کا سر پھوڑ دیا۔ پھر وہ شخص منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔ عبداللہ بن ابی غضبناک ہوا پھر بولا: رسول اللہ ﷺکے پاس جو دیہاتی رہتے ہیں، ان پر خرچ مت کرو حتیٰ کہ یہ خود ہی ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ وہ لوگ کھانے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گفتگو کیا کرتے تھے تو عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب یہ لوگ محمد ﷺ کے پاس سے اٹھ جائیں تب تم محمد ﷺ کے پاس کھانے کے لئے آجا تا کہ کھانا صرف آپ اور وہ لوگ کھائیں جو (اس وقت) ان کے پاس موجود ہوں ۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب تم مدینہ میں لوٹ کر جاؤ گے تو جو عزت دار ہیں وہ ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں۔ حضرت زید کہتے ہیں: میں اپنے چچا کے پیچھے سوار تھا۔ میں نے عبداللہ کی (یہ بکواس) سن لی۔ ہماری اس کے ساتھ رشتہ داری بھی تھی، میں نے اپنے چچا کو بتایا۔ وہ رسول الله ﷺ کے پاس گئے اور آپ کو واقعہ بتایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلوایا، وہ آپ ﷺ کے پاس آ کر قسم کھا کر انکار کر گیا اور معذرت کر گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات مان لی اور میری بات تسلیم نہ کی، پھر میرے چچا میرے پاس آئے اور بولے: تجھے تو رسول اللہ ﷺ نے نا پسند کیا اور جھٹلا دیا ہے اور مسلمانوں نے بھی تھے جھٹلا دیا ہے (یہ بات سن کر ) مجھ پر غم ( کا ایسا کوہ گراں ) آن پڑا کہ زندگی میں کبھی بھی میں اس قدر غمزدہ نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر کر رہا تھا اور میراسر غم کی وجہ سے جھکا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے میرے کان کوتھوڑا سا مسلا اور میرے قریب ہو کر آپ مسکرانے (اس وقت مجھے اس قدرخوشی ہوئی کہ ) اگر اس کے بدلے مجھ کو دنیا اور جنت بھی دے تو میں قبول نہ کروں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا کہا، میں نے کہا: آپ نے مجھ سے کوئی بات نہیں کہی سوائے اس کے کہ میرا کان مسل کر مجھے ہنسایا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں خوشخبری ہو۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے : رسول الله ﷺ نے تم سے کیا بات کی؟ میں نے ان کو بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سورة المنافقون﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ١﴾ [المنافقون: 1]( سے شروع کی حتیٰ کہ )﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا ٧﴾ [المنافقون: 7] تک پہنچے ( پھر تلاوت کرتے رہے ) حتیٰ کہ ﴿ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ﴾ [المنافقون: 8]تک پہنچے ۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے إسحاق سبیعی کے حوالے سے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے کچھ الفاظ نقل کئے ہیں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ابو إسحاق کی متابعت میں درج ذیل سند کے ہمراہ اس کو نقل کیا ہے ۔ لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس مفصل حدیث کو نقل نہیں کیا حالانکہ اس کی سند صحیح ہے ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْأَزْدِيِّ، ← السُّدِّيِّ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 3812

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section