Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَشْرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3797

3797 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي النَّضِيرِ وَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ وَكَانَ مَنْزِلُهُمْ وَنَخْلُهُمْ بِنَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، فَحَاصَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى الْجَلَاءِ، وَعَلَى أَنَّ لَهُمُ مَا أَقَلَّتِ الْإِبِلُ مِنَ الْأَمْتِعَةِ وَالْأَمْوَالِ إِلَّا الْحَلْقَةَ، يَعْنِي السِّلَاحَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ} إِلَى قَوْلِهِ {لَأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا} [الحشر: 2] فَقَاتَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَالَحَهُمْ عَلَى الْجَلَاءِ، فَأَجْلَاهُمْ إِلَى الشَّامِ وَكَانُوا مِنْ سِبْطٍ لَمْ يُصِبْهُمْ جَلَاءٌ فِيمَا خَلَا وَكَانَ اللَّهُ قَدْ كَتَبَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا بِالْقَتْلِ وَالسَّبْيِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ {لِأَوَّلِ الْحَشْرِ} [الحشر: 2] فَكَانَ جَلَاؤُهُمْ ذَلِكَ أَوَّلَ حَشْرٍ فِي الدُّنْيَا إِلَى الشَّامِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3797 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : بنی نضیر یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا ، غزوہ بنی نضیر جنگ بدر کے چھ ماہ معد رونما ہوا تھا۔ ان لوگوں کے مکانات اور باغات مدینہ المنورہ کے جوار میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا اور یہ شرط رکھی کہ ان کو جلا وطن کیا جائے گا اور ہتھیاروں کے علاوہ تمام سامان اور مال جو ان کے اونٹ اٹھا سکیں وہ ان کے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی : ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ١ هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا ٢﴾ [الحشر: 1-2] "اللہ پاکی بولتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے وہی جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھر سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لئے تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) نبی اکرم ﷺ نے ان سے جنگ کی حتیٰ کہ جلا وطنی کی شرط پر جنگ بندی ہوئی ۔ ان کو شام کی طرف جلا وطن کر دیا یہ ایسا قبیلہ تھا کہ ان کو کبھی بھی جلا وطنی کا سامان نہیں کرنا پڑا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جلا وطنی ان کے لئے لکھ دی تھی ۔ اگر یہ نہ ہوتی تو ان کو دنیا میں قید اور قتل کا عذاب دیا جاتا اور جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد " لاول الحشر " ہے ، تو یہ ملک شام کی طرف ان کی جلا وطنی ان کا دنیا میں پہلا حشر تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hashr › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3797

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَشْرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3798

3798 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3798 - صحيح منصور خرج له مسلم

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے دباء ، نقیر ، خنتم اور مزفت ( شراب کے لئے استعمال ہونے والے مخصوص برتن ) سے منع فرمایا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ٧﴾ [الحشر: 7] " اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اس اضافے کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ نَهَی ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hashr › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3798

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَشْرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3799

3799 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُهْدِي لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسُ شَاةٍ، فَقَالَ: «إِنَّ أَخِي فُلَانًا وَعِيَالَهُ أَحْوَجُ إِلَى هَذَا مِنَّا» قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ يَبْعَثُ إِلَيْهِ وَاحِدًا إِلَى آخَرَ حَتَّى تَدَاوَلَهَا سَبْعَةُ أَبْيَاتٍ حَتَّى رَجَعَتْ إِلَى الْأَوَّلِ فَنَزَلَتْ {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: 9] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3799 - عبيد الله بن الوليد ضعفوه

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک صحابی کو کسی نے بکری کا سر ہدیہ کیا ۔ اس نے آگے سے جواد ب دیا میرا فلاں بھائی مجھ سے زیادہ غریب اور ضرورتمند ہے ( ابن عمر ) کہتے ہیں ۔ اس نے یہ سر اس کی طرف بھیج دیا ( اس نے دوسرے بھائی کی طرف بھیج دیا ) یہ سر اسی طرح آگے سے آگے جاتا رہا حتیٰ کہ سات گھروں سے گھوم کر یہ سر دوبارہ پہلے آدمی کے پاس آ گیا ۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : ﴿ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ٩﴾ [الحشر: 9] "اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو جو اپنے نفس کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی کامیاب ہے ۔ " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

«إِنَّ أَخِي فُلَانًا وَعِيَالَهُ أَحْوَجُ إِلَى هَذَا مِنَّا» ← أُهْدِي لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ رَأْسُ شَاةٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ بِهَمْدَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hashr › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3799

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَشْرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3800

3800 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زُبَيْدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ مَنَازِلَ فَمَضَتْ مِنْهُمُ اثْنَتَانِ وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ، فَأَحْسَنُ مَا أَنْتُمْ كَائِنُونَ عَلَيْهِ أَنْ تَكُونُوا بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ الَّتِي بَقِيَتْ، ثُمَّ قَرَأَ {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ} [الحشر: 8] الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْمُهَاجِرُونَ وَهَذِهِ مَنْزِلَةٌ وَقَدْ مَضَتْ، ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ وَهَذِهِ مَنْزِلَةٌ وَقَدْ مَضَتْ، ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} الْآيَةَ، قَالَ: فَقَدْ مَضَتْ هَاتَانِ الْمَنْزِلَتَانِ وَبَقِيَتْ هَذِهِ الْمَنْزِلَةُ فَأَحْسَنُ مَا أَنْتُمْ كَائِنُونَ عَلَيْهِ أَنْ تَكُونُوا بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ الَّتِي بَقِيَتْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3800 - صحيح

حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگوں کے تین مراتب ہیں ۔ ان میں سے دو گزر چکے ہیں اور ایک باقی ہے ۔ تم جس مرتبے پر ہو اس میں بہتر یہ ہے کہ اس مرتبے پر فائز ہو جو ابھی باقی ہے ۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ٨﴾ [الحشر: 8] " ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لئے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچے ہیں" ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )پھر آپ نے فرمایا : یہ مقام مہاجرین کا ہے اور یہ گزر چکا ۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ٩﴾ [الحشر: 9]" اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنا لیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دئیے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچا یا گیا تو وہی کامیاب ہیں " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )پھر فرمایا یہ مقام انصار کا ہے اور یہ بھی گزر چکا ہے ۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ١٠﴾ [الحشر: 10]" اور وہ جوان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ ، اے رب ہمارے بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) آپ نے فرمایا : وہ دونوں منزلیں گزر چکی ہیں اور اب یہ منزل باقی ہے تو تم جس منزل پر فائز ہو اس سے بہتر یہ ہے کہ تم اس منزل پر فائز ہو جو باقی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُبَيْدٍ، ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hashr › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3800

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَشْرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3801

3801 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلُولِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَاهِبٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ وَامْرَأَةٌ زَيَّنَتْ لَهُ نَفْسَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: اقْتُلْهَا فَإِنَّهُمْ إِنْ ظَهَرُوا عَلَيْكَ افْتَضَحْتَ فَقَتَلَهَا فَدَفَنَهَا، فَجَاءُوهُ فَأَخَذُوهُ فَذَهَبُوا بِهِ فَبَيْنَمَا هُمْ يَمْشُونَ إِذْ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: أَنَا الَّذِي زَيَّنْتُ لَكَ فَاسْجُدْ لِي سَجْدَةً أُنْجِيكَ فَسَجَدَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ} [الحشر: 16] الْآيَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3801 - صحيح

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک راہب تھا وہ اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ۔ ایک عورت بناؤ سنگھار کر کے اس کے پاس آئی ، وہ اس سے زنا کر بیٹھا جس سے وہ حاملہ ہو گئی ۔ پھر شیطان اس کے پاس آیا اور بولا : اس کو قتل کر ڈال کیونکہ لوگوں کو پتہ چل گیا تو یہ تجھے رسوا کر دے گی۔ اس نے اس کو قتل کر کے زمین میں دبا دیا جب ( اس بھائی ) آئے تو اس کو پکڑ کر لے گئے ۔ ابھی یہ لوگ جا رہے تھے کہ شیطان اس کے پاس آیا اور بولا : میں ہی وہ عورت ہون جو تیرے پاس بن سنور کر آئی تھی تو مجھے سجدہ کر لے میں تجھے بچا لوں گا ۔ اس نے شیطان کو سجدہ کر دیا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ١٦﴾ [الحشر: 16]" شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کر لیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہاں کا رب "۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلُولِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hashr › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3801

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section