المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3791
3791 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ، وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَ شَبَابِي وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي، حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ لَهُ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: 1] ، قَالَ: وَزَوْجُهَا أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مُخْتَصَرًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3791 - صحيح
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : برکت والی ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر حاوی ہے ، بے شک خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا کلا سنتی ہوں جبکہ یہ بعض لوگوں پر مخفی ہے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے شوہر کی شکایت لے کر ائیں وہ کہہ رہی تھیں : یا رسول اللہ ﷺ اس نے میری جوانی برباد کر دی ، میرا پیٹ اس کے لئے پھیل چکا ہے لیکن اب جبکہ مجھے بڑھاپے نے آ لیا اور اس کے لئے میری اولاد کا سلسلہ ختم ہ چکا تو اس نے مجھے سے ظہار کر لیا ۔ اے اللہ ! تیری بارگاہ میں یہ شکایت لاتی ہوں ۔ اما المومنین رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : وہ مسلسل یونہی دعا مانگتی رہی حتیٰ کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے : " ﴿قَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّتِي تُجَٰدِلُكَ فِي زَوۡجِهَا وَتَشۡتَكِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَآۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ﴾ ( المجادلۃ : 1) " بے شک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے ۔ " ( راوی کہتے ہیں : اس کا شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا ۔ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )
عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ السُّلَمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← محمد بن أبي عبيدة بن معن المسعودي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3791
