Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3791

3791 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ، وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَ شَبَابِي وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي، حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ لَهُ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: 1] ، قَالَ: وَزَوْجُهَا أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مُخْتَصَرًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3791 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : برکت والی ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر چیز پر حاوی ہے ، بے شک خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا کلا سنتی ہوں جبکہ یہ بعض لوگوں پر مخفی ہے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنے شوہر کی شکایت لے کر ائیں وہ کہہ رہی تھیں : یا رسول اللہ ﷺ اس نے میری جوانی برباد کر دی ، میرا پیٹ اس کے لئے پھیل چکا ہے لیکن اب جبکہ مجھے بڑھاپے نے آ لیا اور اس کے لئے میری اولاد کا سلسلہ ختم ہ چکا تو اس نے مجھے سے ظہار کر لیا ۔ اے اللہ ! تیری بارگاہ میں یہ شکایت لاتی ہوں ۔ اما المومنین رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : وہ مسلسل یونہی دعا مانگتی رہی حتیٰ کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے : " ﴿قَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّتِي تُجَٰدِلُكَ فِي زَوۡجِهَا وَتَشۡتَكِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَآۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ﴾ ( المجادلۃ : 1) " بے شک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے ۔ " ( راوی کہتے ہیں : اس کا شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا ۔ ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ السُّلَمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← محمد بن أبي عبيدة بن معن المسعودي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3791

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3792

3792 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالُوا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ جَمِيلَةَ كَانَتِ امْرَأَةَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ أَوْسٌ امْرَءًا بِهِ لَمَمٌ، فَإِذَا اشْتَدَّ لَمَمُهُ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3792 - على شرط مسلم

ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جمیلہ رضی اللہ عنہ اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور اس کو تھوڑی سی جنون کی شکایت تھی ۔ جب ان کے جنون میں شدت آئی تو انہوں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا تو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کفار ظھار کا حکم نازل فرمایا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3792

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3793

3793 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: {يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ} [المجادلة: 11] قَالَ: «يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الَّذِينَ لَمْ يُؤْتَوُا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3793 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ٭" ﴿ يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ ﴾ ( المجادلۃ : 11) ٭ "اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا "۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ ایمان والوں میں سے ان لوگوں کے درجات بلند کرتا ہے جن کو علم دیا گیا ، ان لوگوں پر جن کو علم نہیں دیا گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

{يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ} [المجادلة: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3793

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3794

3794 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَآيَةً مَا عَمِلَ بِهَا أَحَدٌ وَلَا يَعْمَلُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، آيَةُ النَّجْوَى» {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ} [المجادلة: 12] صَدَقَةً الْآيَةَ. قَالَ: كَانَ عِنْدِي دِينَارٌ فَبِعْتُهُ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ فَنَاجَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ كُلَّمَا نَاجَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَايَ دِرْهَمًا، ثُمَّ نُسِخَتْ فَلَمْ يَعْمَلْ بِهَا أَحَدٌ فَنَزَلَتْ {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ} [المجادلة: 13] الْآيَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3794 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: " قرآن کریم میں ایک آیت نجویٰ ہے جس پر نہ تو مجھ سے پہلے کوئی عمل نہ کر سکا اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کر سکے گا ( وہ آیت یہ ہے ) ٭ ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَةٗۚ ﴾٭ ( المجادلۃ : 12) " اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) آپ فرماتے ہیں : میرے پاس ایک دینار تھا ،میں نے اس کو دس درہموں کے عوض بیچ دیا پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی اور میری یہ عادت تھی کہ جب بھی کوئی بات آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا تو اپنی عرض سے پہلے ایک درہم صدقہ دیا کرتا تھا ۔ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی اور اس پر اور کوئی بھی عمل نہ کر سکا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ ٭ ﴿ءَأَشۡفَقۡتُمۡ أَن تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَٰتٖۚ فَإِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُواْ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ﴾ ٭ ( المجادلۃ : 13) " کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمانبرادر رہو اوراللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← محمد بن أيوب أنبأ يحيى بن المغيرة السعدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3794

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3795

3795 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ وَقَدْ كَادَ الظِّلُّ أَنْ يَتَقَلَّصَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ فَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا جَاءَكُمْ لَا تُكَلِّمُوهُ» فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ أَزْرَقُ أَعْوَرُ فَقَالَ: حِينَ رَآهُ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَلَى مَا تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ» فَقَالَ: ذَرْنِي آتِكَ بِهِمْ فَانْطَلَقَ فَدَعَاهُمْ فَحَلَفُوا مَا قَالُوا وَمَا فَعَلُوا حَتَّى يُخَوَّنَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ} [المجادلة: 18] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3795 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک پتھر کے سائے میں تھے ۔ وہ سایہ سمٹنے کے قریب تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا ، وہ تمہاری طرف شیطان کی نگاہ سے دیکھے گا ۔ جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے گفتگو مت کرنا ۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ان کے پاس ایک نیلگوں ، آنکھ والا، کانا آدمی آیا ۔ اس نے آتے ہیں کہا : اے رسول اللہ ﷺ نے بلایا ہے ۔ حضور ﷺ نے کہا : تم اور تمہارے ساتھی مجھے کس وجہ سے برا بھلا کہتے ہو؟ اس نے کہا: آپ مجھے اجازت دیں ، میں ان کو آپ کے پاس بلا کر لاتا ہوں ، وہ گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلا کر لے آیا ۔ وہ آپ کے پاس قسمیں کھا گئے کہ انہوں نے نہ تو کوئی غلط بات کی ہے ، نہ کوئی خیانت والا عمل کیا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں ۔ ﴿يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ﴾ المجادلۃ : 18) " جس نے اللہ ان سب کا اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھا رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں کچھ کیا۔ سنتے ہو بے شک وہی جھوٹے ہیں " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عمرو بن محمد العنقزي ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الحسن بن علي بن عفان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3795

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُجَادَلَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3796

3796 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، أَنْبَأَ السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ فَقُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ، وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3796 - صحيح

معدان بن ابو طلحہ یعمری فرماتے ہیں : حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تمہارا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا : حمص کے قریب ایک بستی میں ، حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس بستی یا قصبہ میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز کی جماعت قائم نہ کریں تو شیطان ان پر غلبہ پالیتا ہے ، اس لئے تجھ پر جماعت ( کے ساتھ نماز پڑھنا لازم ہے کیونکہ الگ رہنے والی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔امام حاکم الفاضل ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحافظ نے سن 400 ہجری ذی الحجۃ الحرام میں ہمیں یہ احادیث املاء کروائیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ ← لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَيْنَ مَسْكَنُكَ؟ فَقُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← زَائِدَةُ، أَنْبَأَ السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Muqaddalah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3796

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section