المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَدِيدِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3784
3784 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ، وَأَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ فِي السُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيَّ فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَأَنْظُرُ عَنْ يَمِينِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَأَنْظُرُ عَنْ شِمَالِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، وَلَا يَكَادُ لِأَحَدٍ مِنَ الْأُمَمِ غَيْرِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمُ الَّذِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3784 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کی اجازت ملے گی اور سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت مجھے ملے گی، پھر میں سجدے سے سر اٹھاؤں گا پھر میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو میں تمام امتوں میں اپنی امت کو پہچان لوں گا اور میں اپنے دائیں جانب دیکھوں گا تو ( اس طرف بھی) تمام امتوں میں اپنی امت کو پہچان لوں گا اور میں اپنے بائیں جانب دیکھوں گا ( اس طرف بھی) تمام امتوں میں اپنی امت کو پہچان لوں گا ۔ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک اتنی امتوں میں سے آپ اپنی امت کو کیسے پہچان لیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کرنے کی وجہ سے ان کے اعضائے وضو چمک رہے ہوں گے جبکہ اور کسی امت میں یہ نشانی نہیں پائی جائے گی۔اور میں ان کو اس وجہ سے بھی پہچان لوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے۔ اور میں ان کو اس سے بھی پہچان لوں کہ ان کی پیشانیوں میں سجدوں کا اثر ہو گا۔ اور میں ان کو اس نور سے پہچان لوں گا جو ان کے آگے اور دائیں بائیں ہو گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَبَا ذَرٍّ، وَأَبَا الدَّرْدَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Hadid › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3784
