Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3777

3777 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَيَّبَكَ؟ قَالَ: «سُورَةُ هُودٍ وَالْوَاقِعَةُ وَالْمُرْسَلَاتُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3777 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : آپ کو کس چیز نے بوڑھا کردیا: آپ نے فرمایا: سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ المرسلات اور عم یتسالون" اور اذا الشمس کورت " نے ۔یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ مَا شَيَّبَكَ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3777

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3778

3778 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْفَعُنَا بِالْأَعْرَابِ وَمَسَائِلِهِمْ أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ يَوْمًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ شَجَرَةً مُؤْذِيَةً وَمَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ تُؤْذِي صَاحِبَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا هِيَ؟» قَالَ: السِّدْرُ، فَإِنَّ لَهَا شَوْكًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ} [الواقعة: 28] يَخْضِدُ اللَّهُ شَوْكَهُ فَيُجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةٌ، فَإِنَّهَا تُنْبِتُ ثَمَرًا تُفْتَقُ الثَّمَرَةُ مَعَهَا عَنِ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ لَوْنًا مَا مِنْهَا لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3778 - صحيح

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ ہمیں دیہاتیوں اور ان کے مسائل کی وجہ سے فائدہ دیتا ہے۔ ایک دن ایک دیہاتی آیا اور بولا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تکلیف رساں درخت کا ذکر کیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ جنت میں کوئی ایسا درخت ہوگا جس سے کسی جنتی کو نقصان ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : وہ کون سا درخت ہے؟ اس نے کہا "بیری" کیونکہ اس میں کانٹے ہوتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "فی سدر مخضود"بے کانٹے کی بیریوں میں "۔(ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) اللہ تعالیٰ اس سے کانٹے صاف کردے گااور ہر کانٹے کی جگہ اللہ تعالیٰ پھل لگا دے گا۔ وہاں ایسے پھل اگیں گے جو ایک پھل کو پھاڑ کر پیدا ہوں گے۔علاوہ ازیں ان میں بہتر رنگ ہوں گے ، ان میں سے کوئی ایک رنگ بھی دوسرے سے ملتا جلتا نہیں ہوگا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3778

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3779

3779 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ} [الواقعة: 43] قَالَ: «مِنْ دُخَانٍ أَسْوَدَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3779 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ " وظل من یحموم" اور جلتے ہوئے دھوئیں کے سائے میں " ۔(ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ) کے بارے میں فرماتے ہیں ( اس سے مراد) کالے دھوئیں کے سائے ہیں۔یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ} {الواقعة: ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3779

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3780

3780 - حَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ جَابَانَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ حُجْرِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَرِيِّ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ يَقْرَأُ فَمَرَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} [الواقعة: 59] " قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ، ثَلَاثًا، " ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: 63] " قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ، بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ، بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} [الواقعة: 68] قَالَ: " بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَرَأَ {أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قَالَ: بَلْ أَنْتَ يَا رَبِّ، ثَلَاثًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3780 - صحيح

حضرت حجر بن قیس المدری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے امیرالمومنین حضرت علیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں رات گزاری آپ رات میں نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے ان کو نماز میں (سورۃ واقعہ ) کی قرات کرتے ہوئے سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ٥٨ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ٥٩﴾[الواقعة: 58-59] " تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو کیا تم اس کا آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں "۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو آپ نے تین مرتبہ کہا: اے رب العلمین بلکہ تو ہی بنانے والا ہے۔پھر یہ آیت پڑھی: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ٦٣ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ٦٤﴾[الواقعة: 63-64] " تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہویا ہم بنانے والے ہیں"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو آپ نے کہا : بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب ، بلکہ توہی ہے اے میرے رب، بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ٦٨ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ٦٩﴾[الواقعة: 68-69]” تو بھلا بتاؤ تو جو پانی پیتے ہوکیا تم نے اسے بادل سے اتارا یا ہم اتارنے والے ہیں" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ نے تین مرتبہ کہا: بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ٧١ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ٧٢﴾ [الواقعة: 71-72]” تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں پیدا کرنے والے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ نے تین مرتبہ کہا: بلکہ تو ہی ہے اے میرے رب۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

بِتُّ عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حجر بن قيس المدري ← شَدَّادِ بْنِ جَابَانَ الصَّنْعَانِيُّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3780

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3781

3781 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا جُمْلَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ فُرِقَ فِي السِّنِينَ قَالَ: وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: 75] قَالَ: «نَزَلَ مُتَفَرِّقًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3781 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کریم شب قد ر میں اوپر والے آسمان سے آسمان دنیا پر یکبارگی نازل ہوا پھر متعدد سالوں میں الگ الگ نازل ہوا پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ٧٥﴾[الواقعة: 75]"تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ فرماتے ہیں : پھر قرآن تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3781

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3782

3782 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى حَاجَةٍ فَتَوَارَى عَنَّا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ مَاءٌ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، لَوْ تَوَضَّأْتَ فَسَأَلْنَاكَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْقُرْآنِ. قَالَ: فَقَالَ: «سَلُوا، فَإِنِّي لَسْتُ أَمَسُّهُ» . فَقَالَ: " إِنَّمَا يَمَسُّهُ الْمُطَهَّرُونَ، ثُمَّ تَلَا {إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: 78] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3782 - على شرط البخاري ومسلم

عبدالرحمٰن بن یزیلہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، وہ قضا ئے حاجت کے لئے گئے اور ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے پھر آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر ہمارے پاس آ گئے ۔ اس وقت ہمارے پاس یا ان کے پاس پانی نہ تھا ( کہ وضو کیا جاسکے) ہم نے ان سے کہا : اے ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ ! اگر آپ باوضو ہوتے تو ہم آپ سے قرآن کریم کے متعلق کچھ مسائل پوچھتے ۔ آپ نے فرمایا: تم سوال کرو ، میں قرآن پاک کو چھوؤں گا نہیں۔ پھر آپ نے کہا: اس کو چھونے کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے ( چھوئے بغیر اس کی تلاوت بے وضو کی جا سکتی ہے)۔ پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت کی: انہ لقرآن کریم لایمسہ الا المطہرون " بے شک یہ عزت والا قرآن ہے اسے نہ چھوئیں مگر باوضو" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3782

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3783

3783 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ الْغَافِقِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} [الواقعة: 74] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ» فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: 1] فَقَالَ: «اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3783 - الحديث صحيح

حضرت عقبہ بےن عامرے جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ٩٦﴾[الواقعة: 96]”تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تم یہ تسبیح رکوع میں پڑھ لیا کرو اور جب یہ آیت نازل ہوئی: سبح اسم ربک الا علیٰ " اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جو سب سے بلند ہے " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ نے فرمایا تم سجدے میں پڑھ لیا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا نَزَلَتْ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ الْغَافِقِيُّ، ← مُوسَی بْنُ اَیُّوْبَ الْغَافِقِیُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat al-Waqi`ah › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3783

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section