Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3720

3720 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكِيمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ} [الحجرات: 3] صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أُكَلِّمُكَ إِلَّا كَأَخِي السِّرَارِ حَتَّى أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذَا «حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3720 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ان الذین یغضون اصو ا تہیم عند رسول اللہ (الحجرات:3) "بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں تمام عمر آپ کے ساتھ سرگوشی کے انداز بات کروں گا۔ یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ ← لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ} [الحجرات: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3720

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3721

3721 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُهُ أَشَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ شَيْءٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: «كُلُّ امْرِئٍ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» ثُمَّ أَقْبَلَ يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَلَى سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ تَصْدِيقَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: " وَأَيْنَ يَا ابْنَ حَلْبَسٍ؟ قَالَ: أَمَا تَسْمَعُ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ، وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةٌ} [الحجرات: 8] أَرَأَيْتَ يَا سَعِيدُ لَوْ أَنَّ هَؤُلَاءِ أُهْمِلُوا كَمَا يَقُولُ الْأَخَابِثُ: أَيْنَ كَانُوا يَذْهَبُونَ حَيْثُ حُبِّبَ إِلَيْهِمْ وَزُيِّنَ لَهُمْ أَوْ حَيْثُ كَرِّهَ لَهُمْ وَبُغِّضَ إِلَيْهِمْ؟ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3721 - بل قال ابن معين في سليمان بن عتبة لا شيء

حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ ﷺ !آپ کا کیا خیال ہے؟ ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا اس سے فارغ ہو چکے یا دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا ہے؟ آپ نے فرمایا : ہر شخص کے لئے وہی ممکن ہوتا ہے جس کے لئے اس پیدا کیا گیا ہے۔ پھر یونس بن میسرہ حضرت سعید بن عبدالعزیز کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے کہا : اس حدیث کی تصدیق قرآن پاک میں موجود ہے۔ سعید نے ان سے کہا: اے ابن حلبس تو کہاں ہے؟ کیا تو نے نہیں سنا ؟ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے: واعلمو ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الا مر لعنتم ولکن اللہ حبب الیکم الا یمان و زینہ فی قلوبکم و کرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان او لئک ہم الرشدون فضلا من اللہ و نعمۃ " اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں تو تم ضرور مشقت پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارہ کر دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی ہے ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں اللہ فضل اور احسان اور اللہ علم و حکمت والا ہے " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اے سعید : کیا تمہیں معلوم ہے ان لوگوں نے کام غیر محکم چھوڑ دیا جیسا کہ خبیث لوگ کہتے ہیں : وہ کہاں جاتے ہیں جب کہ ان کو ایمان محبوب کردیا گیا اور سنوار دیا گیا یا ان کو (کفر) ناگوار اور نا پسند یدہ کردیا گیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

رسول الله أنه سئل فقيل ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← سليمان بن عتبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3721

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3722

3722 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ خَرَجْتُ أَنْ أَتَسَمَّتُ بِسَمْتِكَ، وَأَقْتَدِي بِكَ فِي أَمْرِ فُرْقَةِ النَّاسِ، وَأَعْتَزِلُ الشَّرَّ مَا اسْتَطَعْتُ، وَأَنْ أَقْرَأَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مُحْكَمَةً، قَدْ أَخَذَتْ بِقَلْبِي، فَأَخْبِرْنِي عَنْهَا، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: 9] أَخْبِرْنِي عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: «مَا لَكَ وَلِذَلِكَ انْصَرِفْ عَنِّي» . فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا تَوَارَيْنَا سَوَادَهُ أَقْبَلَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: «مَا وَجَدْتُ فِي نَفْسِي فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ هَذِهِ الْآيَةِ إِلَّا مَا وَجَدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أُقَاتِلْ هَذِهِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ تَعَالَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3722 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمرو رحمۃاللہ علیہ فرما تے ہیں : ایک دفعہ میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس عراق سے ایک شخص آیا۔ اس نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن خدا کی قسم ! میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے راستے پر چلوں اور لوگوں کے اختلافات میں میں آپ کی اقتدا کروں اور حتیٰ المقدور شر سے بچ کر رہوں اور یہ کہ قرآن پاک کی ایک محکم آیت پڑھوں جو کہ میرے دل میں گھر کر چکی ہے، آپ مجھے اس کے بارے میں کچھ بتائیے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:و ان طئفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحو بینہمافان بغت احداہما علیٰ الاخری فقاتلو التی تبغی حتیٰ عفیء الی امر اللہ فان فاءت فاصلحو ابینہما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین " اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ ک پیارے ہیں"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ مجھے اس آیت کے بارے میں وضاحت فرمائیے تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : تجھے اس آیت سے کیا مطلب؟تو یہاں سے چلا جا ۔ تو وہ شخص چلاگیا ۔جب اس کا سایہ بھی غائب ہو گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : اس آیت کے متعلق میرے دل میں جو کچھ ہے ، وہ ہے ، بہر حال میں اس باغی گروہ سے لڑائی نہیں کروں گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3722

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3723

3723 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ} [الحجرات: 11] قَالَ: «لَا يَطْعُنُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3723 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ولا تلمزو انفسکم (الحجرات:11) "اور آپس میں طعنہ نہ کرو"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : ایک دوسرے پر طعنہ زنی نہ کیا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3723

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3724

3724 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11] قَالَ: " كَانَتِ الْأَلْقَابُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْهُمْ بِلَقَبِهِ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3724 - على شرط مسلم

حضرت ابو جبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ اس آیت : ولا تنابزو ا بالا لقاب( الحجرات:11 ) " اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے القابات ہوا کرتے تھے۔نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو اس کے لقب سے پکارا۔آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ ﷺوہ آدمی اس لقب کو ناپسند کر تا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی: ولاتنابزو ابا لا لقاب (الحجرات:11) یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

كَانَتِ الْأَلْقَابُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا النَّبِيُّ رَجُلًا مِنْهُمْ بِلَقَبِهِ فَقِيلَ لَهُ: ← أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: ← الشَّعْبِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3724

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3725

3725 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ، بِالْمَدِينَةَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ بِنْتُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ جَدِّهَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَمَرْتُكُمْ فَضَيَّعْتُمْ مَا عَهِدْتُ إِلَيْكُمْ فِيهِ وَرَفَعْتُ أَنْسَابُكُمْ فَالْيَوْمَ أَرْفَعُ نَسَبِي وَأَضَعُ أَنْسَابَكُمْ أَيْنَ الْمُتَّقُونَ أَيْنَ الْمُتَّقُونَ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ «هَذَا حَدِيثٌ عَالٍ غَرِيبُ الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3725 - المخزومي ابن زبالة ساقط

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا لیکن میں نے جو عہد تم سے لیا تھا تم نے اسے ضائع کردیا اور میں نے تمہارے نسبوں کو بلند کیا تھا جبکہ آج میں اپنی نسبت کو بلند کروں گااور تمہارے نسب پست کردوگا ۔ کہاں ہیں پرہیز گار ؟ کہاں ہیں پرہیز گا؟ بے شک اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔طلحہ بن عمرو کے ذریعے عطاء ابی رباح کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3725

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3726

3726 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَفِيدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: 13] فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي جَعَلْتُ نَسَبًا وَجَعَلْتُمْ نَسَبًا، فَجَعَلْتُ أَكْرَمَكُمْ أَتْقَاكُمْ وَأَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ أَكْرَمُ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، وَإِنِّي الْيَوْمَ أَرْفَعُ نَسَبِي وَأَضَعُ أَنْسَابَكُمْ أَيْنَ الْمُتَّقُونَ أَيْنَ الْمُتَّقُونَ " قَالَ طَلْحَةُ: فَقَالَ لِي عَطَاءٌ: يَا طَلْحَةُ مَا أَكْثَرَ الْأَسْمَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى اسْمِي وَاسْمِكَ، فَإِذَا دُعِيَ فَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ عُنِيَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3726 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی : ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم (الحجرات:13) : بے شک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گا ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : اے لوگو ! میں نے نسب بنایا تم نے بھی نسب بنایا ، میں تم میں زیادہ عزت والا،زیادہ پرہیز گار کو بنایا جبکہ تم نے انکار کیا۔ تم کہتے ہو فلاں بن فلاں ، فلاں بن فلاں سے زیادہ عزت والا ہے اور میں آج اپنی نسبت کو اونچا کرونگا اور تمہارے نسب پست کرونگا ۔ کہاں ہیں پرہیز گار ، کہاں ہیں پرہیز گار۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے عطاء نے کہا: اے طلحہ قیامت کے دن تیرے اور میرے ہم نام کتنےہی لوگ ہونگے لیکن جب ان کو پکارا جائے گا تو صرف وہی اٹھے گا جس کا بلانا مقصود ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَفِيدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Hujurat › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3726

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section