Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3710

3710 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَا: «أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فِي شَأْنِ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3710 - على شرط مسلم

مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم کہتے ہیں: سورۃ الفتح اول سے آخر تک مکہ اور مدینے کے درمیان حدیبیہ کے متعلق نازل ہوئی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3710

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3711

3711 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَمِّعَ بْنَ جَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، فَإِذَا النَّاسُ يَرْسُمُونَ نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوا: أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: فَحَرَّكْنَا حَتَّى وَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ وَاقِفًا، فَلَمَّا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ قَرَأَ عَلَيْهِمْ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: 1] فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3711 - لم يرو مسلم لمجمع شيئا ولا لأبيه وهما ثقتان

حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حدیبیہ سے واپس پلٹے ۔ جب رسول اللہ ﷺ مقام" کراع الغمیم :میں پہنچے تو لوگ رسول اللہ ﷺ کی جانب دوڑے چلے آرہے تھے۔ بعض لوگوں نے دوسروں سے پوچھا: لوگوں کیا ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔تو کچھ لوگوں نے کہا : ہم بھی چل دئیے حتیٰ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کراع الغمیم کے پاس کھڑے پایا ۔ جب لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آ پ نے یہ آیت لوگوں کو پڑھ کر سنائی: انا فتحنا لک فتحاً مبینا( الفتح:1) "بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کچھ لوگوں نے کہا : کیا وہ فتح ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے :" وہ فتح ہے"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ ← أَبِيهِ ← مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3711

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3712

3712 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: 1] " قَالَ: فَتْحُ خَيْبَرَ {لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 2] فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَنِيئًا لَكَ فَمَا لَنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [الفتح: 5] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» ، إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِهِ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: 1] قَالَ: فَتْحُ خَيْبَرَ. هَذَا فَقَطْ وَقَدْ سَاقَ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهٍ يَذْكُرُ حُنَيْنًا وَخَيْبَرَ جَمِيعًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3712 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج مسلم أوله

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: انا فتحنا لک فتحاً مبیناً ( الفتح:1) "بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں ( اس سے مراد) " فتح خیبر " ہے۔لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر ( الفتح:2) "تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ! مبارک ہو اور ہمارے لئے کیا خوشخبری ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرما دی" لید خل المومینین و المومنات جنات تجری من تحتھاالانہار(الفتح:5) " تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں:۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے ابو موسیٰ رحمۃاللہ علیہ کے واسطے سے محمد شعبہ سے ان کی سند کے ہمراہ یہ روایت کیا ہے کہ انا فتحنا لک فتحا مبینا ( اس سے مراد) فتح خیبر ہے۔ صرف اتنا ہی روایت کیا ہے اور حکم عبدالملک نے اس حدیث کو ایسے انداز میں بیان کیا ہے کہ جس میں حنین اور خیبر دونوں کا ذکر ہے۔

فتحنا لك فتحا مبينا الفتح ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيّ بن عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3712

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3713

3713 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَالِمٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا رَجَعْنَا مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَالَطُوا الْحُزْنَ وَالْكَآبَةَ حَيْثُ ذَبَحُوا هَدْيَهُمْ فِي أَمْكِنَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا، ثَلَاثًا» قُلْنَا: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " فَقَرَأَ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا} [الفتح: 2] إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ ". قُلْنَا: هَنِيئًا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا لَنَا؟ " فَقَرَأَ {لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارَ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا} [الفتح: 5] فَلَمَّا أَتَيْنَا خَيْبَرَ فَأَبْصَرُوا خَمِيسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي جَيْشَهُ أَدْبَرُوا هَارِبِينَ إِلَى الْحِصْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3713 - الحكم بن مالك ضعيف أخرجه استشهادا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ہم حدیبیہ سے واپس لوٹے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت شدید غم و غصہ اور حزن ملال میں تھے کیونکہ ان لوگوں کو وہیں پر اپنی قربانیوں کے جانور ذبح کرنے پڑے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے اوپر ایک آیت نازل ہوئی ہے جو کہ مجھے دنیا و مافیھا سے زیادہ محبوب ہے ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی ۔ ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ وہ آیت کون سی ہے؟ تو آپ نے یہ آیات پڑھیں انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر و یتم نعمعتہ علیک ویھدیک سراطامستقیم " بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) دونوں آیتوں کے آخر تک ۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ آ پ کو مبارک ہو لیکن ہمارے لئے کیا انعام ہے؟ تو آپ نے یہ آیت پڑھی: لیدخل المومینین والمومنات جنات تجری من تحتھاالانہار خالدین فیھا و یکفر عنہم سیاتہیم ،و کان ذلک عند اللہ فوزًا عظیما " تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ہمیشہ ان میں رہیں اور ان کی برائیاں ان سے اتار دے اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر جب ہم خیبر پہنچے تو اہل خیبر نے رسول اللہ ﷺ کا لشکر دیکھا تو سب دوڑ کر قلع بند ہوگئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیبر نکل گیا ۔ بے شک جب اترے گا ان کے آنگن میں تو ڈرائے گیوں کی کیا ہی بری صبح ہوگی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَالِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3713

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3714

3714 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ} [الفتح: 4] قَالَ: «السَّكِينَةُ لَهَا وَجْهٌ كَوَجْهِ الْإِنْسَانِ، ثُمَّ هِيَ بَعْدُ رِيحٌ هَفَّافَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3714 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ : ھوالذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین ( الفتح: 4) " وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا" ۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں ہ: سکینہ کا انسان کی طرح چہرہ ہوتا ہے اور یہ اڑانے والی ہوا کے بعد ہوتی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ} [الفتح: ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3714

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3715

3715 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَتُعَزِّرُوهُ} [الفتح: 9] ؟ قَالَ: «الضَّرْبُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3715 - قال أحمد مبشر بن عبيد كان يضع الحديث

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اللہ تعالیٰ کے ارشاد "وتعزروہ" (اور رسول کی تعظیم کرو) کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کی نگاہوں کے سامنے تلوار چلانا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أحمد مبشر بن عبيد كان يضع الحديث ← الضَّرْبُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ بِالسَّيْفِ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ← قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← مبشر بن عبيد ← إِسْحَاقَ أَنْبَأَ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3715

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3716

3716 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْقُرْآنِ، وَكَانَ غُصْنٌ مِنْ أَغْصَانِ تِلْكَ الشَّجَرَةِ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعْتُهُ عَنْ ظَهْرِهِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو جَالِسَانِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «اكْتُبْ» فَذَكَرَ مِنَ الْحَدِيثِ أَسْطُرًا مُخَرَّجَةً فِي الْكِتَابَيْنِ مِنْ ذِكْرِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا ثَلَاثُونَ شَابًّا عَلَيْهِمُ السِّلَاحُ، فَثَارُوا فِي وجُوهِنَا فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ اللَّهُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُمْنَا إِلَيْهِمْ فَأَخَذْنَاهُمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ جِئْتُمْ فِي عَهْدِ أَحَدٍ أَوْ هَلْ جَعَلَ لَكُمْ أَحَدٌ أَمَانًا؟» فَقَالُوا: اللَّهُمَّ لَا. فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا} [الفتح: 24] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ إِذْ لَا يَبْعُدُ سَمَاعُ ثَابِتٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ» وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَلَى حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْهُ وَثَابِتٌ أَسَنُّ مِنْهُمَا جَمِيعًا

حضرت عبداللہ بن مغفل المزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے ، اس درخت کی ایک ٹہنی رسول اللہ ﷺ کی پشت مبارک سے لگ رہی تھی، میں اس کو اٹھائے ہوئے تھا، اس وقت حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : لکھو۔ پھر اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی جس کی کچھ سطریں بخاری و مسلم میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسی اثناء میں 30 نوجوان اس طرف آئے جنہوں نے ہتھیار پہن رکھے تھے ، وہ ہمارے سامنے جوش میں آگئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے لئے بد دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے ان کو اندھا کر دیا، ہم نے جا کر ان سب کو گرفتار کرکے آپ کی بار گاہ میں پیش کر دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : کیا تم کسی کی ذمہ داری پر آئے ہو یا کسی نے تمہارے لئے امان لی ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا ۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وھوالذی کف ایدیہم عنکم واید یکم عنہم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیہم وکان اللہ بما تعملون بصیرا ( الفتح:24)" اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے وادی مکہ میں بعد اس کے تمہیں اس پر قابو دے دیا تھا اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہےکیونکہ ثابت کا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سماع کوئی بعید نہیں ہے جبکہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے معاویہ بن قرۃ رحمۃاللہ علیہ اور حمید بن ھلال رحمۃاللہ علیہ کی عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں حالانکہ ثابت البنانی ( جن کی یہ مذکورہ روایت ہے) ان دونوں سے عمر میں بڑے ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← إبراهيم بن هلال ← أبو العباس السياري وأبو أحمد الصيرفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3716

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3717

3717 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى} [الفتح: 26] قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3717 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: والزمہم کلمۃ التقوٰی ( الفتح :26) "اور پرہیز گاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں ( اس سے مراد) "لا الہ الا اللہ واللہ اکبر " ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى} [الفتح: ← عَبَايَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3717

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3718

3718 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُورَةَ الْفَتْحِ، فَلَمَّا بَلَغَ {كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ، فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: 29] قَالَ: «لِيَغِيظَ اللَّهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَصْحَابِهِ الْكُفَّارَ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «أَنْتُمُ الزَّرْعُ وَقَدْ دَنَا حَصَادُهُ» حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3718 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے سورۃ الفتح پڑھی ، جب وہ اس آیت پر پہنچا :کزرع اخرج شطاہ فازرہ فاستغلظ فاستوٰی علی سوقۃ یعجب الزراع لیغیظ بہم الکفار( الفتح :29) " جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو انہوں نے فرمایا : تاکہ اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ کے ذریعے کافروں کے دل جلائے ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کھیتی ہو ، اس کی کٹائی کا وقت آن پہنچا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3718

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْفَتْحِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3719

3719 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، {لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: 29] قَالَتْ: أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أُمِرُوا بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُمْ فَسَبُّوهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3719 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا"لیغیظ بہم الکفار "کے متعلق فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا گیا کہ وہ ان کے لئے دعائے مغفرت کریں جبکہ وہ ان کو گالیاں دیا کرتے تھے۔یہ حدیث امام بخاری ؎رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ {لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Fath › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3719

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section