Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3703

3703 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ} [محمد: 1] قَالَ: «مِنْهُمْ أَهْلُ مَكَّةَ» {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [محمد: 2] قَالَ: «هُمُ الْأَنْصَارُ» . قَالَ: {وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ} [محمد: 2] قَالَ: «أَمَرَهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3703 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ االلہ تعا لیٰ کے ارشاد:الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہم (محمد:1)" جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کئے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : ان میں سے اہل مکہ بھی ہیں اور والذین اٰمنو و عملوا الصالحات (محمد:2)اور جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے اور اس پر ایمان لائے جو محمد ﷺپر اتارا ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ انصار ہیں ۔اورواصلح با لہم (محمد:2) اور ان کی حالتیں سنوار دیں"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) (سے مرادہے) ان کے امور کی اصلاح فرمادی۔

«أَمَرَهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← {وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ} [محمد: ← «هُمُ الْأَنْصَارُ» ← «مِنْهُمْ أَهْلُ مَكَّةَ» {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [محمد: ← سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ} [محمد: ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي يَحْيَى، ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3703

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3704

3704 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} [إبراهيم: 17] قَالَ: " يُقَرِّبُ إِلَيْهِ فَيَتَكَرَّهُهُ، فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} [محمد: 15] يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ} [الكهف: 29] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: و یسقیمن ماء صدید یتجرعہ( ابراہیم: 16،17 )"اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں : وہ پانی ان کو دیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کریں گے جب اس کو منہ کے قریب کریں تو ان کا چہراہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کی کھال جھڑ کر اس میں گر جائے گی، جب وہ اس کو پئیں گے ان کی انتڑیاں پگھل کر پاخانے کے راستے نکل جائیں گی ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: و سقوا ماء ً حمیما فقطع امعاء ہم(محمد :15 ) اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: و ان یاستغیثوا یغاثو ا بماء کالمہل یشوی الوجوہ بئس الشراب(الکھف:29) "اور اگر پانی کے لئے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے چرخ دئیے ( کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہےکہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3704

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3705

3705 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكِ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا} [محمد: 16] قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ يُسْأَلُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3705 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : حتی اذا خر جو ا من عندک قالو ا للذین اوتو العلم ماذا قال اٰنفا(محمد :16 ) "یہاں تک کے جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں علم والوں سے کہتے ہیں ابھی انہوں نے کیا فرمایا: (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) جن سے وہ پوچھتے تھے ان میں میں بھی شامل تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

آنِفًا [محمد: ← لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ ← شَرِيکٍ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ يحيى بن آدم ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3705

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3706

3706 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ} [محمد: 19] قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَخْشَى أَنْ يُدْخِلَنِي لِسَانِي النَّارَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3706 - صحيح

حضرت عبید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: فاعلم انہ لا الہ الااللہ وستغفر لذنبک(محمد:19 ) "تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اپنے گناہ کی معافی مانگو"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور بولے : میں اپنی بیوی پر بہت زبان درازی کیا کرتا تھا ، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس بات سے گھبراتا ہوں کہ کہیں میری زبان مجھے جہنم میں نہ لے جائے۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تو استغفار کیوں نہیں کرتا ؟ میں ایک دن میں 100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

كُنْتُ رَجُلًا ذَرِبَ اللِّسَانِ عَلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ: ← حُذَيْفَةَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عُبَيْدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ← محمد بن المغيرة السكري ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3706

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3707

3707 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي، وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدُكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3707 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سیدالااستغفار یہ ہے بندہ یوں دعا مانگے: اے اللہ! تو میرا رب ہے ،تو نے مجھے پیدا کیاہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں ،میں اپنے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ،میں تیری بارگاہ میں اپنے گناہوں کا اور اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں ، تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3707

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3708

3708 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ سَمِعَ صَائِحَةً فَقَالَ: «يَا يَرْفَأُ، انْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ؟» فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: جَارِيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ تُبَاعُ أُمُّهَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: " ادْعُ لِي أَوْ قَالَ: عَلَيَّ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ "، قَالَ: فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى امْتَلَأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَةُ، قَالَ: " فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَهَلْ تَعْلَمُونَهُ كَانَ مِمَّا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَطِيعَةُ» قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَإِنَّهَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِيكُمْ فَاشِيَةً، ثُمَّ قَرَأَ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ} [محمد: 22] ، ثُمَّ قَالَ: وَأَيُّ قَطِيعَةٍ أَقْطَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ فِيكُمْ، وَقَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ لَكُمْ؟ " قَالُوا: فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ. قَالَ: «فَكَتَبَ فِي الْآفَاقِ أَنْ لَا تُبَاعَ أُمُّ حُرٍّ، فَإِنَّهَا قَطِيعَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3708 - صحيح

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک چیخ وپکار کی آواز سنائی دی ، آپ نے فرمایا : اے یرفاد دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ وہ دیکھ کر آئے اور بولے : قریش کی ایک لڑکی ہے ، اس کی ماں کو بیچا جارہا ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: فوراً میرے پاس انصار اور مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بلا کر لے آؤ، تھوڑی ہی دیر میں آپ کا حجرہ اور پوری حویلی لوگوں سے بھر گئی ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا یہ عمل نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں قطع رحمی ہے۔ لوگوں نے کہا : نہیں ۔آپ نے فرمایا : یہ تو لوگوں میں پھیل چک ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدو افی الا رض وتقطعو ارحامکم( محمد : 22 ) "تو کیا تمہارے یہ لچھن ( انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کات دو" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر فرمایا : اس سے بڑھ کر قطع رحمی کیا ہوگی کہ تم میں ایک شخص کی ماں کو بیچا جارہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وسعت دی ہے۔ لوگوں نے کہا: آپ جو مناسب سمجھتے ہیں وہ فیصلہ فرمادیں ۔ آپ نے یہ قانون بنا دیا کہ کسی آزاد کی ماں کو بیچا نہیں جائے گا کیونکہ یہ قطع رحمی ہےاور یہ جائز نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَرْبٍ، ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← أَبِي ← يَحْيَی بْنُ يَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3708

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3709

3709 - أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ} [محمد: 38] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ إِذَا تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا؟ وَسَلْمَانُ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ: «هُمُ الْفُرْسُ هَذَا وَقَوْمُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جب یہ آیت نازل ہوئی: و ان تتولوا یستبدل قو ماً غیر کم (محمد :38 ) " اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ اگر ہم منہ پھیر لیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے جو قوم لائے گا وہ کون ہیں؟ اس وقت حضرت سلمان رضی اللہ عنہ آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے ( آپ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) فرمایا : یہ ایرانی اور اس کی قوم ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اورامام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا نَزَلَتْ {وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ} [محمد: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surah Muhammad, may God bless him and grant him peace › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3709

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section