Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3694

3694 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ: «هُوَ الْخَطُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ أُسْنِدَ عَنِ الثَّوْرِيِّ مِنْ وَجْهٍ غَيْرِ مُعْتَمِدٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3694 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد " او اثارۃ من علم" کے متعلق فرماتے ہیں : اس سے مراد "خط" ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک غیر معتبر سند کے ہمراہ اس کو سنداً بھی روایت کیا ہے جیسا کہ درج ذیل ہے۔

هُوَ الْخَطُّ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ أُسْنِدَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3694

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3695

3695 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، حَقًّا لَا عَلَى الْعَادَةِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو هَمَّامِ بْنُ أَبِي بَدْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ الْأَزْهَرِ الْبَصْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: 4] قَالَ: «جَوْدَةُ الْخَطِّ» هَذَا زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ غَرِيبَةٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3695 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

مذکورہ سند کے ہمراہ مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد " اواثارۃ من علم (الاحقاف:4) کے متعلق فرمایا ہے: (اس سے مراد) کی خط کی عمدگی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی جانب سے اس حدیث میں یہ اضافہ غریب ہے۔

جَوْدَةُ الْخَطِّ هَذَا زِيَادَةٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ} [الأحقاف: ← الشَّعْبِيِّ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ الْأَزْهَرِ الْبَصْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أبو همام بن أبي بدر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي حَقًّا لَا عَلَى الْعَادَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3695

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3696

3696 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبُرْدِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلِيمِيُّ بِمَرْوَ قَالَا: أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَقَدْ كَانَتْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: طَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى حِينَ أَقْرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ: فَاشْتَكَى فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى تُوُفِّيَ حَتَّى جَعَلْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي أَنْ قَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكِ؟» قَالَتْ: لَا أَدْرِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ مِنَ اللَّهِ» ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {قُلْ مَا كُنْتُ بِدَعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ} [الأحقاف: 9] قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا. قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: وَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ فِي النَّوْمِ عَيْنًا تَجْرِي لَهُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ فَقَالَ: «ذَاكَ عَمَلُهُ يَجْرِي لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتَلَفَ الشَّيْخَانِ فِي إِخْرَاجِهِ فَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدَانَ مُخْتَصَرًا وَلَمْ يُخَرِّجْهُ مُسْلِمٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3696 - تقدم وهو في البخاري مختصرا

حضرت ام العلاء انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب انصار نے مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رہائش کے لئے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ آپ فرماتی ہیں : وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمار داری کی ، پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے ان کی تکفین وغیرہ کی اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: اے ابو السائب ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے میں یہ گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اکرام سے نوازا ہو گا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے؟ (کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم! میں نہیں جانتی۔ آپ نے فرمایا: اس کے پاس تو یقین آ پہنچا ہے اور میں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید رکھتا ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی: ۔"قل ماکنت بدعا من الرسل وما ادری مایفعل بی ولا بکم (الاحقاف:9) " تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: خدا کی قسم میں اس کے بعد کبھی بھی کسی کی پاکی بیان نہیں کروں گی۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے خوا ب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے ایک چشمہ جاری ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خواب سنایا۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کا عمل ہے جو اس کے لئے جاری ہے۔ اس حدیث کو نقل کرنے میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ میں اختلاف ہے ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو عبدان رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے مختصراً روایت کیا ہے جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أبو محمد الحسن بن محمد الحليمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارْبُرْدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3696

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3697

3697 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ صَفْوَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، يَقُولُ: اسْتَأْذَنَ سَعْدٌ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ وَتَحْتَهُ مَرَافِقُ مِنْ حَرِيرٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَرَفَعْتُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ مُطْرَفُ خَزٍّ فَقَالَ لَهُ: اسْتَأْذَنْتَ عَلَيَّ وَتَحْتِي مَرَافِقُ مِنْ حَرِيرٍ، فَأَمَرْتُ بِهَا فَرُفِعَتْ فَقَالَ لَهُ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا ابْنَ عَامِرٍ إِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَذَهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} [الأحقاف: 20] وَاللَّهِ لَأَنْ أَضْطَجِعَ عَلَى جَمْرِ الْغَضَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَضْطَجِعَ عَلَيْهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَشَاهِدَهُ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ رِوَايَةِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3697 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سعد رضی اللہ عنہ ے ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی ۔ اس وقت وہ ریشم کے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے اس کو اٹھا دینے کا حکم دیا تو وہ (تمام تکئے) اٹھا دیئے گئے، پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے آئے، انہوں نے ریشم کی نقش و نگار والی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے جب اجازت مانگی تو اس وقت میرے نیچے ریشم کے تکیے تھے، میں نے وہ اٹھوا دیئے، پھر انہوں نے کہا: اے ابن عامر رضی اللہ عنہ اگر تو ان لوگوں میں سے نہ ہوتا جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے تو تو کتنا اچھا آدمی ہے:"اذھبتم طیبا تکم فی حیاتکم الدنیا (الاحقاف:20) " تم اپنے حصے کی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کر چکے اور انہیں برت چکے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ خدا کی قسم ! غصا (ایک درخت ہے، جس کی چنگاری بہت دیر تک سلگتی رہتی ہے) کے انگاروں پر لیٹنا میرے نزدیک ریشم پر لیٹنے سے بہتر ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3697

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3698

3698 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَأَى فِي يَدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ دِرْهَمًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا الدِّرْهَمُ؟» فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لِأَهْلِي بِدِرْهَمٍ لَحْمًا. فَرَمَوْا إِلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ: " أَكُلُّ مَا اشْتَهَيْتُمُ اشْتَرَيْتُمُوهَا مَا يُرِيدُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَطْوِيَ بَطْنَهُ لِابْنِ عَمِّهِ، وَجَارِهِ أَنْ تَذْهَبَ عَنْكُمْ هَذِهِ الْآيَةُ {أَذَهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا} [الأحقاف: 20] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3698 - القاسم واه

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں درھم دیکھے۔ آپ نے پوچھا، یہ درھم کس لئے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: میں اس درھم کے بدلے اپنے گھر والوں کے لئے گوشت خریدنا چاہتا ہوں لیکن انہوں نے اس بات کو اچھا نہیں جانا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا ہر وہ چیز جس کی تمہیں خواہش ہو گی وہ خرید لو گے۔ تم میں سے کوئی شخص یہ نہیں چاہتا کہ اپنے رستہ داروں اور پڑوسیوں کی خاطر اپنے پیٹ کو بھوکا رکھے کیا تمہاری توجہ اس آیت پر نہیں ہے؟ "اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا (الاحقاف:20)"تم اپنے حصے کی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کر چکے اور انہیں برت چکے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔

أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لِأَهْلِي بِدِرْهَمٍ لَحْمًا. فَرَمَوْا إِلَيْهِ ← «مَا هَذَا الدِّرْهَمُ؟» ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى فِي يَدِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ دِرْهَمًا، ← عبد الله بن دينار ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3698

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3699

3699 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «مَا أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى عَادٍ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ خَاتَمِي هَذَا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ تَفَرَّدَ مُسْلِمٌ بِإِخْرَاجِ، حَدِيثِ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نُصِرْتُ بِالصَّبَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3699 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قوم پر صرف میری انگوٹھی کی مقدار میں ہوا بھیجی تھی۔ یہ حدیث لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار نے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ، تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے مسعود بن مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: باد صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← معاذ بن نجدة القرشي ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3699

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3700

3700 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَبْتَسمُ» . قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْغَيْمَ فَرِحُوا أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهَةُ، قَالَ: «يَا عَائِشَةُ وَمَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ أَتَى قَوْمًا بِالْعَذَابِ» وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} [الأحقاف: 24] الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3700 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کو ایسے کھل کھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا گوشت کا ٹکڑا نظر آئے۔ آپ صرف مسکرایا کرتے تھے۔ آپ فرماتی ہیں: جب کبھی بادل آتے تو اندھیری چلتی تو آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار دکھائی دیا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ لوگ تو جب بادل دیکھتے ہیں تو اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ ان سے بارش برسے گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! مجھے کوئی چیز اس بات کی تسلی نہیں دلاتی کہ اس میں عذاب نہیں ہو گا۔ ایک قوم کو ہوا کے ذریعے ہی عذاب دیا گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی: فلما راوہ عارضاً مستقبل اودیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا (الاحقاف:24) "پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا، بولے: یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسےاس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ أَنَّهَا ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3700

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3701

3701 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِبَطْنِ نَخْلَةَ فَلَمَّا سَمِعُوهُ قَالُوا: أَنْصِتُوا. قَالُوا: صَهٍ. وَكَانُوا تِسْعَةً أَحَدُهُمْ زَوْبَعَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا} [الأحقاف: 29] الْآيَةُ إِلَى {ضَلَالٍ مُبِينٍ} [آل عمران: 164] «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3701 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :(جنات) نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،اس وقت آپ بطن نخلہ (کھجوروں کے باغ ) میں قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔جب انہوں نے آپ کی قرات سنی تو(ایک دوسرے سے) بولے :خاموش رہو۔یہ کل 9 تھے، ان میں ایک :زوبعہ" بھی تھا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت :واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن فلما حضروہ قالو انصتوا "اور جب ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے کان لگا کر قرآن سنتے پھر جب وہا ں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو جب پڑھنا ہو چکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)یہ آیت ضلال مبین تک نازل فرمائی ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَنْصِتُوا. ← هَبَطُوا عَلَى النَّبِيِّ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ بِبَطْنِ نَخْلَةَ فَلَمَّا سَمِعُوهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3701

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْقَافِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3702

3702 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجِنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ وَكِلَابٌ، وَصِنْفٌ يَحِلُّونَ وَيَظْعَنُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3702 - صحيح

حضرت ابو ثعلبہ خثنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنات تین قسم کے ہوتے ہیں ۔(1)ایک قسم ایسی ہے جن کے پر ہوتے ہیں ۔ اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں ۔(2)ایک قسم (ہے جن کی شکلیں ) سانپ اور کتوں جیسی ہیں۔(3) اور ایک قسم وہ ہے جو چلتے پھرتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Al-Ahqaf › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3702

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section