المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3687
3687 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَسْأَلُهُ مِمَّا خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ، وَالنُّورِ، وَالظُّلْمَةِ، وَالرِّيحِ، وَالتُّرَابِ؟» قَالَ الرَّجُلُ: فَمِمَّ خُلِقَ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: «لَا أَدْرِي» ثُمَّ أَتَى الرَّجُلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ، وَالنُّورِ، وَالظُّلْمَةِ، وَالرِّيحِ، وَالتُّرَابِ» . قَالَ الرَّجُلُ: فَمِمَّ خُلِقَ هَؤُلَاءِ؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ} فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا كَانَ لَنَا بِهَذَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3687 - الخبر منكر
حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا کہ مخلوق کی تخلیق کس چیز سے ہوئی؟ آپ نے فرمایا: پانی ، روشنی، اندھیرے ، ہوا اور مٹی سے ۔ اس شخص نے سوال کیا: یہ چیزیں کس سے بنائی گئی ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر وہ شخص حضرت عبداللہ بن الزبیر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: مخلوق کس چیز سے بنائی گئی؟ انہوں نے فرمایا: پانی، روشنی، اندھیرے اور ہوا اور مٹی سے ۔ اس نے کہا: یہ چیزیں کس سے پیدا کی گئی ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی : وسخر لکم ما فی السماوات وما فی الارض جمیعا منہ (الجاثیہ:13) ۔ " اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اپنے حکم سے۔ اس شخص نے کہا: مجھے یہ بات صرف نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت میں سے ایک شخص نے (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ ) بتائی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
طَاوْسٍ ← حُمَيْدَ بْنَ قَيْسٍ الْأَعْرَجَ، ← عمر بن حبيب المكي ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3687
