Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3687

3687 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَسْأَلُهُ مِمَّا خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ، وَالنُّورِ، وَالظُّلْمَةِ، وَالرِّيحِ، وَالتُّرَابِ؟» قَالَ الرَّجُلُ: فَمِمَّ خُلِقَ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: «لَا أَدْرِي» ثُمَّ أَتَى الرَّجُلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: «مِنَ الْمَاءِ، وَالنُّورِ، وَالظُّلْمَةِ، وَالرِّيحِ، وَالتُّرَابِ» . قَالَ الرَّجُلُ: فَمِمَّ خُلِقَ هَؤُلَاءِ؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ} فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا كَانَ لَنَا بِهَذَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3687 - الخبر منكر

حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے آیا کہ مخلوق کی تخلیق کس چیز سے ہوئی؟ آپ نے فرمایا: پانی ، روشنی، اندھیرے ، ہوا اور مٹی سے ۔ اس شخص نے سوال کیا: یہ چیزیں کس سے بنائی گئی ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر وہ شخص حضرت عبداللہ بن الزبیر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: مخلوق کس چیز سے بنائی گئی؟ انہوں نے فرمایا: پانی، روشنی، اندھیرے اور ہوا اور مٹی سے ۔ اس نے کہا: یہ چیزیں کس سے پیدا کی گئی ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی : وسخر لکم ما فی السماوات وما فی الارض جمیعا منہ (الجاثیہ:13) ۔ " اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اپنے حکم سے۔ اس شخص نے کہا: مجھے یہ بات صرف نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت میں سے ایک شخص نے (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ ) بتائی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

طَاوْسٍ ← حُمَيْدَ بْنَ قَيْسٍ الْأَعْرَجَ، ← عمر بن حبيب المكي ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3687

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3688

3688 - حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَبَّانَ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ} [الجاثية: 21] ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ» أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3688 - على شرط مسلم

حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی: " ام حسب الذین اجترحو السیئات ان نجعلہم کالذین اٰمنو وعملو الصالحات سواء محیاھم ومماتھم ساء ما یحکمون (الجاثیہ:21)۔" کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے کہ ان کی زندگی اور موت برابر ہو جائے کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر کہا: اعمش نے ابو سفیان کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر شخص اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ درج ذیل سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اعمش رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے۔ اخبرناہ ابو عبداللہ الصفار ثنا احمد بن مھران ثنا ابو نعیم ثنا سفیان عن الاعمش۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ← أَبَا عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أبو خليفة القاضي ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَبَّانَ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3688

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3689

3689 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ مِنَ الْعَرَبِ يَعْبُدُ الْحَجَرَ، فَإِذَا وَجَدَ أَحْسَنَ مِنْهُ أَخَذَهُ وَأَلْقَى الْآخَرَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ} [الجاثية: 23] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3689 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عرب کا ایک شخص پتھر کی عبادت کیا کرتا تھا ، جب اس کو اس سے اچھا کوئی پتھر مل جاتا تو وہ پہلے کو پھینک دیتا اور اس کی عبادت کرنے لگ جاتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔ "افرایت من اتخذ الھہ ھواہ (الجاثیہ:23) "بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← مُطَرِّفٍ ← أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3689

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3690

3690 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّ الدَّهْرَ هُوَ الَّذِي يُهْلِكُنَا هُوَ الَّذِي يُمِيتُنَا وَيُحْيِينَا فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَوْلَهُمْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا " وَتَلَا سُفْيَانُ هَذِهِ الْآيَةَ {مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ} [الجاثية: 24] قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ «هَذَا بِغَيْرِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3690 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجاه بهذه السياقة

حضرت اب عینیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اہل جاہلیت کہاکرتے تھے کہ زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے، یہی ہمیں مارتا ہے اور یہی زندہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو رد فرمایا ہے۔ زہری سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے فرماتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: زمانے کو گالی دے کر انسان مجھے تکلیف دیتا ہے کیونکہ زمانہ تو میں ہوں، اس کے دن اور رات کو میں ہی پھیرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان کو ختم کر دوں گا۔ پھر حضرت سفیان نے اس آیت کی تلاوت کی: "ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر "(الجاثیہ:24)۔" وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کی یہ حدیث نقل کی ہے تاہم اس کی سند ذرا مختلف ہے جبکہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

كان أهل الجاهلية يقولون ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3690

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3691

3691 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اسْتَقْرَضْتُ مِنْ عَبْدِي، فَأَبَى أَنْ يُقْرِضَنِي وَسَبَّنِي عَبْدِي، وَلَا يَدْرِي يَقُولُ: وَا دَهْرَاهُ وَا دَهْرَاهُ وَأَنَا الدَّهْرُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3691 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے سے قرضہ مانگا لیکن اس نے مجھے قرضہ دینے سے انکار کر دیا اور میرا بندہ مجھے گالی دیتا ہے اور اس کو پتہ نہیں چلتا وہ کہتا ہے " ادھراہ وادھراہ" ہائے زمانہ ہائے زمانہ ، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3691

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3692

3692 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3692 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے ابن آدم تکلیف دیتا ہے ، یہ کہتا ہے: ہائے زمانے کے لئے ہلاکت ہو، خبردار کوئی شخص ایسی بات : یا خیۃ الدھر" (زمانے کے لئے بربادی ہو ) نہ بولے کیونکہ زمانہ تو میں ہوں، اس کے دن اور رات میں ہی پھیرتا ہوں، میں جب چاہوں اس سب کو سمیٹ لوں گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3692

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْجَاثِيَةِ وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ حم الشَّرِيعَةِ. ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3693

3693 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ خَلَقَهُ مِنْ هَجَا قَبْلَ الْأَلْفِ وَاللَّامِ، فَتَصَوَّرَ قَلَمًا مِنْ نُورٍ فَقِيلَ لَهُ اجْرِ فِي اللَّوْحِ الْمَحْفُوظِ قَالَ: يَا رَبِّ بِمَاذَا؟ قَالَ: بِمَا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ وَكَّلَ بِالْخَلْقِ حَفَظَةً يَحْفَظُونَ عَلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ، فَلَمَّا قَامَتِ الْقِيَامَةُ عُرِضَتْ عَلَيْهِمْ أَعْمَالُهُمْ وَقِيلَ {هَذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الجاثية: 29] عَرَضَ بِالْكِتَابَيْنِ فَكَانَا سَوَاءً " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَسْتُمْ عَرَبًا؟ هَلْ تَكُونُ النُّسْخَةُ إِلَّا مِنْ كِتَابٍ؟ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3693 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا ، اس کو الف اور لام سے پہلے ہجا سے پیدا کیا۔ پھر نور سے قلم کی سی صورت بنائی۔ پھر اس کو کہا گیا : لوح محفوظ پہ چل، اس نے پوچھا : اے میرے رب کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو کچھ فرشتے اس کی حفاظت پر مامور فرمائے جو ان کے اعمال کی محافظت کرتے ہیں ، جب قیامت قائم ہو گی تو وہ ان کے اعمال ان کو پیش کر دیں گے اور یہ بھی کہا گیا: "ھذا کتاب ینطق علیکم بالحق انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملون عرض بالکتابین فکانا سواء (الجاثیہ: 29) "ہمارا یہ توشتہ تم پر حق بولتا ہے ہم لکھتے رہے تھے جو تم نے کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ ) دو کتابیں پیش کی جائیں گی، تو وہ دونوں برابر ہوں گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم عربی نہیں ہو، نسخہ (یعنی لکھنا) بھی تو کتاب ہی میں سے ہوتا ہے۔ (پھر دو کتابیں کیسے ثابت ہو گئیں؟)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of Surat Ham al-Jathiyyah, and with the people of the Two Holy Sanctuaries, the Sharia. › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3693

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section