المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3678
3678 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّكَ لَتَرَى الرَّجُلَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ، وَقَدْ وَقَعَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى» ، ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ، إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ} [الدخان: 4] ، يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلَى مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3678 - صحيح على شرط مسلم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم کسی آدمی کو بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہو جبکہ اس کا نام مردوں میں لکھا ہو ا ہوتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی:۔ " انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم "(الدخان:3،4) بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں ، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت کام " ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اس برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے، اس رات میں آئندہ سال کے تمام امور تقسیم کر دئے جاتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبِي ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3678
