Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3678

3678 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّكَ لَتَرَى الرَّجُلَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ، وَقَدْ وَقَعَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى» ، ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ، إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ} [الدخان: 4] ، يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلَى مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3678 - صحيح على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم کسی آدمی کو بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہو جبکہ اس کا نام مردوں میں لکھا ہو ا ہوتا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی:۔ " انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم "(الدخان:3،4) بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں ، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت کام " ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اس برکت والی رات سے مراد لیلۃ القدر ہے، اس رات میں آئندہ سال کے تمام امور تقسیم کر دئے جاتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبِي ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3678

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3679

3679 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ} [الدخان: 29] قَالَ: «بِفَقْدَ الْمُؤْمِنِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3679 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :۔" فما بکت علیہم السماء والارض (الدخان:29)۔" تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ فرماتے ہیں: ایک مومن کے انتقال پر زمین اور آسمان چالیس دن تک روتے رہتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ [الدخان: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3679

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3680

3680 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي سِنَانُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ تَوَجَّهَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَجَرِيرُ بْنُ سَهْمٍ التَّيْمِيُّ أَمَامَهُ يَقُولُ: [البحر الرجز] يَا فَرَسِي سِيرِي، وَأُمِّي الشَّامَا ... وَاقْطَعِي الْأَحْقَافَ وَالْأَعْلَامَا وَقَاتِلِي مَنْ خَالَفَ الْإِمَامَا ... لِأَنِّي لَأَرْجُو إِنْ لَقِينَا الْعَامَا جَمْعَ بَنِي أُمَيَّةَ الطِّغَامَا ... أَنْ نَقْتُلَ الْقَاضِي وَالْهُمَامَا وَأَنْ نُزِيلَ مِنْ رِجَالٍ هَامَا قَالَ: فَلَمَّا وَصَلْنَا إِلَى الْمَدَائِنِ قَالَ جَرِيرٌ: [البحر الكامل] عَفَتِ الرِّيَاحُ عَلَى رُسُومِ دِيَارِهِمْ ... فَكَأَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى مِيعَادِ قَالَ: فَقَالَ لِي عَلِيٌّ: كَيْفَ قُلْتَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ؟ قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ الْبَيْتَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا قُلْتَ: {كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ} [الدخان: 26] ، ثُمَّ قَالَ: أَيْ أَخِي، هَؤُلَاءِ كَانُوا وَارِثِينَ فَأَصْبَحُوا مَوْرُوثِينَ إِنَّ هَؤُلَاءِ كَفَرُوا النِّعَمِ فَحَلَّتْ بِهِمُ النِّقَمُ. ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَكُفْرَ النِّعَمِ فَتَحِلَّ بِكُمُ النِّقَمُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ: جَدُّكَ سِنَانٌ كَانَ كَبِيرَ السِّنِّ أَدْرَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: «نَعَمْ، شَهِدَ مَعَهُ الْمَشَاهِدَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3680 - ما أبعده من الصحة

حضرت سنان بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب حضر ت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب روانہ ہوئے تو ہم بھی آپ کے ہمراہ نکلے اور جریر بن سہم تیمی ان کے آگے آگے یہ پڑھتے جارہے تھے: اے میرے گھوڑے میرا سفر اور ارادہ ملک شام کا ہے تو ریت کے دراز و پیچیدہ تو دوں اور اونچے پہاڑوں سے گزر تا جا"۔ اور تو ہر شخص کو قتل کر جو امام برحق کی مخالف کرےاور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر اس سال۔ بنی امیہ کے کمینے لشکر سے پالا پڑا تو ہم قاضیوں کاور سرداروں کو قتل کر ڈالیں گے۔ اور لوگوں کے زہر دار کپڑے نکال کر رکھ دیں گے۔آپ فرماتے ہیں: جب ہم مدائن پہنچے تو جریر نے کہا: ہواؤں نے ان کے شہروں کے آثار بھی مٹا ڈالے گویا کہ ان کاایک وعدہ تھا۔ آپ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے بنی تمیم کے بھائی، تم نے کیا کہا؟ انہوں نے مذکورہ اشعار دوبارہ سنائے تو حضر ت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا:۔" کم ترکو ا من جنات وعیون وکنوز ومقام کریم ونعمۃ کانو فیہا فاکھن کذالک واورثنا ھا قوما اٰخرین (الدخان : 25، 26، 27)۔: کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے اور کھیت اور عمدہ مکانات اور نعمتیں جن میں فارغ البال تھے ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کر دیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر آپ نے فرمایا: اے بھائی یہ لوگ واقعی وارث ہی تھے پھر یہ موروث ہو گئے ان لوگوں نے کفران نعمت کیا تو یہ انتقام کے مستحق قرار پائے پھر آپ نے فرمایا: کفران نعمت (ناشکری) سے بچو ورنہ تم بھی انتقام کے مستحق ہو جاؤ گے۔ نوٹ : ابو حاتم کہتے ہیں : میں نے محمد بن یزید بن سنان سے کہا : تیرا دادا سنان بوڑھا تھ ؟ کیا اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا تھا؟ اس نے کہا ، جی ہاں وہ کئی جنگوں میں آپ کے شریک رہے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ تَوَجَّهَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَجَرِيرُ بْنُ سَهْمٍ التَّيْمِيُّ أَمَامَهُ ← جَدِّي سِنَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3680

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3681

3681 - أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ الْقُشَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ تُبَّعٌ رَجُلًا صَالِحًا، أَلَا تَرَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَمَّ قَوْمَهُ وَلَمْ يَذُمَّهُ؟» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3681 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "تبع" ایک نیک آدمی تھا کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی مذمت کی ہے ، اس کی مذمت نہیں کی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ الْقُشَيْرِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3681

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3682

3682 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَدْرِي أَتُبَّعٌ كَانَ لَعِينًا أَمْ لَا، وَمَا أَدْرِي أَذُو الْقَرْنَيْنِ كَانَ نَبِيًّا أَمْ لَا، وَمَا أَدْرِي الْحُدُودُ كَفَّارَةٌ لِأَهْلِهَا أَمْ لَا؟» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3682 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نہیں جانتا کہ " تبع لعین تھا یا نہیں اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھا یا نہیں اور میں نہیں جانتا کہ حدود اہل حدود کے لئے کفارہ ہیں یا نہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3682

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3683

3683 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ الذُّهْلِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ صُبَيْحٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا خَلَقْنَا السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَمْ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضً؟ قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ أَوَّلَ الْأَيَّامِ الْأَحَدَ، وَخُلِقَتِ الْأَرْضُ فِي يَوْمِ الْأَحَدِ، وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخُلِقَتِ الْجِبَالُ وَشُقَّتِ الْأَنْهَارُ، وَغُرِسَ فِي الْأَرْضِ الثِّمَارُ وَقُدِّرَ فِي كُلِّ أَرْضٍ قُوتُهَا يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ: {ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ} [فصلت: 11] فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا فِي يَوْمِ الْخَمِيسِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَكَانَ آخِرُ الْخَلْقِ فِي آخِرِ السَّاعَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ السَّبْتِ لَمْ يَكُنْ فِيهِ خَلْقٌ فَقَالَتِ الْيَهُودُ فِيهِ مَا قَالَتْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَكْذِيبَهَا {وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ} «هَذَا حَدِيثٌ قَدْ أَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَتَبْنَاهُ مُتَّصِلًا مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3683 - رواه عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي سعيد مرسلا لم يذكر ابن عباس

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد:۔" وما خلقنا السموات والارض وما بینھما لاعبین (الدخان:38)۔" اور ہم ے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: آسمان اور زمین کتنے عرصے میں تخلیق کئے گئے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا دن اتوار بنایا اور اتوار اور پیر میں زمین پیدا کی، منگل اور بدھ میں پہاڑ بنائے ، نہریں بنائیں، زمین میں پھل پیدا کئے اور ہر زمین کی روزی مقرر فرمائی۔ پھر آسمان کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت یہ ایک دھواں سا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین سے فرمایا: ائتیا طوعا او کر ھا قلتا اتینا طائعین (حم السجدۃ:11) " دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے نا خوشی سے ، دونوں نے عرض کی ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے تو انہیں پورے سات آسمان کر دیا دو دن میں اور ہر آسمان میں اسی کے حکم کے کام کے احکام بھیجے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ جمعرات اور جمعہ کے دن اور جب ہفتہ کا آغاز آیا تو اس میں کوئی تخلیق نہیں ہوئی تو یہود نے اس کے متعلق بہت باتیں بنائیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل فرمائی:۔ " فانزل اللہ عزوجل تکذ یبھا ولقد خلقنا السماوات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب (ق:38) "بے شک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور تھکان ہمارے پاس نہ آئی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اس حدیث کو عبدالرزاق نے ابن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ابو سعید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ارسال کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس میں ابن عباس رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر نہیں کیا جبکہ ہم نے مذکورہ سند کے ہمراہ اس کو متصلاً روایت کیا ہے ۔ واللہ اعلم۔

ابْنِ عَبَّاسٍ: فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← عِكْرِمَةَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ صَبِيحٍ الْيَشْكُرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ الذُّهْلِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3683

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3684

3684 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَهُ {إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ} [الدخان: 44] فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: «قُلْ طَعَامُ الْأَثِيمِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: طَعَامُ الْيَثِيمِ. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ قُلْ: «طَعَامُ الْفَاجِرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3684 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک شخص نے یہ آیت پڑھی:۔" ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم (الدخان:43،44) " بے شک تھوہڑ کا پیڑ گنہگاروں کی خوراک ہے "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: "طعام الاثیم" پڑھو (اس سے اس کا تلفظ صحیح ادا نہ ہو سکا) اس نے پڑھا "طعا الیثیم" تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم )اس کی بجائے یہ لفظ )پڑھو "طعام الفاجر"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الرَّجُلُ: طَعَامُ الْيَثِيمِ. ← أَبُو الدَّرْدَاءِ: «قُلْ طَعَامُ الْأَثِيمِ» ← قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَهُ {إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ طَعَامُ الْأَثِيمِ} [الدخان: ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3684

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3685

3685 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَ ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ ثَلَاثَةَ أَثْوَابٍ اتَّزَرَ الْعِزَّةَ، وَتَسَرْبَلَ الرَّحْمَةَ، وَارْتَدَأَ الْكِبْرِيَاءَ، فَمَنْ تَعَزَّزَ بِغَيْرِ مَا أَعَزَّهُ اللَّهُ، فَذَلِكَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: {ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ} [الدخان: 49] وَمَنْ رَحِمَ النَّاسَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ الَّذِي تَسَرْبَلَ بِسِرْبَالِهِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ، وَمَنْ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: لَا يَنْبَغِي لِمَنْ نَازَعَنِي أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3685 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تین لباس ہیں۔ اس کا ازارعزت کا ہے رحمت کی تلوار (جیسے اس کی شان کے مطابق ہو) ہے اور کبریائی کی چادر ہے اور جو شخص اس چیز کے غیر میں عزت ڈھونڈے، جس میں اللہ تعالیٰ نے عزت رکھی ہے، اسی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ "ذق انک انت العزیز الکریم" (الدخان:49)" چکھ، ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور جو شخص ایسے مقام پر رحم کرے جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحم کرنے کی اجازت نہیں ہے تو یہ وہ شخص ہے جس نے وہ لباس پہننے کی کوشش کی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی شایان شان ہے۔ اور جو شخص وہ چادر چھینتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کے لائق ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مجھ سے یہ چادر چھینے گا میں اس کو جنت میں داخل نہیں کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أَنْبَأَ ابْنُ عَجْلَانَ، ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3685

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الدُّخَانِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3686

3686 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي الْأَرْضِ لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَائِشَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامُهُ؟ " هَذَا حَدِيثٌ أَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَبُو يَعْقُوبَ الْحَنْظَلِيُّ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ {خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ، ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ} [الدخان: 48] «وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: "اتقو اللہ حق تقاتہ ولا تمو تن الا وانتم مسلمون (اٰل عمران :102) "اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے اگر "زقوم"کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو اہل دنیا پر عرصہ حیات تنگ ہو جائے تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا یہ طعام ہو گا ۔ (العیاذ باللہ) اس حدیث کو امام ابو یعقوب حنظلی نے اس آیت کی تفسیر کے تحت نقل کیا ہے۔ خذوہ فاعتلوہ الیٰ سواء الجحیم ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the lava of smoke › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3686

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section