Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3670

3670 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعِ مِائَةٍ أَنْبَأَ أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَزَّازُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ؟ فَقَالَ: عِبَادُ الرَّحْمَنِ. قُلْتُ: هُوَ فِي مُصْحَفِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: «فَامْحُهَا وَاكْتُبْ عِبَادَ الرَّحْمَنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3670 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: (وجعلو الملائکۃ الذین ھم عباد الرحمٰن ) (الزخرف:19) میں "عباد الرحمٰن"۔ (بطور جمع) ہے یا "عبدالرحمٰن "۔(بطور واحد) ہے؟ انہوں نے کہا: عباد الرحمٰن ہے ۔ میں نے کہا: میرے مصحف میں تو "عبدالرحمٰن" ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو مٹا کر " عباد الرحمٰن" لکھ لو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ

Hadith 3670

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3671

3671 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، {أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمُ} [الزخرف: 32] الْآيَةُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ أَحَبِّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبِّ، فَمَنْ أَعْطَاهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3671 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:۔" اھم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینہم (الزخرف:32) ۔ "کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ہم نے ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم میں رزق تقسیم کر دئیے ہیں، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم کر دئیے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دنیا تو اس کو بھی دیتا ہے جو اس کی طلب رکھتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جو اس کی طلب نہیں رکھتا لیکن دین صرف اسی کو دیتا ہے جس اس کی طلب رکھتا ہے۔ تو جس کو اس نے دین عطا کیا، اس کے دل میں دین کی محبت ہے۔یہ حدیث الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ {أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمُ} [الزخرف: الْآيَةُ ← مُرَّۃُ ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3671

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3672

3672 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ، فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ} [الزخرف: 41] فَقَالَ: قَالَ أَنَسٌ: «ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَتِ النِّقْمَةُ، وَلَمْ يُرِ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ حَتَّى مَضَى، وَلَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ رَأَى الْعُقُوبَةَ فِي أُمَّتِهِ إِلَّا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3672 - صحيح

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:۔ "فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون (الزخرف:41)۔" تو اگر ہم تمہیں لے جائیں تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ کو لے گیا ہے ، اب بدلہ باقی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی بھی نبی علیہ السلام کو اس کی امت میں جو تکلیف دکھاتا ہے، اس کو ختم بھی کر دیتا ہے اور ہر نبی نے اپنے امت کا عذاب دیکھا ہے سوائے تمہارے نبی کے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ} [الزخرف: ← قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ، ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 3672

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3673

3673 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أَصْحَابِي أَصْحَابِي. فَيُقَالَ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ بَعْدَكَ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ} [المائدة: 117] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3673 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو پکڑ لیا جائے گا جو بائیں ہاتھ والے ہوں گے۔ میں اصحابی اصحابی کہہ کہہ کر ان کو پکاروں گا تو کہا جائے گا: یہ لوگ آپ کے دین سے پھر گئے تھے تو پھر میں وہی بات کہوں گا جو عبد صالح حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے کہی تھی (وہ بات یہ ہے) " وکنت علیہم شہیدا مادمت فیھم، فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (المائدۃ:117) " اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو توہی ان پر نگاہ رکھتا تھا اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 3673

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3674

3674 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3674 - صحيح

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: راہنمائی کے بعد کوئی قوم گمراہ نہیں ہوتی البتہ ان میں بلاوجہ کا جھگڑا واقع ہو جاتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی:۔" ما ضربوہ لک الا جدلا (الزخرف:58) " انہوں نے تم سے نہ کہی مگر ناحق جھگڑنے کو بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي غَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 3674

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3675

3675 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفُضَيْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: 61] قَالَ: «خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3675 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت:۔" وانہ لعلم اللسساعۃ (الزخرف:61) " اور بے شک وہ قیامت کی نشانی ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) میں (قیامت کی نشانی سے مراد) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 3675

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3676

3676 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ بِالْكُوفَةَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ} [الزخرف: 61] فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَانٌ لِأَهْلِ السَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَتَاهَا مَا يُوعَدُونَ، وَأَنَا أَمَانٌ لِأَصْحَابِي مَا كُنْتُ، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَاهُمْ مَا يُوعَدُونَ وَأَهْلُ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَهْلُ بَيْتِي أَتَاهُمْ مَا يُوعَدُونَ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3676 - أظنه موضوعا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: وانہ لعلم للساعۃ (الزخرف:61) پھر فرمایا: ستارے آسمان والوں کے لئے امان ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ان پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہےاور میں اپنے اصحاب کے لئے امان ہوں ، جب تک ان میں موجود ہوں ، جب میں چلا جاؤں گا تو ان پر وہ کچھ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا اور میرے اہل بیت میری امت کے لئے امان ہیں، جب میرے اہل بیت چلے جائیں گے تو ان پر وہ کچھ آئے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (یعنی قیامت آ جائے گی) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّارِمِيُّ، ← عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Hadith 3676

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّخْرُفِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3677

3677 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحِيرِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ} [الزخرف: 77] قَالَ: " مَكَثَ عَنْهُمْ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3677 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ونادو ا یا مالک لیقض علینا ربک (الزخرف:77) " اور وہ پکاریں گے اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کر چکے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے متعلق فرماتے ہیں : ایک ہزار سال کے بعد مالک (داروغہ جہنم) ان کو جواب دے گا " انکم ماکثون" تمہیں تو یہیں ٹھہرنا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← الحسين بن الحكم الحيري ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبيعِيُّ،

Hadith 3677

All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section