Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1199

1199 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَعَدَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ، أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُحْسِنْ وُضُوءَهُ، ثُمَّ لِيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُثْنِي عَلَى اللَّهِ، وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ «فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْوَرْقَاءِ كُوفِيٌّ عِدَادُهُ فِي التَّابِعِينَ، وَقَدْ رَأَيْتُ جَمَاعَةً مِنْ أَعْقَابِهِ، وَهُوَ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عَنْهُ، وَإِنَّمَا جَعَلْتُ حَدِيثَهُ هَذَا شَاهِدًا لِمَا تَقَدَّمَ»

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی فرماتے ہی: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالی کے ساتھ یا کسی انسان کے ساتھ کو ئی حاجت ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے پھر اللہ تعالی کی حمد و ثنا ء کرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے اور یوں دعا مانگے "لا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم ، الحمدللہ رب العالمین ، اسالک عذائم مغفرتک ، والعصمۃ من کل ذنب ، والسلامۃ من کل اثم "( اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہ حلیم اور کریم ہے ، پاک ہے ، وہ ا للہ عرش عظیم کا مالک ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا پالنے والا ہے ، میں تجھ سے تیری مغفرت مانگتا ہوں اور ہر گنا ہ سے حفاظت مانگتا ہوں اور ہر برائی سے سلامتی مانگتا ہوں ۔ فائد بن عبدالرحمان ابو الورقاء کوفی ہیں ۔ ان کا سمار تابعین میں ہوت ہے اور میں نے (محدثین رحمۃ اللہ علیہم کی ) ایک جماعت کو ان کے پیچھے دیکھا ہے (یعنی ان سے روایت کرتے ہیں ) لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی روایات نقل نہیں کیں اور میں نے اس حدیث کو گزشتہ حدئیث کے شاہد کے طور بنایا ہے ۔

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا فَقَعَدَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ الْعَطَّارُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Hadith 1199

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1200

1200 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْهِسِنْجَانِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا» قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَبَاتَ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں ایک محل ہے ( جو اتنا نفیس ہے کہ ) اس کے اندر سے باہر اور باہر سے اندر دیکھا جا سکتا ہے ۔حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ محل کس لئے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے لئے جو اچھی گفتگو کرے ، اور کھانا کھلائے اور رات عبادت میں گزارے جس وقت لوگ سو رہے ہوتے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیاگیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْهِسِنْجَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 1200

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1201

1201 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ رَمَضَانَ فِي حُجْرَةٍ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، قَالَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ، فَقَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَذُو الْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ، «ثُمَّ افْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقَرَأَ» ، فَقُلْتُ: يَبْلُغُ رَأْسَ الْمِائَةِ، ثُمَّ قُلْتُ: يَبْلُغُ رَأْسَ الْمِائَتَيْنِ. قَالَ: " ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا لَا يَمُرُّ بِآيَةِ التَّخْوِيفِ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ مَا قَامَ يَقُولُ: " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ يُرَدِّدُهُنَّ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» مِثْلَ مَا رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ مَا قَامَ، يَقُولُ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» وَيَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» فَمَا صَلَّى إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ إِلَى آخِرِهِ «، حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضڑت حزیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پمراہ رمضان المبارک کی رات میں کھجوروں کی ٹہنیوں سے (بنے ہوئے ایک ) حجرے میں نماز پڑھی (حذیفہ ) فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی : پھر کہا "اللہ اکبر ذوالجبروت والملکوت و ذو الکبریا ء والعظمۃ "پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ بقرۃ شروع کی ، میں نے سوچا (کہ شاید ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سو آیتیں پڑھیں گے (لیکن آپ اس سے بھی زیادہ تلاوت کرتے رہے )میں نے سوچا ( کہ شاید ) دو سو آیتیں پڑھیں گے (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بھی آگے پڑھتے رہے یہاں تک کہ ) حذیفہ کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ آل عمران شروع کی یہ بھی پوری پڑھ لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ النساء شروع کی یہ بھی پوری پڑھ لی ( آپ تلاوت کے دوران ) کسی ایسی آیت کو پڑھتے جس میں عذاب وغیرہ کا ذکر ہوتا تو وہاں تلاوت موقوف کر کے اللہ کی پناہ مانگتے ۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی دیر رکوع کیا ، جتنی دیر قیام کیا تھا ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ ، اللھم ربنا لک الحمد " پڑھا ( اور اتنی دیر کھڑے رہے ) جنتی دیر رکوع کیا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی ہی دیر سجدہ کیا جتنی دیر کھڑے رہے اور سجدہ میں سبحان ربی اعلی پڑھتے رہے اور دو سجدوں کے درمیان آپ کہتے"رب اغفرلی "( یا اللہ مجھے بخش دے ) حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( یہ نماز اتنی لمبی پڑھی کہ ) رات کے شروع سے آخر تک عشاء کی یہی چار رکعتیں پوری کیں تھیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز فجر کے لئے بلانے آ گئے۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← زُهَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Hadith 1201

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section