المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1199
1199 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَعَدَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ، أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُحْسِنْ وُضُوءَهُ، ثُمَّ لِيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُثْنِي عَلَى اللَّهِ، وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ «فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْوَرْقَاءِ كُوفِيٌّ عِدَادُهُ فِي التَّابِعِينَ، وَقَدْ رَأَيْتُ جَمَاعَةً مِنْ أَعْقَابِهِ، وَهُوَ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عَنْهُ، وَإِنَّمَا جَعَلْتُ حَدِيثَهُ هَذَا شَاهِدًا لِمَا تَقَدَّمَ»
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی فرماتے ہی: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالی کے ساتھ یا کسی انسان کے ساتھ کو ئی حاجت ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے پھر اللہ تعالی کی حمد و ثنا ء کرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے اور یوں دعا مانگے "لا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم ، الحمدللہ رب العالمین ، اسالک عذائم مغفرتک ، والعصمۃ من کل ذنب ، والسلامۃ من کل اثم "( اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہ حلیم اور کریم ہے ، پاک ہے ، وہ ا للہ عرش عظیم کا مالک ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا پالنے والا ہے ، میں تجھ سے تیری مغفرت مانگتا ہوں اور ہر گنا ہ سے حفاظت مانگتا ہوں اور ہر برائی سے سلامتی مانگتا ہوں ۔ فائد بن عبدالرحمان ابو الورقاء کوفی ہیں ۔ ان کا سمار تابعین میں ہوت ہے اور میں نے (محدثین رحمۃ اللہ علیہم کی ) ایک جماعت کو ان کے پیچھے دیکھا ہے (یعنی ان سے روایت کرتے ہیں ) لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی روایات نقل نہیں کیں اور میں نے اس حدیث کو گزشتہ حدئیث کے شاہد کے طور بنایا ہے ۔
خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا فَقَعَدَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ الْعَطَّارُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي
Hadith 1199
